<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 00:18:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 00:18:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>این ڈی ایم اے نے 10 اگست تک متوقع شدید بارشوں کے پیش نظر سیلاب کا الرٹ جاری کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275450/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے 5 سے 10 اگست کے دوران بالائی اور وسطی پاکستان میں شدید بارشوں کی پیش گوئی کے پیش نظر سیلاب کے خدشے سے خبردار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شدید بارشوں کے نتیجے میں تمام بڑے دریاؤں، خصوصاً دریائے چناب اور دریائے جہلم میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ دریائے چناب کے مرالہ، خانکی اور قادر آباد کے مقامات پر درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے، جبکہ دریائے جہلم اور اس کے منگلا سے بالائی علاقوں میں بہنے والے معاون دریاؤں میں بھی بلند سطح تک پانی پہنچنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی طرح دریائے سوات اور پنجکوڑا اور ان سے منسلک برساتی نالوں میں بھی بارشوں کے باعث درمیانے درجے کے بہاؤ کی پیش گوئی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت تربیلا، کالا باغ، چشمہ، تونسہ اور گڈو بیراج نچلے درجے کے سیلاب پر ہیں، تاہم آئندہ دنوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے سے ان بیراجوں پر بھی درمیانے درجے کے سیلاب کی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔ گلگت بلتستان میں دریائے ہنزہ اور دریائے شِیگر میں بھی پانی کی سطح بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ ان کے ذیلی ندی نالوں بشمول ہسپر، خنجراب، شمشل، برالدو، ہوشے اور سالتورو میں بھی مقامی نوعیت کے اچانک سیلاب (فلیش فلڈز) کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان کے اضلاع موسیٰ خیل، شیرانی، ژوب اور سبی میں بھی ندی نالوں میں بارشوں کے باعث پانی کا بہاؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق تربیلا ڈیم اپنی 90 فیصد جبکہ منگلا ڈیم 60 فیصد ذخیرہ گنجائش پر ہے، اور آنے والے دنوں میں ان کی سطح میں مزید اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ڈی ایم اے نے دریاؤں، ندیوں اور نالوں کے قریب رہنے والے مکینوں کو رات کے وقت اور شدید بارش کے دوران پانی کی سطح میں اچانک اضافے کے خطرے سے خبردار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سرکاری سیلابی الرٹس کے لیے ٹی وی، ریڈیو، موبائل الرٹس اور پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ سے باخبر رہیں۔ متاثرہ علاقوں کے افراد کو محفوظ راستوں کی پہلے سے شناخت، ہنگامی سامان، خشک خوراک، صاف پانی اور ضروری ادویات تیار رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ مویشیوں، گاڑیوں اور قیمتی اشیاء کو محفوظ اور بلند مقامات پر منتقل کر دینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ڈی ایم اے کے مطابق شہری علاقوں، خصوصاً شمال مشرقی اور وسطی پنجاب میں نکاسی آب کے آلات کا انتظام یقینی بنایا جائے تاکہ شدید بارش کے بعد پانی کھڑا نہ ہو۔ عوام کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نچلے پلوں، کاز ویز اور زیر آب سڑکوں کو عبور کرنے سے گریز کریں، کیونکہ صرف 6 انچ تیز بہتا پانی کسی بالغ انسان کو گرا سکتا ہے جبکہ 12 انچ پانی گاڑی کو بہا لے جانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ڈی ایم اے نے کہا کہ وہ نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے ذریعے صورتحال کی چوبیس گھنٹے نگرانی کر رہا ہے اور صوبائی و ضلعی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ بروقت اور مربوط ردعمل یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے 5 سے 10 اگست کے دوران بالائی اور وسطی پاکستان میں شدید بارشوں کی پیش گوئی کے پیش نظر سیلاب کے خدشے سے خبردار کیا ہے۔</strong></p>
<p>شدید بارشوں کے نتیجے میں تمام بڑے دریاؤں، خصوصاً دریائے چناب اور دریائے جہلم میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ دریائے چناب کے مرالہ، خانکی اور قادر آباد کے مقامات پر درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے، جبکہ دریائے جہلم اور اس کے منگلا سے بالائی علاقوں میں بہنے والے معاون دریاؤں میں بھی بلند سطح تک پانی پہنچنے کا امکان ہے۔</p>
<p>نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی طرح دریائے سوات اور پنجکوڑا اور ان سے منسلک برساتی نالوں میں بھی بارشوں کے باعث درمیانے درجے کے بہاؤ کی پیش گوئی کی گئی ہے۔</p>
<p>اس وقت تربیلا، کالا باغ، چشمہ، تونسہ اور گڈو بیراج نچلے درجے کے سیلاب پر ہیں، تاہم آئندہ دنوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے سے ان بیراجوں پر بھی درمیانے درجے کے سیلاب کی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔ گلگت بلتستان میں دریائے ہنزہ اور دریائے شِیگر میں بھی پانی کی سطح بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ ان کے ذیلی ندی نالوں بشمول ہسپر، خنجراب، شمشل، برالدو، ہوشے اور سالتورو میں بھی مقامی نوعیت کے اچانک سیلاب (فلیش فلڈز) کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔</p>
<p>بلوچستان کے اضلاع موسیٰ خیل، شیرانی، ژوب اور سبی میں بھی ندی نالوں میں بارشوں کے باعث پانی کا بہاؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق تربیلا ڈیم اپنی 90 فیصد جبکہ منگلا ڈیم 60 فیصد ذخیرہ گنجائش پر ہے، اور آنے والے دنوں میں ان کی سطح میں مزید اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p>این ڈی ایم اے نے دریاؤں، ندیوں اور نالوں کے قریب رہنے والے مکینوں کو رات کے وقت اور شدید بارش کے دوران پانی کی سطح میں اچانک اضافے کے خطرے سے خبردار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سرکاری سیلابی الرٹس کے لیے ٹی وی، ریڈیو، موبائل الرٹس اور پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ سے باخبر رہیں۔ متاثرہ علاقوں کے افراد کو محفوظ راستوں کی پہلے سے شناخت، ہنگامی سامان، خشک خوراک، صاف پانی اور ضروری ادویات تیار رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ مویشیوں، گاڑیوں اور قیمتی اشیاء کو محفوظ اور بلند مقامات پر منتقل کر دینا چاہیے۔</p>
<p>این ڈی ایم اے کے مطابق شہری علاقوں، خصوصاً شمال مشرقی اور وسطی پنجاب میں نکاسی آب کے آلات کا انتظام یقینی بنایا جائے تاکہ شدید بارش کے بعد پانی کھڑا نہ ہو۔ عوام کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نچلے پلوں، کاز ویز اور زیر آب سڑکوں کو عبور کرنے سے گریز کریں، کیونکہ صرف 6 انچ تیز بہتا پانی کسی بالغ انسان کو گرا سکتا ہے جبکہ 12 انچ پانی گاڑی کو بہا لے جانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔</p>
<p>این ڈی ایم اے نے کہا کہ وہ نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے ذریعے صورتحال کی چوبیس گھنٹے نگرانی کر رہا ہے اور صوبائی و ضلعی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ بروقت اور مربوط ردعمل یقینی بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275450</guid>
      <pubDate>Mon, 04 Aug 2025 15:56:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/041554567f8775f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/041554567f8775f.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
