<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایلون مسک بمقابلہ مودی، بھارت میں انٹرنیٹ سنسرشپ پر جنگ کی اندرونی کہانی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275534/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جنوری میں ایک پرانی پوسٹ، جس میں ایک بھارتی حکمران جماعت کے رہنما کو ”نکمّا“ کہا گیا تھا، ستیارا پولیس کی نظر میں ”فرقہ وارانہ کشیدگی“ کا سبب بن سکتا تھا۔ اس پوسٹ پر ٹیک ڈاؤن نوٹس جاری ہوا، مگر یہ اب بھی ایکس پر موجود ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پوسٹ ان سیکڑوں میں شامل ہے جن کا حوالہ ایکس نے بھارت کی حکومت کے خلاف مارچ 2025 میں دائر کردہ ایک مقدمے میں دیا۔ ایلون مسک کی کمپنی نے مودی حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا مواد پر پابندیوں کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2023 سے بھارت نے ”سہیوگ“ نامی ویب پورٹل متعارف کروا کر تمام وفاقی و ریاستی اداروں اور پولیس کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ ”غیر قانونی“ معلومات ہٹوانے کے لیے براہِ راست کمپنیوں سے رابطہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکس نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ یہ سسٹم آزادی اظہارِ رائے کے خلاف ہے اور سرکاری اہلکار جائز تنقید کو بھی ہٹوانے کی کوشش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی ریکارڈ کے مطابق مارچ 2024 سے جون 2025 کے دوران بھارتی اداروں نے  ایکس سے تقریباً 1,400 پوسٹس ہٹانے کی درخواستیں کیں۔ ان میں طنزیہ خاکے، حکومت پر تنقید، اور نیوز رپورٹنگ شامل ہے۔ ایک کیس میں ایک کارٹون جس میں ”مہنگائی“ کو ایک سرخ ڈایناسور کے طور پر دکھایا گیا تھا، ہٹانے کی درخواست کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایلون مسک کی کمپنی نے ان اقدامات کو ”سینسرشپ پورٹل“ قرار دیا ہے اور عدالت سے استدعا کی ہے کہ حکومت کے 2023 کے احکامات کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ردعمل میں کہا گیا کہ یہ اقدامات ”غیر قانونی مواد“ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہیں، مگر ناقدین اسے اختلاف رائے دبانے کا ہتھکنڈہ قرار دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جنوری میں ایک پرانی پوسٹ، جس میں ایک بھارتی حکمران جماعت کے رہنما کو ”نکمّا“ کہا گیا تھا، ستیارا پولیس کی نظر میں ”فرقہ وارانہ کشیدگی“ کا سبب بن سکتا تھا۔ اس پوسٹ پر ٹیک ڈاؤن نوٹس جاری ہوا، مگر یہ اب بھی ایکس پر موجود ہے۔</strong></p>
<p>یہ پوسٹ ان سیکڑوں میں شامل ہے جن کا حوالہ ایکس نے بھارت کی حکومت کے خلاف مارچ 2025 میں دائر کردہ ایک مقدمے میں دیا۔ ایلون مسک کی کمپنی نے مودی حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا مواد پر پابندیوں کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔</p>
<p>2023 سے بھارت نے ”سہیوگ“ نامی ویب پورٹل متعارف کروا کر تمام وفاقی و ریاستی اداروں اور پولیس کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ ”غیر قانونی“ معلومات ہٹوانے کے لیے براہِ راست کمپنیوں سے رابطہ کریں۔</p>
<p>ایکس نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ یہ سسٹم آزادی اظہارِ رائے کے خلاف ہے اور سرکاری اہلکار جائز تنقید کو بھی ہٹوانے کی کوشش کرتے ہیں۔</p>
<p>عدالتی ریکارڈ کے مطابق مارچ 2024 سے جون 2025 کے دوران بھارتی اداروں نے  ایکس سے تقریباً 1,400 پوسٹس ہٹانے کی درخواستیں کیں۔ ان میں طنزیہ خاکے، حکومت پر تنقید، اور نیوز رپورٹنگ شامل ہے۔ ایک کیس میں ایک کارٹون جس میں ”مہنگائی“ کو ایک سرخ ڈایناسور کے طور پر دکھایا گیا تھا، ہٹانے کی درخواست کی گئی۔</p>
<p>ایلون مسک کی کمپنی نے ان اقدامات کو ”سینسرشپ پورٹل“ قرار دیا ہے اور عدالت سے استدعا کی ہے کہ حکومت کے 2023 کے احکامات کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔</p>
<p>سرکاری ردعمل میں کہا گیا کہ یہ اقدامات ”غیر قانونی مواد“ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہیں، مگر ناقدین اسے اختلاف رائے دبانے کا ہتھکنڈہ قرار دیتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275534</guid>
      <pubDate>Wed, 06 Aug 2025 12:36:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/06122622bbd135d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/06122622bbd135d.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
