<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:53:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:53:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اے آئی پالیسی معیشت میں انقلابی پیش رفت کا سنگ میل، ماہرین</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275391/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئی ٹی شعبے کے ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز نے حکومت کی جامع نیشنل آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) پالیسی کو سراہتے ہوئے اسے پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک انقلابی قدم قرار دیا ہے، بشرطیکہ اس پر مکمل تعاون اور سنجیدہ عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق یہ پالیسی پاکستان کے لیے مواقع کے ایک نئے دور کا آغاز کر سکتی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے نہ صرف مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکتا ہے بلکہ ہائی ٹیک مصنوعات اور خدمات کی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے حال ہی میں کابینہ اجلاس میں نیشنل اے آئی پالیسی 2025 کی منظوری دی جس کا مقصد ملک میں ایک مکمل اے آئی ایکو سسٹم قائم کرنا، عوامی سطح پر اے آئی تک رسائی کو آسان بنانا، سرکاری خدمات کو بہتر بنانا، اور روزگار و اختراع کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اے آئی تعلیم&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان آئی ٹی انڈسٹری ایسوسی ایشن (پاشا) کی اے آئی کمیٹی کی رکن مہوش سلمان علی نے کہا کہ پاکستان کو اے آئی کے لیے ضروری انسانی وسائل تیار کرنے کی خاطر مقامی و غیر ملکی جامعات اور تربیتی اداروں کے ساتھ مؤثر شراکت داری کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق آئندہ دو برس میں 10 ہزار ٹرینرز اور 10 لاکھ آئی ٹی گریجویٹس تیار کرنا ہوں گے جس کے لیے مربوط حکمتِ عملی اور یکساں ڈھانچے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے تجویز دی کہ بڑی آئی ٹی کمپنیاں جامعات کے ساتھ مل کر متعلقہ ڈگری پروگرامز شروع کریں اور بڑے شہروں میں اختراعی مراکز (Innovation Centers) قائم کیے جائیں تاکہ ماہرین کو تحقیق، مہارت میں اضافہ اور نئی مصنوعات پر کام کے مواقع میسر آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہوش سلمان علی نے مزید کہا کہ حکومت کو خلیجی ممالک اور دیگر ترقی یافتہ ریاستوں کے ساتھ ریاستی سطح پر روابط قائم کرنے چاہییں تاکہ مشترکہ اے آئی منصوبے شروع کیے جا سکیں اور تجارتی و تکنیکی روابط کو فروغ حاصل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) پالیسی کے تحت 2030 تک 10 لاکھ اے آئی پروفیشنلز کی تربیت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کے لیے اے آئی انویشن فنڈ اور اے آئی وینچر فنڈ کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔ پالیسی کے مطابق آئندہ پانچ سالوں میں 50 ہزار اے آئی سے چلنے والے شہری منصوبے اور 1,000 مقامی اے آئی مصنوعات تیار کی جائیں گی، جبکہ ہر سال 3,000 اے آئی اسکالرشپس دی جائیں گی اور 1,000 تحقیقی منصوبوں میں معاونت فراہم کی جائے گی۔ مزید برآں، خواتین اور معذور افراد کو تعلیم اور مالی معاونت کے ذریعے شامل کیا جائے گا، قومی سطح پر سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا تحفظ کے پروٹوکول کو مضبوط بنایا جائے گا، عالمی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا اور بین الاقوامی اے آئی ضوابط سے ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں پالیسی کے تحت ایک اے آئی کونسل، جامع ماسٹر پلان اور ایکشن میٹرکس تشکیل دی جائے گی جو پالیسی پر عملدرآمد کی نگرانی کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;10 ارب ڈالر کی آئی ٹی برآمدات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاشا کے سینئر وائس چیئرمین عمیر نظام نے کہا کہ یہ پالیسی ملک میں کاروبار، ٹیکنالوجی اور معیشت کے میدان میں ترقی کے لیے ایک اہم روڈ میپ ثابت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی مالی سال 2029 تک 10 ارب ڈالر کی آئی ٹی برآمدات کا ہدف حاصل کرنے میں مرکزی کردار ادا کر سکتی ہے اور آئی ٹی و اس سے منسلک کمپنیوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کے دروازے کھول سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ اس پالیسی کے ثمرات حاصل کرنے کے لیے حکومت کو تیز رفتار انٹرنیٹ، سستے ڈیجیٹل آلات، بلا تعطل بجلی، اور مختلف شہروں میں ورک اسٹیشنز جیسے بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں ملک بھر میں آگاہی مہم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ صرف ماہرین اور ڈیولپرز کی تیاری کافی نہیں، بلکہ ایسے باشعور، بااخلاق اور نتیجہ خیز صارفین بھی درکار ہیں جو ان ٹیکنالوجیز کو مؤثر انداز میں استعمال کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاشا نے کہا ہے کہ وہ حکومت کے اس اہم ہدف کے حصول میں اپنے اراکین کے ذریعے مکمل تعاون فراہم کرینگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا آئی ٹی ایکسپورٹر اور ایس آئی گلوبل سلوشن کے سی ای او ڈاکٹر نعمان سعید نے کہا کہ  مجوزہ اے آئی پالیسی ایک مثبت اور وقت کی اہم ضرورت ہے، جو پاکستان کو مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے تیار کرنے کی جانب اہم قدم ہے، تاہم پاکستان کی ماضی کی پالیسیوں پر عملدرآمد میں تاخیر اور اثر انگیزی کی کمی تشویش کا باعث رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پالیسی کو مؤثر بنانے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات، بیوروکریٹک رکاوٹوں کا خاتمہ اور ایسے نتائج کی فراہمی ضروری ہے جو پالیسی کی ساکھ کو ظاہر کریں۔ اُن کے مطابق اصل چیلنج پالیسی بنانا نہیں، بلکہ اسے عملی شکل دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر نعمان نے خبردار کیا کہ چونکہ اے آئی ہر 6 سے 12 ماہ میں تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اس لیے پاکستان کو بیوروکریسی نہیں بلکہ جدت کی رفتار سے آگے بڑھنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مجوزہ ادارے اگر ٹیکنوکریٹس اور انڈسٹری ماہرین کی سربراہی میں ہوں تو ہی یہ مؤثر ثابت ہوں گے، ورنہ بیوروکریسی کے چنگل میں پھنس کر ان کی افادیت متاثر ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ نجی شعبے، خاص طور پر اسٹارٹ اپس اور ایس ایم ایز، کو ریگولیٹری سینڈ باکسز، ٹیکس میں نرمی، اور عوامی ڈیٹا سیٹس تک رسائی جیسے اقدامات کے ذریعے جدت کی بنیاد پر ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی تعاون کے حوالے سے ڈاکٹر نعمان نے کہا کہ پاکستان کو فوری اقدامات کے ذریعے عالمی اے آئی اتحادوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ہوگا، بصورتِ دیگر ہم صرف ڈیٹا کے صارف بن جائیں گے، شراکت دار نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئی ٹی شعبے کے ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز نے حکومت کی جامع نیشنل آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) پالیسی کو سراہتے ہوئے اسے پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک انقلابی قدم قرار دیا ہے، بشرطیکہ اس پر مکمل تعاون اور سنجیدہ عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔</strong></p>
<p>ماہرین کے مطابق یہ پالیسی پاکستان کے لیے مواقع کے ایک نئے دور کا آغاز کر سکتی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے نہ صرف مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکتا ہے بلکہ ہائی ٹیک مصنوعات اور خدمات کی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہے۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے حال ہی میں کابینہ اجلاس میں نیشنل اے آئی پالیسی 2025 کی منظوری دی جس کا مقصد ملک میں ایک مکمل اے آئی ایکو سسٹم قائم کرنا، عوامی سطح پر اے آئی تک رسائی کو آسان بنانا، سرکاری خدمات کو بہتر بنانا، اور روزگار و اختراع کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔</p>
<p><strong>اے آئی تعلیم</strong></p>
<p>پاکستان آئی ٹی انڈسٹری ایسوسی ایشن (پاشا) کی اے آئی کمیٹی کی رکن مہوش سلمان علی نے کہا کہ پاکستان کو اے آئی کے لیے ضروری انسانی وسائل تیار کرنے کی خاطر مقامی و غیر ملکی جامعات اور تربیتی اداروں کے ساتھ مؤثر شراکت داری کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق آئندہ دو برس میں 10 ہزار ٹرینرز اور 10 لاکھ آئی ٹی گریجویٹس تیار کرنا ہوں گے جس کے لیے مربوط حکمتِ عملی اور یکساں ڈھانچے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>انہوں نے تجویز دی کہ بڑی آئی ٹی کمپنیاں جامعات کے ساتھ مل کر متعلقہ ڈگری پروگرامز شروع کریں اور بڑے شہروں میں اختراعی مراکز (Innovation Centers) قائم کیے جائیں تاکہ ماہرین کو تحقیق، مہارت میں اضافہ اور نئی مصنوعات پر کام کے مواقع میسر آئیں۔</p>
<p>مہوش سلمان علی نے مزید کہا کہ حکومت کو خلیجی ممالک اور دیگر ترقی یافتہ ریاستوں کے ساتھ ریاستی سطح پر روابط قائم کرنے چاہییں تاکہ مشترکہ اے آئی منصوبے شروع کیے جا سکیں اور تجارتی و تکنیکی روابط کو فروغ حاصل ہو۔</p>
<p>نیشنل آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) پالیسی کے تحت 2030 تک 10 لاکھ اے آئی پروفیشنلز کی تربیت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کے لیے اے آئی انویشن فنڈ اور اے آئی وینچر فنڈ کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔ پالیسی کے مطابق آئندہ پانچ سالوں میں 50 ہزار اے آئی سے چلنے والے شہری منصوبے اور 1,000 مقامی اے آئی مصنوعات تیار کی جائیں گی، جبکہ ہر سال 3,000 اے آئی اسکالرشپس دی جائیں گی اور 1,000 تحقیقی منصوبوں میں معاونت فراہم کی جائے گی۔ مزید برآں، خواتین اور معذور افراد کو تعلیم اور مالی معاونت کے ذریعے شامل کیا جائے گا، قومی سطح پر سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا تحفظ کے پروٹوکول کو مضبوط بنایا جائے گا، عالمی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا اور بین الاقوامی اے آئی ضوابط سے ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے گا۔</p>
<p>مزید برآں پالیسی کے تحت ایک اے آئی کونسل، جامع ماسٹر پلان اور ایکشن میٹرکس تشکیل دی جائے گی جو پالیسی پر عملدرآمد کی نگرانی کرے گی۔</p>
<p><strong>10 ارب ڈالر کی آئی ٹی برآمدات</strong></p>
<p>پاشا کے سینئر وائس چیئرمین عمیر نظام نے کہا کہ یہ پالیسی ملک میں کاروبار، ٹیکنالوجی اور معیشت کے میدان میں ترقی کے لیے ایک اہم روڈ میپ ثابت ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی مالی سال 2029 تک 10 ارب ڈالر کی آئی ٹی برآمدات کا ہدف حاصل کرنے میں مرکزی کردار ادا کر سکتی ہے اور آئی ٹی و اس سے منسلک کمپنیوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کے دروازے کھول سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ اس پالیسی کے ثمرات حاصل کرنے کے لیے حکومت کو تیز رفتار انٹرنیٹ، سستے ڈیجیٹل آلات، بلا تعطل بجلی، اور مختلف شہروں میں ورک اسٹیشنز جیسے بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔</p>
<p>مزید برآں ملک بھر میں آگاہی مہم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ صرف ماہرین اور ڈیولپرز کی تیاری کافی نہیں، بلکہ ایسے باشعور، بااخلاق اور نتیجہ خیز صارفین بھی درکار ہیں جو ان ٹیکنالوجیز کو مؤثر انداز میں استعمال کر سکیں۔</p>
<p>پاشا نے کہا ہے کہ وہ حکومت کے اس اہم ہدف کے حصول میں اپنے اراکین کے ذریعے مکمل تعاون فراہم کرینگے۔</p>
<p>دریں اثنا آئی ٹی ایکسپورٹر اور ایس آئی گلوبل سلوشن کے سی ای او ڈاکٹر نعمان سعید نے کہا کہ  مجوزہ اے آئی پالیسی ایک مثبت اور وقت کی اہم ضرورت ہے، جو پاکستان کو مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے تیار کرنے کی جانب اہم قدم ہے، تاہم پاکستان کی ماضی کی پالیسیوں پر عملدرآمد میں تاخیر اور اثر انگیزی کی کمی تشویش کا باعث رہی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ پالیسی کو مؤثر بنانے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات، بیوروکریٹک رکاوٹوں کا خاتمہ اور ایسے نتائج کی فراہمی ضروری ہے جو پالیسی کی ساکھ کو ظاہر کریں۔ اُن کے مطابق اصل چیلنج پالیسی بنانا نہیں، بلکہ اسے عملی شکل دینا ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر نعمان نے خبردار کیا کہ چونکہ اے آئی ہر 6 سے 12 ماہ میں تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اس لیے پاکستان کو بیوروکریسی نہیں بلکہ جدت کی رفتار سے آگے بڑھنا ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مجوزہ ادارے اگر ٹیکنوکریٹس اور انڈسٹری ماہرین کی سربراہی میں ہوں تو ہی یہ مؤثر ثابت ہوں گے، ورنہ بیوروکریسی کے چنگل میں پھنس کر ان کی افادیت متاثر ہوسکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ نجی شعبے، خاص طور پر اسٹارٹ اپس اور ایس ایم ایز، کو ریگولیٹری سینڈ باکسز، ٹیکس میں نرمی، اور عوامی ڈیٹا سیٹس تک رسائی جیسے اقدامات کے ذریعے جدت کی بنیاد پر ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔</p>
<p>بین الاقوامی تعاون کے حوالے سے ڈاکٹر نعمان نے کہا کہ پاکستان کو فوری اقدامات کے ذریعے عالمی اے آئی اتحادوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ہوگا، بصورتِ دیگر ہم صرف ڈیٹا کے صارف بن جائیں گے، شراکت دار نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275391</guid>
      <pubDate>Sat, 02 Aug 2025 17:04:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/0216483166701f6.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/0216483166701f6.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
