<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیلٹا کی موت: دریائے سندھ کا بہاؤ کمزور، سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275504/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جب حبیب اللہ کھٹی اپنی والدہ کی قبر پر آخری بار الوداع کہنے پہنچے تو ان کے قدموں تلے نمک کی تہیں چرچرا کر ٹوٹنے لگیں۔ وہ اپنے پیاسے، ویران جزیرہ نما گاؤں کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنے جا رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ گاؤں پاکستان کے جنوب میں اس مقام پر واقع ہے جہاں دریائے سندھ بحیرہ عرب سے آ ملتا ہے۔ یہاں سمندری پانی کے زمین میں در آنے (سی واٹر انٹروژن) سے کاشت کاری اور ماہی گیری تباہ ہو چکی ہے اور کئی صدیوں سے آباد بستیاں اجڑنے لگی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”نمکین پانی نے ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا ہے،“ حبیب اللہ کھٹی نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا۔ وہ کراچی سے تقریباً 15 کلومیٹر دور واقع کھاروچان کے قصبے میں عبداللہ میر بحر گاؤں کے رہائشی ہیں، جہاں دریا سمندر میں گرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب مچھلی کا ذخیرہ ختم ہوا، تو 54 سالہ  حبیب اللہ کھٹی نے درزی کا کام شروع کیا لیکن وہ بھی زیادہ دیر نہ چل سکا ، کیونکہ 150 گھروں میں سے اب صرف چار باقی رہ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ بتاتے ہیں کہ شام ہوتے ہی پورے علاقے میں ایک خوفناک خاموشی چھا جاتی ہے، جبکہ آوارہ کتے لکڑی اور بانس کے خالی گھروں کے بیچ گھومتے رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کبھی کھارو چان کے قصبے میں تقریباً 40 گاؤں آباد تھے لیکن زیادہ تر اب سمندر کے بڑھتے پانی میں دفن ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1981 میں کھارو چان کی آبادی 26 ہزار تھی، جو کہ 2023 میں کم ہو کر 11 ہزار رہ گئی جیسا کہ مردم شماری کے اعداد و شمار بتاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کھٹی اب اپنے خاندان کو لے کر پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی منتقل ہو رہے ہیں، وہ شہر جو پہلے ہی معاشی مہاجرین سے بھر چکا ہے، خاص طور پر سندھ ڈیلٹا سے آنے والوں سے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان فشر فوک فورم، جو ماہی گیر برادریوں کی نمائندگی کرتا ہے، کے مطابق سندھ ڈیلٹا کے ساحلی علاقوں سے دسیوں ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایک تحقیقاتی رپورٹ جو مارچ میں جناح انسٹی ٹیوٹ (ایک تھنک ٹینک جس کی سربراہی سابق وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی نے کی) نے شائع کی، کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں سندھ ڈیلٹا کے وسیع علاقے سے 12 لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/05171044b472411.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ پاکستان سینٹر برائے ایڈوانسڈ اسٹڈیز ان واٹر کی 2018 کی ایک تحقیق کے مطابق 1950 کی دہائی سے لے کر اب تک سندھ ڈیلٹا کی طرف دریائے سندھ کا نیچے کی جانب پانی کا بہاؤ 80 فیصد تک کم ہو چکا ہے۔ اس کمی کی بڑی وجوہات میں نہری نظام، پن بجلی کے ڈیمز اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیئرز اور برف پگھلنے میں کمی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورت حال نے سمندری پانی کے زرعی اراضی میں در آنے (سی واٹر انٹروژن) کو شدید شکل دے دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1990 سے اب تک پانی کی نمکیات (سیلنٹی) میں تقریباً 70 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے زراعت ممکن نہیں رہی اور جھینگوں اور کیکڑوں کی آبادی بھی خطرے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ماہرِ ماحولیات محمد علی انجم نے کہا ہے کہ ڈیلٹا نہ صرف بیٹھ رہا ہے بلکہ سکڑ بھی رہا ہے،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کوئی اور راستہ نہیں بچا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریائے سندھ، جو تبّت سے نکلتا ہے اور متنازع کشمیر سے گزرتا ہوا پاکستان کے طول و عرض میں بہتا ہے، ملک کے 80 فیصد زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے اور لاکھوں افراد کا روزگار اسی سے وابستہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دریا جب سمندر سے جا ملتا ہے تو اپنے ساتھ آنے والی زرخیز مٹی (سیڈیمنٹ) سے سندھ ڈیلٹا تشکیل دیتا ہے، جو کبھی زراعت، ماہی گیری، مینگرووز اور جنگلی حیات کے لیے آئیڈیل خطہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم حکومتی ادارے کی 2019 کی ایک تحقیق کے مطابق اب تک 16 فیصد سے زائد زرخیز اراضی سمندر کے نمکین پانی کے اثر سے ناقابلِ کاشت ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/05171204feda00e.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیٹی بندر، وہ قصبہ جو سمندر کے کنارے سے کچھ اندر تک پھیلا ہوا ہے، آج نمک کے سفید کرسٹلز سے ڈھکا ہوا ہے۔ زمین کی سطح پر جمی یہ نمک کی تہیں یہاں کی تباہ شدہ زرخیزی کی گواہی دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینے کے قابل پانی یہاں کشتیوں کے ذریعے میلوں دور سے لایا جاتا ہے، جسے گدھوں پر لاد کر دیہاتی اپنے گھروں تک پہنچاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”کون اپنے وطن کو خوشی سے چھوڑتا ہے؟“
یہ کہنا ہے حاجی کرم جاٹ کا، جن کا گھر بڑھتے ہوئے سمندری پانی میں ڈوب گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ساحل سے دور اندرونِ زمین نیا گھر تعمیر کیا، اس امید پر کہ دوسرے متاثرہ خاندان بھی یہاں آ بسیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ”آدمی اپنی دھرتی صرف اسی وقت چھوڑتا ہے جب اس کے پاس کوئی اور چارہ نہ ہو،“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رہن سہن کا بکھرتا طریقہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ ڈیلٹا کی تباہی ایک دن میں نہیں ہوئی۔ اس کی جڑیں برطانوی نوآبادیاتی دور میں پیوست ہیں، جب پہلی بار دریائے سندھ کا قدرتی بہاؤ نہروں اور بندوں کے ذریعے تبدیل کیا گیا۔ اس کے بعد حالیہ عشروں میں درجنوں پن بجلی کے منصوبے بھی اسی دریا پر تعمیر کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں برس کے آغاز میں، جب فوج کی زیرقیادت چند نئے نہری منصوبے شروع کیے گئے، تو صوبہ سندھ کے نشیبی علاقوں کے کسانوں نے شدید احتجاج کیا، جس کے بعد یہ منصوبے عارضی طور پر روک دیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/05171338a391d47.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریائے سندھ کے طاس (انڈس ریور بیسن) کو تباہی سے بچانے کے لیے حکومتِ پاکستان اور اقوام متحدہ نے 2021 میں ’لیونگ سندھ انیشی ایٹو  کا آغاز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منصوبے کا ایک اہم پہلو سندھ ڈیلٹا کی بحالی ہے، جس میں زمین کی نمکیات (سیلنٹی) کم کرنے، مقامی زراعت کو بچانے اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ پر توجہ دی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی سلسلے میں حکومت سندھ نے بھی میٹھے پانی کے مینگرووز کے جنگلات کی بحالی کا منصوبہ شروع کر رکھا ہے تاکہ یہ جنگلات سمندری پانی کی دراندازی کے خلاف قدرتی رکاوٹ کا کردار ادا کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، جہاں کچھ علاقوں میں مینگرووز کی بحالی ہو رہی ہے، وہیں دوسری جگہوں پر زمین پر قبضے اور رہائشی منصوبوں کی آڑ میں درختوں کی بے دریغ کٹائی بھی جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، ہمسا یہ ملک بھارت بھی سندھ دریا اور اس کے ڈیلٹا کے لیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ بن چکا ہے، خاص طور پر 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو منسوخ کرنے کے بعد، جو پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کو یقینی بناتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے دھمکی دی ہے کہ وہ یہ معاہدہ دوبارہ بحال نہیں کرے گا اور اوپری سطح پر ڈیم تعمیر کرے گا، جس سے پاکستان کو آنے والا پانی مزید کم کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے اس اقدام کو ”اعلانِ جنگ“ کے مترادف قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان فشر فوک فورم سے وابستہ ماحولیاتی کارکن فاطمہ مجید کا کہنا ہے کہ ان برادریوں نے اپنے گھر ہی نہیں، بلکہ اپنی پوری طرزِ زندگی کھو دی ہے، وہ طرزِ زندگی جو صدیوں سے سندھ ڈیلٹا سے جڑی ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاطمہ کے بقول خواتین جو نسلوں سے جال بنتی تھیں، روز کی مچھلی صاف کر کے بازار کے لیے تیار کرتی تھیں، اب جب وہ شہروں میں ہجرت کرتی ہیں تو روزگار کے لیے جدوجہد کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاطمہ مجید، جن کے دادا کھارو چان سے کراچی کے نواحی علاقے میں آ کر بس گئے تھے، کا کہنا ہے ہم نے صرف زمین ہی نہیں کھوئی، بلکہ ہم نے اپنی ثقافت بھی گنوا دی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جب حبیب اللہ کھٹی اپنی والدہ کی قبر پر آخری بار الوداع کہنے پہنچے تو ان کے قدموں تلے نمک کی تہیں چرچرا کر ٹوٹنے لگیں۔ وہ اپنے پیاسے، ویران جزیرہ نما گاؤں کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنے جا رہے ہیں۔</strong></p>
<p>یہ گاؤں پاکستان کے جنوب میں اس مقام پر واقع ہے جہاں دریائے سندھ بحیرہ عرب سے آ ملتا ہے۔ یہاں سمندری پانی کے زمین میں در آنے (سی واٹر انٹروژن) سے کاشت کاری اور ماہی گیری تباہ ہو چکی ہے اور کئی صدیوں سے آباد بستیاں اجڑنے لگی ہیں۔</p>
<p>”نمکین پانی نے ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا ہے،“ حبیب اللہ کھٹی نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا۔ وہ کراچی سے تقریباً 15 کلومیٹر دور واقع کھاروچان کے قصبے میں عبداللہ میر بحر گاؤں کے رہائشی ہیں، جہاں دریا سمندر میں گرتا ہے۔</p>
<p>جب مچھلی کا ذخیرہ ختم ہوا، تو 54 سالہ  حبیب اللہ کھٹی نے درزی کا کام شروع کیا لیکن وہ بھی زیادہ دیر نہ چل سکا ، کیونکہ 150 گھروں میں سے اب صرف چار باقی رہ گئے ہیں۔</p>
<p>وہ بتاتے ہیں کہ شام ہوتے ہی پورے علاقے میں ایک خوفناک خاموشی چھا جاتی ہے، جبکہ آوارہ کتے لکڑی اور بانس کے خالی گھروں کے بیچ گھومتے رہتے ہیں۔</p>
<p>کبھی کھارو چان کے قصبے میں تقریباً 40 گاؤں آباد تھے لیکن زیادہ تر اب سمندر کے بڑھتے پانی میں دفن ہو چکے ہیں۔</p>
<p>1981 میں کھارو چان کی آبادی 26 ہزار تھی، جو کہ 2023 میں کم ہو کر 11 ہزار رہ گئی جیسا کہ مردم شماری کے اعداد و شمار بتاتے ہیں۔</p>
<p>کھٹی اب اپنے خاندان کو لے کر پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی منتقل ہو رہے ہیں، وہ شہر جو پہلے ہی معاشی مہاجرین سے بھر چکا ہے، خاص طور پر سندھ ڈیلٹا سے آنے والوں سے۔</p>
<p>پاکستان فشر فوک فورم، جو ماہی گیر برادریوں کی نمائندگی کرتا ہے، کے مطابق سندھ ڈیلٹا کے ساحلی علاقوں سے دسیوں ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔</p>
<p>تاہم ایک تحقیقاتی رپورٹ جو مارچ میں جناح انسٹی ٹیوٹ (ایک تھنک ٹینک جس کی سربراہی سابق وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی نے کی) نے شائع کی، کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں سندھ ڈیلٹا کے وسیع علاقے سے 12 لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/05171044b472411.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>امریکہ پاکستان سینٹر برائے ایڈوانسڈ اسٹڈیز ان واٹر کی 2018 کی ایک تحقیق کے مطابق 1950 کی دہائی سے لے کر اب تک سندھ ڈیلٹا کی طرف دریائے سندھ کا نیچے کی جانب پانی کا بہاؤ 80 فیصد تک کم ہو چکا ہے۔ اس کمی کی بڑی وجوہات میں نہری نظام، پن بجلی کے ڈیمز اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیئرز اور برف پگھلنے میں کمی شامل ہیں۔</p>
<p>اس صورت حال نے سمندری پانی کے زرعی اراضی میں در آنے (سی واٹر انٹروژن) کو شدید شکل دے دی ہے۔</p>
<p>1990 سے اب تک پانی کی نمکیات (سیلنٹی) میں تقریباً 70 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے زراعت ممکن نہیں رہی اور جھینگوں اور کیکڑوں کی آبادی بھی خطرے میں ہے۔</p>
<p>مقامی ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ماہرِ ماحولیات محمد علی انجم نے کہا ہے کہ ڈیلٹا نہ صرف بیٹھ رہا ہے بلکہ سکڑ بھی رہا ہے،</p>
<p><strong>کوئی اور راستہ نہیں بچا</strong></p>
<p>دریائے سندھ، جو تبّت سے نکلتا ہے اور متنازع کشمیر سے گزرتا ہوا پاکستان کے طول و عرض میں بہتا ہے، ملک کے 80 فیصد زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے اور لاکھوں افراد کا روزگار اسی سے وابستہ ہے۔</p>
<p>یہ دریا جب سمندر سے جا ملتا ہے تو اپنے ساتھ آنے والی زرخیز مٹی (سیڈیمنٹ) سے سندھ ڈیلٹا تشکیل دیتا ہے، جو کبھی زراعت، ماہی گیری، مینگرووز اور جنگلی حیات کے لیے آئیڈیل خطہ تھا۔</p>
<p>تاہم حکومتی ادارے کی 2019 کی ایک تحقیق کے مطابق اب تک 16 فیصد سے زائد زرخیز اراضی سمندر کے نمکین پانی کے اثر سے ناقابلِ کاشت ہو چکی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/05171204feda00e.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>کیٹی بندر، وہ قصبہ جو سمندر کے کنارے سے کچھ اندر تک پھیلا ہوا ہے، آج نمک کے سفید کرسٹلز سے ڈھکا ہوا ہے۔ زمین کی سطح پر جمی یہ نمک کی تہیں یہاں کی تباہ شدہ زرخیزی کی گواہی دیتی ہیں۔</p>
<p>پینے کے قابل پانی یہاں کشتیوں کے ذریعے میلوں دور سے لایا جاتا ہے، جسے گدھوں پر لاد کر دیہاتی اپنے گھروں تک پہنچاتے ہیں۔</p>
<p>”کون اپنے وطن کو خوشی سے چھوڑتا ہے؟“
یہ کہنا ہے حاجی کرم جاٹ کا، جن کا گھر بڑھتے ہوئے سمندری پانی میں ڈوب گیا۔</p>
<p>انہوں نے ساحل سے دور اندرونِ زمین نیا گھر تعمیر کیا، اس امید پر کہ دوسرے متاثرہ خاندان بھی یہاں آ بسیں گے۔</p>
<p>انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ”آدمی اپنی دھرتی صرف اسی وقت چھوڑتا ہے جب اس کے پاس کوئی اور چارہ نہ ہو،“</p>
<p><strong>رہن سہن کا بکھرتا طریقہ</strong></p>
<p>سندھ ڈیلٹا کی تباہی ایک دن میں نہیں ہوئی۔ اس کی جڑیں برطانوی نوآبادیاتی دور میں پیوست ہیں، جب پہلی بار دریائے سندھ کا قدرتی بہاؤ نہروں اور بندوں کے ذریعے تبدیل کیا گیا۔ اس کے بعد حالیہ عشروں میں درجنوں پن بجلی کے منصوبے بھی اسی دریا پر تعمیر کیے گئے۔</p>
<p>رواں برس کے آغاز میں، جب فوج کی زیرقیادت چند نئے نہری منصوبے شروع کیے گئے، تو صوبہ سندھ کے نشیبی علاقوں کے کسانوں نے شدید احتجاج کیا، جس کے بعد یہ منصوبے عارضی طور پر روک دیے گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/05171338a391d47.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>دریائے سندھ کے طاس (انڈس ریور بیسن) کو تباہی سے بچانے کے لیے حکومتِ پاکستان اور اقوام متحدہ نے 2021 میں ’لیونگ سندھ انیشی ایٹو  کا آغاز کیا۔</p>
<p>اس منصوبے کا ایک اہم پہلو سندھ ڈیلٹا کی بحالی ہے، جس میں زمین کی نمکیات (سیلنٹی) کم کرنے، مقامی زراعت کو بچانے اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ پر توجہ دی جا رہی ہے۔</p>
<p>اسی سلسلے میں حکومت سندھ نے بھی میٹھے پانی کے مینگرووز کے جنگلات کی بحالی کا منصوبہ شروع کر رکھا ہے تاکہ یہ جنگلات سمندری پانی کی دراندازی کے خلاف قدرتی رکاوٹ کا کردار ادا کر سکیں۔</p>
<p>تاہم، جہاں کچھ علاقوں میں مینگرووز کی بحالی ہو رہی ہے، وہیں دوسری جگہوں پر زمین پر قبضے اور رہائشی منصوبوں کی آڑ میں درختوں کی بے دریغ کٹائی بھی جاری ہے۔</p>
<p>دوسری جانب، ہمسا یہ ملک بھارت بھی سندھ دریا اور اس کے ڈیلٹا کے لیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ بن چکا ہے، خاص طور پر 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو منسوخ کرنے کے بعد، جو پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کو یقینی بناتا تھا۔</p>
<p>بھارت نے دھمکی دی ہے کہ وہ یہ معاہدہ دوبارہ بحال نہیں کرے گا اور اوپری سطح پر ڈیم تعمیر کرے گا، جس سے پاکستان کو آنے والا پانی مزید کم کر دیا جائے گا۔</p>
<p>پاکستان نے اس اقدام کو ”اعلانِ جنگ“ کے مترادف قرار دیا ہے۔</p>
<p>پاکستان فشر فوک فورم سے وابستہ ماحولیاتی کارکن فاطمہ مجید کا کہنا ہے کہ ان برادریوں نے اپنے گھر ہی نہیں، بلکہ اپنی پوری طرزِ زندگی کھو دی ہے، وہ طرزِ زندگی جو صدیوں سے سندھ ڈیلٹا سے جڑی ہوئی تھی۔</p>
<p>فاطمہ کے بقول خواتین جو نسلوں سے جال بنتی تھیں، روز کی مچھلی صاف کر کے بازار کے لیے تیار کرتی تھیں، اب جب وہ شہروں میں ہجرت کرتی ہیں تو روزگار کے لیے جدوجہد کرتی ہیں۔</p>
<p>فاطمہ مجید، جن کے دادا کھارو چان سے کراچی کے نواحی علاقے میں آ کر بس گئے تھے، کا کہنا ہے ہم نے صرف زمین ہی نہیں کھوئی، بلکہ ہم نے اپنی ثقافت بھی گنوا دی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275504</guid>
      <pubDate>Tue, 05 Aug 2025 22:28:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/052151396833e82.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/052151396833e82.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
