<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Stocks</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج ،100 انڈیکس پہلی بار ایک لاکھ 42 ہزار سے زائد کی ریکارڈ سطح پر بند</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275432/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں نئے ریکارڈ بننے کا سلسلسہ جاری ہے، بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے پیر کے روز پہلی بار  ایک لاکھ 42 ہزار پوائنٹس  کی سطح عبور کرتے ہوئے تاریخ رقم کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پورے تجارتی سیشن کے دوران مارکیٹ میں تیزی کا رجحان برقرار رہا، جس کے باعث انڈیکس انٹرا ڈے کے دوران  ایک لاکھ 42 ہزار323 کی بلند ترین سطح تک پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,017.66 پوائنٹس یا 0.72 فیصد اضافے کے ساتھ  ایک لاکھ 42 ہزار052 پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں نے اس خریداری کے رجحان کو پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے سے منسوب کیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کے لیے ٹیرف میں کمی آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں نے اس پیشرفت کو سراہتے ہوئے پاکستان کی معیشت کے لیے ایک نئے موڑ سے تعبیر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے کے دوران پی ایس ایکس نے ایک تاریخی ہفتہ مکمل کیا، جس میں بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس  141,035 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند ہوا، جو کہ ہفتہ وار بنیاد پر 1.3 فیصد کا اضافہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈیکس نے دورانِ کاروبار 141,161 پوائنٹس کی نئی ریکارڈ سطح کو بھی چھوا، جو کہ مارکیٹ کے رجحان میں نمایاں تبدیلی اور امریکہ کے ساتھ غیر متوقع تجارتی پیش رفت کے باعث سرمایہ کاروں کے تجدید شدہ اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس نے پیر کے روز وال اسٹریٹ کے ساتھ مندی کا رخ اختیار کیا، کیونکہ امریکی معیشت سے متعلق خدشات میں شدت آنے کے بعد سرمایہ کاروں نے ستمبر میں شرح سود میں کمی کو تقریباً یقینی قرار دینا شروع کر دیا ہے، جس سے ڈالر بھی دباؤ کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ امریکی اسٹاک فیوچرز میں کچھ ابتدائی استحکام اور تیل کی قیمتوں میں کمی نے نقصانات کو محدود رکھنے میں مدد دی، تاہم جولائی کی جاب رپورٹ کا منفی پیغام نظرانداز کرنا مشکل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار میں ترامیم کے بعد پتا چلا کہ پے رولز (نوکریوں) کی تعداد اندازے سے 290,000 کم تھی، جب کہ رواں سال کے آغاز میں 231,000 کے مقابلے میں تین ماہ کا اوسط صرف 35,000 رہ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل بھی اعتماد بڑھانے میں ناکام رہا، کیونکہ انہوں نے لیبر شماریات کے ادارے کے سربراہ کو برطرف کر دیا، جس سے امریکی معاشی ڈیٹا پر اعتماد کو نقصان پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح، ٹرمپ کو فیڈرل ریزرو کے ایک گورنرشپ عہدے پر تعیناتی کا اختیار ملنے کی خبر نے شرح سود کی پالیسی کی سیاسی نوعیت سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم قرض کے کم اخراجات کی توقع نے حصص کو کچھ سہارا دیا، اور ایس اینڈ پی  500 فیوچرز میں 0.1 فیصد اور نیسڈیک فیوچرز میں 0.2 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ایشیائی مارکیٹس ابھی تک جمعہ کے نقصان کو پورا کر رہی تھیں؛ نکی انڈیکس میں 2.1 فیصد، جب کہ جنوبی کوریا کے انڈیکس میں 0.2 فیصد کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;البتہ ایم ایس سی آئی کا جاپان کے سوا ایشیا پیسیفک شیئرز کا سب سے وسیع انڈیکس 0.3 فیصد بڑھ گیا، جو مجموعی رجحان سے مختلف رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی بڑھتی ہوئی قدر کو برقرار رکھے ہوئے ہے اور پیر کے روز انٹربینک مارکیٹ میں 0.02 فیصد کی معمولی بہتری دیکھی گئی۔ مارکیٹ بند ہونے پر کرنسی کا نرخ 282.66 روپے پر بند ہوا، جو  6 پیسے کا اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام شیئرز کے انڈیکس پر ٹریڈنگ والیوم 666.37 ملین شیئرز تک بڑھ گئی، جو کہ پچھلے سیشن کے 609.71 ملین شیئرز سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، حصص کی کل مالیت 42.92 ارب روپے رہ گئی، جو کہ پچھلے سیشن کی 50.55 ارب روپے سے کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینرجیکو پاکستان 53.70 ملین شیئرز کے ساتھ والیوم لیڈر رہی، اس کے بعد پاک انٹرنیشنل بلک کے 50.58 ملین اور بنک آف پنجاب کے 30.63 ملین شیئرز شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو مجموعی طور پر 482 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 247 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور 206 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں گر گئیں جبکہ 29 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/04190107df36fbf.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں نئے ریکارڈ بننے کا سلسلسہ جاری ہے، بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے پیر کے روز پہلی بار  ایک لاکھ 42 ہزار پوائنٹس  کی سطح عبور کرتے ہوئے تاریخ رقم کی۔</strong></p>
<p>پورے تجارتی سیشن کے دوران مارکیٹ میں تیزی کا رجحان برقرار رہا، جس کے باعث انڈیکس انٹرا ڈے کے دوران  ایک لاکھ 42 ہزار323 کی بلند ترین سطح تک پہنچا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,017.66 پوائنٹس یا 0.72 فیصد اضافے کے ساتھ  ایک لاکھ 42 ہزار052 پر بند ہوا۔</p>
<p>تجزیہ کاروں نے اس خریداری کے رجحان کو پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے سے منسوب کیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کے لیے ٹیرف میں کمی آئے گی۔</p>
<p>سرمایہ کاروں نے اس پیشرفت کو سراہتے ہوئے پاکستان کی معیشت کے لیے ایک نئے موڑ سے تعبیر کیا ہے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے کے دوران پی ایس ایکس نے ایک تاریخی ہفتہ مکمل کیا، جس میں بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس  141,035 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند ہوا، جو کہ ہفتہ وار بنیاد پر 1.3 فیصد کا اضافہ تھا۔</p>
<p>انڈیکس نے دورانِ کاروبار 141,161 پوائنٹس کی نئی ریکارڈ سطح کو بھی چھوا، جو کہ مارکیٹ کے رجحان میں نمایاں تبدیلی اور امریکہ کے ساتھ غیر متوقع تجارتی پیش رفت کے باعث سرمایہ کاروں کے تجدید شدہ اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس نے پیر کے روز وال اسٹریٹ کے ساتھ مندی کا رخ اختیار کیا، کیونکہ امریکی معیشت سے متعلق خدشات میں شدت آنے کے بعد سرمایہ کاروں نے ستمبر میں شرح سود میں کمی کو تقریباً یقینی قرار دینا شروع کر دیا ہے، جس سے ڈالر بھی دباؤ کا شکار ہے۔</p>
<p>اگرچہ امریکی اسٹاک فیوچرز میں کچھ ابتدائی استحکام اور تیل کی قیمتوں میں کمی نے نقصانات کو محدود رکھنے میں مدد دی، تاہم جولائی کی جاب رپورٹ کا منفی پیغام نظرانداز کرنا مشکل تھا۔</p>
<p>اعداد و شمار میں ترامیم کے بعد پتا چلا کہ پے رولز (نوکریوں) کی تعداد اندازے سے 290,000 کم تھی، جب کہ رواں سال کے آغاز میں 231,000 کے مقابلے میں تین ماہ کا اوسط صرف 35,000 رہ گیا ہے۔</p>
<p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل بھی اعتماد بڑھانے میں ناکام رہا، کیونکہ انہوں نے لیبر شماریات کے ادارے کے سربراہ کو برطرف کر دیا، جس سے امریکی معاشی ڈیٹا پر اعتماد کو نقصان پہنچا۔</p>
<p>اسی طرح، ٹرمپ کو فیڈرل ریزرو کے ایک گورنرشپ عہدے پر تعیناتی کا اختیار ملنے کی خبر نے شرح سود کی پالیسی کی سیاسی نوعیت سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا۔</p>
<p>تاہم قرض کے کم اخراجات کی توقع نے حصص کو کچھ سہارا دیا، اور ایس اینڈ پی  500 فیوچرز میں 0.1 فیصد اور نیسڈیک فیوچرز میں 0.2 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔</p>
<p>ادھر ایشیائی مارکیٹس ابھی تک جمعہ کے نقصان کو پورا کر رہی تھیں؛ نکی انڈیکس میں 2.1 فیصد، جب کہ جنوبی کوریا کے انڈیکس میں 0.2 فیصد کمی ہوئی۔</p>
<p>البتہ ایم ایس سی آئی کا جاپان کے سوا ایشیا پیسیفک شیئرز کا سب سے وسیع انڈیکس 0.3 فیصد بڑھ گیا، جو مجموعی رجحان سے مختلف رہا۔</p>
<p>پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی بڑھتی ہوئی قدر کو برقرار رکھے ہوئے ہے اور پیر کے روز انٹربینک مارکیٹ میں 0.02 فیصد کی معمولی بہتری دیکھی گئی۔ مارکیٹ بند ہونے پر کرنسی کا نرخ 282.66 روپے پر بند ہوا، جو  6 پیسے کا اضافہ ہے۔</p>
<p>تمام شیئرز کے انڈیکس پر ٹریڈنگ والیوم 666.37 ملین شیئرز تک بڑھ گئی، جو کہ پچھلے سیشن کے 609.71 ملین شیئرز سے زیادہ ہے۔</p>
<p>تاہم، حصص کی کل مالیت 42.92 ارب روپے رہ گئی، جو کہ پچھلے سیشن کی 50.55 ارب روپے سے کم ہے۔</p>
<p>سینرجیکو پاکستان 53.70 ملین شیئرز کے ساتھ والیوم لیڈر رہی، اس کے بعد پاک انٹرنیشنل بلک کے 50.58 ملین اور بنک آف پنجاب کے 30.63 ملین شیئرز شامل تھے۔</p>
<p>پیر کو مجموعی طور پر 482 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 247 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور 206 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں گر گئیں جبکہ 29 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/04190107df36fbf.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275432</guid>
      <pubDate>Mon, 04 Aug 2025 20:19:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/04101924c63ef89.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="651" width="1156">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/04101924c63ef89.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
