<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی ٹیرف میں کمی کے باوجود پیداواری لاگت برآمدات میں بڑی رکاوٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275543/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا نے پاکستانی مصنوعات پر عائد باہمی ٹیرف کی شرح کو کم کرکے 19 فیصد کر دیا ہے، جو کہ بھارت، بنگلہ دیش، ویتنام اور سری لنکا جیسے علاقائی حریف ممالک پر عائد 20 سے 25 فیصد ٹیرف کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے۔ یہ رعایت امریکا کی منڈی میں پاکستان کو ممکنہ برتری فراہم کرتی ہے اور بہتر تجارتی شرائط کے حصول کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اندرونی ڈھانچہ جاتی مسائل پر قابو نہیں پاتا، تو یہ سفارتی کامیابی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں لا سکے گی۔ صنعت کاروں اور ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ بلند سودی شرح، مہنگی بجلی، اور ایکسپورٹ فنانسنگ اسکیمز میں مراعات کی کمی جیسے مسائل ملکی برآمدی شعبے کی عالمی مسابقت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر جاوید بلوانی کا کہنا تھا پاکستان میں ٹیکسٹائل کی پیداواری لاگت میں کپاس کے بعد بجلی کی قیمت دوسرا بڑا عنصر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ فنانس اسکیم (ای ایف ایس) میں حالیہ تبدیلیوں نے برآمدی رفتار کو متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق ای ایف ایس کو اس کی اصل شکل میں برقرار رکھنا ٹیکسٹائل کی برآمدات کے تسلسل کے لیے نہایت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/06151935823e12c.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی ریسرچ اینڈ ایڈوائزری کونسل (پی آر اے سی) کے ہیڈ آف ریسرچ ڈاکٹر اسامہ احسان خان نے خبردار کیا کہ امریکی ٹیرف میں کمی کے باوجود، اگر پاکستان کی پیداواری لاگت کم نہ ہوئی تو عالمی خریداروں کے آرڈرز کی پاکستان کی طرف منتقلی کی توقع غیر حقیقی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ٹیرف میں کمی سے امریکا میں برآمدات کا موجودہ حجم تو برقرار رہ سکتا ہے، لیکن بلند پیداواری لاگت پاکستانی مصنوعات کی قیمتوں کو غیر مسابقتی بنائے رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر اسامہ احسان خان نے پیداواری لاگت میں کمی کے لیے تین اہم شعبوں کی نشاندہی کی: شرح سود، بجلی کے نرخ، اور گیس کی قیمتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مرکزی بینک پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھے ہوئے ہے، حالانکہ مہنگائی کی شرح حالیہ طور پر اس کے مقرر کردہ 5 سے 7 فیصد کے ہدف سے بھی نیچے آ چکی ہے۔ اس کے برعکس دیگر ہم پلہ معیشتیں 3 سے 10 فیصد شرح سود پر کام کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق پاکستان کے لیے شرح سود کو سنگل ڈیجٹ پر لانے کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام کاروباری لاگت کو کم کرے گا، برآمدات میں اضافہ کرے گا اور قرضوں کی ادائیگی میں آسانی پیدا کرے گا۔ پالیسی ریٹ میں ہر ایک فیصد کمی سالانہ 200 سے 250 ارب روپے کے سودی اخراجات میں کمی لاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدی شعبے کے لیے بجلی کے نرخ — جو اس وقت تقریباً 0.16 ڈالر فی یونٹ ہیں — بھی پاکستان کے مقابل ممالک کے نرخوں (0.06 سے 0.10 ڈالر) سے کہیں زیادہ ہیں۔ ڈاکٹر اسامہ احسان خان کا کہنا تھا کہ مہنگے مقامی پاور پلانٹس بند کر کے اور غیر ملکی آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ازسرنو طے کر کے بجلی کی قیمتوں میں کمی لائی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے گیس ٹیرف میں بھی کمی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اسٹریٹجک بنیادوں پر گیس کی قیمت کم کرنے سے پاکستان کی مینوفیکچرنگ ہب کے طور پر کشش بڑھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آر اے سی اور کے سی سی آئی کی ایک مشترکہ انفوگرافک کے مطابق، پاکستان دیگر علاقائی ممالک کے مقابلے میں کئی دیگر شعبوں میں بھی پیچھے ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان میں مزدوروں کی پیداواری صلاحیت فی گھنٹہ صرف 7.20 ڈالر ہے، جو کہ علاقائی ممالک کی 8.70 سے 18 ڈالر کی رینج سے کم ہے۔ صرف کمبوڈیا اس سے پیچھے ہے، جہاں یہ شرح 4 ڈالر فی گھنٹہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے عالمی تجارت کا منظرنامہ تبدیل ہو رہا ہے اور خریدار زیادہ قابلِ اعتماد اور کم لاگت والے سورسنگ مقامات کی تلاش میں ہیں، پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ اندرونی اصلاحات کے ذریعے پیداوار کی لاگت میں فوری کمی لائے تاکہ امریکا کی جانب سے دی گئی ٹیرف سہولت سے مکمل فائدہ اٹھایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر اسامہ احسان خان نے خبردار کیا کہ اگر ہم پیداواری لاگت میں کمی نہیں لاتے تو پاکستان اس حاصل کردہ تجارتی رعایت کے فوائد سے محروم رہ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا نے پاکستانی مصنوعات پر عائد باہمی ٹیرف کی شرح کو کم کرکے 19 فیصد کر دیا ہے، جو کہ بھارت، بنگلہ دیش، ویتنام اور سری لنکا جیسے علاقائی حریف ممالک پر عائد 20 سے 25 فیصد ٹیرف کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے۔ یہ رعایت امریکا کی منڈی میں پاکستان کو ممکنہ برتری فراہم کرتی ہے اور بہتر تجارتی شرائط کے حصول کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے۔</strong></p>
<p>تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اندرونی ڈھانچہ جاتی مسائل پر قابو نہیں پاتا، تو یہ سفارتی کامیابی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں لا سکے گی۔ صنعت کاروں اور ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ بلند سودی شرح، مہنگی بجلی، اور ایکسپورٹ فنانسنگ اسکیمز میں مراعات کی کمی جیسے مسائل ملکی برآمدی شعبے کی عالمی مسابقت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔</p>
<p>کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر جاوید بلوانی کا کہنا تھا پاکستان میں ٹیکسٹائل کی پیداواری لاگت میں کپاس کے بعد بجلی کی قیمت دوسرا بڑا عنصر ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ فنانس اسکیم (ای ایف ایس) میں حالیہ تبدیلیوں نے برآمدی رفتار کو متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق ای ایف ایس کو اس کی اصل شکل میں برقرار رکھنا ٹیکسٹائل کی برآمدات کے تسلسل کے لیے نہایت ضروری ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/06151935823e12c.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>پالیسی ریسرچ اینڈ ایڈوائزری کونسل (پی آر اے سی) کے ہیڈ آف ریسرچ ڈاکٹر اسامہ احسان خان نے خبردار کیا کہ امریکی ٹیرف میں کمی کے باوجود، اگر پاکستان کی پیداواری لاگت کم نہ ہوئی تو عالمی خریداروں کے آرڈرز کی پاکستان کی طرف منتقلی کی توقع غیر حقیقی ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ٹیرف میں کمی سے امریکا میں برآمدات کا موجودہ حجم تو برقرار رہ سکتا ہے، لیکن بلند پیداواری لاگت پاکستانی مصنوعات کی قیمتوں کو غیر مسابقتی بنائے رکھتی ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر اسامہ احسان خان نے پیداواری لاگت میں کمی کے لیے تین اہم شعبوں کی نشاندہی کی: شرح سود، بجلی کے نرخ، اور گیس کی قیمتیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مرکزی بینک پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھے ہوئے ہے، حالانکہ مہنگائی کی شرح حالیہ طور پر اس کے مقرر کردہ 5 سے 7 فیصد کے ہدف سے بھی نیچے آ چکی ہے۔ اس کے برعکس دیگر ہم پلہ معیشتیں 3 سے 10 فیصد شرح سود پر کام کر رہی ہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق پاکستان کے لیے شرح سود کو سنگل ڈیجٹ پر لانے کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام کاروباری لاگت کو کم کرے گا، برآمدات میں اضافہ کرے گا اور قرضوں کی ادائیگی میں آسانی پیدا کرے گا۔ پالیسی ریٹ میں ہر ایک فیصد کمی سالانہ 200 سے 250 ارب روپے کے سودی اخراجات میں کمی لاتی ہے۔</p>
<p>برآمدی شعبے کے لیے بجلی کے نرخ — جو اس وقت تقریباً 0.16 ڈالر فی یونٹ ہیں — بھی پاکستان کے مقابل ممالک کے نرخوں (0.06 سے 0.10 ڈالر) سے کہیں زیادہ ہیں۔ ڈاکٹر اسامہ احسان خان کا کہنا تھا کہ مہنگے مقامی پاور پلانٹس بند کر کے اور غیر ملکی آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ازسرنو طے کر کے بجلی کی قیمتوں میں کمی لائی جا سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے گیس ٹیرف میں بھی کمی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اسٹریٹجک بنیادوں پر گیس کی قیمت کم کرنے سے پاکستان کی مینوفیکچرنگ ہب کے طور پر کشش بڑھے گی۔</p>
<p>پی آر اے سی اور کے سی سی آئی کی ایک مشترکہ انفوگرافک کے مطابق، پاکستان دیگر علاقائی ممالک کے مقابلے میں کئی دیگر شعبوں میں بھی پیچھے ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان میں مزدوروں کی پیداواری صلاحیت فی گھنٹہ صرف 7.20 ڈالر ہے، جو کہ علاقائی ممالک کی 8.70 سے 18 ڈالر کی رینج سے کم ہے۔ صرف کمبوڈیا اس سے پیچھے ہے، جہاں یہ شرح 4 ڈالر فی گھنٹہ ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے عالمی تجارت کا منظرنامہ تبدیل ہو رہا ہے اور خریدار زیادہ قابلِ اعتماد اور کم لاگت والے سورسنگ مقامات کی تلاش میں ہیں، پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ اندرونی اصلاحات کے ذریعے پیداوار کی لاگت میں فوری کمی لائے تاکہ امریکا کی جانب سے دی گئی ٹیرف سہولت سے مکمل فائدہ اٹھایا جا سکے۔</p>
<p>ڈاکٹر اسامہ احسان خان نے خبردار کیا کہ اگر ہم پیداواری لاگت میں کمی نہیں لاتے تو پاکستان اس حاصل کردہ تجارتی رعایت کے فوائد سے محروم رہ سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275543</guid>
      <pubDate>Wed, 06 Aug 2025 15:46:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/061543594329d66.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/061543594329d66.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
