<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 11:49:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 11:49:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف بی آر کا 50 فیصد کاروباری اخراجات ناقابلِ قبول قرار دینے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275457/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پیر کے روز جاری کردہ انکم ٹیکس سرکلر میں واضح کیا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک ہی انوائس پر 2 لاکھ روپے یا اس سے زائد کی فروخت کرتا ہے اور اس کی ادائیگی بینکنگ چینل یا ڈیجیٹل ذرائع سے وصول نہیں کرتا، تو ایسی فروخت سے متعلق کاروباری اخراجات کا 50 فیصد حصہ ناقابلِ قبول  قرار دیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ایکٹ 2025 کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں مخصوص حالات کے تحت اخراجات کی ناقابلِ قبولیت کے لیے نئی شقیں شامل کی گئی ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ایکٹ 2025 کے تحت، سیکشن 21 کی ذیلی شق (q) متعارف کرائی گئی ہے، جس کے مطابق اگر کوئی شخص کسی ایسے فرد سے خریداری کرتا ہے جو این ٹی این ہولڈر نہیں ہے، تو اس خریداری سے متعلقہ اخراجات کا 10 فیصد حصہ قابلِ قبول نہیں ہوگا۔
اس کا مقصد یہ ہے کہ رسمی  شعبہ غیر رسمی  شعبے کے مقابلے میں زیادہ مارکیٹ شیئر حاصل کر سکے۔
تاہم، یہ پابندی زرعی پیداوار پر لاگو نہیں ہوگی، جب تک کہ وہ کسی مڈل مین کے ذریعے فروخت نہ کی گئی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ مخصوص افراد یا طبقے کو شرائط و قیود کے ساتھ اس قانون سے استثنا دے سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ایکٹ 2025 کے تحت، انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 21 میں ایک نئی شق (s) شامل کی گئی ہے، جس کے مطابق اگر کوئی شخص 2 لاکھ روپے یا اس سے زائد کی فروخت ایک ہی انوائس پر کرے اور اس کی ادائیگی بینکنگ چینل یا ڈیجیٹل ذرائع سے وصول نہ ہو، تو اس فروخت سے متعلقہ کاروباری اخراجات کا 50 فیصد ناقابلِ قبول تصور ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;البتہ اس شق میں وضاحت کی گئی ہے کہ اگر خریدار، چاہے وہ این ٹی این ہولڈر ہو یا نہ ہو، انوائس کے مطابق نقد رقم فروخت کنندہ کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرا دیتا ہے، تو یہ ادائیگی ’’بینکنگ چینل‘‘ کے تحت شمار کی جائے گی اور اس پر کسی قسم کی کٹوتی نہیں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ایکٹ 2025 کے ذریعے، آرڈیننس کے سیکشن 22 میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت اگر کسی سرمایہ جاتی اثاثے  کی خریداری کے وقت سیکشن 152 یا 153 کے تحت ودہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی اور جمع نہ کرائی گئی ہو، تو اس اثاثے پر ڈیپریسی ایشن کا خرچہ ناقابلِ قبول ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ، جس رقم پر ٹیکس کی کٹوتی نہیں کی گئی، وہ اثاثے کی لاگت  کا حصہ بھی نہیں بنے گی، اور یوں اس پر ٹیکس ڈیپریسی ایشن کا اطلاق نہیں ہوگا، خواہ وہ خریداری اسی ٹیکس سال میں ہوئی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پیر کے روز جاری کردہ انکم ٹیکس سرکلر میں واضح کیا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک ہی انوائس پر 2 لاکھ روپے یا اس سے زائد کی فروخت کرتا ہے اور اس کی ادائیگی بینکنگ چینل یا ڈیجیٹل ذرائع سے وصول نہیں کرتا، تو ایسی فروخت سے متعلق کاروباری اخراجات کا 50 فیصد حصہ ناقابلِ قبول  قرار دیا جائے گا۔</strong></p>
<p>فنانس ایکٹ 2025 کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں مخصوص حالات کے تحت اخراجات کی ناقابلِ قبولیت کے لیے نئی شقیں شامل کی گئی ہیں:</p>
<p>فنانس ایکٹ 2025 کے تحت، سیکشن 21 کی ذیلی شق (q) متعارف کرائی گئی ہے، جس کے مطابق اگر کوئی شخص کسی ایسے فرد سے خریداری کرتا ہے جو این ٹی این ہولڈر نہیں ہے، تو اس خریداری سے متعلقہ اخراجات کا 10 فیصد حصہ قابلِ قبول نہیں ہوگا۔
اس کا مقصد یہ ہے کہ رسمی  شعبہ غیر رسمی  شعبے کے مقابلے میں زیادہ مارکیٹ شیئر حاصل کر سکے۔
تاہم، یہ پابندی زرعی پیداوار پر لاگو نہیں ہوگی، جب تک کہ وہ کسی مڈل مین کے ذریعے فروخت نہ کی گئی ہو۔</p>
<p>ایف بی آر کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ مخصوص افراد یا طبقے کو شرائط و قیود کے ساتھ اس قانون سے استثنا دے سکے۔</p>
<p>فنانس ایکٹ 2025 کے تحت، انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 21 میں ایک نئی شق (s) شامل کی گئی ہے، جس کے مطابق اگر کوئی شخص 2 لاکھ روپے یا اس سے زائد کی فروخت ایک ہی انوائس پر کرے اور اس کی ادائیگی بینکنگ چینل یا ڈیجیٹل ذرائع سے وصول نہ ہو، تو اس فروخت سے متعلقہ کاروباری اخراجات کا 50 فیصد ناقابلِ قبول تصور ہوگا۔</p>
<p>البتہ اس شق میں وضاحت کی گئی ہے کہ اگر خریدار، چاہے وہ این ٹی این ہولڈر ہو یا نہ ہو، انوائس کے مطابق نقد رقم فروخت کنندہ کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرا دیتا ہے، تو یہ ادائیگی ’’بینکنگ چینل‘‘ کے تحت شمار کی جائے گی اور اس پر کسی قسم کی کٹوتی نہیں کی جائے گی۔</p>
<p>فنانس ایکٹ 2025 کے ذریعے، آرڈیننس کے سیکشن 22 میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت اگر کسی سرمایہ جاتی اثاثے  کی خریداری کے وقت سیکشن 152 یا 153 کے تحت ودہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی اور جمع نہ کرائی گئی ہو، تو اس اثاثے پر ڈیپریسی ایشن کا خرچہ ناقابلِ قبول ہوگا۔</p>
<p>مزید یہ کہ، جس رقم پر ٹیکس کی کٹوتی نہیں کی گئی، وہ اثاثے کی لاگت  کا حصہ بھی نہیں بنے گی، اور یوں اس پر ٹیکس ڈیپریسی ایشن کا اطلاق نہیں ہوگا، خواہ وہ خریداری اسی ٹیکس سال میں ہوئی ہو۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275457</guid>
      <pubDate>Tue, 05 Aug 2025 08:45:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/0508443406b8ccf.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/0508443406b8ccf.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
