<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 14:19:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 14:19:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایس ای سی پی کا تاریخی سنگِ میل: جولائی میں 4,065 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، ریکارڈ قائم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275567/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کارپوریٹ شعبے میں نمایاں سنگِ میل عبور کرتے ہوئے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی ) نے جولائی 2025ء کے دوران 4 ہزار 65 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ کرکے ملکی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای سی پی کی جاری کردہ ماہانہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق جولائی میں کی گئی رجسٹریشن گزشتہ مہینوں کی نسبت سب سے زیادہ ہے جو ملک میں کاروباری رجحان اور ڈیجیٹلائزیشن کی طرف پیش رفت کا مظہر ہے،اس سے قبل مئی 2025ء کے دوران 3,609 کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئی تھیں جو اُس وقت تک سب سے زیادہ تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق رجسٹرڈ کی گئی کمپنیوں میں سے 99 فیصد سے زائد کی رجسٹریشن مکمل طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای سی پی کےمطابق ملک بھر میں اب تک رجسٹرڈ کمپنیوں کی کُل تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 62 ہزار 309 ہوچکی ہے، یہ تعداد نہ صرف معیشت کی وسعت کا اظہار کرتی ہے بلکہ ملکی کاروباری فضا میں بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی بھی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی 2025ء میں رجسٹرڈ ہونے والی کمپنیوں کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ57 فیصد کمپنیاں پرائیویٹ لمیٹڈ کے طور پر رجسٹر ہوئیں جبکہ 39 فیصد کمپنیاں سنگل ممبر کمپنیوں کی شکل میں سامنے آئیں۔ بقیہ کمپنیاں پبلک لمیٹڈ، نان پرافٹ، غیر ملکی، یا دیگر اقسام میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کےمطابق 862 کمپنیاں صرف آئی ٹی اور ای کامرس کے شعبوں سے تعلق رکھتی ہیں جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ نوجوان کاروباری طبقہ ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے۔اس کے بعد ٹریڈنگ کے شعبے میں 530، سروسز میں 468 اور رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ و تعمیرات میں 398 کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔ دیگر سرگرم شعبوں میں سیاحت و ٹرانسپورٹ (295)، خوراک و مشروبات (203)، تعلیم (148)، مارکیٹنگ و اشتہارات (98)، مائننگ  (95)، ٹیکسٹائل (91)، دواسازی (86)، زرعی کاشتکاری (74)، انجینئرنگ (64)، کاسمیٹکس و ٹوائلٹریز (59) اور کیمیکلز و ہیلتھ کیئر (56) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 482 کمپنیاں دیگر شعبوں میں رجسٹر کی گئیں، جن میں ایندھن و توانائی، سیکشن 42 کے تحت غیر منافع بخش ادارے، آٹو و متعلقہ صنعتیں، بجلی کی پیداوار، اور مواصلات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی کے دوران 96 غیر ملکی کمپنیاں بھی پاکستان میں رجسٹر ہوئیں جو عالمی سرمایہ کاروں کے پاکستان کے کارپوریٹ سیکٹر پر اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ تک رسائی اور مالی شمولیت کو فروغ دینے کی کوششوں کے تحت ایس ای سی پی نے رواں ماہ مختلف ریگولیٹری شعبوں میں مجموعی طور پر 60 لائسنس جاری کیے جن میں کیپیٹل مارکیٹس کے لیے پانچ، انشورنس کے لیے ایک، نان بینکنگ فنانشل کمپنیوں کے لیے دو اور غیر منافع بخش تنظیموں کے لیے 52 لائسنس شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں منعقدہ رجسٹرارز کانفرنس کے بعد ایس ای سی پی کاروباری برادری کے درمیان کمپنی رجسٹریشن کے فوائد کو اجاگر کرنے کے لیے ایک جامع آگاہی مہم شروع کر رہا ہے۔ ان فوائد میں محدود ذمہ داری، علیحدہ قانونی حیثیت، بہتر ساکھ اور ترقی کی صلاحیت، مستقل تسلسل، منظم حکمرانی، ٹیکس میں سہولت، مالی وسائل تک آسان رسائی اور برانڈ کے تحفظ میں مضبوطی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای سی پی کاروباری مواقع کے فروغ، سرمایہ کاری کے حصول اور پائیدار اقتصادی ترقی کی حمایت کے لیے اپنے ڈیجیٹل نظام کو مضبوط بنانے اور ریگولیٹری عمل کو مزید آسان بنانے کے عزم پر قائم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین معاشیات نے ایس ای سی پی کی اس کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہی تسلسل جاری رہا تو آنے والے دنوں میں پاکستان کا کارپوریٹ سیکٹر نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر بھی مزید فعال اور قابلِ اعتماد تصور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کارپوریٹ شعبے میں نمایاں سنگِ میل عبور کرتے ہوئے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی ) نے جولائی 2025ء کے دوران 4 ہزار 65 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ کرکے ملکی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔</strong></p>
<p>ایس ای سی پی کی جاری کردہ ماہانہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق جولائی میں کی گئی رجسٹریشن گزشتہ مہینوں کی نسبت سب سے زیادہ ہے جو ملک میں کاروباری رجحان اور ڈیجیٹلائزیشن کی طرف پیش رفت کا مظہر ہے،اس سے قبل مئی 2025ء کے دوران 3,609 کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئی تھیں جو اُس وقت تک سب سے زیادہ تھیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق رجسٹرڈ کی گئی کمپنیوں میں سے 99 فیصد سے زائد کی رجسٹریشن مکمل طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے کی گئی۔</p>
<p>ایس ای سی پی کےمطابق ملک بھر میں اب تک رجسٹرڈ کمپنیوں کی کُل تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 62 ہزار 309 ہوچکی ہے، یہ تعداد نہ صرف معیشت کی وسعت کا اظہار کرتی ہے بلکہ ملکی کاروباری فضا میں بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی بھی کرتی ہے۔</p>
<p>جولائی 2025ء میں رجسٹرڈ ہونے والی کمپنیوں کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ57 فیصد کمپنیاں پرائیویٹ لمیٹڈ کے طور پر رجسٹر ہوئیں جبکہ 39 فیصد کمپنیاں سنگل ممبر کمپنیوں کی شکل میں سامنے آئیں۔ بقیہ کمپنیاں پبلک لمیٹڈ، نان پرافٹ، غیر ملکی، یا دیگر اقسام میں شامل ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کےمطابق 862 کمپنیاں صرف آئی ٹی اور ای کامرس کے شعبوں سے تعلق رکھتی ہیں جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ نوجوان کاروباری طبقہ ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے۔اس کے بعد ٹریڈنگ کے شعبے میں 530، سروسز میں 468 اور رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ و تعمیرات میں 398 کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔ دیگر سرگرم شعبوں میں سیاحت و ٹرانسپورٹ (295)، خوراک و مشروبات (203)، تعلیم (148)، مارکیٹنگ و اشتہارات (98)، مائننگ  (95)، ٹیکسٹائل (91)، دواسازی (86)، زرعی کاشتکاری (74)، انجینئرنگ (64)، کاسمیٹکس و ٹوائلٹریز (59) اور کیمیکلز و ہیلتھ کیئر (56) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 482 کمپنیاں دیگر شعبوں میں رجسٹر کی گئیں، جن میں ایندھن و توانائی، سیکشن 42 کے تحت غیر منافع بخش ادارے، آٹو و متعلقہ صنعتیں، بجلی کی پیداوار، اور مواصلات شامل ہیں۔</p>
<p>جولائی کے دوران 96 غیر ملکی کمپنیاں بھی پاکستان میں رجسٹر ہوئیں جو عالمی سرمایہ کاروں کے پاکستان کے کارپوریٹ سیکٹر پر اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>مارکیٹ تک رسائی اور مالی شمولیت کو فروغ دینے کی کوششوں کے تحت ایس ای سی پی نے رواں ماہ مختلف ریگولیٹری شعبوں میں مجموعی طور پر 60 لائسنس جاری کیے جن میں کیپیٹل مارکیٹس کے لیے پانچ، انشورنس کے لیے ایک، نان بینکنگ فنانشل کمپنیوں کے لیے دو اور غیر منافع بخش تنظیموں کے لیے 52 لائسنس شامل ہیں۔</p>
<p>حال ہی میں منعقدہ رجسٹرارز کانفرنس کے بعد ایس ای سی پی کاروباری برادری کے درمیان کمپنی رجسٹریشن کے فوائد کو اجاگر کرنے کے لیے ایک جامع آگاہی مہم شروع کر رہا ہے۔ ان فوائد میں محدود ذمہ داری، علیحدہ قانونی حیثیت، بہتر ساکھ اور ترقی کی صلاحیت، مستقل تسلسل، منظم حکمرانی، ٹیکس میں سہولت، مالی وسائل تک آسان رسائی اور برانڈ کے تحفظ میں مضبوطی شامل ہیں۔</p>
<p>ایس ای سی پی کاروباری مواقع کے فروغ، سرمایہ کاری کے حصول اور پائیدار اقتصادی ترقی کی حمایت کے لیے اپنے ڈیجیٹل نظام کو مضبوط بنانے اور ریگولیٹری عمل کو مزید آسان بنانے کے عزم پر قائم ہے۔</p>
<p>ماہرین معاشیات نے ایس ای سی پی کی اس کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہی تسلسل جاری رہا تو آنے والے دنوں میں پاکستان کا کارپوریٹ سیکٹر نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر بھی مزید فعال اور قابلِ اعتماد تصور کیا جائے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275567</guid>
      <pubDate>Thu, 07 Aug 2025 10:51:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/07104523513964e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/07104523513964e.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
