<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>3 پالیسی فیصلے کٹہرے میں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275451/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ ہفتے کی تین خبریں ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے شدید تشویش کا باعث ہونی چاہییں: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کا اوپن مارکیٹ سے 8 ارب ڈالر خریدنے کا فیصلہ تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا جا سکے، کمرشل بینکوں سے حاصل کردہ 1.275 کھرب روپے کے قرضے کو توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے کی ادائیگی کے لیے استعمال کرنے میں تاخیراور چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ کی جانب سے 29 جولائی 2025 کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اوپن مارکیٹ میں مداخلت کرتے ہوئے 7.2 ارب ڈالر کی خریداری کی، جس میں سے 88 کروڑ 50 لاکھ ڈالر زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیے گئے، جبکہ باقی رقم قرضوں کی ادائیگی یا اصل زر کی ریٹائرمنٹ کے لیے بروئے کار لائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روپے کی بیرونی قدر کا تعین تین بڑے معاشی اہداف کے دائرہ کار میں کیا جاتا ہے۔ پہلا ہدف یہ ہے کہ انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ ریٹ کے درمیان فرق مسلسل پانچ دن تک ±1.25 روپے سے زیادہ نہ ہو — یہ شرط بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے اس وقت عائد کی گئی جب اکتوبر 2022 سے جون 2023 تک رائج پالیسی کے باعث شرح مبادلہ کو مصنوعی طور پر قابو میں رکھنے کی کوشش کی گئی۔ اس پالیسی کے نتیجے میں متعدد ایکسچینج ریٹس وجود میں آئے، اور رسمی ذرائع سے ترسیلات زر کی مد میں ملک کو 4 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ نتیجتاً، زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر 3 ارب ڈالر سے بھی نیچے چلے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا نکتہ یہ ہے کہ روپے کی قدر میں ہر کمی، بجٹ پر دباؤ میں اضافے کا باعث بنتی ہے، کیونکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گراوٹ سے شرح سود کی ادائیگیوں کا حجم بڑھ جاتا ہے، جو مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں مجموعی جاری اخراجات کا 50 فیصد اور کل اخراجات کا 46 فیصد بنتا ہے۔ اس کا براہِ راست اثر بجٹ خسارے اور مہنگائی میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ جاری کیلنڈر سال میں امریکی ڈالر عالمی سطح پر اپنی قدر برقرار رکھنے میں ناکام رہا، جس کی بنیادی وجوہات جاری جغرافیائی کشیدگیاں اور متعدد ممالک (بشمول پاکستان) پر عائد کیے جانے والے جوابی ٹیرف ہیں، پاکستان پر یہ شرح 19 فیصد کی پریشان کن حد تک جا پہنچی، جو ایک طے شدہ معاہدے کے بعد لاگو کی گئی۔ اس کے باوجود، حیران کن طور پر پاکستانی روپیہ دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں اپنی قدر برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روپے کی استقامت قائم رکھنے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے درآمدی پابندیاں برقرار رکھیں اور اوپن مارکیٹ سے ڈالر خرید کر زرمبادلہ کے ذخائر کو تقویت دی۔ تاہم ان اقدامات کے باوجود، 18 جولائی 2025 تک مجموعی ذخائر 14.456 ارب ڈالر تھے، جبکہ دوست ممالک کی جانب سے ایک سالہ مدت کے لیے دیے گئے رول اوور قرضے 16 ارب ڈالر کی سطح پر تھے، یعنی ذخائر سے 1.5 ارب ڈالر زیادہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2024-25 کے دوران اسٹیٹ بینک نے اوپن مارکیٹ میں مداخلت کا آغاز کرتے ہوئے تقریباً 8 ارب ڈالر کی خریداری کی۔ ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق، اس اقدام سے قانونی ذرائع میں ڈالر کی رسد میں کمی آئی، کیونکہ بلیک مارکیٹ میں بہتر نرخ دستیاب تھے جس نے سرمایہ کاروں کو غیر رسمی ذرائع کی طرف مائل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ اُس وقت حل ہوا جب ملک بوستان کی قیادت میں ایک وفد نے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل سے ملاقات کی، جس کے بعد افغان اور ایرانی راستوں سے کام کرنے والے کرنسی اسمگلروں کے خلاف ہدفی کریک ڈاؤن کا آغاز کیا گیا۔ اس پیش رفت کی تصدیق بلومبرگ کی رپورٹ نے بھی کی، جس میں بتایا گیا کہ اگرچہ اسٹیٹ بینک مستقبل میں بھی ڈالرز کے ذخائر میں اضافہ جاری رکھے گا، لیکن یہ عمل نسبتاً سست روی سے ہوگا تاکہ روپے پر غیر ضروری دباؤ سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ایک اہم سوال اپنی جگہ موجود ہے: اسٹیٹ بینک نے ابتدا ہی سے محتاط اور تدریجی حکمتِ عملی کیوں نہ اپنائی؟ معاملات کو اس حد تک جانے کیوں دیا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ کو مداخلت کرنا پڑی؟ بہرحال، گزشتہ ہفتے کے دوران روپیہ استحکام کی جانب واپس آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا نکتہ یہ ہے کہ اگرچہ اسٹیٹ بینک کی مداخلت کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی، مگر یہ بہتری اتنی کافی نہیں کہ انتظامی بنیادوں پر عائد درآمدی پابندیوں میں نرمی کی جا سکے یا چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت قائم چینی آزاد بجلی گھروں (آئی پی پیز) کی واجب الادا رقم تقریباً 500 ارب روپے (جو انٹر بینک نرخ کے مطابق 1.72 ارب ڈالر کے برابر ہیں) کی ادائیگی ممکن ہوسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حکمتِ عملی کی وضاحت کچھ یوں کی گئی ہے: توانائی کے شعبے کا مجموعی گردشی قرضہ جو 2.381 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے، اُسے تقریباً نصف کرنے کے لیے 18 کمرشل بینکوں سے 1.275 کھرب روپے کا قرض حاصل کیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت ممکن ہوا جب آئی ایم ایف نے، جو پہلی بڑی رکاوٹ تھی، اس کی منظوری دی، کیونکہ یہ تجویز جب پہلی بار مذاکرات کار محمد علی کی جانب سے پیش کی گئی تھی، اُس وقت شرحِ سود اس سے دُگنی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکوں کے ساتھ طویل گفت و شنید کے بعد حاصل کیے گئے اس قرضے کی واپسی چھ سال کے عرصے میں ”ڈیٹ سروس سرچارج“ (ڈی ایس ایس) کے ذریعے کی جانی ہے، جو 3.23 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی کے بلوں میں پہلے ہی شامل کیا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے جاری پروگرام کے پہلے جائزہ دستاویزات (جو مئی 2025 میں اپ لوڈ کی گئیں) میں اس اقدام کو ایک ”ساختی معیار“ (اسٹرکچرل بینچ مارک) کے طور پر شامل کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ&lt;br /&gt;
“ڈی ایس ایس (ڈیٹ سروس سرچارج) نیپرا کی جانب سے متعین کردہ ریونیو ریکوائرمنٹ کا 10 فیصد ہوگا، اور ہر سال سالانہ ری بیسنگ کے وقت، موجودہ طریقہ کار کے تحت ایڈجسٹ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ڈی ایس ایس سے حاصل ہونے والی آمدنی سالانہ ادائیگی کی ضروریات سے کم ہو، تو اس میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ فرق پورا کیا جا سکے، اور آئندہ سال کے ممکنہ خسارے کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے اس کی شرح متعین کی جائے گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیدھے الفاظ میں کہا جائے تو ڈی ایس ایس پر کوئی حد مقرر نہیں، لہٰذا عوام صرف اسی امید پر زندہ رہ سکتے ہیں کہ حکومت کی تخمینہ جات درست ثابت ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گردشی قرضے کی بقیہ رقم شرحِ سود میں کمی سے حاصل ہونے والے مالی فوائد اور بجلی خریداری کے معاہدوں (پی پی ایز) پر نظرِ ثانی کے ذریعے پوری کی جانی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے داخلی سطح پر پانچ آزاد بجلی گھروں (آئی پی پیز) کے معاہدے ختم کرا کے فی یونٹ 0.77 روپے کا ریلیف حاصل کیا، آٹھ بگاس پاور پلانٹس کے نرخوں پر نظرِثانی کے ذریعے 0.14 روپے فی یونٹ کا فائدہ لیا، اور چودہ بجلی گھروں کو ”ٹیک اینڈ پے“ ماڈل پر منتقل کر کے 0.43 روپے فی یونٹ کی بچت ممکن بنائی۔ تاہم، چینی آزاد بجلی گھروں نے معاہدوں پر دوبارہ گفت و شنید سے صاف انکار کر دیا، جس کے باعث یہ حکمتِ عملی جزوی طور پر معطل ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوال بجا طور پر اٹھایا جا سکتا ہے کہ آخر یہ پیچیدگیاں قرض کے حصول سے قبل کیوں نہیں سلجھائی گئیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر چینی کی قیمت ایک بار پھر آسمان کو چھو رہی ہے اور موجودہ حکومت بھی بروقت اور موثر فیصلے نہ کرنے کے باعث اپنے پیش روؤں کی صف میں کھڑی نظر آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مسئلے کی بنیادی وجہ کچھ یوں بیان کی جا سکتی ہے: (الف) شوگر ایڈوائزری بورڈ (ایس اے بی)، جس کی صدارت وفاقی وزیر برائے فوڈ سیکورٹی و ریسرچ (فی الحال رانا تنویر) کرتے ہیں، اور جس میں پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) کے انتہائی بااثر سیاسی نمائندے بھی شامل ہوتے ہیں، کو چینی کے ذخائر سے متعلق مسلسل غلط اور گمراہ کن معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارہا یہ خبریں سامنے آتی رہی ہیں کہ ایس اے بی نے اضافی ذخائر کی بنیاد پر برآمدات کی اجازت دی (یہ شرط رکھتے ہوئے کہ اگر مقامی سطح پر قیمت بڑھی تو اجازت واپس لے لی جائے گی)، اور بین الاقوامی قیمت مقامی قیمت سے کم ہونے کی صورت میں برآمدی سبسڈی بھی منظور کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رانا تنویر نے حال ہی میں اس مسئلے کا حل صنعت کی ریگولیشن ختم کرنے اور نئے شوگر لائسنسز پر عائد دیرینہ پابندی اٹھانے میں تجویز کیا ہے۔ تاہم، یہ اقدامات اس بحران کا مستقل حل نہیں بن سکتے، دو بنیادی وجوہات کی بنا پر: اول، چینی کی صنعت کھلے مقابلے کی بنیاد پر کام نہیں کر رہی، اور مارکیٹ کی آزادی اسی وقت ممکن ہے جب خریدار اور فروخت کنندگان کی تعداد اتنی زیادہ ہو کہ کوئی ایک فریق قیمت پر اثرانداز نہ ہو سکے؛&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوم، نئے شوگر مل لائسنسز کی اجازت ایسے علاقوں میں فیکٹریاں قائم کرنے کی راہ ہموار کرے گی جہاں اس سے کسانوں کے مفادات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں یہ کہنا ناگزیر ہے کہ اسٹیٹ بینک، پاور ڈویژن اور وزارتِ فوڈ سیکیورٹی کو کسی بھی پالیسی کو نافذ کرنے سے قبل زمینی حقائق کا مکمل جائزہ لینا چاہیے۔ کسی بھی فیصلے سے پہلے اُس کے فوائد و نقصانات کا ادراک اور ممکنہ منفی اثرات کی روک تھام کے لیے موثر حکمت عملی لازماً تیار کی جانی چاہیے، ورنہ پالیسی ناکامی کا شکار ہو کر عوام اور معیشت دونوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گزشتہ ہفتے کی تین خبریں ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے شدید تشویش کا باعث ہونی چاہییں: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کا اوپن مارکیٹ سے 8 ارب ڈالر خریدنے کا فیصلہ تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا جا سکے، کمرشل بینکوں سے حاصل کردہ 1.275 کھرب روپے کے قرضے کو توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے کی ادائیگی کے لیے استعمال کرنے میں تاخیراور چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں۔</strong></p>
<p>بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ کی جانب سے 29 جولائی 2025 کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اوپن مارکیٹ میں مداخلت کرتے ہوئے 7.2 ارب ڈالر کی خریداری کی، جس میں سے 88 کروڑ 50 لاکھ ڈالر زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیے گئے، جبکہ باقی رقم قرضوں کی ادائیگی یا اصل زر کی ریٹائرمنٹ کے لیے بروئے کار لائی گئی۔</p>
<p>روپے کی بیرونی قدر کا تعین تین بڑے معاشی اہداف کے دائرہ کار میں کیا جاتا ہے۔ پہلا ہدف یہ ہے کہ انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ ریٹ کے درمیان فرق مسلسل پانچ دن تک ±1.25 روپے سے زیادہ نہ ہو — یہ شرط بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے اس وقت عائد کی گئی جب اکتوبر 2022 سے جون 2023 تک رائج پالیسی کے باعث شرح مبادلہ کو مصنوعی طور پر قابو میں رکھنے کی کوشش کی گئی۔ اس پالیسی کے نتیجے میں متعدد ایکسچینج ریٹس وجود میں آئے، اور رسمی ذرائع سے ترسیلات زر کی مد میں ملک کو 4 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ نتیجتاً، زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر 3 ارب ڈالر سے بھی نیچے چلے گئے۔</p>
<p>دوسرا نکتہ یہ ہے کہ روپے کی قدر میں ہر کمی، بجٹ پر دباؤ میں اضافے کا باعث بنتی ہے، کیونکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گراوٹ سے شرح سود کی ادائیگیوں کا حجم بڑھ جاتا ہے، جو مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں مجموعی جاری اخراجات کا 50 فیصد اور کل اخراجات کا 46 فیصد بنتا ہے۔ اس کا براہِ راست اثر بجٹ خسارے اور مہنگائی میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔</p>
<p>یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ جاری کیلنڈر سال میں امریکی ڈالر عالمی سطح پر اپنی قدر برقرار رکھنے میں ناکام رہا، جس کی بنیادی وجوہات جاری جغرافیائی کشیدگیاں اور متعدد ممالک (بشمول پاکستان) پر عائد کیے جانے والے جوابی ٹیرف ہیں، پاکستان پر یہ شرح 19 فیصد کی پریشان کن حد تک جا پہنچی، جو ایک طے شدہ معاہدے کے بعد لاگو کی گئی۔ اس کے باوجود، حیران کن طور پر پاکستانی روپیہ دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں اپنی قدر برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔</p>
<p>روپے کی استقامت قائم رکھنے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے درآمدی پابندیاں برقرار رکھیں اور اوپن مارکیٹ سے ڈالر خرید کر زرمبادلہ کے ذخائر کو تقویت دی۔ تاہم ان اقدامات کے باوجود، 18 جولائی 2025 تک مجموعی ذخائر 14.456 ارب ڈالر تھے، جبکہ دوست ممالک کی جانب سے ایک سالہ مدت کے لیے دیے گئے رول اوور قرضے 16 ارب ڈالر کی سطح پر تھے، یعنی ذخائر سے 1.5 ارب ڈالر زیادہ۔</p>
<p>مالی سال 2024-25 کے دوران اسٹیٹ بینک نے اوپن مارکیٹ میں مداخلت کا آغاز کرتے ہوئے تقریباً 8 ارب ڈالر کی خریداری کی۔ ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق، اس اقدام سے قانونی ذرائع میں ڈالر کی رسد میں کمی آئی، کیونکہ بلیک مارکیٹ میں بہتر نرخ دستیاب تھے جس نے سرمایہ کاروں کو غیر رسمی ذرائع کی طرف مائل کیا۔</p>
<p>یہ معاملہ اُس وقت حل ہوا جب ملک بوستان کی قیادت میں ایک وفد نے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل سے ملاقات کی، جس کے بعد افغان اور ایرانی راستوں سے کام کرنے والے کرنسی اسمگلروں کے خلاف ہدفی کریک ڈاؤن کا آغاز کیا گیا۔ اس پیش رفت کی تصدیق بلومبرگ کی رپورٹ نے بھی کی، جس میں بتایا گیا کہ اگرچہ اسٹیٹ بینک مستقبل میں بھی ڈالرز کے ذخائر میں اضافہ جاری رکھے گا، لیکن یہ عمل نسبتاً سست روی سے ہوگا تاکہ روپے پر غیر ضروری دباؤ سے بچا جا سکے۔</p>
<p>تاہم، ایک اہم سوال اپنی جگہ موجود ہے: اسٹیٹ بینک نے ابتدا ہی سے محتاط اور تدریجی حکمتِ عملی کیوں نہ اپنائی؟ معاملات کو اس حد تک جانے کیوں دیا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ کو مداخلت کرنا پڑی؟ بہرحال، گزشتہ ہفتے کے دوران روپیہ استحکام کی جانب واپس آ گیا۔</p>
<p>تیسرا نکتہ یہ ہے کہ اگرچہ اسٹیٹ بینک کی مداخلت کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی، مگر یہ بہتری اتنی کافی نہیں کہ انتظامی بنیادوں پر عائد درآمدی پابندیوں میں نرمی کی جا سکے یا چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت قائم چینی آزاد بجلی گھروں (آئی پی پیز) کی واجب الادا رقم تقریباً 500 ارب روپے (جو انٹر بینک نرخ کے مطابق 1.72 ارب ڈالر کے برابر ہیں) کی ادائیگی ممکن ہوسکے۔</p>
<p>اس حکمتِ عملی کی وضاحت کچھ یوں کی گئی ہے: توانائی کے شعبے کا مجموعی گردشی قرضہ جو 2.381 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے، اُسے تقریباً نصف کرنے کے لیے 18 کمرشل بینکوں سے 1.275 کھرب روپے کا قرض حاصل کیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت ممکن ہوا جب آئی ایم ایف نے، جو پہلی بڑی رکاوٹ تھی، اس کی منظوری دی، کیونکہ یہ تجویز جب پہلی بار مذاکرات کار محمد علی کی جانب سے پیش کی گئی تھی، اُس وقت شرحِ سود اس سے دُگنی تھی۔</p>
<p>بینکوں کے ساتھ طویل گفت و شنید کے بعد حاصل کیے گئے اس قرضے کی واپسی چھ سال کے عرصے میں ”ڈیٹ سروس سرچارج“ (ڈی ایس ایس) کے ذریعے کی جانی ہے، جو 3.23 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی کے بلوں میں پہلے ہی شامل کیا جا چکا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے جاری پروگرام کے پہلے جائزہ دستاویزات (جو مئی 2025 میں اپ لوڈ کی گئیں) میں اس اقدام کو ایک ”ساختی معیار“ (اسٹرکچرل بینچ مارک) کے طور پر شامل کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ<br />
“ڈی ایس ایس (ڈیٹ سروس سرچارج) نیپرا کی جانب سے متعین کردہ ریونیو ریکوائرمنٹ کا 10 فیصد ہوگا، اور ہر سال سالانہ ری بیسنگ کے وقت، موجودہ طریقہ کار کے تحت ایڈجسٹ کیا جائے گا۔</p>
<p>اگر ڈی ایس ایس سے حاصل ہونے والی آمدنی سالانہ ادائیگی کی ضروریات سے کم ہو، تو اس میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ فرق پورا کیا جا سکے، اور آئندہ سال کے ممکنہ خسارے کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے اس کی شرح متعین کی جائے گی۔“</p>
<p>سیدھے الفاظ میں کہا جائے تو ڈی ایس ایس پر کوئی حد مقرر نہیں، لہٰذا عوام صرف اسی امید پر زندہ رہ سکتے ہیں کہ حکومت کی تخمینہ جات درست ثابت ہوں۔</p>
<p>گردشی قرضے کی بقیہ رقم شرحِ سود میں کمی سے حاصل ہونے والے مالی فوائد اور بجلی خریداری کے معاہدوں (پی پی ایز) پر نظرِ ثانی کے ذریعے پوری کی جانی تھی۔</p>
<p>حکومت نے داخلی سطح پر پانچ آزاد بجلی گھروں (آئی پی پیز) کے معاہدے ختم کرا کے فی یونٹ 0.77 روپے کا ریلیف حاصل کیا، آٹھ بگاس پاور پلانٹس کے نرخوں پر نظرِثانی کے ذریعے 0.14 روپے فی یونٹ کا فائدہ لیا، اور چودہ بجلی گھروں کو ”ٹیک اینڈ پے“ ماڈل پر منتقل کر کے 0.43 روپے فی یونٹ کی بچت ممکن بنائی۔ تاہم، چینی آزاد بجلی گھروں نے معاہدوں پر دوبارہ گفت و شنید سے صاف انکار کر دیا، جس کے باعث یہ حکمتِ عملی جزوی طور پر معطل ہو چکی ہے۔</p>
<p>یہ سوال بجا طور پر اٹھایا جا سکتا ہے کہ آخر یہ پیچیدگیاں قرض کے حصول سے قبل کیوں نہیں سلجھائی گئیں؟</p>
<p>ادھر چینی کی قیمت ایک بار پھر آسمان کو چھو رہی ہے اور موجودہ حکومت بھی بروقت اور موثر فیصلے نہ کرنے کے باعث اپنے پیش روؤں کی صف میں کھڑی نظر آتی ہے۔</p>
<p>اس مسئلے کی بنیادی وجہ کچھ یوں بیان کی جا سکتی ہے: (الف) شوگر ایڈوائزری بورڈ (ایس اے بی)، جس کی صدارت وفاقی وزیر برائے فوڈ سیکورٹی و ریسرچ (فی الحال رانا تنویر) کرتے ہیں، اور جس میں پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) کے انتہائی بااثر سیاسی نمائندے بھی شامل ہوتے ہیں، کو چینی کے ذخائر سے متعلق مسلسل غلط اور گمراہ کن معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔</p>
<p>بارہا یہ خبریں سامنے آتی رہی ہیں کہ ایس اے بی نے اضافی ذخائر کی بنیاد پر برآمدات کی اجازت دی (یہ شرط رکھتے ہوئے کہ اگر مقامی سطح پر قیمت بڑھی تو اجازت واپس لے لی جائے گی)، اور بین الاقوامی قیمت مقامی قیمت سے کم ہونے کی صورت میں برآمدی سبسڈی بھی منظور کی۔</p>
<p>رانا تنویر نے حال ہی میں اس مسئلے کا حل صنعت کی ریگولیشن ختم کرنے اور نئے شوگر لائسنسز پر عائد دیرینہ پابندی اٹھانے میں تجویز کیا ہے۔ تاہم، یہ اقدامات اس بحران کا مستقل حل نہیں بن سکتے، دو بنیادی وجوہات کی بنا پر: اول، چینی کی صنعت کھلے مقابلے کی بنیاد پر کام نہیں کر رہی، اور مارکیٹ کی آزادی اسی وقت ممکن ہے جب خریدار اور فروخت کنندگان کی تعداد اتنی زیادہ ہو کہ کوئی ایک فریق قیمت پر اثرانداز نہ ہو سکے؛</p>
<p>دوم، نئے شوگر مل لائسنسز کی اجازت ایسے علاقوں میں فیکٹریاں قائم کرنے کی راہ ہموار کرے گی جہاں اس سے کسانوں کے مفادات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔</p>
<p>آخر میں یہ کہنا ناگزیر ہے کہ اسٹیٹ بینک، پاور ڈویژن اور وزارتِ فوڈ سیکیورٹی کو کسی بھی پالیسی کو نافذ کرنے سے قبل زمینی حقائق کا مکمل جائزہ لینا چاہیے۔ کسی بھی فیصلے سے پہلے اُس کے فوائد و نقصانات کا ادراک اور ممکنہ منفی اثرات کی روک تھام کے لیے موثر حکمت عملی لازماً تیار کی جانی چاہیے، ورنہ پالیسی ناکامی کا شکار ہو کر عوام اور معیشت دونوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275451</guid>
      <pubDate>Mon, 04 Aug 2025 16:56:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/041559275f72d8c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/041559275f72d8c.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
