<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جوہری تنصیبات پر حملوں پر امریکہ کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا، ایران</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275476/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران نے کہا ہے کہ وہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ مذاکرات میں امریکہ کو اپنے جوہری تنصیبات پر حملوں کا ذمہ دار ٹھہرائے گا اور اس سے معاوضے کا مطالبہ کرے گا، تاہم تہران نے واشنگٹن سے براہ راست مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ “کسی بھی ممکنہ مذاکرات میں، امریکہ کی طرف سے ایران کی پُرامن جوہری تنصیبات پر فوجی جارحیت کے ارتکاب پر اس کا محاسبہ کرنا اور ہرجانے کا مطالبہ ایجنڈے کا حصہ ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ایران امریکہ سے براہ راست مذاکرات کرے گا تو انہوں نے دو ٹوک جواب دیا: “نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 22 جون کو امریکہ نے ایران کے بعض کلیدی جوہری مراکز پر حملے کیے تھے، جن میں فردو، اصفہان اور نطنز کی تنصیبات شامل تھیں۔ ان حملوں کے ذریعے امریکہ نے اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ میں عارضی طور پر شرکت کی، جس کے نتیجے میں ایران کے ایٹمی پروگرام پر جاری مذاکرات معطل ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون کے وسط میں اسرائیل نے ایران کی جوہری اور عسکری تنصیبات پر غیر معمولی حملے کیے تھے جو 12 روز تک جاری رہے، جن میں رہائشی علاقے بھی نشانہ بنے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان حملوں کے بعد ایران نے اقوام متحدہ کی جوہری نگرانی کی ایجنسی سے تعاون معطل کر دیا اور کسی بھی نئے مذاکرات سے قبل فوجی کارروائیوں سے تحفظ کی ضمانت کا مطالبہ کر دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران نے کہا ہے کہ وہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ مذاکرات میں امریکہ کو اپنے جوہری تنصیبات پر حملوں کا ذمہ دار ٹھہرائے گا اور اس سے معاوضے کا مطالبہ کرے گا، تاہم تہران نے واشنگٹن سے براہ راست مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ “کسی بھی ممکنہ مذاکرات میں، امریکہ کی طرف سے ایران کی پُرامن جوہری تنصیبات پر فوجی جارحیت کے ارتکاب پر اس کا محاسبہ کرنا اور ہرجانے کا مطالبہ ایجنڈے کا حصہ ہو گا۔</p>
<p>جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ایران امریکہ سے براہ راست مذاکرات کرے گا تو انہوں نے دو ٹوک جواب دیا: “نہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ 22 جون کو امریکہ نے ایران کے بعض کلیدی جوہری مراکز پر حملے کیے تھے، جن میں فردو، اصفہان اور نطنز کی تنصیبات شامل تھیں۔ ان حملوں کے ذریعے امریکہ نے اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ میں عارضی طور پر شرکت کی، جس کے نتیجے میں ایران کے ایٹمی پروگرام پر جاری مذاکرات معطل ہو گئے۔</p>
<p>جون کے وسط میں اسرائیل نے ایران کی جوہری اور عسکری تنصیبات پر غیر معمولی حملے کیے تھے جو 12 روز تک جاری رہے، جن میں رہائشی علاقے بھی نشانہ بنے۔</p>
<p>ان حملوں کے بعد ایران نے اقوام متحدہ کی جوہری نگرانی کی ایجنسی سے تعاون معطل کر دیا اور کسی بھی نئے مذاکرات سے قبل فوجی کارروائیوں سے تحفظ کی ضمانت کا مطالبہ کر دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275476</guid>
      <pubDate>Tue, 05 Aug 2025 10:56:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/05105454f78af29.png" type="image/png" medium="image" height="547" width="790">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/05105454f78af29.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
