<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:18:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:18:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قومی اسمبلی نے پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی بل 2025 منظور کرلیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275608/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قومی اسمبلی نے جمعرات کو ”پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی بل 2025“ کثرتِ رائے سے منظور کر لیا، جس میں کئی ترامیم شامل کی گئیں تاکہ پاکستان کے زمینی بندرگاہوں پر سامان اور مسافروں کی نقل و حرکت کو آسان بنایا جا سکے اور تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے یہ بل ایوان میں پیش کیا، جو پیپلز پارٹی کے نوید قمر کی جانب سے پیش کی گئی متعدد ترامیم کے ساتھ منظور ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قانون بننے کے بعد پاکستان جنوبی ایشیا کا تیسرا ملک بن جائے گا جس کے پاس لینڈ پورٹ اتھارٹی ہوگی۔ اس سے قبل بنگلہ دیش نے 2002 میں اور بھارت نے مارچ 2012 میں یہ ادارہ قائم کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوید قمر نے بل کی مختلف شقوں میں 18 ترامیم پیش کیں، جنہیں ایوان نے منظور کر لیا۔ اجلاس کی صدارت کرنے والے رکن قومی اسمبلی علی زاہد نے شق وار پڑھنے کا حکم دیا، اس دوران نوید قمر نے کچھ شقوں پر اپنی جماعت کے تحفظات ظاہر کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قانون تمام زمینی بندرگاہوں کے اعلان، ضابطہ بندی، سیکیورٹی اور نگرانی کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرے گا تاکہ تجارت کو فروغ دیا جا سکے، آزادانہ مسابقت کو ممکن بنایا جا سکے، بارڈر کنٹرول نافذ ہو اور ملک کے اسٹریٹجک مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتھارٹی بارڈر ایجنسیوں کے ساتھ مؤثر رابطے کا مضبوط نظام قائم کرے گی تاکہ بین الاقوامی معاہدوں اور کنونشنز کے تحت تجارتی سہولت فراہم کی جا سکے، زمینی بندرگاہوں کی کارکردگی میں بہتری لائی جا سکے اور خطے میں مسابقت بڑھائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل میں اتھارٹی کی نگرانی کے لیے 16 رکنی گورننگ کونسل کے قیام کی تجویز بھی دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل کے مقاصد کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں زمینی بندرگاہوں پر سامان اور مسافروں کی سرحد پار نقل و حرکت کے لیے مربوط نظام قائم کرنا ضروری ہے تاکہ ان کی نگرانی، انتظام اور ترقی ممکن ہو اور متعلقہ امور کو حل کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال بین الاقوامی سرحدی مقامات پر مختلف حکومتی اداروں اور سروس فراہم کنندگان کے درمیان رابطے کے لیے کوئی واحد ادارہ موجود نہیں، جس کی وجہ سے بعض اوقات سامان اور مسافروں کی آمد و رفت میں تاخیر ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قومی اسمبلی نے جمعرات کو ”پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی بل 2025“ کثرتِ رائے سے منظور کر لیا، جس میں کئی ترامیم شامل کی گئیں تاکہ پاکستان کے زمینی بندرگاہوں پر سامان اور مسافروں کی نقل و حرکت کو آسان بنایا جا سکے اور تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔</strong></p>
<p>وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے یہ بل ایوان میں پیش کیا، جو پیپلز پارٹی کے نوید قمر کی جانب سے پیش کی گئی متعدد ترامیم کے ساتھ منظور ہوا۔</p>
<p>یہ قانون بننے کے بعد پاکستان جنوبی ایشیا کا تیسرا ملک بن جائے گا جس کے پاس لینڈ پورٹ اتھارٹی ہوگی۔ اس سے قبل بنگلہ دیش نے 2002 میں اور بھارت نے مارچ 2012 میں یہ ادارہ قائم کیا تھا۔</p>
<p>نوید قمر نے بل کی مختلف شقوں میں 18 ترامیم پیش کیں، جنہیں ایوان نے منظور کر لیا۔ اجلاس کی صدارت کرنے والے رکن قومی اسمبلی علی زاہد نے شق وار پڑھنے کا حکم دیا، اس دوران نوید قمر نے کچھ شقوں پر اپنی جماعت کے تحفظات ظاہر کیے۔</p>
<p>یہ قانون تمام زمینی بندرگاہوں کے اعلان، ضابطہ بندی، سیکیورٹی اور نگرانی کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرے گا تاکہ تجارت کو فروغ دیا جا سکے، آزادانہ مسابقت کو ممکن بنایا جا سکے، بارڈر کنٹرول نافذ ہو اور ملک کے اسٹریٹجک مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔</p>
<p>اتھارٹی بارڈر ایجنسیوں کے ساتھ مؤثر رابطے کا مضبوط نظام قائم کرے گی تاکہ بین الاقوامی معاہدوں اور کنونشنز کے تحت تجارتی سہولت فراہم کی جا سکے، زمینی بندرگاہوں کی کارکردگی میں بہتری لائی جا سکے اور خطے میں مسابقت بڑھائی جا سکے۔</p>
<p>بل میں اتھارٹی کی نگرانی کے لیے 16 رکنی گورننگ کونسل کے قیام کی تجویز بھی دی گئی ہے۔</p>
<p>بل کے مقاصد کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں زمینی بندرگاہوں پر سامان اور مسافروں کی سرحد پار نقل و حرکت کے لیے مربوط نظام قائم کرنا ضروری ہے تاکہ ان کی نگرانی، انتظام اور ترقی ممکن ہو اور متعلقہ امور کو حل کیا جا سکے۔</p>
<p>فی الحال بین الاقوامی سرحدی مقامات پر مختلف حکومتی اداروں اور سروس فراہم کنندگان کے درمیان رابطے کے لیے کوئی واحد ادارہ موجود نہیں، جس کی وجہ سے بعض اوقات سامان اور مسافروں کی آمد و رفت میں تاخیر ہو جاتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275608</guid>
      <pubDate>Fri, 08 Aug 2025 09:58:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید بٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/08095336b964678.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/08095336b964678.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
