<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہیروشیما پر ایٹمی حملے کو 80 سال مکمل، میئر کا دنیا سے جوہری جنگ کے خطرے پر غور کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275527/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہیروشیما پر ایٹمی بم گرائے جانے کے 80 سال مکمل ہونے پر بدھ کے روز ہزاروں افراد نے امن کے لیے دعائیں کیں اور خاموشی اختیار کی۔ 6 اگست 1945 کو امریکا نے جاپانی شہر ہیروشیما پر یورینیم بم ”لٹل بوائے“ گرایا تھا، جس سے فوری طور پر تقریباً 78,000 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جب کہ ہزاروں مزید افراد اگلے مہینوں میں تابکاری سے جان کی بازی ہار گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سانحے کی یاد میں منعقدہ سالانہ تقریب میں ریکارڈ 120 ممالک اور خطوں کے نمائندے شریک ہوئے، جن میں امریکا اور اسرائیل بھی شامل تھے۔ صبح 8:15 پر، بم کے دھماکے کے وقت، ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ ہیروشیما کے میئر کازومی ماتسویی نے عالمی رہنماؤں کو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور روس دنیا کے 90 فیصد جوہری ہتھیاروں کے مالک ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر فوجی طاقت کے حصول کی دوڑ، ماضی کے سبق کو نظر انداز کر کے امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام عالمی رہنماؤں سے گزارش ہے کہ وہ ہیروشیما آئیں اور خود اس تباہی کے اثرات کو دیکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;71 سالہ سیاح یوشی کازو ہوریے نے بھی اس موقع پر کہا کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تاریخ خود کو دہرا رہی ہو، اور انہیں اپنے پوتے پوتیوں کے مستقبل کے لیے امن کی خواہش ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہیروشیما پر ایٹمی بم گرائے جانے کے 80 سال مکمل ہونے پر بدھ کے روز ہزاروں افراد نے امن کے لیے دعائیں کیں اور خاموشی اختیار کی۔ 6 اگست 1945 کو امریکا نے جاپانی شہر ہیروشیما پر یورینیم بم ”لٹل بوائے“ گرایا تھا، جس سے فوری طور پر تقریباً 78,000 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جب کہ ہزاروں مزید افراد اگلے مہینوں میں تابکاری سے جان کی بازی ہار گئے۔</strong></p>
<p>اس سانحے کی یاد میں منعقدہ سالانہ تقریب میں ریکارڈ 120 ممالک اور خطوں کے نمائندے شریک ہوئے، جن میں امریکا اور اسرائیل بھی شامل تھے۔ صبح 8:15 پر، بم کے دھماکے کے وقت، ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ ہیروشیما کے میئر کازومی ماتسویی نے عالمی رہنماؤں کو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور روس دنیا کے 90 فیصد جوہری ہتھیاروں کے مالک ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر فوجی طاقت کے حصول کی دوڑ، ماضی کے سبق کو نظر انداز کر کے امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام عالمی رہنماؤں سے گزارش ہے کہ وہ ہیروشیما آئیں اور خود اس تباہی کے اثرات کو دیکھیں۔</p>
<p>71 سالہ سیاح یوشی کازو ہوریے نے بھی اس موقع پر کہا کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تاریخ خود کو دہرا رہی ہو، اور انہیں اپنے پوتے پوتیوں کے مستقبل کے لیے امن کی خواہش ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275527</guid>
      <pubDate>Wed, 06 Aug 2025 11:50:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/06115011ba57d37.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/06115011ba57d37.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
