<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:37:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:37:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سڈنی ہاربر برج پر فلسطین کے حق میں ہزاروں افراد کا احتجاجی مارچ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275410/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہزاروں مظاہرین نے اتوار کے روز شدید بارش کے باوجود سڈنی کے مشہور ہاربر برج پر مارچ کیا، جس کا مقصد غزہ میں جاری جنگ کے دوران امن اور امدادی سامان کی فراہمی کا مطالبہ کرنا تھا، جہاں انسانی بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً دو سال سے جاری اس جنگ میں، جس میں فلسطینی حکام کے مطابق اب تک غزہ میں 60,000 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں، حکومتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں خبردار کر رہی ہیں کہ خوراک کی شدید قلت نے وسیع پیمانے پر قحط کی صورتحال پیدا کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ میں شریک کچھ افراد نے بھوک کی علامت کے طور پر اپنے ہاتھوں میں برتن اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین میں وکی لیکس کے بانی جولین اسانج بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیو ساؤتھ ویلز پولیس اور ریاست کے وزیر اعلیٰ نے گزشتہ ہفتے اس مارچ کو سڈنی کے اس مرکزی پل پر منعقد ہونے سے روکنے کی کوشش کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ یہ راستہ سیکیورٹی کے خدشات اور ٹریفک کے نظام میں خلل کا باعث بنے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ریاستی سپریم کورٹ نے ہفتہ کے روز اس مارچ کے انعقاد کی اجازت دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے بتایا کہ اس موقع پر سیکڑوں اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح کا ایک احتجاجی مارچ میلبرن میں بھی ہوا، جہاں پولیس بھی موجود تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اسرائیل پر سفارتی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس اور کینیڈا نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ برطانیہ نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے انسانی بحران کا حل نہ نکالا اور جنگ بندی پر آمادگی ظاہر نہ کی تو وہ بھی فلسطین کو تسلیم کر لے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے ان فیصلوں کو حماس کے لیے انعام قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے۔ حماس وہ تنظیم ہے جو غزہ پر حکومت کرتی ہے اور جس کے اکتوبر 2023 میں اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ میں شدید فوجی کارروائی کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں علاقے کا بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا کے سنٹر-لیفٹ وزیر اعظم انتھونی البانیز نے دو ریاستی حل کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے امداد کی بندش اور شہریوں کا قتل قابلِ دفاع نہیں، نہ ہی اسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے، تاہم آسٹریلیا نے تاحال فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہزاروں مظاہرین نے اتوار کے روز شدید بارش کے باوجود سڈنی کے مشہور ہاربر برج پر مارچ کیا، جس کا مقصد غزہ میں جاری جنگ کے دوران امن اور امدادی سامان کی فراہمی کا مطالبہ کرنا تھا، جہاں انسانی بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>تقریباً دو سال سے جاری اس جنگ میں، جس میں فلسطینی حکام کے مطابق اب تک غزہ میں 60,000 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں، حکومتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں خبردار کر رہی ہیں کہ خوراک کی شدید قلت نے وسیع پیمانے پر قحط کی صورتحال پیدا کر دی ہے۔</p>
<p>مارچ میں شریک کچھ افراد نے بھوک کی علامت کے طور پر اپنے ہاتھوں میں برتن اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین میں وکی لیکس کے بانی جولین اسانج بھی شامل تھے۔</p>
<p>نیو ساؤتھ ویلز پولیس اور ریاست کے وزیر اعلیٰ نے گزشتہ ہفتے اس مارچ کو سڈنی کے اس مرکزی پل پر منعقد ہونے سے روکنے کی کوشش کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ یہ راستہ سیکیورٹی کے خدشات اور ٹریفک کے نظام میں خلل کا باعث بنے گا۔</p>
<p>تاہم ریاستی سپریم کورٹ نے ہفتہ کے روز اس مارچ کے انعقاد کی اجازت دے دی۔</p>
<p>نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے بتایا کہ اس موقع پر سیکڑوں اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔</p>
<p>اسی طرح کا ایک احتجاجی مارچ میلبرن میں بھی ہوا، جہاں پولیس بھی موجود تھی۔</p>
<p>گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اسرائیل پر سفارتی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>فرانس اور کینیڈا نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ برطانیہ نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے انسانی بحران کا حل نہ نکالا اور جنگ بندی پر آمادگی ظاہر نہ کی تو وہ بھی فلسطین کو تسلیم کر لے گا۔</p>
<p>اسرائیل نے ان فیصلوں کو حماس کے لیے انعام قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے۔ حماس وہ تنظیم ہے جو غزہ پر حکومت کرتی ہے اور جس کے اکتوبر 2023 میں اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ میں شدید فوجی کارروائی کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں علاقے کا بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے۔</p>
<p>آسٹریلیا کے سنٹر-لیفٹ وزیر اعظم انتھونی البانیز نے دو ریاستی حل کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے امداد کی بندش اور شہریوں کا قتل قابلِ دفاع نہیں، نہ ہی اسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے، تاہم آسٹریلیا نے تاحال فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275410</guid>
      <pubDate>Sun, 03 Aug 2025 11:38:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/03113641c73271f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/03113641c73271f.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
