<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 03:10:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 03:10:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام، سبق سیکھنے کا وقت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275566/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جس قدر شاندار یہ کچھ سال پہلے تھا، نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام (این پی ایچ پی) اب درحقیقت صرف تاریخ کا ایک قصہ بن چکا ہے!&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کم از کم اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ویب سائٹ پر تو یہ ایک چھوٹے سے بینر میں صفحے کے بالکل نیچے دب گیا ہے۔ یہ کہ اسٹیٹ بینک نے اسے مکمل طور پر ختم نہیں کیا، ایک مثبت اشارہ ہے — اور ہم اس کی حمایت کرتے ہیں! موجودہ شہباز حکومت اس اسکیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک نئی اور بہتر ہاؤسنگ فنانس اسکیم شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کے لیے پانچ ارب روپے مارک اپ سبسڈی کے طور پر مختص کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو، اس سے پہلے کہ یہ منصوبہ بھی بیوروکریسی اور ناقص پالیسی سازی کا شکار ہو جائے، حکومت کو ایم پی ایم جی 2.0 (یا جو بھی نام دیا جائے) کے لیے درج ذیل چند اہم اسباق پر غور کرنا ہوگا:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا: سبسڈی کو درست اور ہدف شدہ بنائیں۔
ایم پی ایم جی کی سب سے بڑی خامیوں میں سے ایک اس کی شفافیت اور فوکس کی کمی تھی۔ بظاہر یہ اسکیم کم آمدنی والے طبقے (یا گھرانوں) کے لیے بنائی گئی تھی، لیکن یہ اصطلاح نہ تو واضح طور پر بیان کی گئی، اور نہ ہی بالواسطہ طور پر۔ اس کے مقرر کردہ معیار آمدنی کی بنیاد پر نہیں تھے بلکہ جائیداد کی مالیت پر مبنی تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سبسڈی قرعہ اندازی کی بنیاد پر دی گئی، نہ کہ ضرورت کی بنیاد پر۔ پالیسی کو اس بات میں ابہام نہیں ہونا چاہیے کہ ہدف کون ہے۔ ”کم آمدنی“ کی واضح تعریف ہونی چاہیے اور سبسڈی صرف مستحق افراد کو ہی دی جانی چاہیے۔ غیر رسمی آمدنی والے قرض داروں کے لیے متبادل کریڈٹ ماڈل اپنانے ہوں گے تاکہ رسک کا اندازہ لگایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا: اسکیم ہدف پر مبنی، ڈیٹا کی بنیاد پر اور شفاف ہونی چاہیے۔
یہ ممکن ہے کہ ایم پی ایم جی پر کوئی اندرونی اثراتی جائزہ تیار کیا گیا ہو اور پالیسی سازوں میں تقسیم بھی کیا گیا ہو، لیکن اگر ایسی کوئی رپورٹ موجود ہے تو اس کا خلاصہ تک عوام کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے صرف سطحی اعداد و شمار جاری کیے جن میں ہر ماہ درخواست کردہ قرض کی رقم، جاری کردہ قرض اور منظوری کی شرح بتائی گئی، لیکن اس کے علاوہ عوام کے لیے کوئی تفصیلی ڈیٹا جاری نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک عوام نہیں جانتے کہ اس اسکیم سے کتنے نئے قرض داروں کو فائدہ ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اندازوں کے مطابق، اوسط قرض کی حد 20 لاکھ سے 1 کروڑ روپے کے درمیان تھی، اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد 10,000 سے 50,000 کے درمیان تھی۔ یہ فرق اتنا زیادہ ہے کہ اس کی بنیاد پر اسکیم کے اثرات سے متعلق کوئی معقول نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کو قرض لینے والوں کے پروفائل، قرض کی مالیت کے تناسب، ڈیفالٹ کی شرح، اور دیگر کلیدی اشاریے شائع کرنے چاہیے تھے۔ پالیسیاں تبھی مؤثر ہو سکتی ہیں جب قرض دہندگان، قرض کی اقسام، رہائشی اسٹاک اور قرض کی کارکردگی سے متعلق مستند اور مفصل ڈیٹا دستیاب ہو۔ ایسی شفافیت سے اسکیم میں بروقت بہتری ممکن ہو سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اسٹیٹ بینک نے یہ ڈیٹا جمع کیا ہے، تو آئندہ اقدامات میں قرض کی واپسی کی کارکردگی اور کریڈٹ کوالٹی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے تاکہ پائیداری کا اندازہ لگایا جا سکے۔ مثلاً، سبسڈی والے قرضوں اور مارکیٹ ریٹ قرضوں میں ڈیفالٹ کی شرح کا موازنہ کر کے سبسڈی کی مقدار، قرض کی شرائط، یا قرض دہندگان کی جانچ کے معیار میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا: حقیقی بہتری اور دیرپا تبدیلی کا مقصد ہونا چاہیے۔
صاف بات ہے: ایم پی ایم جی سے پہلے اور بعد میں، ہاؤسنگ فنانس کبھی بھی بینکوں کی ترجیح نہیں رہی۔ اگر اسکیم نئے قرض داروں اور نئی رہائش کی فراہمی میں اضافہ نہیں کر رہی، تو یہ کامیاب اسکیم نہیں کہلائی جا سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکیم کا مقصد ہاؤسنگ فنانس تک رسائی کو بڑھانا اور بینکوں کو اپنے ہاؤسنگ فنانس پورٹ فولیوز بنانے میں مدد دینا ہونا چاہیے، نہ کہ صرف وقتی طور پر کریڈٹ کا رخ موڑ دینا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ، مارگیج فنانس کا نتیجہ نئے گھروں کی تعمیر کی صورت میں آنا چاہیے، نہ کہ صرف پہلے سے موجود مکانوں کی خرید و فروخت۔ ثبوت موجود ہے کہ ایم پی ایم جی کے تحت دیے گئے کئی قرضے انہی منصوبوں کو سہارا دے رہے تھے جو پہلے ہی تعمیراتی ایمنسٹی کے تحت بن رہے تھے، یعنی نئی ہاؤسنگ اسٹاک نہیں بن رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر وزیراعظم نیا پاکستان ہاؤسنگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو بند کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو ایسے میں ایک مضبوط ریگولیٹر کی ضرورت ہے جو یہ یقینی بنائے کہ سبسڈی صرف نئے رہائشی منصوبوں سے منسلک ہو اور ان کی کارکردگی کی باقاعدہ نگرانی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ہاؤسنگ فنانس میں ترقی صرف سبسڈی پر منحصر ہو، تو جیسے ہی فنڈنگ ختم ہو گی، یہ ترقی بھی رک جائے گی۔ یہی کچھ جون 2022 کے بعد ہوا جب ایم پی ایم جی اچانک روک دیا گیا۔ اصل سوال یہ ہے: بینک سرکاری امداد کے بغیر ہاؤسنگ فنانس کو کیسے پائیدار بنائیں گے؟ یہ مشکل سوال ہے، لیکن اسٹیٹ بینک کے لیے لازم ہے کہ وہ اس پر سنجیدگی سے غور کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوتھا: منصوبے کو سیاسی کے بجائے ادارہ جاتی حمایت حاصل ہو۔
اسٹیٹ بینک کو اس اسکیم کی ملکیت لینی ہوگی تاکہ سبسڈی اور ہاؤسنگ اسکیم واقعی مؤثر ثابت ہو سکے۔ موجودہ 5 ارب روپے کی مارک اپ سبسڈی کو ایک پائلٹ پروگرام کے طور پر شروع کیا جا سکتا ہے، جس کے لیے واضح اہداف، وقت کا تعین، اور جانچ کے معیارات مقرر کیے جائیں۔ بعد ازاں، اسے ایک باقاعدہ اور پائیدار پروگرام میں توسیع دی جا سکتی ہے جس کا مقصد حقیقی بہتری ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ گزشتہ مارک اپ اسکیم پر تنقید اور جائزے کا حق بجا طور پر موجود ہے، مالی سال 26-2025 اسٹیٹ بینک کو ایک نئی اور مؤثر، ڈیٹا پر مبنی ہاؤسنگ فنانس اسکیم بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے — ایک ایسی اسکیم جس کے واضح اور طویل المدتی اہداف ہوں، اور جس پر ہم جیسے تجزیہ کار بھی تفصیل سے غور کر سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جس قدر شاندار یہ کچھ سال پہلے تھا، نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام (این پی ایچ پی) اب درحقیقت صرف تاریخ کا ایک قصہ بن چکا ہے!</strong></p>
<p>کم از کم اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ویب سائٹ پر تو یہ ایک چھوٹے سے بینر میں صفحے کے بالکل نیچے دب گیا ہے۔ یہ کہ اسٹیٹ بینک نے اسے مکمل طور پر ختم نہیں کیا، ایک مثبت اشارہ ہے — اور ہم اس کی حمایت کرتے ہیں! موجودہ شہباز حکومت اس اسکیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک نئی اور بہتر ہاؤسنگ فنانس اسکیم شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کے لیے پانچ ارب روپے مارک اپ سبسڈی کے طور پر مختص کیے گئے ہیں۔</p>
<p>تو، اس سے پہلے کہ یہ منصوبہ بھی بیوروکریسی اور ناقص پالیسی سازی کا شکار ہو جائے، حکومت کو ایم پی ایم جی 2.0 (یا جو بھی نام دیا جائے) کے لیے درج ذیل چند اہم اسباق پر غور کرنا ہوگا:</p>
<p>پہلا: سبسڈی کو درست اور ہدف شدہ بنائیں۔
ایم پی ایم جی کی سب سے بڑی خامیوں میں سے ایک اس کی شفافیت اور فوکس کی کمی تھی۔ بظاہر یہ اسکیم کم آمدنی والے طبقے (یا گھرانوں) کے لیے بنائی گئی تھی، لیکن یہ اصطلاح نہ تو واضح طور پر بیان کی گئی، اور نہ ہی بالواسطہ طور پر۔ اس کے مقرر کردہ معیار آمدنی کی بنیاد پر نہیں تھے بلکہ جائیداد کی مالیت پر مبنی تھے۔</p>
<p>یہ سبسڈی قرعہ اندازی کی بنیاد پر دی گئی، نہ کہ ضرورت کی بنیاد پر۔ پالیسی کو اس بات میں ابہام نہیں ہونا چاہیے کہ ہدف کون ہے۔ ”کم آمدنی“ کی واضح تعریف ہونی چاہیے اور سبسڈی صرف مستحق افراد کو ہی دی جانی چاہیے۔ غیر رسمی آمدنی والے قرض داروں کے لیے متبادل کریڈٹ ماڈل اپنانے ہوں گے تاکہ رسک کا اندازہ لگایا جا سکے۔</p>
<p>دوسرا: اسکیم ہدف پر مبنی، ڈیٹا کی بنیاد پر اور شفاف ہونی چاہیے۔
یہ ممکن ہے کہ ایم پی ایم جی پر کوئی اندرونی اثراتی جائزہ تیار کیا گیا ہو اور پالیسی سازوں میں تقسیم بھی کیا گیا ہو، لیکن اگر ایسی کوئی رپورٹ موجود ہے تو اس کا خلاصہ تک عوام کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے صرف سطحی اعداد و شمار جاری کیے جن میں ہر ماہ درخواست کردہ قرض کی رقم، جاری کردہ قرض اور منظوری کی شرح بتائی گئی، لیکن اس کے علاوہ عوام کے لیے کوئی تفصیلی ڈیٹا جاری نہیں کیا گیا۔</p>
<p>اب تک عوام نہیں جانتے کہ اس اسکیم سے کتنے نئے قرض داروں کو فائدہ ملا۔</p>
<p>اندازوں کے مطابق، اوسط قرض کی حد 20 لاکھ سے 1 کروڑ روپے کے درمیان تھی، اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد 10,000 سے 50,000 کے درمیان تھی۔ یہ فرق اتنا زیادہ ہے کہ اس کی بنیاد پر اسکیم کے اثرات سے متعلق کوئی معقول نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کو قرض لینے والوں کے پروفائل، قرض کی مالیت کے تناسب، ڈیفالٹ کی شرح، اور دیگر کلیدی اشاریے شائع کرنے چاہیے تھے۔ پالیسیاں تبھی مؤثر ہو سکتی ہیں جب قرض دہندگان، قرض کی اقسام، رہائشی اسٹاک اور قرض کی کارکردگی سے متعلق مستند اور مفصل ڈیٹا دستیاب ہو۔ ایسی شفافیت سے اسکیم میں بروقت بہتری ممکن ہو سکے گی۔</p>
<p>اگر اسٹیٹ بینک نے یہ ڈیٹا جمع کیا ہے، تو آئندہ اقدامات میں قرض کی واپسی کی کارکردگی اور کریڈٹ کوالٹی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے تاکہ پائیداری کا اندازہ لگایا جا سکے۔ مثلاً، سبسڈی والے قرضوں اور مارکیٹ ریٹ قرضوں میں ڈیفالٹ کی شرح کا موازنہ کر کے سبسڈی کی مقدار، قرض کی شرائط، یا قرض دہندگان کی جانچ کے معیار میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔</p>
<p>تیسرا: حقیقی بہتری اور دیرپا تبدیلی کا مقصد ہونا چاہیے۔
صاف بات ہے: ایم پی ایم جی سے پہلے اور بعد میں، ہاؤسنگ فنانس کبھی بھی بینکوں کی ترجیح نہیں رہی۔ اگر اسکیم نئے قرض داروں اور نئی رہائش کی فراہمی میں اضافہ نہیں کر رہی، تو یہ کامیاب اسکیم نہیں کہلائی جا سکتی۔</p>
<p>اسکیم کا مقصد ہاؤسنگ فنانس تک رسائی کو بڑھانا اور بینکوں کو اپنے ہاؤسنگ فنانس پورٹ فولیوز بنانے میں مدد دینا ہونا چاہیے، نہ کہ صرف وقتی طور پر کریڈٹ کا رخ موڑ دینا۔</p>
<p>مزید یہ کہ، مارگیج فنانس کا نتیجہ نئے گھروں کی تعمیر کی صورت میں آنا چاہیے، نہ کہ صرف پہلے سے موجود مکانوں کی خرید و فروخت۔ ثبوت موجود ہے کہ ایم پی ایم جی کے تحت دیے گئے کئی قرضے انہی منصوبوں کو سہارا دے رہے تھے جو پہلے ہی تعمیراتی ایمنسٹی کے تحت بن رہے تھے، یعنی نئی ہاؤسنگ اسٹاک نہیں بن رہی تھی۔</p>
<p>اگر وزیراعظم نیا پاکستان ہاؤسنگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو بند کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو ایسے میں ایک مضبوط ریگولیٹر کی ضرورت ہے جو یہ یقینی بنائے کہ سبسڈی صرف نئے رہائشی منصوبوں سے منسلک ہو اور ان کی کارکردگی کی باقاعدہ نگرانی ہو۔</p>
<p>اگر ہاؤسنگ فنانس میں ترقی صرف سبسڈی پر منحصر ہو، تو جیسے ہی فنڈنگ ختم ہو گی، یہ ترقی بھی رک جائے گی۔ یہی کچھ جون 2022 کے بعد ہوا جب ایم پی ایم جی اچانک روک دیا گیا۔ اصل سوال یہ ہے: بینک سرکاری امداد کے بغیر ہاؤسنگ فنانس کو کیسے پائیدار بنائیں گے؟ یہ مشکل سوال ہے، لیکن اسٹیٹ بینک کے لیے لازم ہے کہ وہ اس پر سنجیدگی سے غور کرے۔</p>
<p>چوتھا: منصوبے کو سیاسی کے بجائے ادارہ جاتی حمایت حاصل ہو۔
اسٹیٹ بینک کو اس اسکیم کی ملکیت لینی ہوگی تاکہ سبسڈی اور ہاؤسنگ اسکیم واقعی مؤثر ثابت ہو سکے۔ موجودہ 5 ارب روپے کی مارک اپ سبسڈی کو ایک پائلٹ پروگرام کے طور پر شروع کیا جا سکتا ہے، جس کے لیے واضح اہداف، وقت کا تعین، اور جانچ کے معیارات مقرر کیے جائیں۔ بعد ازاں، اسے ایک باقاعدہ اور پائیدار پروگرام میں توسیع دی جا سکتی ہے جس کا مقصد حقیقی بہتری ہو۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ گزشتہ مارک اپ اسکیم پر تنقید اور جائزے کا حق بجا طور پر موجود ہے، مالی سال 26-2025 اسٹیٹ بینک کو ایک نئی اور مؤثر، ڈیٹا پر مبنی ہاؤسنگ فنانس اسکیم بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے — ایک ایسی اسکیم جس کے واضح اور طویل المدتی اہداف ہوں، اور جس پر ہم جیسے تجزیہ کار بھی تفصیل سے غور کر سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275566</guid>
      <pubDate>Thu, 07 Aug 2025 10:45:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/0710391611333ea.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/0710391611333ea.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
