<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غیر یقینی سکیورٹی صورتحال کاروباری اعتماد کیلئے دھچکا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275569/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کا غیر مستحکم سیکیورٹی ماحول، مسلسل سیاسی عدم استحکام کے ساتھ ملکر طویل عرصے سے سرمایہ کاری اور کاروباری اعتماد پر منفی اثر ڈالتا آیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک ایسا ماحول پیدا ہوتا ہے جو مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں دونوں کو ہچکچاہٹ میں مبتلا کر دیتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہشت گردی اور عسکریت پسندوں کے حملوں سے لے کر اسٹریٹ کرائم اور سیاسی نوعیت کے مظاہروں جیسے خطرات، نہ صرف آپریٹنگ اخراجات میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ مالی خطرات کو بھی بڑھاتے ہیں اور طویل مدتی سرمایہ کاری کی خواہش کو کمزور کر دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او آئی سی سی آئی(اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری) کے سیکیورٹی سروے 2025 کے حالیہ نتائج — جو جون 2024 سے مئی 2025 کی مدت پر محیط ہیں — ظاہر کرتے ہیں کہ کس طرح سیکیورٹی کے منظرنامے میں تبدیلیاں کاروباری جذبات پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سروے کراچی اور لاہور جیسے بڑے معاشی مراکز میں واضح بہتری کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں کاروباروں نے آپریشنز میں کم خلل اور کمپنی کے اثاثہ جات، ملازمین اور صارفین کے لیے زیادہ محفوظ ماحول کی اطلاع دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنگین جرائم جیسے کہ مسلح ڈکیتیوں اور اغوا کے واقعات میں کمی — خصوصاً کراچی، اندرون سندھ، اور پنجاب میں — ایک مثبت پیش رفت رہی ہے، جیسا کہ کراچی، لاہور، اور اسلام آباد میں اسٹریٹ کرائم میں نمایاں کمی بھی رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملازمین کی روزمرہ سفر کے دوران خود کو محفوظ محسوس کرنے کی سطح ان شہروں میں بہتر ہوئی ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بہتر شہری سیکیورٹی براہِ راست ورک فورس کی پیداوار اور نقل و حرکت کو سہارا دیتی ہے۔ ان مثبت تبدیلیوں کی بنیاد قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بڑھتے ہوئے اعتماد پر ہے، جن میں سندھ پولیس، سندھ رینجرز، خیبر پختونخوا پولیس، اور سی پی ایل سی (سِٹیزنز پولیس لائژن کمیٹی) کراچی شامل ہیں، جنہیں کاروباری ماحول کو محفوظ بنانے میں ان کے کردار پر مثبت ریٹنگز دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، سیکیورٹی کا مجموعی منظرنامہ اب بھی غیر متوازن ہے۔ بلوچستان، اندرون سندھ، اور خیبر پختونخوا کے کچھ علاقوں جیسے خطوں میں یا تو سیکیورٹی کی صورتحال جوں کی توں ہے یا مزید خراب ہوئی ہے، جو ان علاقوں میں کام کرنے یا وہاں سے سپلائی لینے والے سرمایہ کاروں اور کاروباروں کے لیے بدستور چیلنجز پیش کرتی ہے۔ خاص طور پر، بلوچستان ایک ابھرتا ہوا تشویش ناک علاقہ بن کر سامنے آیا ہے، جہاں امن و امان کی بگڑتی صورت حال نے تحفظ کے تاثر کو مزید خراب کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حتیٰ کہ ان علاقوں میں بھی جہاں بہتری دیکھی گئی ہے، کاروبار اب بھی غیر قانونی رشوت ستانی، غیر ملکی ملازمین کے تحفظ کے خدشات، اور سیاسی بنیاد پر ہونے والے ہڑتالوں و مظاہروں جیسے مسائل کی شکایت کرتے ہیں۔ یہ عوامل وسیع تر طرزِ حکمرانی (گورننس) کے مسائل کو جنم دیتے ہیں اور سرمایہ کاروں کی ہچکچاہٹ کو برقرار رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں سیکیورٹی اور سرمایہ کاری کے درمیان تاریخی تعلق واضح ہے۔ جب بھی پرتشدد واقعات یا سیاسی بحران شدت اختیار کرتے ہیں، غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں شدید کمی دیکھنے میں آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 2008 تا 2010 کے دوران، عسکریت پسندوں کے تشدد اور سیاسی عدم استحکام نے غیر ملکی سرمایہ کاری کو 50 فیصد سے زائد گرا دیا — جو مالی سال 2008 میں 5.41 ارب ڈالر سے گھٹ کر مالی سال 2010 میں تقریباً 2.15 ارب ڈالر رہ گئی۔ حالیہ عرصے میں، سال 2022 تا 2024، سیاسی انتشار، تباہ کن سیلاب، بڑھتی ہوئی دہشت گردی، اور معاشی دباؤ نے سرمایہ کاروں کی دلچسپی کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے باعث اہم منصوبے تعطل کا شکار ہوئے اور مجموعی سرمایہ کاری میں واضح کمی آئی۔ یہ رجحان اس وسیع تر حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ محض میکرو اکنامک اشاریوں میں بہتری یا وقتی سیاسی اتفاقِ رائے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو اس وقت تک بحال نہیں کر سکتے جب تک کہ کاروباری ماحول محفوظ اور پیش گوئی کے قابل نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او آئی سی سی آئی سیکیورٹی سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ کراچی، لاہور اور دیگر کلیدی کاروباری مراکز میں حالیہ بہتری سرمایہ کاری کے امکانات کو مضبوط کرنے کے لیے ایک موقع فراہم کرتی ہے، مگر یہ پیش رفت نازک اور علاقائی لحاظ سے غیر متوازن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طویل المدتی ترقی اور پائیدار ملکی و غیر ملکی سرمایہ کو راغب کرنے کی صلاحیت اس بات پر منحصر ہے کہ سیکیورٹی خطرات کا ہمہ جہت حل پیش کیا جائے، بدعنوانی کا خاتمہ ہو، پسماندہ علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے ادارے بہتر بنائے جائیں، اور سیاسی خلفشار کو کم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ان جیسے نظامی اصلاحات نہ کی گئیں، تو سرمایہ کاروں کا رویہ محتاط ہی رہے گا، اور پاکستان اپنے اسٹریٹجک محلِ وقوع، نوجوان افرادی قوت، اور ابھرتی ہوئی صارف مارکیٹ جیسے اثاثوں کو بروئے کار لانے کی صلاحیت سے محروم رہے گا — کیونکہ ملک سے متعلق ”خطرے کا تاثر“ برقرار رہے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کا غیر مستحکم سیکیورٹی ماحول، مسلسل سیاسی عدم استحکام کے ساتھ ملکر طویل عرصے سے سرمایہ کاری اور کاروباری اعتماد پر منفی اثر ڈالتا آیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک ایسا ماحول پیدا ہوتا ہے جو مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں دونوں کو ہچکچاہٹ میں مبتلا کر دیتا ہے۔</strong></p>
<p>دہشت گردی اور عسکریت پسندوں کے حملوں سے لے کر اسٹریٹ کرائم اور سیاسی نوعیت کے مظاہروں جیسے خطرات، نہ صرف آپریٹنگ اخراجات میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ مالی خطرات کو بھی بڑھاتے ہیں اور طویل مدتی سرمایہ کاری کی خواہش کو کمزور کر دیتے ہیں۔</p>
<p>او آئی سی سی آئی(اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری) کے سیکیورٹی سروے 2025 کے حالیہ نتائج — جو جون 2024 سے مئی 2025 کی مدت پر محیط ہیں — ظاہر کرتے ہیں کہ کس طرح سیکیورٹی کے منظرنامے میں تبدیلیاں کاروباری جذبات پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔</p>
<p>یہ سروے کراچی اور لاہور جیسے بڑے معاشی مراکز میں واضح بہتری کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں کاروباروں نے آپریشنز میں کم خلل اور کمپنی کے اثاثہ جات، ملازمین اور صارفین کے لیے زیادہ محفوظ ماحول کی اطلاع دی ہے۔</p>
<p>سنگین جرائم جیسے کہ مسلح ڈکیتیوں اور اغوا کے واقعات میں کمی — خصوصاً کراچی، اندرون سندھ، اور پنجاب میں — ایک مثبت پیش رفت رہی ہے، جیسا کہ کراچی، لاہور، اور اسلام آباد میں اسٹریٹ کرائم میں نمایاں کمی بھی رہی۔</p>
<p>ملازمین کی روزمرہ سفر کے دوران خود کو محفوظ محسوس کرنے کی سطح ان شہروں میں بہتر ہوئی ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بہتر شہری سیکیورٹی براہِ راست ورک فورس کی پیداوار اور نقل و حرکت کو سہارا دیتی ہے۔ ان مثبت تبدیلیوں کی بنیاد قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بڑھتے ہوئے اعتماد پر ہے، جن میں سندھ پولیس، سندھ رینجرز، خیبر پختونخوا پولیس، اور سی پی ایل سی (سِٹیزنز پولیس لائژن کمیٹی) کراچی شامل ہیں، جنہیں کاروباری ماحول کو محفوظ بنانے میں ان کے کردار پر مثبت ریٹنگز دی گئی ہیں۔</p>
<p>تاہم، سیکیورٹی کا مجموعی منظرنامہ اب بھی غیر متوازن ہے۔ بلوچستان، اندرون سندھ، اور خیبر پختونخوا کے کچھ علاقوں جیسے خطوں میں یا تو سیکیورٹی کی صورتحال جوں کی توں ہے یا مزید خراب ہوئی ہے، جو ان علاقوں میں کام کرنے یا وہاں سے سپلائی لینے والے سرمایہ کاروں اور کاروباروں کے لیے بدستور چیلنجز پیش کرتی ہے۔ خاص طور پر، بلوچستان ایک ابھرتا ہوا تشویش ناک علاقہ بن کر سامنے آیا ہے، جہاں امن و امان کی بگڑتی صورت حال نے تحفظ کے تاثر کو مزید خراب کیا ہے۔</p>
<p>حتیٰ کہ ان علاقوں میں بھی جہاں بہتری دیکھی گئی ہے، کاروبار اب بھی غیر قانونی رشوت ستانی، غیر ملکی ملازمین کے تحفظ کے خدشات، اور سیاسی بنیاد پر ہونے والے ہڑتالوں و مظاہروں جیسے مسائل کی شکایت کرتے ہیں۔ یہ عوامل وسیع تر طرزِ حکمرانی (گورننس) کے مسائل کو جنم دیتے ہیں اور سرمایہ کاروں کی ہچکچاہٹ کو برقرار رکھتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں سیکیورٹی اور سرمایہ کاری کے درمیان تاریخی تعلق واضح ہے۔ جب بھی پرتشدد واقعات یا سیاسی بحران شدت اختیار کرتے ہیں، غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں شدید کمی دیکھنے میں آتی ہے۔</p>
<p>سال 2008 تا 2010 کے دوران، عسکریت پسندوں کے تشدد اور سیاسی عدم استحکام نے غیر ملکی سرمایہ کاری کو 50 فیصد سے زائد گرا دیا — جو مالی سال 2008 میں 5.41 ارب ڈالر سے گھٹ کر مالی سال 2010 میں تقریباً 2.15 ارب ڈالر رہ گئی۔ حالیہ عرصے میں، سال 2022 تا 2024، سیاسی انتشار، تباہ کن سیلاب، بڑھتی ہوئی دہشت گردی، اور معاشی دباؤ نے سرمایہ کاروں کی دلچسپی کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے باعث اہم منصوبے تعطل کا شکار ہوئے اور مجموعی سرمایہ کاری میں واضح کمی آئی۔ یہ رجحان اس وسیع تر حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ محض میکرو اکنامک اشاریوں میں بہتری یا وقتی سیاسی اتفاقِ رائے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو اس وقت تک بحال نہیں کر سکتے جب تک کہ کاروباری ماحول محفوظ اور پیش گوئی کے قابل نہ ہو۔</p>
<p>او آئی سی سی آئی سیکیورٹی سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ کراچی، لاہور اور دیگر کلیدی کاروباری مراکز میں حالیہ بہتری سرمایہ کاری کے امکانات کو مضبوط کرنے کے لیے ایک موقع فراہم کرتی ہے، مگر یہ پیش رفت نازک اور علاقائی لحاظ سے غیر متوازن ہے۔</p>
<p>طویل المدتی ترقی اور پائیدار ملکی و غیر ملکی سرمایہ کو راغب کرنے کی صلاحیت اس بات پر منحصر ہے کہ سیکیورٹی خطرات کا ہمہ جہت حل پیش کیا جائے، بدعنوانی کا خاتمہ ہو، پسماندہ علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے ادارے بہتر بنائے جائیں، اور سیاسی خلفشار کو کم کیا جائے۔</p>
<p>اگر ان جیسے نظامی اصلاحات نہ کی گئیں، تو سرمایہ کاروں کا رویہ محتاط ہی رہے گا، اور پاکستان اپنے اسٹریٹجک محلِ وقوع، نوجوان افرادی قوت، اور ابھرتی ہوئی صارف مارکیٹ جیسے اثاثوں کو بروئے کار لانے کی صلاحیت سے محروم رہے گا — کیونکہ ملک سے متعلق ”خطرے کا تاثر“ برقرار رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275569</guid>
      <pubDate>Thu, 07 Aug 2025 11:05:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/071103244406c44.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="478" width="850">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/071103244406c44.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
