<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:29:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:29:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترسیلات زر — زندگی کی ڈور سے معاشی اثرورسوخ تک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275697/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی ترسیلاتِ زر جولائی 2025 میں 3.21 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو سالانہ بنیاد پر 7.4 فیصد زیادہ ہیں، اگرچہ جون کے 3.4 ارب ڈالر کے مقابلے میں یہ 5.6 فیصد کم رہیں، جس کی وجہ مالی سال کے اختتام کے بعد سیزن معمول پر آنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اضافہ مالی سال 2026 کے لیے ایک مضبوط آغاز ہے، اس سے پہلے مالی سال 2025 میں ریکارڈ 38.3 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں — جو پچھلے سال کے مقابلے میں 27 فیصد زیادہ تھیں اور کل برآمدی آمدنی سے بھی تجاوز کر گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/110831500d12284.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، جولائی میں سعودی عرب ترسیلات کا سب سے بڑا ذریعہ رہا، جس سے 823.7 ملین ڈالر موصول ہوئے، اس کے بعد متحدہ عرب امارات 665.2 ملین ڈالر (جس میں دبئی سے 456.8 ملین ڈالر شامل ہیں)، برطانیہ 450.4 ملین ڈالر، یورپی یونین 424.4 ملین ڈالر، امریکہ 269.6 ملین ڈالر، اور دیگر خلیجی ممالک (قطر، عمان، اور کویت سمیت) 296 ملین ڈالر کے ساتھ شامل رہے۔ یہ تقسیم خلیج میں مقیم مزدوروں پر مسلسل انحصار کو اجاگر کرتی ہے، ساتھ ہی یورپ اور شمالی امریکہ سے مستحکم ترسیلات کو ظاہر کرتی ہے، جو اب صرف روایتی مزدوروں ہی نہیں بلکہ پیشہ ور افراد، طلبا، اور فری لانسرز کو بھی شامل کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/1108315360199fc.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ ترسیلات کی مضبوطی میں کئی عوامل نے کردار ادا کیا ہے۔ ہنڈی/حوالہ نیٹ ورکس اور منی لانڈرنگ کے خلاف کریک ڈاؤن نے باضابطہ بینکاری ذرائع کو زیادہ پرکشش بنایا ہے، جبکہ زیادہ مسابقتی ایکسچینج ریٹ نے غیر رسمی ذرائع کے لیے ترغیبات کو کم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/11083210c3905c4.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فری لانسرز اور پاکستان میں مقیم وہ پیشہ ور افراد جو غیر ملکی کمپنیوں کے لیے دور سے کام کرتے ہیں، ان کی آمدنی میں اضافے نے بھی ترسیلات میں اضافہ کیا ہے، جس نے بیرونِ ملک افرادی قوت کے جمود کو متوازن کیا ہے کیونکہ کچھ خلیجی ممالک نے ورک ویزہ کوٹے سخت کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے اور کرنٹ اکائونٹ خسارہ کم کرنے میں ترسیلاتِ زر کی اہمیت مسلمہ ہے، مگر یہ اب بھی بیرونی روزگار کی منڈیوں، تیل کی قیمتوں، اور میزبان ممالک کی پالیسیوں کے رحم و کرم پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/1108321359be29c.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان پر بھاری انحصار کا ایک نقصان یہ ہے کہ معیشت ”ڈچ ڈیزیز“ کا شکار ہو سکتی ہے — یعنی افرادی قوت کو کم پیداواری شعبوں جیسے تعمیرات کی طرف کھینچنا، درآمدات میں اضافہ کرنا، اور برآمدی مسابقت بڑھانے کے لیے درکار ڈھانچہ جاتی اصلاحات میں تاخیر کرنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/110832170734404.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عید یا مالی سال کے آغاز جیسے موسمی عروج بنیادی اتار چڑھاؤ کو چھپا سکتے ہیں، جبکہ عالمی معیشت میں تبدیلی یا خلیجی ممالک کی سست رفتار ترقی ترسیلات کو تیزی سے دباؤ میں ڈال سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے پالیسی سازوں کو موجودہ ترسیلاتِ زر کے اضافے کو ایک اسٹریٹیجک موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے، نہ کہ ایک مستقل سہارا سمجھنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترسیلات کو باضابطہ ذرائع میں لانے والا نفاذی ماحول برقرار رکھنا ضروری ہے، مگر یہ کافی نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ان فنڈز کو پیداواری صلاحیت بڑھانے والی سرمایہ کاری میں استعمال کیا جائے — ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ میں توسیع، مہارتوں میں اضافہ، اور عالمی سپلائی چینز میں انضمام۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی کی کارکردگی حوصلہ افزا ہے، لیکن اصل کامیابی کا پیمانہ یہ ہوگا کہ آیا ملک اس آمدنی کو طویل مدتی لچک میں بدل سکتا ہے یا نہیں، اور ایک ایسی آمدنی پر انحصار کم کر سکتا ہے جو بالآخر اس کے اپنے کنٹرول سے باہر عوامل سے تشکیل پاتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی ترسیلاتِ زر جولائی 2025 میں 3.21 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو سالانہ بنیاد پر 7.4 فیصد زیادہ ہیں، اگرچہ جون کے 3.4 ارب ڈالر کے مقابلے میں یہ 5.6 فیصد کم رہیں، جس کی وجہ مالی سال کے اختتام کے بعد سیزن معمول پر آنا ہے۔</strong></p>
<p>یہ اضافہ مالی سال 2026 کے لیے ایک مضبوط آغاز ہے، اس سے پہلے مالی سال 2025 میں ریکارڈ 38.3 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں — جو پچھلے سال کے مقابلے میں 27 فیصد زیادہ تھیں اور کل برآمدی آمدنی سے بھی تجاوز کر گئیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/110831500d12284.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، جولائی میں سعودی عرب ترسیلات کا سب سے بڑا ذریعہ رہا، جس سے 823.7 ملین ڈالر موصول ہوئے، اس کے بعد متحدہ عرب امارات 665.2 ملین ڈالر (جس میں دبئی سے 456.8 ملین ڈالر شامل ہیں)، برطانیہ 450.4 ملین ڈالر، یورپی یونین 424.4 ملین ڈالر، امریکہ 269.6 ملین ڈالر، اور دیگر خلیجی ممالک (قطر، عمان، اور کویت سمیت) 296 ملین ڈالر کے ساتھ شامل رہے۔ یہ تقسیم خلیج میں مقیم مزدوروں پر مسلسل انحصار کو اجاگر کرتی ہے، ساتھ ہی یورپ اور شمالی امریکہ سے مستحکم ترسیلات کو ظاہر کرتی ہے، جو اب صرف روایتی مزدوروں ہی نہیں بلکہ پیشہ ور افراد، طلبا، اور فری لانسرز کو بھی شامل کرتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/1108315360199fc.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>حالیہ ترسیلات کی مضبوطی میں کئی عوامل نے کردار ادا کیا ہے۔ ہنڈی/حوالہ نیٹ ورکس اور منی لانڈرنگ کے خلاف کریک ڈاؤن نے باضابطہ بینکاری ذرائع کو زیادہ پرکشش بنایا ہے، جبکہ زیادہ مسابقتی ایکسچینج ریٹ نے غیر رسمی ذرائع کے لیے ترغیبات کو کم کیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/11083210c3905c4.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>فری لانسرز اور پاکستان میں مقیم وہ پیشہ ور افراد جو غیر ملکی کمپنیوں کے لیے دور سے کام کرتے ہیں، ان کی آمدنی میں اضافے نے بھی ترسیلات میں اضافہ کیا ہے، جس نے بیرونِ ملک افرادی قوت کے جمود کو متوازن کیا ہے کیونکہ کچھ خلیجی ممالک نے ورک ویزہ کوٹے سخت کر دیے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے اور کرنٹ اکائونٹ خسارہ کم کرنے میں ترسیلاتِ زر کی اہمیت مسلمہ ہے، مگر یہ اب بھی بیرونی روزگار کی منڈیوں، تیل کی قیمتوں، اور میزبان ممالک کی پالیسیوں کے رحم و کرم پر ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/1108321359be29c.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>ان پر بھاری انحصار کا ایک نقصان یہ ہے کہ معیشت ”ڈچ ڈیزیز“ کا شکار ہو سکتی ہے — یعنی افرادی قوت کو کم پیداواری شعبوں جیسے تعمیرات کی طرف کھینچنا، درآمدات میں اضافہ کرنا، اور برآمدی مسابقت بڑھانے کے لیے درکار ڈھانچہ جاتی اصلاحات میں تاخیر کرنا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/110832170734404.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>عید یا مالی سال کے آغاز جیسے موسمی عروج بنیادی اتار چڑھاؤ کو چھپا سکتے ہیں، جبکہ عالمی معیشت میں تبدیلی یا خلیجی ممالک کی سست رفتار ترقی ترسیلات کو تیزی سے دباؤ میں ڈال سکتی ہے۔</p>
<p>اسی لیے پالیسی سازوں کو موجودہ ترسیلاتِ زر کے اضافے کو ایک اسٹریٹیجک موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے، نہ کہ ایک مستقل سہارا سمجھنا چاہیے۔</p>
<p>ترسیلات کو باضابطہ ذرائع میں لانے والا نفاذی ماحول برقرار رکھنا ضروری ہے، مگر یہ کافی نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ان فنڈز کو پیداواری صلاحیت بڑھانے والی سرمایہ کاری میں استعمال کیا جائے — ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ میں توسیع، مہارتوں میں اضافہ، اور عالمی سپلائی چینز میں انضمام۔</p>
<p>جولائی کی کارکردگی حوصلہ افزا ہے، لیکن اصل کامیابی کا پیمانہ یہ ہوگا کہ آیا ملک اس آمدنی کو طویل مدتی لچک میں بدل سکتا ہے یا نہیں، اور ایک ایسی آمدنی پر انحصار کم کر سکتا ہے جو بالآخر اس کے اپنے کنٹرول سے باہر عوامل سے تشکیل پاتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275697</guid>
      <pubDate>Mon, 11 Aug 2025 10:20:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/1110175066558bf.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/1110175066558bf.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
