<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:23:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:23:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ ٹیرف، بھارت میں امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم زور پکڑنے لگی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275718/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;میک ڈونلڈز اور کوکا کولا سے لے کر ایمازون اور ایپل تک، امریکا میں قائم ملٹی نیشنل کمپنیاں بھارت میں بائیکاٹ کی مہم کا سامنا کر رہی ہیں کیونکہ کاروباری رہنما اور وزیر اعظم نریندر مودی کے حامی امریکی محصولات کے خلاف احتجاج میں امریکا مخالف جذبات کو ہوا دے رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک بھارت، امریکی برانڈز کے لیے ایک اہم مارکیٹ ہے جہاں یہ کمپنیاں تیزی سے پھیلیں تاکہ امیر ہوتے صارفین کے بڑھتے ہوئے طبقے کو ہدف بنایا جا سکے، جن میں سے بہت سے بین الاقوامی برانڈز کو سماجی ترقی کی علامت سمجھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر، میٹا کا واٹس ایپ صارفین کی تعداد کے لحاظ سے بھارت کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے، اور ڈومینوز کے ملک میں کسی بھی دوسرے برانڈ سے زیادہ ریستوران ہیں۔ پیپسی اور کوکا کولا جیسی مشروبات اکثر دکانوں کی شیلفوں پر چھائی رہتی ہیں، اور جب کوئی نیا ایپل اسٹور کھلتا ہے یا اسٹاربکس رعایت دیتا ہے تو لوگ لائن میں لگ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ فوری طور پر فروخت متاثر ہونے کے کوئی آثار نہیں ملے، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیکس عائد کرنے کے بعد سوشل میڈیا اور عوام میں ”مقامی خریدیں اور امریکی مصنوعات چھوڑیں“ کی آواز بلند ہو رہی ہے، جس سے برآمدکنندگان کو دھچکا لگا اور نئی دہلی و واشنگٹن کے تعلقات کشیدہ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میک ڈونلڈز، کوکا کولا، ایمازون اور ایپل نے رائٹرز کے سوالات کا فوری جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی کمپنی واو اسکن سائنس کے شریک بانی منیش چودھری نے لنکڈ اِن پر ویڈیو پیغام میں کسانوں اور اسٹارٹ اپس کی حمایت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ”میڈ ان انڈیا“ کو عالمی جنون بنایا جائے، اور جنوبی کوریا سے سیکھا جائے جس کی خوراک اور بیوٹی مصنوعات دنیا بھر میں مشہور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم نے ہزاروں میل دور سے آنے والی مصنوعات کے لیے قطاریں لگائیں۔ ہم نے فخر سے ان برانڈز پر خرچ کیا جو ہمارے نہیں، جبکہ ہمارے اپنے بنانے والے اپنی ہی سرزمین میں توجہ کے لیے لڑتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی ڈرائیو یو کمپنی کے سی ای او رہم شاستری نے لنکڈ اِن پر لکھا کہ بھارت کو اپنا مقامی ٹوئٹر/گوگل/یوٹیوب/واٹس ایپ/فیس بک ہونا چاہیے، جیسے چین کے پاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصفانہ طور پر دیکھا جائے تو، ملکی ریٹیل کمپنیاں اسٹاربکس جیسے غیر ملکی برانڈز کو گھریلو مارکیٹ میں سخت مقابلہ دیتی ہیں، لیکن عالمی سطح پر جانا ایک چیلنج رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;البتہ بھارتی آئی ٹی سروسز کمپنیاں جیسے ٹی سی ایس اور انفوسس دنیا بھر میں سافٹ ویئر حل فراہم کرکے عالمی معیشت میں گہرائی تک جڑ گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کو مودی نے بنگلورو میں ایک اجتماع سے خطاب میں خودانحصاری کی خصوصی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی ٹیکنالوجی کمپنیاں دنیا کے لیے مصنوعات بناتی ہیں لیکن اب وقت ہے کہ ہم بھارت کی ضروریات کو زیادہ ترجیح دیں۔ انہوں نے کسی کمپنی کا نام نہیں لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا مخالف مظاہروں کے باوجود، ٹیسلا نے پیر کو نئی دہلی میں بھارت میں اپنا دوسرا شوروم کھولا، جس میں بھارتی وزارت تجارت کے حکام اور امریکی سفارت خانے کے اہلکار شریک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ تنظیم سودیشی جاگرن منچ نے اتوار کو بھارت بھر میں چھوٹے عوامی مظاہرے کیے، جن میں لوگوں سے امریکی برانڈز کے بائیکاٹ کی اپیل کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم کے شریک کنوینر اشونی مہاجن نے رائٹرز کو بتایا، لوگ اب بھارتی مصنوعات کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اس میں وقت لگے گا۔ یہ قوم پرستی اور حب الوطنی کی پکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واٹس ایپ پر گردش کرنے والی اپنی تنظیم کی ایک فہرست بھی شیئر کی جس میں بھارتی برانڈز کے نہانے کے صابن، ٹوتھ پیسٹ اور کولڈ ڈرنکس کے متبادل درج ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر تنظیم کی ایک مہم غیر ملکی فوڈ چینز کا بائیکاٹ کے عنوان سے ہے، جس میں میک ڈونلڈز سمیت کئی ریستوران برانڈز کے لوگوز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتر پردیش میں لکھنؤ کے ایک میک ڈونلڈز میں کھانے والے 37 سالہ راجت گپتا نے پیر کو کہا کہ وہ محصولات کے خلاف احتجاج کی پرواہ نہیں کرتے اور بس 49 روپے (0.55 ڈالر) کی وہ کافی پسند کرتے ہیں جو ان کے خیال میں اچھی قیمت پر دستیاب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ٹیکس پالیسی سفارت کاری کا معاملہ ہے، میرا میک پف اور کافی کو اس میں نہ گھسیٹا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>میک ڈونلڈز اور کوکا کولا سے لے کر ایمازون اور ایپل تک، امریکا میں قائم ملٹی نیشنل کمپنیاں بھارت میں بائیکاٹ کی مہم کا سامنا کر رہی ہیں کیونکہ کاروباری رہنما اور وزیر اعظم نریندر مودی کے حامی امریکی محصولات کے خلاف احتجاج میں امریکا مخالف جذبات کو ہوا دے رہے ہیں۔</strong></p>
<p>دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک بھارت، امریکی برانڈز کے لیے ایک اہم مارکیٹ ہے جہاں یہ کمپنیاں تیزی سے پھیلیں تاکہ امیر ہوتے صارفین کے بڑھتے ہوئے طبقے کو ہدف بنایا جا سکے، جن میں سے بہت سے بین الاقوامی برانڈز کو سماجی ترقی کی علامت سمجھتے ہیں۔</p>
<p>مثال کے طور پر، میٹا کا واٹس ایپ صارفین کی تعداد کے لحاظ سے بھارت کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے، اور ڈومینوز کے ملک میں کسی بھی دوسرے برانڈ سے زیادہ ریستوران ہیں۔ پیپسی اور کوکا کولا جیسی مشروبات اکثر دکانوں کی شیلفوں پر چھائی رہتی ہیں، اور جب کوئی نیا ایپل اسٹور کھلتا ہے یا اسٹاربکس رعایت دیتا ہے تو لوگ لائن میں لگ جاتے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ فوری طور پر فروخت متاثر ہونے کے کوئی آثار نہیں ملے، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیکس عائد کرنے کے بعد سوشل میڈیا اور عوام میں ”مقامی خریدیں اور امریکی مصنوعات چھوڑیں“ کی آواز بلند ہو رہی ہے، جس سے برآمدکنندگان کو دھچکا لگا اور نئی دہلی و واشنگٹن کے تعلقات کشیدہ ہوئے۔</p>
<p>میک ڈونلڈز، کوکا کولا، ایمازون اور ایپل نے رائٹرز کے سوالات کا فوری جواب نہیں دیا۔</p>
<p>بھارتی کمپنی واو اسکن سائنس کے شریک بانی منیش چودھری نے لنکڈ اِن پر ویڈیو پیغام میں کسانوں اور اسٹارٹ اپس کی حمایت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ”میڈ ان انڈیا“ کو عالمی جنون بنایا جائے، اور جنوبی کوریا سے سیکھا جائے جس کی خوراک اور بیوٹی مصنوعات دنیا بھر میں مشہور ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم نے ہزاروں میل دور سے آنے والی مصنوعات کے لیے قطاریں لگائیں۔ ہم نے فخر سے ان برانڈز پر خرچ کیا جو ہمارے نہیں، جبکہ ہمارے اپنے بنانے والے اپنی ہی سرزمین میں توجہ کے لیے لڑتے رہے۔</p>
<p>بھارت کی ڈرائیو یو کمپنی کے سی ای او رہم شاستری نے لنکڈ اِن پر لکھا کہ بھارت کو اپنا مقامی ٹوئٹر/گوگل/یوٹیوب/واٹس ایپ/فیس بک ہونا چاہیے، جیسے چین کے پاس ہے۔</p>
<p>منصفانہ طور پر دیکھا جائے تو، ملکی ریٹیل کمپنیاں اسٹاربکس جیسے غیر ملکی برانڈز کو گھریلو مارکیٹ میں سخت مقابلہ دیتی ہیں، لیکن عالمی سطح پر جانا ایک چیلنج رہا ہے۔</p>
<p>البتہ بھارتی آئی ٹی سروسز کمپنیاں جیسے ٹی سی ایس اور انفوسس دنیا بھر میں سافٹ ویئر حل فراہم کرکے عالمی معیشت میں گہرائی تک جڑ گئی ہیں۔</p>
<p>اتوار کو مودی نے بنگلورو میں ایک اجتماع سے خطاب میں خودانحصاری کی خصوصی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی ٹیکنالوجی کمپنیاں دنیا کے لیے مصنوعات بناتی ہیں لیکن اب وقت ہے کہ ہم بھارت کی ضروریات کو زیادہ ترجیح دیں۔ انہوں نے کسی کمپنی کا نام نہیں لیا۔</p>
<p>امریکا مخالف مظاہروں کے باوجود، ٹیسلا نے پیر کو نئی دہلی میں بھارت میں اپنا دوسرا شوروم کھولا، جس میں بھارتی وزارت تجارت کے حکام اور امریکی سفارت خانے کے اہلکار شریک ہوئے۔</p>
<p>مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ تنظیم سودیشی جاگرن منچ نے اتوار کو بھارت بھر میں چھوٹے عوامی مظاہرے کیے، جن میں لوگوں سے امریکی برانڈز کے بائیکاٹ کی اپیل کی گئی۔</p>
<p>تنظیم کے شریک کنوینر اشونی مہاجن نے رائٹرز کو بتایا، لوگ اب بھارتی مصنوعات کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اس میں وقت لگے گا۔ یہ قوم پرستی اور حب الوطنی کی پکار ہے۔</p>
<p>انہوں نے واٹس ایپ پر گردش کرنے والی اپنی تنظیم کی ایک فہرست بھی شیئر کی جس میں بھارتی برانڈز کے نہانے کے صابن، ٹوتھ پیسٹ اور کولڈ ڈرنکس کے متبادل درج ہیں۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر تنظیم کی ایک مہم غیر ملکی فوڈ چینز کا بائیکاٹ کے عنوان سے ہے، جس میں میک ڈونلڈز سمیت کئی ریستوران برانڈز کے لوگوز شامل ہیں۔</p>
<p>اتر پردیش میں لکھنؤ کے ایک میک ڈونلڈز میں کھانے والے 37 سالہ راجت گپتا نے پیر کو کہا کہ وہ محصولات کے خلاف احتجاج کی پرواہ نہیں کرتے اور بس 49 روپے (0.55 ڈالر) کی وہ کافی پسند کرتے ہیں جو ان کے خیال میں اچھی قیمت پر دستیاب ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ٹیکس پالیسی سفارت کاری کا معاملہ ہے، میرا میک پف اور کافی کو اس میں نہ گھسیٹا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275718</guid>
      <pubDate>Mon, 11 Aug 2025 14:03:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/1114012404f7b2e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/1114012404f7b2e.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
