<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور سعودی عرب کی مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی وزرا کے اشتعال انگیز عمل کی شدید مذمت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275441/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان، سعودی عرب اور اردن کی حکومتوں نے مسجد اقصیٰ کے خلاف اسرائیلی حکومتی اہلکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ یہ مذمت اس وقت سامنے آئی جب اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر، اتمار بن گویر، اتوار کے روز یروشلم میں واقع متنازعہ مقام مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے وہاں عبادت کی، حالانکہ یہ عمل مشرقِ وسطیٰ کے سب سے حساس مقامات میں سے ایک سے متعلق رائج ضابطوں کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹس کو کے تحت قائم دہائیوں پر محیط ایک نازک بندوبست کے مطابق، مسجد اقصیٰ کے احاطے کا انتظام اردن کے ایک مذہبی فاؤنڈیشن ”وقف“ کے پاس ہے، اور اگرچہ یہودی وہاں جا سکتے ہیں، لیکن انہیں عبادت کی اجازت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیمپل ماؤنٹ ایڈمنسٹریشن نامی ایک چھوٹی یہودی تنظیم کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز میں بن گویر کو دیگر افراد کے ساتھ احاطے میں چلتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی دیگر ویڈیوز میں مبینہ طور پر انہیں عبادت کرتے دکھایا گیا ہے۔ تاہم، رائٹرز آزادانہ طور پر ان ویڈیوز کی تصدیق نہیں کر سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وقف فاؤنڈیشن نے بتایا کہ بن گویر اُن 1,250 افراد میں شامل تھے جنہوں نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو کر نہ صرف عبادت کی بلکہ نعرے لگائے اور رقص بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے اسرائیلی وزرا، قابض آبادکاروں اور پولیس کی سرپرستی میں مسجد اقصیٰ پر چڑھائی کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ
”اسلام کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک کے خلاف یہ توہین آمیز اقدام نہ صرف دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات پر حملہ ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین اور انسانیت کے اجتماعی ضمیر پر بھی ایک حملہ ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ قابض ریاست کی منظم اشتعال انگیزیاں اور غیر ذمہ دارانہ الحاق کی کالز امن کے امکانات کو شدید خطرے میں ڈال رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی شرمناک حرکتیں فلسطین اور خطے میں کشیدگی کو جان بوجھ کر ہوا دے رہی ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ مزید عدم استحکام اور تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر زور دیا کہ فوری جنگ بندی، تمام جارحانہ اقدامات کا خاتمہ، اور ایک قابلِ اعتماد امن عمل کا آغاز کیا جائے جو بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق، القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے والی ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام پر منتج ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے بھی مسجد اقصیٰ کے خلاف اسرائیلی حکومت کے بار بار کے اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں تنازع کو مزید ہوا دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، سعودی عرب نے عالمی برادری سے فوری مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی قبضے کے حکام کی ان خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے مداخلت کرے جو بین الاقوامی قوانین اور معاہدات کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو سبوتاژ کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق، اردن کی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز بن گویر کے اس دورے کو چڑھائی اور ناقابل قبول اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ اردن مسجد اقصیٰ کا باضابطہ نگران ہے، جو اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام اور فلسطینی قومی شناخت کی ایک علامت بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مقام یہودیوں کے لیے بھی انتہائی مقدس ہے، جہاں ان کے دوسرے معبد کی باقیات موجود ہیں، جو 70 عیسوی میں رومیوں نے تباہ کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل، جو 1967 سے مشرقی یروشلم اور اس کے قدیم شہر پر قابض ہے، نے ”اسٹیٹس کو“ کے تحت غیر مسلموں کو مخصوص اوقات میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں جانے کی اجازت دی ہوئی ہے، مگر انہیں عبادت کرنے یا مذہبی علامات دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب حماس نے بن گویر کے اقدام کو اشتعال انگیز اور خطرناک اضافہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ ہماری قوم کے خلاف جاری نسل کشی کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس نے بیان میں کہا کہ
ہم مغربی کنارے میں اپنے عوام اور نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہمارے مقدس مقامات، بالخصوص مسجد اقصیٰ کے دفاع میں مزاحمت کو بڑھائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان، سعودی عرب اور اردن کی حکومتوں نے مسجد اقصیٰ کے خلاف اسرائیلی حکومتی اہلکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ یہ مذمت اس وقت سامنے آئی جب اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر، اتمار بن گویر، اتوار کے روز یروشلم میں واقع متنازعہ مقام مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے وہاں عبادت کی، حالانکہ یہ عمل مشرقِ وسطیٰ کے سب سے حساس مقامات میں سے ایک سے متعلق رائج ضابطوں کی خلاف ورزی ہے۔</strong></p>
<p>اسٹیٹس کو کے تحت قائم دہائیوں پر محیط ایک نازک بندوبست کے مطابق، مسجد اقصیٰ کے احاطے کا انتظام اردن کے ایک مذہبی فاؤنڈیشن ”وقف“ کے پاس ہے، اور اگرچہ یہودی وہاں جا سکتے ہیں، لیکن انہیں عبادت کی اجازت نہیں ہے۔</p>
<p>ٹیمپل ماؤنٹ ایڈمنسٹریشن نامی ایک چھوٹی یہودی تنظیم کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز میں بن گویر کو دیگر افراد کے ساتھ احاطے میں چلتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی دیگر ویڈیوز میں مبینہ طور پر انہیں عبادت کرتے دکھایا گیا ہے۔ تاہم، رائٹرز آزادانہ طور پر ان ویڈیوز کی تصدیق نہیں کر سکا۔</p>
<p>وقف فاؤنڈیشن نے بتایا کہ بن گویر اُن 1,250 افراد میں شامل تھے جنہوں نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو کر نہ صرف عبادت کی بلکہ نعرے لگائے اور رقص بھی کیا۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے اسرائیلی وزرا، قابض آبادکاروں اور پولیس کی سرپرستی میں مسجد اقصیٰ پر چڑھائی کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ
”اسلام کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک کے خلاف یہ توہین آمیز اقدام نہ صرف دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات پر حملہ ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین اور انسانیت کے اجتماعی ضمیر پر بھی ایک حملہ ہے۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ قابض ریاست کی منظم اشتعال انگیزیاں اور غیر ذمہ دارانہ الحاق کی کالز امن کے امکانات کو شدید خطرے میں ڈال رہی ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی شرمناک حرکتیں فلسطین اور خطے میں کشیدگی کو جان بوجھ کر ہوا دے رہی ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ مزید عدم استحکام اور تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر زور دیا کہ فوری جنگ بندی، تمام جارحانہ اقدامات کا خاتمہ، اور ایک قابلِ اعتماد امن عمل کا آغاز کیا جائے جو بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق، القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے والی ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام پر منتج ہو۔</p>
<p>ادھر سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے بھی مسجد اقصیٰ کے خلاف اسرائیلی حکومت کے بار بار کے اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں تنازع کو مزید ہوا دیتے ہیں۔</p>
<p>سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، سعودی عرب نے عالمی برادری سے فوری مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی قبضے کے حکام کی ان خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے مداخلت کرے جو بین الاقوامی قوانین اور معاہدات کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو سبوتاژ کر رہی ہیں۔</p>
<p>فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق، اردن کی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز بن گویر کے اس دورے کو چڑھائی اور ناقابل قبول اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی۔</p>
<p>یاد رہے کہ اردن مسجد اقصیٰ کا باضابطہ نگران ہے، جو اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام اور فلسطینی قومی شناخت کی ایک علامت بھی ہے۔</p>
<p>یہ مقام یہودیوں کے لیے بھی انتہائی مقدس ہے، جہاں ان کے دوسرے معبد کی باقیات موجود ہیں، جو 70 عیسوی میں رومیوں نے تباہ کر دیا تھا۔</p>
<p>اسرائیل، جو 1967 سے مشرقی یروشلم اور اس کے قدیم شہر پر قابض ہے، نے ”اسٹیٹس کو“ کے تحت غیر مسلموں کو مخصوص اوقات میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں جانے کی اجازت دی ہوئی ہے، مگر انہیں عبادت کرنے یا مذہبی علامات دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔</p>
<p>دوسری جانب حماس نے بن گویر کے اقدام کو اشتعال انگیز اور خطرناک اضافہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ ہماری قوم کے خلاف جاری نسل کشی کا حصہ ہے۔</p>
<p>حماس نے بیان میں کہا کہ
ہم مغربی کنارے میں اپنے عوام اور نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہمارے مقدس مقامات، بالخصوص مسجد اقصیٰ کے دفاع میں مزاحمت کو بڑھائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275441</guid>
      <pubDate>Mon, 04 Aug 2025 12:11:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/04121006362e044.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/04121006362e044.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
