<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیلٹا کی موت، سکڑتا دریائے سندھ اور معدوم ہوتی زندگی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275520/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حبیب اللہ کھٹی جب اپنی  سوکھے جزیرہ گاؤں میں اپنی والدہ کی قبر کے پاس آخری الوداع کہنے جاتے ہیں تو ان کے پائوں تلے نمک کی پرتیں چٹخ رہی ہوتی ہیں—وہ اپنی پیاسی جزیرہ نما آبادی پاکستان کے دریائے سندھ ڈیلٹا کو چھوڑنے جا رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیلٹا میں داخل ہونے والا سمندری پانی—جہاں سندھ دریا بحیرہ عرب سے ملتا ہے—کی وجہ سے زرعی و ماہی گیری کمیونٹیز تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حبیب اللہ کھٹی نے اے ایف پی کو بتایا کہ نمکین پانی نے ہمارا گاؤں چاروں طرف سے گھیر لیا ہے“۔ یہ گفتگو انہوں نے ضلع ٹھٹہ کے ضلع کھارو چھان کے گاؤں عبداللہ میر بہار سے کی، جو سمندر سے تقریباً 15 کلومیٹر فاصلے پر واقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مچھلیوں کی کمی ہونے پر اس 54 سالہ حبیب اللہ کھٹی نے درزی کا پیشہ اختیار کیا، لیکن صرف 150 گھرانوں میں سے چار ہی باقی رہ گئے تو یہ کاروبار بھی ممکن نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ شام ہوتے ہی علاقے میں ایک خوفناک سناٹا چھا جاتا ہے اور  آوارہ کتے سنسان لکڑی اور بانس کے گھروں کے بیچ گھومتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کھارو چھان کبھی چالیس گاؤں پر مشتمل تھا، لیکن زیادہ تر گاؤں اب بلند سطح سمندر کے نیچے دب چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی مردم شماری کے مطابق اس شہر کی آبادی 1981 میں 26000 تھی، جبکہ 2023 میں یہ تعداد 11000 رہ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حبیب اللہ کھٹی اپنی فیملی کو کراچی منتقل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جو پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے اور اقتصادی تارکین سے بھرا پڑا ہے، جن میں سے بہت سے سندھ ڈیلٹا سے آنے والے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان فشرفولک فورم کا تخمینہ ہے کہ ڈیلٹا کے ساحلی اضلاع سے ہزاروں لوگ مقامی معاشی بحران سے بے گھر ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ایک تحقیق کے مطابق جو مارچ میں جناح انسٹیٹیوٹ نے شائع کی، گزشتہ دو دہائیوں میں پورے سندھ ڈیلٹا کے خطے سے 12 لاکھ سے زائد افراد کو بے گھر ہونا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/05171044b472411.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ-پاکستان واٹر اسٹڈیز سنٹر کی 2018 کی تحقیق کے مطابق، 1950 کی دہائی سے ڈیلٹا میں نیچے کی طرف پانی کے بہاؤ میں 80 فیصد کمی آئی ہے، جس کی وجوہات میں آبپاشی کی نہریں، پن بجلی کے ڈیم، اور برف پگھلنے پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کمی نے سمندری پانی کے اندر گھسنے کا راستہ ہموار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانی کی نمکیات میں 1990 کے بعد سے تقریباً 70 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جس سے کھیتی باڑی ناممکن ہو گئی ہے اور جھینگے و کیکڑوں کی آبادی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ماہرِ تحفظ محمد علی انجم کا کہنا ہے کہ ڈیلٹا نہ صرف سکڑ رہا ہے بلکہ ختم بھی رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تبت سے شروع ہو کر دریائے سندھ متنازع کشمیر سے گزرتا ہوا پورے پاکستان میں بہتا ہے۔ یہ دریا اور اس کی شاخیں ملک کی 80 فیصد زرعی زمین کو سیراب کرتے ہیں اور لاکھوں لوگوں کی روزی روٹی کا ذریعہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ڈیلٹا، جو سمندر سے ملنے والے دریا کے لائے ہوئے زرخیز رسوبات سے تشکیل پایا، کبھی زراعت، ماہی گیری، مینگروز اور جنگلی حیات کے لیے بہترین علاقہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن 2019 میں ایک سرکاری تحقیق نے انکشاف کیا کہ 16 فیصد زرخیز زمین اب سمندر کے نمکین پانی کے باعث بنجر ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/05171204feda00e.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹھٹہ کے علاقے کٹھی بندر میں، جو سمندر کے کنارے واقع ہے، زمین پر نمک کے سفید کرسٹل کی تہہ جم چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینے کا پانی میلوں دور سے کشتیوں پر لایا جاتا ہے اور گاؤں والے اسے گدھوں پر لاد کر گھروں تک پہنچاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”کون اپنی دھرتی ماں کو چھوڑنا چاہتا ہے؟“ حاجی کرم جٹ نے کہا، جن کا گھر بڑھتے پانی میں ڈوب چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پانی سے دور ایک نئی جگہ گھر بنایا، امید کرتے ہوئے کہ دوسرے خاندان بھی ان کے ساتھ آ کر بسیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ آدمی صرف تب اپنی سرزمین چھوڑتا ہے جب اس کے پاس کوئی اور راستہ نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نوآبادیاتی حکمران وہ پہلے لوگ تھے جنہوں نے نہروں اور ڈیموں کے ذریعے دریائے سندھ کا قدرتی بہاؤ تبدیل کیا، جس کے بعد حالیہ دہائیوں میں درجنوں پن بجلی منصوبے بھی تعمیر کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں برس، فوج کی قیادت میں جاری کئی نہری منصوبے اس وقت روک دیے گئے جب سندھ کے نشیبی دریائی علاقوں کے کسانوں نے احتجاج کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/05171338a391d47.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریائے سندھ کے طاس  کو درپیش ماحولیاتی بگاڑ سے نمٹنے کے لیے حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ نے 2021 میں ’لیونگ انڈس انیشی ایٹو‘ کا آغاز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منصوبے کا ایک پہلو ڈیلٹا کی بحالی پر مرکوز ہے، جس کے تحت مٹی میں نمکیات کی زیادتی کو کم کرنا اور مقامی زراعت و ماحولیاتی نظام کا تحفظ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ حکومت بھی مینگرووز کے جنگلات کی بحالی کا منصوبہ چلا رہی ہے، جو نمکین سمندری پانی کی دراندازی کے خلاف قدرتی دفاعی دیوار کا کردار ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ساحلی پٹی کے کچھ حصوں میں مینگرووز کی بحالی کی جا رہی ہے، لیکن دوسری جانب زمینوں پر قبضہ اور رہائشی منصوبوں کی تعمیر کے لیے ان جنگلات کو کاٹا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ہمسایہ ملک بھارت نے 1960 کے اس آبی معاہدے کو منسوخ کر دیا ہے جس کے تحت دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم طے کی گئی تھی، اور اب وہ دریاؤں پر ڈیم تعمیر کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے، جس سے پاکستان کے لیے پانی کے بہاؤ میں مزید کمی کا خطرہ ہے۔ پاکستان اس اقدام کو ”جنگ کا اعلان“ قرار دے چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان فشر فوک فورم سے وابستہ ماحولیاتی کارکن فاطمہ مجید کے مطابق، ان علاقوں میں بسنے والی کمیونٹیز نہ صرف اپنے گھر بلکہ ایک پورا طرزِ زندگی کھو چکی ہیں، جو اس ڈیلٹا سے جڑی ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاطمہ کے مطابق، خاص طور پر خواتین، جو نسل در نسل مچھلیاں پکڑنے کے لیے جال بناتی اور دن کی پکڑ کو تیار کر کے بیچنے کا کام کرتی تھیں، وہ جب شہروں میں منتقل ہوتی ہیں تو انہیں روزگار کے مواقع نہیں ملتے۔ ان کے دادا نے بھی کھارو چھان سے کراچی کے مضافات میں آ کر سکونت اختیار کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”ہم نے صرف زمین نہیں کھوئی، ہم نے اپنی ثقافت کھو دی ہے۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حبیب اللہ کھٹی جب اپنی  سوکھے جزیرہ گاؤں میں اپنی والدہ کی قبر کے پاس آخری الوداع کہنے جاتے ہیں تو ان کے پائوں تلے نمک کی پرتیں چٹخ رہی ہوتی ہیں—وہ اپنی پیاسی جزیرہ نما آبادی پاکستان کے دریائے سندھ ڈیلٹا کو چھوڑنے جا رہے ہیں۔</strong></p>
<p>ڈیلٹا میں داخل ہونے والا سمندری پانی—جہاں سندھ دریا بحیرہ عرب سے ملتا ہے—کی وجہ سے زرعی و ماہی گیری کمیونٹیز تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔</p>
<p>حبیب اللہ کھٹی نے اے ایف پی کو بتایا کہ نمکین پانی نے ہمارا گاؤں چاروں طرف سے گھیر لیا ہے“۔ یہ گفتگو انہوں نے ضلع ٹھٹہ کے ضلع کھارو چھان کے گاؤں عبداللہ میر بہار سے کی، جو سمندر سے تقریباً 15 کلومیٹر فاصلے پر واقع ہے۔</p>
<p>مچھلیوں کی کمی ہونے پر اس 54 سالہ حبیب اللہ کھٹی نے درزی کا پیشہ اختیار کیا، لیکن صرف 150 گھرانوں میں سے چار ہی باقی رہ گئے تو یہ کاروبار بھی ممکن نہیں رہا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ شام ہوتے ہی علاقے میں ایک خوفناک سناٹا چھا جاتا ہے اور  آوارہ کتے سنسان لکڑی اور بانس کے گھروں کے بیچ گھومتے ہیں۔</p>
<p>کھارو چھان کبھی چالیس گاؤں پر مشتمل تھا، لیکن زیادہ تر گاؤں اب بلند سطح سمندر کے نیچے دب چکے ہیں۔</p>
<p>حکومتی مردم شماری کے مطابق اس شہر کی آبادی 1981 میں 26000 تھی، جبکہ 2023 میں یہ تعداد 11000 رہ گئی۔</p>
<p>حبیب اللہ کھٹی اپنی فیملی کو کراچی منتقل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جو پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے اور اقتصادی تارکین سے بھرا پڑا ہے، جن میں سے بہت سے سندھ ڈیلٹا سے آنے والے ہیں۔</p>
<p>پاکستان فشرفولک فورم کا تخمینہ ہے کہ ڈیلٹا کے ساحلی اضلاع سے ہزاروں لوگ مقامی معاشی بحران سے بے گھر ہو چکے ہیں۔</p>
<p>لیکن ایک تحقیق کے مطابق جو مارچ میں جناح انسٹیٹیوٹ نے شائع کی، گزشتہ دو دہائیوں میں پورے سندھ ڈیلٹا کے خطے سے 12 لاکھ سے زائد افراد کو بے گھر ہونا پڑا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/05171044b472411.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>امریکہ-پاکستان واٹر اسٹڈیز سنٹر کی 2018 کی تحقیق کے مطابق، 1950 کی دہائی سے ڈیلٹا میں نیچے کی طرف پانی کے بہاؤ میں 80 فیصد کمی آئی ہے، جس کی وجوہات میں آبپاشی کی نہریں، پن بجلی کے ڈیم، اور برف پگھلنے پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات شامل ہیں۔</p>
<p>اس کمی نے سمندری پانی کے اندر گھسنے کا راستہ ہموار کیا ہے۔</p>
<p>پانی کی نمکیات میں 1990 کے بعد سے تقریباً 70 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جس سے کھیتی باڑی ناممکن ہو گئی ہے اور جھینگے و کیکڑوں کی آبادی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔</p>
<p>مقامی ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ماہرِ تحفظ محمد علی انجم کا کہنا ہے کہ ڈیلٹا نہ صرف سکڑ رہا ہے بلکہ ختم بھی رہا ہے۔</p>
<p>تبت سے شروع ہو کر دریائے سندھ متنازع کشمیر سے گزرتا ہوا پورے پاکستان میں بہتا ہے۔ یہ دریا اور اس کی شاخیں ملک کی 80 فیصد زرعی زمین کو سیراب کرتے ہیں اور لاکھوں لوگوں کی روزی روٹی کا ذریعہ ہیں۔</p>
<p>یہ ڈیلٹا، جو سمندر سے ملنے والے دریا کے لائے ہوئے زرخیز رسوبات سے تشکیل پایا، کبھی زراعت، ماہی گیری، مینگروز اور جنگلی حیات کے لیے بہترین علاقہ تھا۔</p>
<p>لیکن 2019 میں ایک سرکاری تحقیق نے انکشاف کیا کہ 16 فیصد زرخیز زمین اب سمندر کے نمکین پانی کے باعث بنجر ہو چکی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/05171204feda00e.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>ٹھٹہ کے علاقے کٹھی بندر میں، جو سمندر کے کنارے واقع ہے، زمین پر نمک کے سفید کرسٹل کی تہہ جم چکی ہے۔</p>
<p>پینے کا پانی میلوں دور سے کشتیوں پر لایا جاتا ہے اور گاؤں والے اسے گدھوں پر لاد کر گھروں تک پہنچاتے ہیں۔</p>
<p>”کون اپنی دھرتی ماں کو چھوڑنا چاہتا ہے؟“ حاجی کرم جٹ نے کہا، جن کا گھر بڑھتے پانی میں ڈوب چکا ہے۔</p>
<p>انہوں نے پانی سے دور ایک نئی جگہ گھر بنایا، امید کرتے ہوئے کہ دوسرے خاندان بھی ان کے ساتھ آ کر بسیں گے۔</p>
<p>انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ آدمی صرف تب اپنی سرزمین چھوڑتا ہے جب اس کے پاس کوئی اور راستہ نہ ہو۔</p>
<p>برطانوی نوآبادیاتی حکمران وہ پہلے لوگ تھے جنہوں نے نہروں اور ڈیموں کے ذریعے دریائے سندھ کا قدرتی بہاؤ تبدیل کیا، جس کے بعد حالیہ دہائیوں میں درجنوں پن بجلی منصوبے بھی تعمیر کیے گئے۔</p>
<p>رواں برس، فوج کی قیادت میں جاری کئی نہری منصوبے اس وقت روک دیے گئے جب سندھ کے نشیبی دریائی علاقوں کے کسانوں نے احتجاج کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/05171338a391d47.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>دریائے سندھ کے طاس  کو درپیش ماحولیاتی بگاڑ سے نمٹنے کے لیے حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ نے 2021 میں ’لیونگ انڈس انیشی ایٹو‘ کا آغاز کیا۔</p>
<p>اس منصوبے کا ایک پہلو ڈیلٹا کی بحالی پر مرکوز ہے، جس کے تحت مٹی میں نمکیات کی زیادتی کو کم کرنا اور مقامی زراعت و ماحولیاتی نظام کا تحفظ شامل ہے۔</p>
<p>سندھ حکومت بھی مینگرووز کے جنگلات کی بحالی کا منصوبہ چلا رہی ہے، جو نمکین سمندری پانی کی دراندازی کے خلاف قدرتی دفاعی دیوار کا کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ ساحلی پٹی کے کچھ حصوں میں مینگرووز کی بحالی کی جا رہی ہے، لیکن دوسری جانب زمینوں پر قبضہ اور رہائشی منصوبوں کی تعمیر کے لیے ان جنگلات کو کاٹا جا رہا ہے۔</p>
<p>ادھر ہمسایہ ملک بھارت نے 1960 کے اس آبی معاہدے کو منسوخ کر دیا ہے جس کے تحت دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم طے کی گئی تھی، اور اب وہ دریاؤں پر ڈیم تعمیر کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے، جس سے پاکستان کے لیے پانی کے بہاؤ میں مزید کمی کا خطرہ ہے۔ پاکستان اس اقدام کو ”جنگ کا اعلان“ قرار دے چکا ہے۔</p>
<p>پاکستان فشر فوک فورم سے وابستہ ماحولیاتی کارکن فاطمہ مجید کے مطابق، ان علاقوں میں بسنے والی کمیونٹیز نہ صرف اپنے گھر بلکہ ایک پورا طرزِ زندگی کھو چکی ہیں، جو اس ڈیلٹا سے جڑی ہوئی تھی۔</p>
<p>فاطمہ کے مطابق، خاص طور پر خواتین، جو نسل در نسل مچھلیاں پکڑنے کے لیے جال بناتی اور دن کی پکڑ کو تیار کر کے بیچنے کا کام کرتی تھیں، وہ جب شہروں میں منتقل ہوتی ہیں تو انہیں روزگار کے مواقع نہیں ملتے۔ ان کے دادا نے بھی کھارو چھان سے کراچی کے مضافات میں آ کر سکونت اختیار کی تھی۔</p>
<p>”ہم نے صرف زمین نہیں کھوئی، ہم نے اپنی ثقافت کھو دی ہے۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275520</guid>
      <pubDate>Wed, 06 Aug 2025 11:10:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/061104336833e82.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/061104336833e82.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
