<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 20:36:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 20:36:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف بی آر نے نا اہل افراد کی معاشی سرگرمیوں پر پابندیوں کی وضاحت جاری کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275456/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے واضح کیا ہے کہ وہ ان ’’نا اہل افراد‘‘ کی اقتصادی لین دین پر پابندیاں عائد کرنے کی تاریخ کا اعلان کرے گا، جو اپنی آمدن یا سرمایہ کاری کے ذرائع دولت گوشوارے میں ظاہر کرنے میں ناکام رہیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے پیر کے روز انکم ٹیکس سرکلر (1 آف 2025) جاری کرتے ہوئے فنانس ایکٹ 2025 کی وضاحت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکلر کے مطابق، فنانس ایکٹ 2025 کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس میں نیا سیکشن 114C شامل کیا گیا ہے، جو افراد کی مالی حیثیت کی بنیاد پر ’’اہل‘‘ اور ’’نا اہل‘‘ افراد کے تصور کو متعارف کراتا ہے۔ اس کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ کسی شخص کے پاس کسی بھی معاشی لین دین کے لیے درکار نقد رقم یا اس کے مساوی اثاثے، دولت گوشوارے یا سرمایہ کاری/اخراجات کے ذرائع کے طور پر بیان کردہ معلومات میں موجود ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی مخصوص معاشی لین دین کے لیے اہل قرار دیے جانے کے لیے لازمی ہے کہ لین دین سے پچھلے ٹیکس سال کے دولت گوشوارے یا مالی گوشوارے میں یا اسی سال کے دوران جمع کرائے گئے سرمایہ کاری و اخراجات کے ذرائع کے بیان میں اتنے وسائل موجود ہوں، جو اس لین دین کے لیے کافی سمجھے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’’کافی وسائل‘‘ کی تعریف یوں کی گئی ہے کہ نقد اور نقد کے مساوی اثاثے (جیسے مقامی یا غیر ملکی کرنسی میں نقد رقم، سونے کی منڈی میں قیمت، شیئرز و بانڈز کی مالیت، قابل وصول رقم وغیرہ) کا مجموعی حجم کم از کم 130 فیصد ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، اگر کوئی اقتصادی لین دین کسی ایسے سرمایہ اثاثے کے تبادلے کے ذریعے کیا جا رہا ہے جو پہلے سے ظاہر شدہ ہو، تو اس کی متفقہ قیمت کو بھی نقد یا اس کے مساوی اثاثے تصور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انفرادی معاملات میں، ’’اہل فرد‘‘ کی تعریف میں اس کے والدین، شریک حیات، اور زیرِ کفالت بچے بھی شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نئے نظام کے تحت، ’’نا اہل افراد‘‘ کو مندرجہ ذیل لین دین کرنے سے روکا گیا ہے:
ایسی گاڑی کی خریداری جس کی انوائس قیمت 70 لاکھ روپے سے زائد ہو،
ایسی غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت جس کی منڈی میں قیمت 10 کروڑ روپے سے زیادہ ہو،
ایسے سیکیورٹیز، میوچل فنڈ یونٹس یا دیگر مالیاتی سرمایہ کاری میں حصہ لینا، جن کی خریداری لاگت 5 کروڑ روپے سے تجاوز کرے، بشرطیکہ 5 کروڑ تک کی سرمایہ کاری نئے سرمائے پر مشتمل ہو، نہ کہ پہلے سے موجود سرمایہ یا اس کے منافع کی دوبارہ سرمایہ کاری،
کسی بھی بینک اکاؤنٹ سے ایک سال میں 10 کروڑ روپے سے زائد کی نقد رقم نکالنا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے وضاحت کی کہ سرمایہ کاری و اخراجات کے ذرائع کے بیان میں ظاہر کردہ ’’کافی وسائل‘‘ کو انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 111 کے تحت آمدن یا آمدن کے ذرائع تصور نہیں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قانون بیرون ملک مقیم افراد یا پبلک لمیٹڈ کمپنیوں پر لاگو نہیں ہوگا، سوائے اس کے کہ وہ بڑی مقدار میں نقد رقم بینک سے نکالیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں ایف بی آر نے کہا کہ اس سیکشن کے تحت پابندیاں اُس تاریخ سے لاگو ہوں گی جو وفاقی حکومت سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کے ذریعے اعلان کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے واضح کیا ہے کہ وہ ان ’’نا اہل افراد‘‘ کی اقتصادی لین دین پر پابندیاں عائد کرنے کی تاریخ کا اعلان کرے گا، جو اپنی آمدن یا سرمایہ کاری کے ذرائع دولت گوشوارے میں ظاہر کرنے میں ناکام رہیں گے۔</strong></p>
<p>ایف بی آر نے پیر کے روز انکم ٹیکس سرکلر (1 آف 2025) جاری کرتے ہوئے فنانس ایکٹ 2025 کی وضاحت کی ہے۔</p>
<p>سرکلر کے مطابق، فنانس ایکٹ 2025 کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس میں نیا سیکشن 114C شامل کیا گیا ہے، جو افراد کی مالی حیثیت کی بنیاد پر ’’اہل‘‘ اور ’’نا اہل‘‘ افراد کے تصور کو متعارف کراتا ہے۔ اس کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ کسی شخص کے پاس کسی بھی معاشی لین دین کے لیے درکار نقد رقم یا اس کے مساوی اثاثے، دولت گوشوارے یا سرمایہ کاری/اخراجات کے ذرائع کے طور پر بیان کردہ معلومات میں موجود ہیں یا نہیں۔</p>
<p>کسی مخصوص معاشی لین دین کے لیے اہل قرار دیے جانے کے لیے لازمی ہے کہ لین دین سے پچھلے ٹیکس سال کے دولت گوشوارے یا مالی گوشوارے میں یا اسی سال کے دوران جمع کرائے گئے سرمایہ کاری و اخراجات کے ذرائع کے بیان میں اتنے وسائل موجود ہوں، جو اس لین دین کے لیے کافی سمجھے جائیں۔</p>
<p>’’کافی وسائل‘‘ کی تعریف یوں کی گئی ہے کہ نقد اور نقد کے مساوی اثاثے (جیسے مقامی یا غیر ملکی کرنسی میں نقد رقم، سونے کی منڈی میں قیمت، شیئرز و بانڈز کی مالیت، قابل وصول رقم وغیرہ) کا مجموعی حجم کم از کم 130 فیصد ہونا چاہیے۔</p>
<p>مزید برآں، اگر کوئی اقتصادی لین دین کسی ایسے سرمایہ اثاثے کے تبادلے کے ذریعے کیا جا رہا ہے جو پہلے سے ظاہر شدہ ہو، تو اس کی متفقہ قیمت کو بھی نقد یا اس کے مساوی اثاثے تصور کیا جائے گا۔</p>
<p>انفرادی معاملات میں، ’’اہل فرد‘‘ کی تعریف میں اس کے والدین، شریک حیات، اور زیرِ کفالت بچے بھی شامل ہوں گے۔</p>
<p>اس نئے نظام کے تحت، ’’نا اہل افراد‘‘ کو مندرجہ ذیل لین دین کرنے سے روکا گیا ہے:
ایسی گاڑی کی خریداری جس کی انوائس قیمت 70 لاکھ روپے سے زائد ہو،
ایسی غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت جس کی منڈی میں قیمت 10 کروڑ روپے سے زیادہ ہو،
ایسے سیکیورٹیز، میوچل فنڈ یونٹس یا دیگر مالیاتی سرمایہ کاری میں حصہ لینا، جن کی خریداری لاگت 5 کروڑ روپے سے تجاوز کرے، بشرطیکہ 5 کروڑ تک کی سرمایہ کاری نئے سرمائے پر مشتمل ہو، نہ کہ پہلے سے موجود سرمایہ یا اس کے منافع کی دوبارہ سرمایہ کاری،
کسی بھی بینک اکاؤنٹ سے ایک سال میں 10 کروڑ روپے سے زائد کی نقد رقم نکالنا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>ایف بی آر نے وضاحت کی کہ سرمایہ کاری و اخراجات کے ذرائع کے بیان میں ظاہر کردہ ’’کافی وسائل‘‘ کو انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 111 کے تحت آمدن یا آمدن کے ذرائع تصور نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p>یہ قانون بیرون ملک مقیم افراد یا پبلک لمیٹڈ کمپنیوں پر لاگو نہیں ہوگا، سوائے اس کے کہ وہ بڑی مقدار میں نقد رقم بینک سے نکالیں۔</p>
<p>آخر میں ایف بی آر نے کہا کہ اس سیکشن کے تحت پابندیاں اُس تاریخ سے لاگو ہوں گی جو وفاقی حکومت سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کے ذریعے اعلان کرے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275456</guid>
      <pubDate>Tue, 05 Aug 2025 08:37:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/05083454479034d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/05083454479034d.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
