<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیل نے الجزیرہ کے صحافی کو حماس رہنما قرار دیکر شہید کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275702/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے غزہ میں ایک فضائی حملے میں الجزیرہ کے صحافی انس الشریف کو شہید کر دیا ہے جو مبینہ طور پر حماس کے ایک سیل کے سربراہ تھے، تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں نے الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں غزہ جنگ کی فرنٹ لائن رپورٹنگ پر نشانہ بنایا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ حکام اور الجزیرہ کے مطابق 28 سالہ انس الشریف، تین دیگر الجزیرہ صحافیوں محمد قریقیہ، ابراہیم ظاہر، محمد نوفل اور ایک اسسٹنٹ کے ساتھ مشرقی غزہ سٹی میں الشفا اسپتال کے قریب ایک خیمے پر حملے میں مارے گئے۔ اسپتال کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اس حملے میں مزید دو افراد بھی جاں بحق ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الجزیرہ نے انس الشریف کو غزہ کے بہادر ترین صحافیوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ غزہ پر قبضے کی تیاری میں آوازوں کو خاموش کرنے کی مایوس کن کوشش ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ  انس الشریف راکٹ حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے اور ان کے خلاف شواہد غزہ سے برآمد دستاویزات سے ملے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ ایرین خان اور صحافتی تنظیموں نے پہلے ہی متنبہ کیا تھا کہ انس الشریف کی جان کو خطرہ ہے اور اسرائیلی الزامات غیر مصدقہ ہیں۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے کہا کہ اسرائیل نے اپنے دعوؤں کے لیے کوئی قابل اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انس الشریف نے اپنی موت سے قبل ایک پیغام چھوڑا تھا کہ میں نے کبھی سچ کو جیسا ہے ویسا پہنچانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی، امید ہے خدا خاموش رہنے والوں کا گواہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس کا کہنا ہے کہ صحافیوں کا قتل غزہ سٹی میں بڑے اسرائیلی حملے کی تیاری کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ غزہ حکومت کے میڈیا دفتر کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک 237 صحافی مارے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے غزہ میں ایک فضائی حملے میں الجزیرہ کے صحافی انس الشریف کو شہید کر دیا ہے جو مبینہ طور پر حماس کے ایک سیل کے سربراہ تھے، تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں نے الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں غزہ جنگ کی فرنٹ لائن رپورٹنگ پر نشانہ بنایا گیا۔</strong></p>
<p>غزہ حکام اور الجزیرہ کے مطابق 28 سالہ انس الشریف، تین دیگر الجزیرہ صحافیوں محمد قریقیہ، ابراہیم ظاہر، محمد نوفل اور ایک اسسٹنٹ کے ساتھ مشرقی غزہ سٹی میں الشفا اسپتال کے قریب ایک خیمے پر حملے میں مارے گئے۔ اسپتال کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اس حملے میں مزید دو افراد بھی جاں بحق ہوئے۔</p>
<p>الجزیرہ نے انس الشریف کو غزہ کے بہادر ترین صحافیوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ غزہ پر قبضے کی تیاری میں آوازوں کو خاموش کرنے کی مایوس کن کوشش ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ  انس الشریف راکٹ حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے اور ان کے خلاف شواہد غزہ سے برآمد دستاویزات سے ملے ہیں۔</p>
<p>اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ ایرین خان اور صحافتی تنظیموں نے پہلے ہی متنبہ کیا تھا کہ انس الشریف کی جان کو خطرہ ہے اور اسرائیلی الزامات غیر مصدقہ ہیں۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے کہا کہ اسرائیل نے اپنے دعوؤں کے لیے کوئی قابل اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا۔</p>
<p>انس الشریف نے اپنی موت سے قبل ایک پیغام چھوڑا تھا کہ میں نے کبھی سچ کو جیسا ہے ویسا پہنچانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی، امید ہے خدا خاموش رہنے والوں کا گواہ ہوگا۔</p>
<p>حماس کا کہنا ہے کہ صحافیوں کا قتل غزہ سٹی میں بڑے اسرائیلی حملے کی تیاری کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ غزہ حکومت کے میڈیا دفتر کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک 237 صحافی مارے جا چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275702</guid>
      <pubDate>Mon, 11 Aug 2025 10:55:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/111054183fbbd0b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="658" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/111054183fbbd0b.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
