<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:12:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:12:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکس اصلاحات کے نام پر سزا دینے کا اختیار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275408/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ریاست کو زیادہ ریونیو اکٹھا کرنا ہوگا، اس پر کوئی سوال نہیں۔ اور نہ ہی اس بات پر کوئی بحث ہے کہ پاکستان کی نہایت کم ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح ایک ڈھانچہ جاتی کمزوری ہے جو مالیاتی کمزوری اور بیرونی خطرات کو بڑھاتی ہے۔ لیکن فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے جس طریقے کو اپنانا چاہتا ہے، وہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر کافی عرصے سے سنجیدہ بات نہیں ہوئی — اور اب یہ معاملہ خاصا تشویشناک ہو چکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کی جانب سے سینیٹ فنانس کمیٹی کے سامنے احتجاج کی بنیاد ایک سادہ جمہوری اصول ہے: ٹیکس اکٹھا کرنے والے اداروں کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ خود ہی جج، جیوری اور جلاد بن جائیں۔ کوئی بھی جدید معیشت اس طرح نہیں چل سکتی کہ کاروباری طبقے کو من مانی گرفتاریوں، ٹیکس فراڈ کی مبہم تعریفوں، اور ’اصلاحات‘ کے نام پر لامحدود اختیارات کا سامنا ہو۔ یہ اصلاحات نہیں، پسماندگی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیلز ٹیکس ایکٹ کی شق 37A کے مطابق، اب ان لینڈ ریونیو افسران کو صرف شک کی بنیاد پر کمپنی کے ڈائریکٹرز، سی ای اوز، سی ایف اوز اور دیگر افراد کو گرفتار کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ یہ نہ صرف ایک انتظامی خطرے کی گھنٹی ہے، بلکہ ہراسانی، بدعنوانی اور انتقامی کارروائیوں کی کھلی دعوت ہے۔ اس پر شق 14AE کی مبہم زبان اور شق 40C کے تحت ای-بیلٹی کی شرط کا اضافہ کر دیں، تو یہ ایک ایسا قانونی جال بن جاتا ہے جو ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے سے زیادہ خوف و ہراس پھیلانے کے لیے بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی چیمبر کا یہ انتباہ بالکل درست ہے کہ ایسی حکمت عملی الٹی پڑے گی۔ کاروباری طبقہ، جو پہلے ہی مہنگائی، بلند شرح سود اور غیر یقینی پالیسیوں سے زخم خوردہ ہے، وہ زبردستی کے بجائے مزاحمت کرے گا۔ سرمایہ بیرون ملک چلا جائے گا۔ کاروباری افراد ہچکچائیں گے۔ غیر رسمی معیشت مزید پھیلے گی۔ اور ایف بی آر جو معمولی ریونیو حاصل کرنے کی امید لگائے بیٹھا ہے، طویل المدتی معاشی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی ایف بی آر کی حکمت عملی کا تضاد ہے — جتنا زیادہ وہ دباؤ ڈالے گا، اتنی ہی زیادہ مزاحمت کا سامنا کرے گا۔ وہ افراد جو ابھی تک دستاویزی معیشت سے باہر ہیں، ان کے لیے رجسٹریشن ایک قانونی خطرہ محسوس ہوگی۔ اگر سیلز ٹیکس فائلر بننا ہی آپ کو خطرے میں ڈال دے، تو کوئی بھی چھوٹا یا درمیانے درجے کا کاروبار یہ رسک کیوں لے گا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے ضروری ہے کہ ایف بی آر کی واقعی اصلاحات کی جائیں — محض قانونی ترامیم یا ڈیجیٹل پائلٹس کافی نہیں۔ اصلاحات کا آغاز اس ادارے کی سوچ میں تبدیلی سے ہونا چاہیے: ٹیکس دہندگان کو دشمن نہیں بلکہ قومی مفاد میں شراکت دار سمجھا جائے۔ ایف بی آر کو اپنی توجہ شفافیت، خودکار نظام، اختیارات میں کمی اور کرپشن کے دروازے بند کرنے پر مرکوز کرنی چاہیے، نہ کہ بلا مقدمہ گرفتاری کے اختیارات کو وسعت دینے پر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر ڈیجیٹل انوائسنگ کا خیال اصولی طور پر اچھا ہے، لیکن اگر اسے بغیر لاگت کنٹرول اور مناسب انفراسٹرکچر کے نافذ کیا گیا، تو یہ صرف نئے رکاوٹیں پیدا کرے گا۔ ایک مرحلہ وار طریقہ زیادہ بہتر ہے، جو بڑے کاروباروں اور پبلک کمپنیوں سے شروع ہو، بنسبت اس کے کہ ہر کسی پر یکساں پابندیاں لگا دی جائیں اور فیس لینے والے انٹیگریٹرز کے ذریعے اس پر عملدرآمد کروایا جائے۔ اسی طرح جعلی انوائسز کے خلاف کارروائی بھی ضروری ہے، مگر یہ کام ڈیٹا اینالٹکس اور ٹارگٹڈ انفورسمنٹ کے ذریعے بہتر انداز میں ہو سکتا ہے، بجائے اس کے کہ مبہم فراڈ قوانین کے تحت سب کو گرفتار کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ کمیٹی کو کراچی چیمبر اور دیگر تجارتی تنظیموں کی بات سننی چاہیے۔ معیشت میں ایسی جارحانہ حکمت عملیوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں جو اصلاحات کا لبادہ اوڑھے ہوں۔ اگر حکومت واقعی پاکستان میں ٹیکس کلچر قائم کرنا چاہتی ہے، تو اسے پہلے اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ نفاذ اور زیادتی کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچی جائے، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایف بی آر مسئلے کا حصہ نہیں بلکہ حل کا حصہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھی بھی سمت درست کرنے کا وقت ہے۔ لیکن اگر وزارتِ خزانہ نے ایف بی آر کو صرف سزائیں دینے کے اختیارات دیے اور مراعات نہ دیں، تو نقصان صرف کاروباری طبقے کو نہیں ہوگا — پوری معیشت اس کی قیمت چکائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ریاست کو زیادہ ریونیو اکٹھا کرنا ہوگا، اس پر کوئی سوال نہیں۔ اور نہ ہی اس بات پر کوئی بحث ہے کہ پاکستان کی نہایت کم ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح ایک ڈھانچہ جاتی کمزوری ہے جو مالیاتی کمزوری اور بیرونی خطرات کو بڑھاتی ہے۔ لیکن فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے جس طریقے کو اپنانا چاہتا ہے، وہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر کافی عرصے سے سنجیدہ بات نہیں ہوئی — اور اب یہ معاملہ خاصا تشویشناک ہو چکا ہے۔</strong></p>
<p>کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کی جانب سے سینیٹ فنانس کمیٹی کے سامنے احتجاج کی بنیاد ایک سادہ جمہوری اصول ہے: ٹیکس اکٹھا کرنے والے اداروں کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ خود ہی جج، جیوری اور جلاد بن جائیں۔ کوئی بھی جدید معیشت اس طرح نہیں چل سکتی کہ کاروباری طبقے کو من مانی گرفتاریوں، ٹیکس فراڈ کی مبہم تعریفوں، اور ’اصلاحات‘ کے نام پر لامحدود اختیارات کا سامنا ہو۔ یہ اصلاحات نہیں، پسماندگی ہے۔</p>
<p>سیلز ٹیکس ایکٹ کی شق 37A کے مطابق، اب ان لینڈ ریونیو افسران کو صرف شک کی بنیاد پر کمپنی کے ڈائریکٹرز، سی ای اوز، سی ایف اوز اور دیگر افراد کو گرفتار کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ یہ نہ صرف ایک انتظامی خطرے کی گھنٹی ہے، بلکہ ہراسانی، بدعنوانی اور انتقامی کارروائیوں کی کھلی دعوت ہے۔ اس پر شق 14AE کی مبہم زبان اور شق 40C کے تحت ای-بیلٹی کی شرط کا اضافہ کر دیں، تو یہ ایک ایسا قانونی جال بن جاتا ہے جو ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے سے زیادہ خوف و ہراس پھیلانے کے لیے بنایا گیا ہے۔</p>
<p>کراچی چیمبر کا یہ انتباہ بالکل درست ہے کہ ایسی حکمت عملی الٹی پڑے گی۔ کاروباری طبقہ، جو پہلے ہی مہنگائی، بلند شرح سود اور غیر یقینی پالیسیوں سے زخم خوردہ ہے، وہ زبردستی کے بجائے مزاحمت کرے گا۔ سرمایہ بیرون ملک چلا جائے گا۔ کاروباری افراد ہچکچائیں گے۔ غیر رسمی معیشت مزید پھیلے گی۔ اور ایف بی آر جو معمولی ریونیو حاصل کرنے کی امید لگائے بیٹھا ہے، طویل المدتی معاشی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہوگا۔</p>
<p>یہی ایف بی آر کی حکمت عملی کا تضاد ہے — جتنا زیادہ وہ دباؤ ڈالے گا، اتنی ہی زیادہ مزاحمت کا سامنا کرے گا۔ وہ افراد جو ابھی تک دستاویزی معیشت سے باہر ہیں، ان کے لیے رجسٹریشن ایک قانونی خطرہ محسوس ہوگی۔ اگر سیلز ٹیکس فائلر بننا ہی آپ کو خطرے میں ڈال دے، تو کوئی بھی چھوٹا یا درمیانے درجے کا کاروبار یہ رسک کیوں لے گا؟</p>
<p>اسی لیے ضروری ہے کہ ایف بی آر کی واقعی اصلاحات کی جائیں — محض قانونی ترامیم یا ڈیجیٹل پائلٹس کافی نہیں۔ اصلاحات کا آغاز اس ادارے کی سوچ میں تبدیلی سے ہونا چاہیے: ٹیکس دہندگان کو دشمن نہیں بلکہ قومی مفاد میں شراکت دار سمجھا جائے۔ ایف بی آر کو اپنی توجہ شفافیت، خودکار نظام، اختیارات میں کمی اور کرپشن کے دروازے بند کرنے پر مرکوز کرنی چاہیے، نہ کہ بلا مقدمہ گرفتاری کے اختیارات کو وسعت دینے پر۔</p>
<p>مثال کے طور پر ڈیجیٹل انوائسنگ کا خیال اصولی طور پر اچھا ہے، لیکن اگر اسے بغیر لاگت کنٹرول اور مناسب انفراسٹرکچر کے نافذ کیا گیا، تو یہ صرف نئے رکاوٹیں پیدا کرے گا۔ ایک مرحلہ وار طریقہ زیادہ بہتر ہے، جو بڑے کاروباروں اور پبلک کمپنیوں سے شروع ہو، بنسبت اس کے کہ ہر کسی پر یکساں پابندیاں لگا دی جائیں اور فیس لینے والے انٹیگریٹرز کے ذریعے اس پر عملدرآمد کروایا جائے۔ اسی طرح جعلی انوائسز کے خلاف کارروائی بھی ضروری ہے، مگر یہ کام ڈیٹا اینالٹکس اور ٹارگٹڈ انفورسمنٹ کے ذریعے بہتر انداز میں ہو سکتا ہے، بجائے اس کے کہ مبہم فراڈ قوانین کے تحت سب کو گرفتار کیا جائے۔</p>
<p>سینیٹ کمیٹی کو کراچی چیمبر اور دیگر تجارتی تنظیموں کی بات سننی چاہیے۔ معیشت میں ایسی جارحانہ حکمت عملیوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں جو اصلاحات کا لبادہ اوڑھے ہوں۔ اگر حکومت واقعی پاکستان میں ٹیکس کلچر قائم کرنا چاہتی ہے، تو اسے پہلے اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ نفاذ اور زیادتی کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچی جائے، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایف بی آر مسئلے کا حصہ نہیں بلکہ حل کا حصہ ہو۔</p>
<p>ابھی بھی سمت درست کرنے کا وقت ہے۔ لیکن اگر وزارتِ خزانہ نے ایف بی آر کو صرف سزائیں دینے کے اختیارات دیے اور مراعات نہ دیں، تو نقصان صرف کاروباری طبقے کو نہیں ہوگا — پوری معیشت اس کی قیمت چکائے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275408</guid>
      <pubDate>Sun, 03 Aug 2025 11:03:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/03105940d6d129a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/03105940d6d129a.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
