<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایم سی بی بینک کا ششماہی منافع 27.31 ارب ، مجموعی ڈیوڈنڈ 180 فیصد تک پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275581/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایم سی بی بینک لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے میاں محمد منشاء کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں 30 جون 2025 کو ختم ہونے والی ششماہی مدت کے لیے بینک کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور مختصر عبوری مالیاتی بیانات کی منظوری دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بورڈ نے 9.00 روپے فی شیئر (90 فیصد) کی دوسری عبوری نقد ڈیوڈنڈ کی منظوری دی جو پہلے جاری کردہ 90 فیصد ڈیوڈنڈ کے علاوہ ہے, اس طرح رواں سال کی پہلی ششماہی کے لیے مجموعی نقد ڈیوڈنڈ 180 فیصد تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم سی بی بینک نے 30 جون 2025 کو ختم ہونے والی چھ ماہ کی مدت کے لیے 58.06 ارب روپے قبل از ٹیکس منافع کا اعلان کیا جب کہ بعد از ٹیکس منافع 27.31 ارب روپے رہا جو فی حصص آمدنی  کے اعتبار سے 23.04 روپے بنتی ہے جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ 26.95 روپے تھی۔ خالص منافع میں کمی کی ایک اہم وجہ مؤثر ٹیکس شرح میں 4 فیصد اضافہ ہے۔ مجموعی بنیادوں پر بینک کا قبل از ٹیکس منافع 62.5 ارب روپے رہا، جو بینک کی متوازن مالی حکمتِ عملی، بنیادی بینکاری سرگرمیوں پر توجہ اور محتاط رسک مینجمنٹ کا عکاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خالص سودی آمدنی میں سالانہ 5 فیصد کمی دیکھی گئی جس کی بنیادی وجہ پالیسی ریٹ میں کمی کے باعث مارجن میں دباؤ تھا۔ تاہم، بغیر لاگت والے ڈپازٹس کے حصول پر توجہ کے باعث کرنٹ ڈپازٹس میں 27 فیصد اضافہ ہوا جس نے اس اثر کو کسی حد تک متوازن کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر سودی آمدنی 4 فیصد کمی کے ساتھ 17.5 ارب روپے رہی۔ فیس اور کمیشن کی آمدنی میں 13 فیصد کمی ہوئی جو 9.8 ارب روپے ریکارڈ کی گئی، جس کی وجہ ترسیلات زر کے نظام میں بڑھتی ہوئی مسابقت تھی۔ فارن ایکسچینج آمدنی 4.9 ارب روپے پر مستحکم رہی جبکہ ڈیویڈنڈ آمدنی میں 55 فیصد اضافہ ہوا جو 2.6 ارب روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل بینکاری سے حاصل ہونے والے فائدے کے تحت کارڈ سے متعلق آمدنی میں 18 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک کے آپریٹنگ اخراجات میں 18 فیصد اضافہ ہوا جس کی وجہ افرادی قوت، ٹیکنالوجی اور مارکیٹنگ میں سرمایہ کاری رہی۔ اس کے باوجود اخراجات اور آمدنی کا تناسب 38.05 فیصد رہا جو مالی نظم و ضبط کا مظہر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم سی بی بینک کے کل اثاثے 25 فیصد اضافے کے ساتھ 3.38 کھرب روپے تک پہنچ گئے جس میں سرمایہ کاری میں 78 فیصد اضافہ کلیدی محرک رہا۔ مجموعی قرضہ جات میں 36 فیصد کمی ہوئی جو بینک کی محتاط قرضہ پالیسی اور موجودہ معاشی چیلنجز کا نتیجہ ہے۔ غیر فعال قرضے 52.0 ارب روپے پر برقرار رہے، انفیکشن ریٹ 7.42 فیصد جبکہ کوریج ریٹ 91.71 فیصد رہا، جو اثاثوں کے مضبوط معیار کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک کے ڈپازٹس 2.23 کھرب روپے تک پہنچ گئے، جن میں کرنٹ ڈپازٹس میں تاریخی 256 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ اس بہتری کے باعث ملکی ڈپازٹس کی لاگت کم ہوکر 5.23 فیصد ہو گئی، جو گزشتہ سال 10.76 فیصد تھی۔ بینک نے 1.80 فیصد ریٹرن آن ایسیٹس اور 23.66 فیصد ریٹرن آن ایکویٹی رپورٹ کیا جبکہ فی حصص بُک ویلیو 197.84 روپے ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم سی بی بینک نے ترسیلات زر کے شعبے میں قائدانہ کردار ادا کرنا جاری رکھا اور 2025 کی پہلی ششماہی کے دوران 2,303 ملین امریکی ڈالر کی ہوم ریمیٹنسز پراسیس کیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 16.7 فیصد زیادہ ہیں۔ بینک اسٹیٹ بینک کی باضابطہ ترسیلاتی ذرائع کے فروغ اور ملک بھر میں مالی شمولیت کے فروغ کی کوششوں میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایم سی بی بینک لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے میاں محمد منشاء کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں 30 جون 2025 کو ختم ہونے والی ششماہی مدت کے لیے بینک کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور مختصر عبوری مالیاتی بیانات کی منظوری دی۔</strong></p>
<p>بورڈ نے 9.00 روپے فی شیئر (90 فیصد) کی دوسری عبوری نقد ڈیوڈنڈ کی منظوری دی جو پہلے جاری کردہ 90 فیصد ڈیوڈنڈ کے علاوہ ہے, اس طرح رواں سال کی پہلی ششماہی کے لیے مجموعی نقد ڈیوڈنڈ 180 فیصد تک پہنچ گیا۔</p>
<p>ایم سی بی بینک نے 30 جون 2025 کو ختم ہونے والی چھ ماہ کی مدت کے لیے 58.06 ارب روپے قبل از ٹیکس منافع کا اعلان کیا جب کہ بعد از ٹیکس منافع 27.31 ارب روپے رہا جو فی حصص آمدنی  کے اعتبار سے 23.04 روپے بنتی ہے جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ 26.95 روپے تھی۔ خالص منافع میں کمی کی ایک اہم وجہ مؤثر ٹیکس شرح میں 4 فیصد اضافہ ہے۔ مجموعی بنیادوں پر بینک کا قبل از ٹیکس منافع 62.5 ارب روپے رہا، جو بینک کی متوازن مالی حکمتِ عملی، بنیادی بینکاری سرگرمیوں پر توجہ اور محتاط رسک مینجمنٹ کا عکاس ہے۔</p>
<p>خالص سودی آمدنی میں سالانہ 5 فیصد کمی دیکھی گئی جس کی بنیادی وجہ پالیسی ریٹ میں کمی کے باعث مارجن میں دباؤ تھا۔ تاہم، بغیر لاگت والے ڈپازٹس کے حصول پر توجہ کے باعث کرنٹ ڈپازٹس میں 27 فیصد اضافہ ہوا جس نے اس اثر کو کسی حد تک متوازن کیا۔</p>
<p>غیر سودی آمدنی 4 فیصد کمی کے ساتھ 17.5 ارب روپے رہی۔ فیس اور کمیشن کی آمدنی میں 13 فیصد کمی ہوئی جو 9.8 ارب روپے ریکارڈ کی گئی، جس کی وجہ ترسیلات زر کے نظام میں بڑھتی ہوئی مسابقت تھی۔ فارن ایکسچینج آمدنی 4.9 ارب روپے پر مستحکم رہی جبکہ ڈیویڈنڈ آمدنی میں 55 فیصد اضافہ ہوا جو 2.6 ارب روپے رہی۔</p>
<p>ڈیجیٹل بینکاری سے حاصل ہونے والے فائدے کے تحت کارڈ سے متعلق آمدنی میں 18 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔</p>
<p>بینک کے آپریٹنگ اخراجات میں 18 فیصد اضافہ ہوا جس کی وجہ افرادی قوت، ٹیکنالوجی اور مارکیٹنگ میں سرمایہ کاری رہی۔ اس کے باوجود اخراجات اور آمدنی کا تناسب 38.05 فیصد رہا جو مالی نظم و ضبط کا مظہر ہے۔</p>
<p>ایم سی بی بینک کے کل اثاثے 25 فیصد اضافے کے ساتھ 3.38 کھرب روپے تک پہنچ گئے جس میں سرمایہ کاری میں 78 فیصد اضافہ کلیدی محرک رہا۔ مجموعی قرضہ جات میں 36 فیصد کمی ہوئی جو بینک کی محتاط قرضہ پالیسی اور موجودہ معاشی چیلنجز کا نتیجہ ہے۔ غیر فعال قرضے 52.0 ارب روپے پر برقرار رہے، انفیکشن ریٹ 7.42 فیصد جبکہ کوریج ریٹ 91.71 فیصد رہا، جو اثاثوں کے مضبوط معیار کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>بینک کے ڈپازٹس 2.23 کھرب روپے تک پہنچ گئے، جن میں کرنٹ ڈپازٹس میں تاریخی 256 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ اس بہتری کے باعث ملکی ڈپازٹس کی لاگت کم ہوکر 5.23 فیصد ہو گئی، جو گزشتہ سال 10.76 فیصد تھی۔ بینک نے 1.80 فیصد ریٹرن آن ایسیٹس اور 23.66 فیصد ریٹرن آن ایکویٹی رپورٹ کیا جبکہ فی حصص بُک ویلیو 197.84 روپے ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>ایم سی بی بینک نے ترسیلات زر کے شعبے میں قائدانہ کردار ادا کرنا جاری رکھا اور 2025 کی پہلی ششماہی کے دوران 2,303 ملین امریکی ڈالر کی ہوم ریمیٹنسز پراسیس کیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 16.7 فیصد زیادہ ہیں۔ بینک اسٹیٹ بینک کی باضابطہ ترسیلاتی ذرائع کے فروغ اور ملک بھر میں مالی شمولیت کے فروغ کی کوششوں میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275581</guid>
      <pubDate>Thu, 07 Aug 2025 13:07:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (پریس ریلیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/071256544c3f492.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/071256544c3f492.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
