<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عوام کی اجتماعی موثر آواز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275544/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وائرل، ویوز، آوازیں، مناظر، پوسٹس، شیئرز، ٹرولز، جعلی مواد، رجحانات، ہِٹس، دنیا لرز رہی ہے۔ اسکرول کرنا، کلک کرنا، پوسٹ کرنا اب روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ عوام بات کرنا پسند کرتی ہے، خاص طور پر جب سوشل میڈیا کی دیواریں اُن کے گرد ہوں۔ دیکھنے، پرکھنے، تلاش کرنے اور اظہارِ رائے کی آسانی نے گوشہ نشین مزاجوں کو بھی تبصروں کی صف میں لاکھڑا کیا ہے۔ ایک وائرل ہیش ٹیگ کی بازگشت دور تک سنائی دیتی ہے۔وائرل ویڈیو کی اثر انگیزی غیر معمولی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاکھوں حاضرین کا اجتماع ایک نایاب منظر ہوتا ہے۔ اس کے لیے وقت اور مضبوط تنظیم درکار ہوتی ہے اور یہ زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکتا۔ لیکن جب لاکھوں افراد سوشل میڈیا پر کسی موضوع پر اپنی آواز بلند کریں اور کئی دنوں، مہینوں تک ایک ہی رائے دہراتے رہیں تو کیا ہوگا؟ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑھتی ہوئی موجودگی کے ساتھ یہ کمیونٹیز متحرک، بااثر اور خودمختار ہو جاتی ہیں۔ بیشتر ملٹی نیشنل کمپنیاں ان کی موجودگی کو تسلیم کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکثر کمپنیوں کے پاس مضبوط ڈیجیٹل اور پی آر ٹیمیں ہوتی ہیں، لیکن بڑے کاروباری ادارے اور ممالک ابھی تک اس اجتماعی ڈیجیٹل آواز کی طاقت کو مکمل طور پر نہیں سمجھ پائے ہیں۔ عوامی آواز اب کمپنیوں سے آگے بڑھ کر ملکوں تک پہنچ گئی ہے اور ایسی حقیقتوں کو چیلنج کر رہی ہے جنہیں نظر انداز کرنا مشکل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں پرادا کولہاپوری تنازع اس تبدیلی کی ایک مثال ہے۔ جب پردا کے ماڈلز نے میلان کے رن وے پر کولہاپوری چپل جیسی سینڈل پہن کر واک کی تو بھارتی سوشل میڈیا نے پرادا پر ڈیزائن چرانے کا الزام لگایا۔ یہ تنازع اتنا زور پکڑ گیا کہ پرادا کو ایک بیان جاری کرنا پڑا جس میں اس نے سینڈلز کی اصلیت کو تسلیم کیا اور کہا کہ وہ بھارتی مقامی کاریگروں کے ساتھ بامعنی تبادلے کے لیے تیار ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ایسی صورتحال پیش آئی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایچ اینڈ ایم نے اپنی گرمائی ملبوسات کی نئی کلیکشن جاری کی۔ چند ڈیزائنز کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ متعدد افراد نے کہا کہ یہ ملبوسات جنوبی ایشیائی لباس سے گہری متاثر ہیں۔ اگرچہ جنوبی ایشیا ان کا بڑا بازار نہیں ہے، مگر برانڈز کو عوام کی آواز سننی اور اس کا جواب دینا پڑتا ہے۔ یہی بات ان کے لیے کام کو بہت پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ کئی جدید ڈیزائنز کسی نہ کسی ثقافت سے متاثر ہوتے ہیں، اور ردعمل کا اندازہ لگانا، خاص طور پر جب وہ ان کے مرکزی بازار نہ ہوں، آسان نہیں ہوتا۔ اگر ایک چھوٹے سے معاملے کی نظراندازی بھی اتنا اثر رکھتی ہے، تو سوچیں کہ اس پلیٹ فارم کی اجتماعی آواز عالمی مسائل پر کتنا گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنریشن زی کی بغاوت، فلسطین میں مظالم کئی دہائیوں سے جاری ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے میڈیا پر کنٹرول حاصل کر کے یہ تاثر قائم کر دیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف کوئی بھی احتجاج یہود مخالف ہے۔ سی این این، بی بی سی، ہالی وڈ کا وہی پرانا فارمولہ، جس میں وہی مناظر دکھائے جاتے تھے جو انہیں دکھانے ہوتے تھے، طویل عرصے تک کارگر رہی۔ کوئی بھی اس کی آواز، رسائی اور لاگت کا مقابلہ نہیں کر سکا۔ پھر سوشل میڈیا آیا، فیس بک اور بعد میں ٹک ٹاک۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نے ناظرین کو تاثرات کا مقابلہ کرنے کی طاقت دی ہے۔ مواد مختصر وقت میں بغیر زیادہ خرچ کے تیار، رد کیا اور شیئر کیا جا سکتا ہے۔ جنریشن زی آج کل ایک اہم موضوع ہے: ان کی باہمی نااہلی، توجہ کی غیر مستحکمی وغیرہ۔ وہ رو در رو بات چیت میں شاید کچھ بے آرام ہوں، مگر سوشل میڈیا پر مواد تخلیق کرنے میں وہ مہارت رکھتے ہیں۔ امریکی جامعات نے طلبہ کی بغاوت کی حیرت انگیز مثالیں دیکھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ایک سال کے دوران امریکی جامعات تقریباً اپنے طلبہ کے خلاف برسر پیکار ہو گئی ہیں۔ 130 جامعات نے مسلسل اسرائیل کے خلاف غزہ کی حمایت میں احتجاج کیا۔ ہارورڈ سے لے کر کولمبیا تک، ان احتجاجات کو سختی سے دبایا گیا۔ 2000 طلبہ گرفتار کیے گئے، اور کئی معطل ہوئے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جنریشن زی کی بغاوت مضبوطی میں بدل گئی۔ جامعات میں طلبہ کے احتجاج پر قدغن لگا دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنریشن زی کی اعلیٰ آئی ٹی مہارتوں نے اس واقعے کو سرِ فہرست خبروں میں شامل کروا دیا۔ ان کی ویڈیو گرافی نے اس خوفناک منظر کو بھرپور انداز میں پیش کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے گریجویشن کی تقریبات کو دوبارہ احتجاج کا ذریعہ بنایا۔ فلسطینی جھنڈا اور اسکارف پہن کر، بغیر کسی تحریر کے تقریری حصے شامل کر کے، انہوں نے یونیورسٹی حکام کو حیران اور لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء کی  تقریب میں، گریجویشن کرنے والے سینئر سیسیلیا کلور نے غزہ میں جاری جنگ کی شدید مذمت کی اور طلبہ کی جانب سے واشنگٹن ڈی سی کی اس نجی یونیورسٹی کی اسرائیل میں سرمایہ کاری ختم کرنے کی اپیل دہرائی۔ انہوں نے حق گوئی اور بے باکی سے کہا کہ ”دنیا بھر میں پھیلنے والے مظالم کو اخلاقی ضمیر کا فقدان رکھنے والے افراد آسانی سے نظر انداز کر سکتے ہیں،“۔ انہوں نے حاضرین سے زوردار تالیاں بجواتے ہوئے کہا کہ “ میں شرمندہ ہوں کہ میری فیس نسل کشی کی مالی معاونت میں استعمال ہو رہی ہے۔“ یہ جذبہِ مزاحمت ہر جگہ گونج رہا ہے اور ہر ضمیر کے دل و دماغ کو چیر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برانڈز بھی متاثر ہو رہے ہیں، زیادہ تر برانڈز مقامی موافقت کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ”جب روم میں ہو تو رومیوں کی طرح بنو“ ایک پرانا برانڈ حسبِ ماحول اصول ہے۔ مگر اب برانڈ کو فرانس، بنگلہ دیش، فجی آئی لینڈز جیسے ممالک کی آواز سننی پڑتی ہے، چاہے وہ وہاں کے بازار میں موجود نہ ہو۔ برانڈ کی سالمیت صرف اس کے اجزاء کے معیار سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس کے اجزاء کے ماخذ، اس کے پچھے موجود اسپانسرز اور اس کے ساتھ جڑی جیوپولیٹیکل صورتحال سے بھی ماپی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلسطین کے معاملے پر موقف رکھنے کا بگ میکس اور میگا اسٹاربکس جیسے برانڈز کے لیے کبھی خاص اہمیت نہیں ہوتی تھی۔ اب اس کی اہمیت کا لحاظ کرنا پڑے گا۔ برانڈز کو اپنی قدر اور وقعت ان اقدار کی بنیاد پر برقرار رکھنی ہوگی جن کی وہ حمایت کرتے ہیں، ورنہ عوام سوشل میڈیا پر ایسا ہنگامہ مچا دیں گے کہ شیئرز اور اسٹاک کی قیمتیں گرا دیں گی۔ مکڈونلڈز نے خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے نقادوں کی ناراضی کا سامنا کیا جب اس کی اسرائیل شاخ نے غزہ پر بمباری اور زمینی حملوں، جن میں اب تک 60,000 سے زائد افراد شہید ہو چکے، کے دوران اسرائیلی فوجیوں کو ہزاروں کھانے مفت دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ ممالک میں اس ردعمل نے دیگر برانڈز کو دیوالیہ پن تک پہنچا دیا ہے۔ ترکیہ میں کے ایف سی اور پیزا ہٹ کے فرنچائز آپریٹر نے دیوالیہ ہونے کا اعلان کر دیا، جس کے نتیجے میں ملک بھر کے تمام 537 ریستوراں بند ہو گئے اور 7,000 ملازمین بے روزگار ہو گئے۔ اسٹاربکس کو بھی عوامی غم و غصے کا سامنا کرنا پڑا جب اس کے ایک ملازم کی جانب سے پرو غزہ ٹویٹ ڈیلیٹ کرنے پر صارفین نے شدید ردعمل دکھایا۔ پرانے زمانے میں چند ہیڈلائنز کچھ دنوں کے لیے شور مچا دیتی تھیں اور پھر کاروبار معمول کے مطابق چلتا رہتا تھا، مگر اب ایسا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جامعات سے لے کر کمپنیاں اور اب ممالک تک، اجتماعی نعرہ ”غزہ میں نسل کشی بند کرو“ طاقتوروں کو زیر کر رہا ہے۔ فرانس نے آخرکار فلسطین کو تسلیم کر لیا ہے۔ ایمسٹرڈیم نے اسرائیل کو قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا ہے۔ سلووینیا نے اسرائیل کو ہتھیار کی فراہمی بند کر دی ہے۔ یورپی یونین کے 27 ممالک میں سے 12 نے فلسطین کو تسلیم کیا ہے جن میں اسپین، ناروے اور آئرلینڈ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پالیسی میں ایک انقلابی تبدیلی ہے، اور یہ عوامی رائے میں آنے والی انقلابی تبدیلی کے جواب میں ہے۔ برطانیہ اور امریکہ میں عوامی سروے واضح کرتے ہیں کہ ان کی اسرائیل نواز پالیسی غیر مقبول ہے۔ بدقسمتی سے، یہ حکومتیں اسے ایک ”عارضی رجحان“ سمجھ کر ختم ہونے کا انتظار کر رہی ہیں۔ خوش قسمتی سے، اس کے ختم ہونے کے آثار کم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;ایک ویڈیو، ریل میں بدلتی ہے، ریل انسٹاگرام پر جاتی ہے، انسٹاگرام سے میم بنتی ہے، میم ٹک ٹاک پر پہنچتی ہے اور یوں ایک وائرس وبا کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ عوامی رائے کو ایک ایسی آواز مل گئی ہے جو گونجتی ہے، دہرائی جاتی ہے، نقل ہوتی ہے اور بازگشت بن کر سننے سے انکار کرنے والوں تک پہنچ کر کاٹ لیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وائرل، ویوز، آوازیں، مناظر، پوسٹس، شیئرز، ٹرولز، جعلی مواد، رجحانات، ہِٹس، دنیا لرز رہی ہے۔ اسکرول کرنا، کلک کرنا، پوسٹ کرنا اب روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ عوام بات کرنا پسند کرتی ہے، خاص طور پر جب سوشل میڈیا کی دیواریں اُن کے گرد ہوں۔ دیکھنے، پرکھنے، تلاش کرنے اور اظہارِ رائے کی آسانی نے گوشہ نشین مزاجوں کو بھی تبصروں کی صف میں لاکھڑا کیا ہے۔ ایک وائرل ہیش ٹیگ کی بازگشت دور تک سنائی دیتی ہے۔وائرل ویڈیو کی اثر انگیزی غیر معمولی ہے۔</strong></p>
<p>لاکھوں حاضرین کا اجتماع ایک نایاب منظر ہوتا ہے۔ اس کے لیے وقت اور مضبوط تنظیم درکار ہوتی ہے اور یہ زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکتا۔ لیکن جب لاکھوں افراد سوشل میڈیا پر کسی موضوع پر اپنی آواز بلند کریں اور کئی دنوں، مہینوں تک ایک ہی رائے دہراتے رہیں تو کیا ہوگا؟ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑھتی ہوئی موجودگی کے ساتھ یہ کمیونٹیز متحرک، بااثر اور خودمختار ہو جاتی ہیں۔ بیشتر ملٹی نیشنل کمپنیاں ان کی موجودگی کو تسلیم کرتی ہیں۔</p>
<p>اکثر کمپنیوں کے پاس مضبوط ڈیجیٹل اور پی آر ٹیمیں ہوتی ہیں، لیکن بڑے کاروباری ادارے اور ممالک ابھی تک اس اجتماعی ڈیجیٹل آواز کی طاقت کو مکمل طور پر نہیں سمجھ پائے ہیں۔ عوامی آواز اب کمپنیوں سے آگے بڑھ کر ملکوں تک پہنچ گئی ہے اور ایسی حقیقتوں کو چیلنج کر رہی ہے جنہیں نظر انداز کرنا مشکل ہے۔</p>
<p>حال ہی میں پرادا کولہاپوری تنازع اس تبدیلی کی ایک مثال ہے۔ جب پردا کے ماڈلز نے میلان کے رن وے پر کولہاپوری چپل جیسی سینڈل پہن کر واک کی تو بھارتی سوشل میڈیا نے پرادا پر ڈیزائن چرانے کا الزام لگایا۔ یہ تنازع اتنا زور پکڑ گیا کہ پرادا کو ایک بیان جاری کرنا پڑا جس میں اس نے سینڈلز کی اصلیت کو تسلیم کیا اور کہا کہ وہ بھارتی مقامی کاریگروں کے ساتھ بامعنی تبادلے کے لیے تیار ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ایسی صورتحال پیش آئی ہو۔</p>
<p>ایچ اینڈ ایم نے اپنی گرمائی ملبوسات کی نئی کلیکشن جاری کی۔ چند ڈیزائنز کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ متعدد افراد نے کہا کہ یہ ملبوسات جنوبی ایشیائی لباس سے گہری متاثر ہیں۔ اگرچہ جنوبی ایشیا ان کا بڑا بازار نہیں ہے، مگر برانڈز کو عوام کی آواز سننی اور اس کا جواب دینا پڑتا ہے۔ یہی بات ان کے لیے کام کو بہت پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ کئی جدید ڈیزائنز کسی نہ کسی ثقافت سے متاثر ہوتے ہیں، اور ردعمل کا اندازہ لگانا، خاص طور پر جب وہ ان کے مرکزی بازار نہ ہوں، آسان نہیں ہوتا۔ اگر ایک چھوٹے سے معاملے کی نظراندازی بھی اتنا اثر رکھتی ہے، تو سوچیں کہ اس پلیٹ فارم کی اجتماعی آواز عالمی مسائل پر کتنا گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔</p>
<p>جنریشن زی کی بغاوت، فلسطین میں مظالم کئی دہائیوں سے جاری ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے میڈیا پر کنٹرول حاصل کر کے یہ تاثر قائم کر دیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف کوئی بھی احتجاج یہود مخالف ہے۔ سی این این، بی بی سی، ہالی وڈ کا وہی پرانا فارمولہ، جس میں وہی مناظر دکھائے جاتے تھے جو انہیں دکھانے ہوتے تھے، طویل عرصے تک کارگر رہی۔ کوئی بھی اس کی آواز، رسائی اور لاگت کا مقابلہ نہیں کر سکا۔ پھر سوشل میڈیا آیا، فیس بک اور بعد میں ٹک ٹاک۔</p>
<p>اس نے ناظرین کو تاثرات کا مقابلہ کرنے کی طاقت دی ہے۔ مواد مختصر وقت میں بغیر زیادہ خرچ کے تیار، رد کیا اور شیئر کیا جا سکتا ہے۔ جنریشن زی آج کل ایک اہم موضوع ہے: ان کی باہمی نااہلی، توجہ کی غیر مستحکمی وغیرہ۔ وہ رو در رو بات چیت میں شاید کچھ بے آرام ہوں، مگر سوشل میڈیا پر مواد تخلیق کرنے میں وہ مہارت رکھتے ہیں۔ امریکی جامعات نے طلبہ کی بغاوت کی حیرت انگیز مثالیں دیکھی ہیں۔</p>
<p>گزشتہ ایک سال کے دوران امریکی جامعات تقریباً اپنے طلبہ کے خلاف برسر پیکار ہو گئی ہیں۔ 130 جامعات نے مسلسل اسرائیل کے خلاف غزہ کی حمایت میں احتجاج کیا۔ ہارورڈ سے لے کر کولمبیا تک، ان احتجاجات کو سختی سے دبایا گیا۔ 2000 طلبہ گرفتار کیے گئے، اور کئی معطل ہوئے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جنریشن زی کی بغاوت مضبوطی میں بدل گئی۔ جامعات میں طلبہ کے احتجاج پر قدغن لگا دی گئی۔</p>
<p>جنریشن زی کی اعلیٰ آئی ٹی مہارتوں نے اس واقعے کو سرِ فہرست خبروں میں شامل کروا دیا۔ ان کی ویڈیو گرافی نے اس خوفناک منظر کو بھرپور انداز میں پیش کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے گریجویشن کی تقریبات کو دوبارہ احتجاج کا ذریعہ بنایا۔ فلسطینی جھنڈا اور اسکارف پہن کر، بغیر کسی تحریر کے تقریری حصے شامل کر کے، انہوں نے یونیورسٹی حکام کو حیران اور لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا ہے۔</p>
<p>جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء کی  تقریب میں، گریجویشن کرنے والے سینئر سیسیلیا کلور نے غزہ میں جاری جنگ کی شدید مذمت کی اور طلبہ کی جانب سے واشنگٹن ڈی سی کی اس نجی یونیورسٹی کی اسرائیل میں سرمایہ کاری ختم کرنے کی اپیل دہرائی۔ انہوں نے حق گوئی اور بے باکی سے کہا کہ ”دنیا بھر میں پھیلنے والے مظالم کو اخلاقی ضمیر کا فقدان رکھنے والے افراد آسانی سے نظر انداز کر سکتے ہیں،“۔ انہوں نے حاضرین سے زوردار تالیاں بجواتے ہوئے کہا کہ “ میں شرمندہ ہوں کہ میری فیس نسل کشی کی مالی معاونت میں استعمال ہو رہی ہے۔“ یہ جذبہِ مزاحمت ہر جگہ گونج رہا ہے اور ہر ضمیر کے دل و دماغ کو چیر رہا ہے۔</p>
<p>برانڈز بھی متاثر ہو رہے ہیں، زیادہ تر برانڈز مقامی موافقت کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ”جب روم میں ہو تو رومیوں کی طرح بنو“ ایک پرانا برانڈ حسبِ ماحول اصول ہے۔ مگر اب برانڈ کو فرانس، بنگلہ دیش، فجی آئی لینڈز جیسے ممالک کی آواز سننی پڑتی ہے، چاہے وہ وہاں کے بازار میں موجود نہ ہو۔ برانڈ کی سالمیت صرف اس کے اجزاء کے معیار سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس کے اجزاء کے ماخذ، اس کے پچھے موجود اسپانسرز اور اس کے ساتھ جڑی جیوپولیٹیکل صورتحال سے بھی ماپی جاتی ہے۔</p>
<p>فلسطین کے معاملے پر موقف رکھنے کا بگ میکس اور میگا اسٹاربکس جیسے برانڈز کے لیے کبھی خاص اہمیت نہیں ہوتی تھی۔ اب اس کی اہمیت کا لحاظ کرنا پڑے گا۔ برانڈز کو اپنی قدر اور وقعت ان اقدار کی بنیاد پر برقرار رکھنی ہوگی جن کی وہ حمایت کرتے ہیں، ورنہ عوام سوشل میڈیا پر ایسا ہنگامہ مچا دیں گے کہ شیئرز اور اسٹاک کی قیمتیں گرا دیں گی۔ مکڈونلڈز نے خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے نقادوں کی ناراضی کا سامنا کیا جب اس کی اسرائیل شاخ نے غزہ پر بمباری اور زمینی حملوں، جن میں اب تک 60,000 سے زائد افراد شہید ہو چکے، کے دوران اسرائیلی فوجیوں کو ہزاروں کھانے مفت دیے ہیں۔</p>
<p>کچھ ممالک میں اس ردعمل نے دیگر برانڈز کو دیوالیہ پن تک پہنچا دیا ہے۔ ترکیہ میں کے ایف سی اور پیزا ہٹ کے فرنچائز آپریٹر نے دیوالیہ ہونے کا اعلان کر دیا، جس کے نتیجے میں ملک بھر کے تمام 537 ریستوراں بند ہو گئے اور 7,000 ملازمین بے روزگار ہو گئے۔ اسٹاربکس کو بھی عوامی غم و غصے کا سامنا کرنا پڑا جب اس کے ایک ملازم کی جانب سے پرو غزہ ٹویٹ ڈیلیٹ کرنے پر صارفین نے شدید ردعمل دکھایا۔ پرانے زمانے میں چند ہیڈلائنز کچھ دنوں کے لیے شور مچا دیتی تھیں اور پھر کاروبار معمول کے مطابق چلتا رہتا تھا، مگر اب ایسا نہیں۔</p>
<p>جامعات سے لے کر کمپنیاں اور اب ممالک تک، اجتماعی نعرہ ”غزہ میں نسل کشی بند کرو“ طاقتوروں کو زیر کر رہا ہے۔ فرانس نے آخرکار فلسطین کو تسلیم کر لیا ہے۔ ایمسٹرڈیم نے اسرائیل کو قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا ہے۔ سلووینیا نے اسرائیل کو ہتھیار کی فراہمی بند کر دی ہے۔ یورپی یونین کے 27 ممالک میں سے 12 نے فلسطین کو تسلیم کیا ہے جن میں اسپین، ناروے اور آئرلینڈ شامل ہیں۔</p>
<p>یہ پالیسی میں ایک انقلابی تبدیلی ہے، اور یہ عوامی رائے میں آنے والی انقلابی تبدیلی کے جواب میں ہے۔ برطانیہ اور امریکہ میں عوامی سروے واضح کرتے ہیں کہ ان کی اسرائیل نواز پالیسی غیر مقبول ہے۔ بدقسمتی سے، یہ حکومتیں اسے ایک ”عارضی رجحان“ سمجھ کر ختم ہونے کا انتظار کر رہی ہیں۔ خوش قسمتی سے، اس کے ختم ہونے کے آثار کم ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>ایک ویڈیو، ریل میں بدلتی ہے، ریل انسٹاگرام پر جاتی ہے، انسٹاگرام سے میم بنتی ہے، میم ٹک ٹاک پر پہنچتی ہے اور یوں ایک وائرس وبا کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ عوامی رائے کو ایک ایسی آواز مل گئی ہے جو گونجتی ہے، دہرائی جاتی ہے، نقل ہوتی ہے اور بازگشت بن کر سننے سے انکار کرنے والوں تک پہنچ کر کاٹ لیتی ہے۔</p>
</blockquote>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275544</guid>
      <pubDate>Wed, 06 Aug 2025 16:42:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عندلیب عباس)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/06153548029f0e9.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="720" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/06153548029f0e9.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
