<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>31 اگست تک تمام ریٹیل آؤٹ لیٹس پر راست کیو آر کوڈ آویزاں کرنا لازمی قرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275555/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم آفس نے تمام وفاقی سیکریٹریز، صوبائی چیف سیکریٹریز اور ریگولیٹری اداروں کے سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی حدود میں موجود تمام کاروباری مراکز کو 31 اگست 2025 تک ”راست کیو آر کوڈز“  حاصل کرنے اور نمایاں طور پر آویزاں کرنے کو یقینی بنائیں، تاکہ کیش لیس معیشت کے کامیاب نفاذ کو ممکن بنایا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ہدایات وزیراعظم کے مشیر سید توقیر علی شاہ کی جانب سے کابینہ ڈویژن کے سیکریٹری کامران علی افضل، پاور ڈویژن کے سیکریٹری ڈاکٹر محمد فخرِ عالم عرفان، پیٹرولیم و قدرتی وسائل ڈویژن کے سیکریٹری مومن آغا، چیف سیکریٹری پنجاب زاہد اختر زمان، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ، چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان، چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ابرار احمد مرزا، چیف سیکریٹری آزاد جموں و کشمیر خوشحال خان، چیئرمین اوگرا مسرور خان، چیئرمین نیپرا وسیم مختار، اور چیف کمشنر اسلام آباد چوہدری محمد علی رندھاوا کو پہنچائی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کے مشیر کے مطابق، اسٹیٹ بینک آف پاکستان  نے ملک بھر میں تمام ریٹیل اور کمرشل مراکز پر ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولیات جیسے راست کیو آر کوڈ، پی او ایس  اور سافٹ پی او ایس  کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے قومی حکمتِ عملی تیار کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی تناظر میں، اسٹیٹ بینک نے تمام چیف سیکریٹریز، ریگولیٹری اداروں اور متعلقہ محکموں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی حدود میں موجود تمام کاروباری اداروں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کو قبول کرنے کا پابند بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ یہ اقدام کئی محکموں سے متعلق ہے اور مؤثر نفاذ کے لیے مضبوط ہم آہنگی درکار ہے، وزیراعظم آفس سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس عمل کو تقویت دینے کے لیے فعال کردار ادا کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم آفس نے تمام وفاقی وزارتوں اور صوبائی چیف سیکریٹریز کو درج ذیل اقدامات ترجیحی بنیادوں پر کرنے کی ہدایت دی ہے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1 . تمام متعلقہ محکمے اور فیلڈ دفاتر اپنی حدود میں موجود کاروباری مراکز کو 31 اگست 2025 تک راست کیو آر کوڈ حاصل کرنے اور آویزاں کرنے کی ہدایت کریں؛
2. ڈیجیٹل ادائیگیوں کی تیاری (جیسے کیو آر کوڈ، پی او ایس) کو تجارتی لائسنس کے اجراء/تجدید کے لیے لازمی شرط قرار دیا جائے؛
3. ایسے مراکز کے خلاف جرمانوں سمیت تعزیری نظام نافذ کیا جائے جو ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کرنے سے انکار کریں؛
4. اسٹیٹ بینک اور اس کے ماتحت اداروں (بینکس، موبائل پیمنٹ آپریٹرز، الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز) کے ساتھ مؤثر اشتراک اور ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ڈیجیٹل نیٹ ورک کو توسیع دی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام کی نگرانی اور ہم آہنگی کے لیے وزیراعظم آفس نے ڈاکٹر شازیہ غنی (ٹیم لیڈ: اسپیشل پراجیکٹس اینڈ انیشیٹیوز) کو فوکل پرسن نامزد کیا ہے۔ تمام وزارتیں اُن اور اسٹیٹ بینک سے رابطہ رکھیں تاکہ بر وقت نفاذ اور عملی مسائل کے حل کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ بھی حکومت سے عوام (جی ٹو پی) اور عوام سے حکومت (پی ٹو جی) ادائیگیوں کے لیے ایک کیش لیس نظام تیار کر رہی ہے تاکہ شفافیت اور ریاستی اداروں (ایس او ایز) کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جدت اور اپنانے سے متعلق ذیلی کمیٹی کی سفارشات کے مطابق درج ذیل نئے اہداف منظور کیے گئے ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1 . فعال ڈیجیٹل کامرس ادائیگی پوائنٹس (کیو آر کوڈز) کی تعداد موجودہ 5 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ کی جائے؛
2. فعال مرچنٹس کم از کم ایک ڈیجیٹل ٹرانزیکشن فی ماہ لازمی کریں؛
3. موبائل/انٹرنیٹ ایپ اور ڈیجیٹل بینکنگ صارفین کی تعداد مالی سال 2026 تک 9.5 کروڑ سے بڑھا کر 12 کروڑ کی جائے؛
4. ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کی تعداد 7.5 ارب سے دوگنی کر کے 15 ارب کی جائے؛
5. ترسیلات زر مکمل طور پر ڈیجیٹل ذرائع (بینک اکاؤنٹس/والٹس) کے ذریعے منتقل کی جائیں، یعنی 80 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم آفس نے تمام وفاقی سیکریٹریز، صوبائی چیف سیکریٹریز اور ریگولیٹری اداروں کے سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی حدود میں موجود تمام کاروباری مراکز کو 31 اگست 2025 تک ”راست کیو آر کوڈز“  حاصل کرنے اور نمایاں طور پر آویزاں کرنے کو یقینی بنائیں، تاکہ کیش لیس معیشت کے کامیاب نفاذ کو ممکن بنایا جا سکے۔</strong></p>
<p>یہ ہدایات وزیراعظم کے مشیر سید توقیر علی شاہ کی جانب سے کابینہ ڈویژن کے سیکریٹری کامران علی افضل، پاور ڈویژن کے سیکریٹری ڈاکٹر محمد فخرِ عالم عرفان، پیٹرولیم و قدرتی وسائل ڈویژن کے سیکریٹری مومن آغا، چیف سیکریٹری پنجاب زاہد اختر زمان، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ، چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان، چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ابرار احمد مرزا، چیف سیکریٹری آزاد جموں و کشمیر خوشحال خان، چیئرمین اوگرا مسرور خان، چیئرمین نیپرا وسیم مختار، اور چیف کمشنر اسلام آباد چوہدری محمد علی رندھاوا کو پہنچائی گئیں۔</p>
<p>وزیراعظم کے مشیر کے مطابق، اسٹیٹ بینک آف پاکستان  نے ملک بھر میں تمام ریٹیل اور کمرشل مراکز پر ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولیات جیسے راست کیو آر کوڈ، پی او ایس  اور سافٹ پی او ایس  کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے قومی حکمتِ عملی تیار کی ہے۔</p>
<p>اسی تناظر میں، اسٹیٹ بینک نے تمام چیف سیکریٹریز، ریگولیٹری اداروں اور متعلقہ محکموں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی حدود میں موجود تمام کاروباری اداروں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کو قبول کرنے کا پابند بنائیں۔</p>
<p>چونکہ یہ اقدام کئی محکموں سے متعلق ہے اور مؤثر نفاذ کے لیے مضبوط ہم آہنگی درکار ہے، وزیراعظم آفس سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس عمل کو تقویت دینے کے لیے فعال کردار ادا کرے۔</p>
<p>وزیراعظم آفس نے تمام وفاقی وزارتوں اور صوبائی چیف سیکریٹریز کو درج ذیل اقدامات ترجیحی بنیادوں پر کرنے کی ہدایت دی ہے:</p>
<p>1 . تمام متعلقہ محکمے اور فیلڈ دفاتر اپنی حدود میں موجود کاروباری مراکز کو 31 اگست 2025 تک راست کیو آر کوڈ حاصل کرنے اور آویزاں کرنے کی ہدایت کریں؛
2. ڈیجیٹل ادائیگیوں کی تیاری (جیسے کیو آر کوڈ، پی او ایس) کو تجارتی لائسنس کے اجراء/تجدید کے لیے لازمی شرط قرار دیا جائے؛
3. ایسے مراکز کے خلاف جرمانوں سمیت تعزیری نظام نافذ کیا جائے جو ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کرنے سے انکار کریں؛
4. اسٹیٹ بینک اور اس کے ماتحت اداروں (بینکس، موبائل پیمنٹ آپریٹرز، الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز) کے ساتھ مؤثر اشتراک اور ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ڈیجیٹل نیٹ ورک کو توسیع دی جا سکے۔</p>
<p>اس اقدام کی نگرانی اور ہم آہنگی کے لیے وزیراعظم آفس نے ڈاکٹر شازیہ غنی (ٹیم لیڈ: اسپیشل پراجیکٹس اینڈ انیشیٹیوز) کو فوکل پرسن نامزد کیا ہے۔ تمام وزارتیں اُن اور اسٹیٹ بینک سے رابطہ رکھیں تاکہ بر وقت نفاذ اور عملی مسائل کے حل کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ بھی حکومت سے عوام (جی ٹو پی) اور عوام سے حکومت (پی ٹو جی) ادائیگیوں کے لیے ایک کیش لیس نظام تیار کر رہی ہے تاکہ شفافیت اور ریاستی اداروں (ایس او ایز) کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جدت اور اپنانے سے متعلق ذیلی کمیٹی کی سفارشات کے مطابق درج ذیل نئے اہداف منظور کیے گئے ہیں:</p>
<p>1 . فعال ڈیجیٹل کامرس ادائیگی پوائنٹس (کیو آر کوڈز) کی تعداد موجودہ 5 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ کی جائے؛
2. فعال مرچنٹس کم از کم ایک ڈیجیٹل ٹرانزیکشن فی ماہ لازمی کریں؛
3. موبائل/انٹرنیٹ ایپ اور ڈیجیٹل بینکنگ صارفین کی تعداد مالی سال 2026 تک 9.5 کروڑ سے بڑھا کر 12 کروڑ کی جائے؛
4. ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کی تعداد 7.5 ارب سے دوگنی کر کے 15 ارب کی جائے؛
5. ترسیلات زر مکمل طور پر ڈیجیٹل ذرائع (بینک اکاؤنٹس/والٹس) کے ذریعے منتقل کی جائیں، یعنی 80 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275555</guid>
      <pubDate>Thu, 07 Aug 2025 10:00:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/0708534758bd374.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/0708534758bd374.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
