<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 16:46:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 16:46:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تحریک انصاف کی قیادت کو غیر موثر کرنا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275496/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیصل آباد کی انسدادِ دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) نے 31 جولائی 2025 کو پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے 100 سے زائد رہنماؤں اور کارکنوں کو 9 مئی 2023 کے پُرتشدد واقعات میں ملوث ہونے پر 10 سال تک قید کی سزائیں سنائی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 9 مئی کو چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے خلاف پی ٹی آئی کارکنوں نے ملک بھر میں احتجاج کیا تھا، جو کئی مقامات پر پُرتشدد رنگ اختیار کر گیا۔ مظاہرین نے عسکری تنصیبات، سرکاری عمارتوں اور لاہور کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر حملے کیے، جس کے بعد ہزاروں کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصل آباد کی عدالت نے اُن تمام مجرموں کی گرفتاری کا حکم بھی دیا جو عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے۔ یہ سزائیں اُن سزاؤں کے بعد سنائی گئی ہیں جو دسمبر 2024 میں فوجی عدالتوں نے 50 سے زائد پی ٹی آئی کارکنوں اور رہنماؤں کو انہی فسادات میں ملوث ہونے پر دی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;9 مئی کے مقدمات کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت انسدادِ دہشتگردی عدالتیں اس لیے کر رہی ہیں تاکہ سپریم کورٹ کے دیے گئے اگست 2025 کے فیصلے کی آخری تاریخ تک ان مقدمات کو نمٹایا جا سکے۔ تاہم، کیا فیصل آباد عدالت کی غیرمعمولی سرعت کو محض سپریم کورٹ کی ڈیڈلائن کے تناظر میں دیکھا جائے؟ ایسا سوچنا شاید سادگی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پس منظر میں غور طلب بات یہ ہے کہ تحریکِ انصاف، اپنی قیادت کے بڑے حصے کے ”سیاسی طور پر سر قلم“ کیے جانے کے باوجود، آج یعنی 5 اگست 2025 کو ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔ اس تحریک کے مطالبات میں عمران خان کی رہائی، انتخابی عمل میں شفافیت کی بحالی اور انسدادِ دہشتگردی عدالتوں سے سزا یافتہ ارکانِ اسمبلی کی اپیلیں سنے بغیر الیکشن کمیشن کی جانب سے ان کی نااہلی کو واپس لینے کا مطالبہ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ عدالت سے غیر حاضر سزا یافتہ رہنما روپوش ہو چکے ہیں، پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ صدر آصف زرداری کی جانب سے بلائے گئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شدید احتجاج کرے گی تاکہ اپنے خلاف ہونے والے سیاسی جبر کو بے نقاب کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے میں یہ امکان رد نہیں کیا جا سکتا کہ فیصل آباد عدالت کی جلد بازی محض عدالتی تقاضوں کی تکمیل نہیں بلکہ پی ٹی آئی کی احتجاجی حکمتِ عملی کو ناکام بنانے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر جب پارٹی کے روپوش رہنما اور کارکن اگر احتجاج میں شریک ہوں تو ان کی گرفتاری اور طویل قید کا خطرہ اُن کے سروں پر منڈلا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریکِ انصاف کا احتجاج کیا رخ اختیار کرتا ہے۔ اگرچہ پارٹی نے پُرامن احتجاج کی یقین دہانی کرائی ہے، مگر زمینی حالات کسی بھی وقت کشیدگی کا رخ اختیار کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک گیر احتجاج سے ایک روز قبل عمران خان نے مبینہ طور پر اپنے کارکنوں تک ایک پیغام پہنچایا ہے، جس میں دو اہم نکات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا نکتہ ان کی پرانی پالیسی کا اعادہ ہے، جس کے تحت وہ تحریکِ طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگرچہ کچھ قبائلی عمائدین بھی ایسے ہی مذاکرات کے خواہاں ہیں، ماضی کا تجربہ گواہ ہے کہ ٹی ٹی پی نے ہر بار جنگ بندی کے معاہدوں کی خلاف ورزی کی اور دوبارہ دہشتگردی کی راہ اپنائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے بجا طور پر یاد دلایا ہے کہ اب تک 21 فوجی آپریشن ہو چکے ہیں، جو کامیاب نہ ہو سکے۔ لیکن اُن کی بات میں جو چیز تشویشناک حد تک غیر موجود ہے، وہ ان آپریشنز کی ناکامی کی اصل وجہ ہے: یعنی ٹی ٹی پی کی جانب سے ہر معاہدے کی خلاف ورزی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عمران خان کو اپنے قیمتی پیغامات ضائع نہیں کرنے چاہئیں، خصوصاً ایسی حکمتِ عملی کے لیے جو بار بار ناکام ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیغام کا دوسرا حصہ احتجاجی تحریک سے متعلق ہے، جس میں عمران خان نے پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) اور مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل-این) کو ”اسٹیبلشمنٹ کی کٹھ پتلیاں“ قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی ہے، اور بہت سے مبصرین کے بقول بجا طور پر کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;تاہم مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ یہ حقیقت بھولے نہیں ہیں کہ عمران خان اور تحریکِ انصاف 2018 میں اسی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت اور سرپرستی سے برسرِاقتدار آئے تھے اور اگر بعد میں اپنے اُن سرپرستوں سے تعلقات خراب نہ کر بیٹھتے، تو شاید آج بھی اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہوتے، نہ کہ تکلیف دہ حالات میں گوشہ نشین ہوتے۔ اس تلخ سچائی کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی عوام کو ایک ایسے انتخاب کا سامنا ہے جسے انگریزی میں “ ڈیویلز بارگین “ کہا جاتا ہے، یعنی وہ موجودہ (برسرِاقتدار) اسٹیبلشمنٹ کے نمائندوں اور سابقہ ممکنہ نمائندوں کے درمیان کسی ایک کا انتخاب کریں، جبکہ دونوں میں سے کوئی بھی حقیقی معنوں میں عوام کی نمائندگی نہیں کرتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عوام کو ایسے سیاسی منظرنامے میں دھکیل دیا گیا ہے جہاں یا تو کوئی آپشن موجود نہیں، یا پھر تمام آپشنز بدترین ہیں ، کیونکہ پوری سیاسی اشرافیہ نے خود کو اُن حقیقی قوتوں کے ہاتھ بیچ دیا ہے جو پاکستان میں اصل طاقت کی مالک ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;یہی مجبور کردینے والے اور یک طرفہ انتخاب جسے ہوب سنز چوائس کہا جاتا ہے شاید وہ بنیادی سبب ہے جس نے اکثریت، خصوصاً نوجوان نسل، کو شدید مایوسی، بددلی اور نااُمیدی میں مبتلا کر دیا ہے۔ وہ نسل جس کا جذبہ اور نظریاتی خلوص اس سیاسی طبقے نے روند ڈالا ہے جس نے اپنے طرزِ عمل سے اُن کی اُمیدوں اور خوابوں سے بے رحمی سے غداری کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امر قابلِ غور ہے کہ یہ سیاسی طبقہ دراصل اُس بالا دست اشرافیہ پر مشتمل ہے، جو ایک طویل عرصے سے اس دُکھی قوم کے گلے پر ہاتھ رکھے بیٹھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیصل آباد کی انسدادِ دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) نے 31 جولائی 2025 کو پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے 100 سے زائد رہنماؤں اور کارکنوں کو 9 مئی 2023 کے پُرتشدد واقعات میں ملوث ہونے پر 10 سال تک قید کی سزائیں سنائی ہیں۔</strong></p>
<p>یاد رہے کہ 9 مئی کو چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے خلاف پی ٹی آئی کارکنوں نے ملک بھر میں احتجاج کیا تھا، جو کئی مقامات پر پُرتشدد رنگ اختیار کر گیا۔ مظاہرین نے عسکری تنصیبات، سرکاری عمارتوں اور لاہور کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر حملے کیے، جس کے بعد ہزاروں کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا۔</p>
<p>فیصل آباد کی عدالت نے اُن تمام مجرموں کی گرفتاری کا حکم بھی دیا جو عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے۔ یہ سزائیں اُن سزاؤں کے بعد سنائی گئی ہیں جو دسمبر 2024 میں فوجی عدالتوں نے 50 سے زائد پی ٹی آئی کارکنوں اور رہنماؤں کو انہی فسادات میں ملوث ہونے پر دی تھیں۔</p>
<p>9 مئی کے مقدمات کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت انسدادِ دہشتگردی عدالتیں اس لیے کر رہی ہیں تاکہ سپریم کورٹ کے دیے گئے اگست 2025 کے فیصلے کی آخری تاریخ تک ان مقدمات کو نمٹایا جا سکے۔ تاہم، کیا فیصل آباد عدالت کی غیرمعمولی سرعت کو محض سپریم کورٹ کی ڈیڈلائن کے تناظر میں دیکھا جائے؟ ایسا سوچنا شاید سادگی ہوگی۔</p>
<p>اس پس منظر میں غور طلب بات یہ ہے کہ تحریکِ انصاف، اپنی قیادت کے بڑے حصے کے ”سیاسی طور پر سر قلم“ کیے جانے کے باوجود، آج یعنی 5 اگست 2025 کو ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔ اس تحریک کے مطالبات میں عمران خان کی رہائی، انتخابی عمل میں شفافیت کی بحالی اور انسدادِ دہشتگردی عدالتوں سے سزا یافتہ ارکانِ اسمبلی کی اپیلیں سنے بغیر الیکشن کمیشن کی جانب سے ان کی نااہلی کو واپس لینے کا مطالبہ شامل ہے۔</p>
<p>اگرچہ عدالت سے غیر حاضر سزا یافتہ رہنما روپوش ہو چکے ہیں، پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ صدر آصف زرداری کی جانب سے بلائے گئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شدید احتجاج کرے گی تاکہ اپنے خلاف ہونے والے سیاسی جبر کو بے نقاب کیا جا سکے۔</p>
<p>ایسے میں یہ امکان رد نہیں کیا جا سکتا کہ فیصل آباد عدالت کی جلد بازی محض عدالتی تقاضوں کی تکمیل نہیں بلکہ پی ٹی آئی کی احتجاجی حکمتِ عملی کو ناکام بنانے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر جب پارٹی کے روپوش رہنما اور کارکن اگر احتجاج میں شریک ہوں تو ان کی گرفتاری اور طویل قید کا خطرہ اُن کے سروں پر منڈلا رہا ہے۔</p>
<p>اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریکِ انصاف کا احتجاج کیا رخ اختیار کرتا ہے۔ اگرچہ پارٹی نے پُرامن احتجاج کی یقین دہانی کرائی ہے، مگر زمینی حالات کسی بھی وقت کشیدگی کا رخ اختیار کر سکتے ہیں۔</p>
<p>ملک گیر احتجاج سے ایک روز قبل عمران خان نے مبینہ طور پر اپنے کارکنوں تک ایک پیغام پہنچایا ہے، جس میں دو اہم نکات شامل ہیں۔</p>
<p>پہلا نکتہ ان کی پرانی پالیسی کا اعادہ ہے، جس کے تحت وہ تحریکِ طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگرچہ کچھ قبائلی عمائدین بھی ایسے ہی مذاکرات کے خواہاں ہیں، ماضی کا تجربہ گواہ ہے کہ ٹی ٹی پی نے ہر بار جنگ بندی کے معاہدوں کی خلاف ورزی کی اور دوبارہ دہشتگردی کی راہ اپنائی۔</p>
<p>خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے بجا طور پر یاد دلایا ہے کہ اب تک 21 فوجی آپریشن ہو چکے ہیں، جو کامیاب نہ ہو سکے۔ لیکن اُن کی بات میں جو چیز تشویشناک حد تک غیر موجود ہے، وہ ان آپریشنز کی ناکامی کی اصل وجہ ہے: یعنی ٹی ٹی پی کی جانب سے ہر معاہدے کی خلاف ورزی۔</p>
<p>لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عمران خان کو اپنے قیمتی پیغامات ضائع نہیں کرنے چاہئیں، خصوصاً ایسی حکمتِ عملی کے لیے جو بار بار ناکام ہو چکی ہے۔</p>
<p>پیغام کا دوسرا حصہ احتجاجی تحریک سے متعلق ہے، جس میں عمران خان نے پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) اور مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل-این) کو ”اسٹیبلشمنٹ کی کٹھ پتلیاں“ قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی ہے، اور بہت سے مبصرین کے بقول بجا طور پر کی ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>تاہم مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ یہ حقیقت بھولے نہیں ہیں کہ عمران خان اور تحریکِ انصاف 2018 میں اسی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت اور سرپرستی سے برسرِاقتدار آئے تھے اور اگر بعد میں اپنے اُن سرپرستوں سے تعلقات خراب نہ کر بیٹھتے، تو شاید آج بھی اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہوتے، نہ کہ تکلیف دہ حالات میں گوشہ نشین ہوتے۔ اس تلخ سچائی کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی عوام کو ایک ایسے انتخاب کا سامنا ہے جسے انگریزی میں “ ڈیویلز بارگین “ کہا جاتا ہے، یعنی وہ موجودہ (برسرِاقتدار) اسٹیبلشمنٹ کے نمائندوں اور سابقہ ممکنہ نمائندوں کے درمیان کسی ایک کا انتخاب کریں، جبکہ دونوں میں سے کوئی بھی حقیقی معنوں میں عوام کی نمائندگی نہیں کرتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عوام کو ایسے سیاسی منظرنامے میں دھکیل دیا گیا ہے جہاں یا تو کوئی آپشن موجود نہیں، یا پھر تمام آپشنز بدترین ہیں ، کیونکہ پوری سیاسی اشرافیہ نے خود کو اُن حقیقی قوتوں کے ہاتھ بیچ دیا ہے جو پاکستان میں اصل طاقت کی مالک ہیں۔</p>
</blockquote>
<p>یہی مجبور کردینے والے اور یک طرفہ انتخاب جسے ہوب سنز چوائس کہا جاتا ہے شاید وہ بنیادی سبب ہے جس نے اکثریت، خصوصاً نوجوان نسل، کو شدید مایوسی، بددلی اور نااُمیدی میں مبتلا کر دیا ہے۔ وہ نسل جس کا جذبہ اور نظریاتی خلوص اس سیاسی طبقے نے روند ڈالا ہے جس نے اپنے طرزِ عمل سے اُن کی اُمیدوں اور خوابوں سے بے رحمی سے غداری کی ہے۔</p>
<p>یہ امر قابلِ غور ہے کہ یہ سیاسی طبقہ دراصل اُس بالا دست اشرافیہ پر مشتمل ہے، جو ایک طویل عرصے سے اس دُکھی قوم کے گلے پر ہاتھ رکھے بیٹھی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275496</guid>
      <pubDate>Tue, 05 Aug 2025 16:42:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (راشد رحمان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/05161655c1f1c92.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/05161655c1f1c92.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
