<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فرانس میں جنگل کی بھیانک آگ پر قابو پا لیا گیا، 16 ہزار ہیکٹر متاثر ہوا، مقامی حکام</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275622/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جنوبی فرانس میں منگل سے بھڑکنے والی جنگل کی آگ، جو 16,000 ہیکٹر (39,537 ایکڑ) رقبے پر مشتمل جنگلات اور دیہات کو جلا چکی ہے، کو مقامی حکام کے مطابق جمعرات کو قابو پا لیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ فائرفائٹرز آئندہ دنوں میں علاقے میں موجود رہیں گے تاکہ کسی بھی ممکنہ آگ کو دوبارہ بھڑکنے سے روکا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگ سے متاثرہ رہائشیوں کو تاحال گھروں میں واپسی کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ کئی سڑکیں نقصان اور گرے ہوئے بجلی کے کھمبوں کے باعث بند ہیں۔ حکام کے مطابق یہ تقریباً آٹھ دہائیوں میں فرانس کی سب سے بڑی جنگل کی آگ ہے، جس میں ایک خاتون ہلاک ہوئیں جنہوں نے انخلا کے احکامات نظر انداز کیے، جبکہ 18 افراد زخمی ہوئے، جن میں 16 فائرفائٹرز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگ نے 36 مکانات تباہ اور 20 کو نقصان پہنچایا، جبکہ تقریباً 2,000 افراد کو علاقے سے نکالنا پڑا۔ بحران کے دوران 5,000 گھروں کی بجلی منقطع ہوئی، جن میں سے 1,500 میں جمعرات شام تک بجلی بحال نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی رہائشیوں نے صورتِ حال کو قیامت سے تعبیر کیا، جبکہ ڈرون مناظر میں وسیع و عریض جلا ہوا علاقہ دکھائی دیا۔ تیز ہواؤں، خشک موسم اور طویل خشک سالی نے آگ کو غیر معمولی تیزی سے پھیلایا۔ حکام کے مطابق اگرچہ آگ کی شدت کم ہوئی ہے، مگر خطرہ برقرار ہے اور دوبارہ بھڑکنے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماحولیات کی وزیر نے کہا کہ یہ 1949 کے بعد کی سب سے بڑی آگ ہے اور اس کی وجہ موسمیاتی تبدیلی اور خطے میں خشک سالی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق بحیرہ روم کے علاقے میں گرم اور خشک موسم گرما جنگل کی آگ کے خطرات کو بڑھا دیتا ہے۔ تفتیش جاری ہے جبکہ مقامی کسان اور میئرز انگور کے باغات کی کمی کو آگ کے تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جنوبی فرانس میں منگل سے بھڑکنے والی جنگل کی آگ، جو 16,000 ہیکٹر (39,537 ایکڑ) رقبے پر مشتمل جنگلات اور دیہات کو جلا چکی ہے، کو مقامی حکام کے مطابق جمعرات کو قابو پا لیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ فائرفائٹرز آئندہ دنوں میں علاقے میں موجود رہیں گے تاکہ کسی بھی ممکنہ آگ کو دوبارہ بھڑکنے سے روکا جا سکے۔</strong></p>
<p>آگ سے متاثرہ رہائشیوں کو تاحال گھروں میں واپسی کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ کئی سڑکیں نقصان اور گرے ہوئے بجلی کے کھمبوں کے باعث بند ہیں۔ حکام کے مطابق یہ تقریباً آٹھ دہائیوں میں فرانس کی سب سے بڑی جنگل کی آگ ہے، جس میں ایک خاتون ہلاک ہوئیں جنہوں نے انخلا کے احکامات نظر انداز کیے، جبکہ 18 افراد زخمی ہوئے، جن میں 16 فائرفائٹرز شامل ہیں۔</p>
<p>آگ نے 36 مکانات تباہ اور 20 کو نقصان پہنچایا، جبکہ تقریباً 2,000 افراد کو علاقے سے نکالنا پڑا۔ بحران کے دوران 5,000 گھروں کی بجلی منقطع ہوئی، جن میں سے 1,500 میں جمعرات شام تک بجلی بحال نہیں ہو سکی۔</p>
<p>مقامی رہائشیوں نے صورتِ حال کو قیامت سے تعبیر کیا، جبکہ ڈرون مناظر میں وسیع و عریض جلا ہوا علاقہ دکھائی دیا۔ تیز ہواؤں، خشک موسم اور طویل خشک سالی نے آگ کو غیر معمولی تیزی سے پھیلایا۔ حکام کے مطابق اگرچہ آگ کی شدت کم ہوئی ہے، مگر خطرہ برقرار ہے اور دوبارہ بھڑکنے کا خدشہ ہے۔</p>
<p>ماحولیات کی وزیر نے کہا کہ یہ 1949 کے بعد کی سب سے بڑی آگ ہے اور اس کی وجہ موسمیاتی تبدیلی اور خطے میں خشک سالی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق بحیرہ روم کے علاقے میں گرم اور خشک موسم گرما جنگل کی آگ کے خطرات کو بڑھا دیتا ہے۔ تفتیش جاری ہے جبکہ مقامی کسان اور میئرز انگور کے باغات کی کمی کو آگ کے تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275622</guid>
      <pubDate>Fri, 08 Aug 2025 12:29:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/0812290800c9cea.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/0812290800c9cea.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
