<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زراعت خطرے میں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275387/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جنوری تا جون 2025 کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پاکستانی کسانوں کو مجموعی طور پر 1.26 کھرب روپے سے زائد کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ خبر پرنٹ میڈیا میں نمایاں طور پر شائع ہوئی۔ تاہم ستم ظریفی یہ ہے کہ، دیگر سرکاری و نجی شعبوں کی طرح، یہ نقصان بھی ممکنہ طور پر محض ایک اور خسارہ بن کر رہ جائے گا، بغیر کسی ضروری توجہ یا اصلاحی اقدام کے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسانوں کے نقصان کو دیگر نقصانات سے اس لیے مختلف قرار دیا جا سکتا ہے کہ اس کے براہِ راست اثرات عوام کی غذائی سلامتی پر مرتب ہوتے ہیں۔ اسے نظر انداز کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ اس معاملے کو نہ صرف فوری توجہ کی ضرورت ہے بلکہ اسے وسیع تر عوامی آگاہی اور اس کے ممکنہ اثرات کے تناظر میں اجاگر کرنا بھی ناگزیر ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے بڑا مالی دھچکا چاول اور مکئی کی فصلوں سے آیا، جن کے مشترکہ نقصانات 1 کھرب روپے سے تجاوز کر گئے۔ زرعی برآمدات کے اعداد و شمار بھی کچھ کم تشویشناک نہیں، 2024 کی اسی مدت کے مقابلے میں رواں سال زرعی برآمدات کی مجموعی مالیت میں 1 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اہم برآمدی فصلوں کے حجم میں نمایاں کمی دیکھی گئی: مکئی کی برآمدات میں 70 فیصد، کیلا 69 فیصد، آم 40 فیصد، جبکہ پیاز اور لہسن میں 31،31 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اس تباہی کی مبینہ وجوہات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تباہی کی مبینہ وجوہات میں حکومتی بے حسی، ناقص پالیسیاں اور زرعی مداخل (ان پٹ) کی بے قابو لاگت شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر زرعی شعبے کو غیر یقینی کی کیفیت کی جانب دھکیل رہے ہیں، اگر مکمل زوال کی طرف نہیں تو اُس کے قریب ضرور۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتنی ہی تشویشناک صورتحال بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) کے شعبے کی ہے، جس میں غیر معمولی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی معیشت گزشتہ کئی دہائیوں سے دو بنیادی ستونوں پر قائم رہی ہے: زراعت اور بڑے پیمانے کی صنعت۔ آج یہ دونوں شعبے بیک وقت اور خطرناک حد تک تنزلی کا شکار ہیں۔ یہ محض ایک وقتی مندی (سائیلکل سلمپ) نہیں بلکہ ایک ساختی بگاڑ (اسٹرکچرل ان ریولنگ) ہے جو طویل المدتی معاشی اور مالی استحکام کو شدید خطرے میں ڈال رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کپاس کا شعبہ اس زوال کی ایک نمایاں مثال ہے، جو کبھی پاکستان کی زرعی شناخت اور ٹیکسٹائل برآمدات کی ریڑھ کی ہڈی ہوا کرتا تھا، اب شدید سکڑاؤ کا شکار ہے۔ 1990 کی دہائی میں پاکستان سالانہ 1.3 کروڑ گانٹھوں (بیلز) سے زیادہ کپاس پیدا کرتا تھا، جبکہ آج بمشکل 50 سے 60 لاکھ گانٹھوں تک محدود ہو چکا ہے۔ حالانکہ پاکستان کے پاس کپاس کے لیے موزوں مٹی اور آب و ہوا موجود ہے، لیکن ہم اب کپاس درآمد کرنے پر مجبور ہیں، ایک ایسا رجحان جو پالیسی غفلت، غیر معیاری بیج، کیڑوں کے حملے، اور پانی کے ناقص انتظام کی پیداوار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسان تیزی سے کپاس کی کاشت ترک کر رہے ہیں کیونکہ اس میں منافع کم ہے، زرعی توسیعی خدمات ناکافی ہیں، اور ٹیکنالوجی کی منتقلی نہ ہونے کے برابر ہے۔ بی ٹی کپاس کے متعارف ہونے کے باوجود، ناقص ریگولیشن، تصدیق شدہ بیجوں کی عدم دستیابی اور جعلی زرعی مداخل کے باعث یہ تجربہ ناکام ہو گیا۔ دوسری جانب گنے اور چاول جیسی فصلیں، جنہیں بااثر گروہ سپورٹ کرتے ہیں، نے کپاس کو اہم کاشت علاقوں سے باہر دھکیل دیا، باوجود اس کے کہ یہ فصلیں پانی کی شدید طلب رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کپاس کی تباہی نے ٹیکسٹائل ویلیو چین کو بری طرح متاثر کیا ہے، جننگ سے لے کر اسپننگ اور گارمنٹس مینوفیکچرنگ تک۔ تاہم بحران صرف ٹیکسٹائل انڈسٹری تک محدود نہیں؛ وسیع تر صنعتی شعبہ بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) میں حالیہ برسوں میں نمایاں سکڑاؤ دیکھا گیا ہے۔ مالی سال 2024 میں ٹیکسٹائل، اسٹیل، سیمنٹ اور کیمیکل جیسے کلیدی ذیلی شعبہ جات میں پیداوار 10 فیصد یا اس سے زیادہ کم ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی شعبہ اس وقت متعدد سنگین چیلنجز کی زد میں ہے: توانائی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ اور گیس کی غیر یقینی فراہمی، بلند شرح سود کی وجہ سے ورکنگ کیپیٹل تک رسائی میں رکاوٹ، شرحِ تبادلہ میں بے یقینی اور درآمدات پر پابندیوں نے سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
سب سے سنگین مسئلہ یہ ہے کہ صنعتی پالیسی کا تسلسل نہ ہونا سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً کئی صنعتی یونٹس صرف 50 سے 60 فیصد پیداواری صلاحیت پر کام کر رہے ہیں، جبکہ کچھ مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت قائم خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیز) بھی ابھی تک بھرپور طور پر فعال نہیں ہو سکے۔ برآمد کنندگان کو ریفنڈز میں تاخیر، بڑھتے ہوئے کمپلائنس اخراجات، اور عالمی سطح پر مسابقت میں کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ دوسری جانب، خطے کے حریف ممالک جیسے بنگلہ دیش اور ویتنام پاکستان کی برآمدی منڈی کا حصہ مسلسل چھین رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;زراعت اور صنعت کا زوال محض معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ شعبے نہ صرف روزگار فراہم کرتے ہیں، بلکہ برآمدات کی بنیاد رکھتے اور غذائی و صنعتی سلامتی کو یقینی بناتے ہیں۔ ان کا بکھرنا دیہی غربت میں اضافے، شہری بے روزگاری، تجارتی خسارے، اور مالی گنجائش میں کمی جیسے سنگین نتائج کو جنم دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;زراعت اور صنعت کے دونوں شعبوں کی بحالی کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں، جن پر فوری توجہ دی جا سکتی ہے:&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو قومی سطح پر ’کپاس کی بحالی کا منصوبہ‘ (نیشنل کاٹن ریوائول پلان) اولین ترجیح کے طور پر اپنانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1۔ صنعتی پالیسی کو وقتی بحرانوں سے نمٹنے کے بجائے طویل المدتی منصوبہ بندی کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔ پالیسی سازی کا عمل پیش گوئی کے قابل، باقاعدہ اور ادارہ جاتی بنیادوں پر ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں برآمدکنندگان اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کے لیے توانائی کی قیمتوں کو معقول بنانا، مارک اپ سپورٹ اور رعایتی فنانسنگ کی بحالی، ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی اور پالیسی میں تسلسل یقینی بنانا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2۔ حکومت کو زرعی و صنعتی شعبوں کے درمیان موثر ربط پیدا کرنا ہوگا۔ کپاس پیدا کرنے والے علاقوں کو مربوط ٹیکسٹائل پارکس سے جوڑنا، نقل و حمل کے اخراجات کو کم اور ویلیو ایڈیشن کو بڑھانے میں مددگار ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;3۔ ٹیکنالوجی کا اپنانا اب ایک آپشن نہیں بلکہ ضرورت بن چکا ہے۔ صنعتی عمل کی ڈیجیٹائزیشن اور ایس ایم ایز کو آٹومیشن میں معاونت فراہم کرنا پیداواری صلاحیت میں نمایاں بہتری لا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جنوری تا جون 2025 کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پاکستانی کسانوں کو مجموعی طور پر 1.26 کھرب روپے سے زائد کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ خبر پرنٹ میڈیا میں نمایاں طور پر شائع ہوئی۔ تاہم ستم ظریفی یہ ہے کہ، دیگر سرکاری و نجی شعبوں کی طرح، یہ نقصان بھی ممکنہ طور پر محض ایک اور خسارہ بن کر رہ جائے گا، بغیر کسی ضروری توجہ یا اصلاحی اقدام کے۔</strong></p>
<p>کسانوں کے نقصان کو دیگر نقصانات سے اس لیے مختلف قرار دیا جا سکتا ہے کہ اس کے براہِ راست اثرات عوام کی غذائی سلامتی پر مرتب ہوتے ہیں۔ اسے نظر انداز کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ اس معاملے کو نہ صرف فوری توجہ کی ضرورت ہے بلکہ اسے وسیع تر عوامی آگاہی اور اس کے ممکنہ اثرات کے تناظر میں اجاگر کرنا بھی ناگزیر ہو چکا ہے۔</p>
<p>سب سے بڑا مالی دھچکا چاول اور مکئی کی فصلوں سے آیا، جن کے مشترکہ نقصانات 1 کھرب روپے سے تجاوز کر گئے۔ زرعی برآمدات کے اعداد و شمار بھی کچھ کم تشویشناک نہیں، 2024 کی اسی مدت کے مقابلے میں رواں سال زرعی برآمدات کی مجموعی مالیت میں 1 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اہم برآمدی فصلوں کے حجم میں نمایاں کمی دیکھی گئی: مکئی کی برآمدات میں 70 فیصد، کیلا 69 فیصد، آم 40 فیصد، جبکہ پیاز اور لہسن میں 31،31 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔</p>
<p><strong>اس تباہی کی مبینہ وجوہات</strong></p>
<p>اس تباہی کی مبینہ وجوہات میں حکومتی بے حسی، ناقص پالیسیاں اور زرعی مداخل (ان پٹ) کی بے قابو لاگت شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر زرعی شعبے کو غیر یقینی کی کیفیت کی جانب دھکیل رہے ہیں، اگر مکمل زوال کی طرف نہیں تو اُس کے قریب ضرور۔</p>
<p>اتنی ہی تشویشناک صورتحال بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) کے شعبے کی ہے، جس میں غیر معمولی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔</p>
<p>پاکستانی معیشت گزشتہ کئی دہائیوں سے دو بنیادی ستونوں پر قائم رہی ہے: زراعت اور بڑے پیمانے کی صنعت۔ آج یہ دونوں شعبے بیک وقت اور خطرناک حد تک تنزلی کا شکار ہیں۔ یہ محض ایک وقتی مندی (سائیلکل سلمپ) نہیں بلکہ ایک ساختی بگاڑ (اسٹرکچرل ان ریولنگ) ہے جو طویل المدتی معاشی اور مالی استحکام کو شدید خطرے میں ڈال رہا ہے۔</p>
<p>کپاس کا شعبہ اس زوال کی ایک نمایاں مثال ہے، جو کبھی پاکستان کی زرعی شناخت اور ٹیکسٹائل برآمدات کی ریڑھ کی ہڈی ہوا کرتا تھا، اب شدید سکڑاؤ کا شکار ہے۔ 1990 کی دہائی میں پاکستان سالانہ 1.3 کروڑ گانٹھوں (بیلز) سے زیادہ کپاس پیدا کرتا تھا، جبکہ آج بمشکل 50 سے 60 لاکھ گانٹھوں تک محدود ہو چکا ہے۔ حالانکہ پاکستان کے پاس کپاس کے لیے موزوں مٹی اور آب و ہوا موجود ہے، لیکن ہم اب کپاس درآمد کرنے پر مجبور ہیں، ایک ایسا رجحان جو پالیسی غفلت، غیر معیاری بیج، کیڑوں کے حملے، اور پانی کے ناقص انتظام کی پیداوار ہے۔</p>
<p>کسان تیزی سے کپاس کی کاشت ترک کر رہے ہیں کیونکہ اس میں منافع کم ہے، زرعی توسیعی خدمات ناکافی ہیں، اور ٹیکنالوجی کی منتقلی نہ ہونے کے برابر ہے۔ بی ٹی کپاس کے متعارف ہونے کے باوجود، ناقص ریگولیشن، تصدیق شدہ بیجوں کی عدم دستیابی اور جعلی زرعی مداخل کے باعث یہ تجربہ ناکام ہو گیا۔ دوسری جانب گنے اور چاول جیسی فصلیں، جنہیں بااثر گروہ سپورٹ کرتے ہیں، نے کپاس کو اہم کاشت علاقوں سے باہر دھکیل دیا، باوجود اس کے کہ یہ فصلیں پانی کی شدید طلب رکھتی ہیں۔</p>
<p>کپاس کی تباہی نے ٹیکسٹائل ویلیو چین کو بری طرح متاثر کیا ہے، جننگ سے لے کر اسپننگ اور گارمنٹس مینوفیکچرنگ تک۔ تاہم بحران صرف ٹیکسٹائل انڈسٹری تک محدود نہیں؛ وسیع تر صنعتی شعبہ بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) میں حالیہ برسوں میں نمایاں سکڑاؤ دیکھا گیا ہے۔ مالی سال 2024 میں ٹیکسٹائل، اسٹیل، سیمنٹ اور کیمیکل جیسے کلیدی ذیلی شعبہ جات میں پیداوار 10 فیصد یا اس سے زیادہ کم ہوئی۔</p>
<p>صنعتی شعبہ اس وقت متعدد سنگین چیلنجز کی زد میں ہے: توانائی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ اور گیس کی غیر یقینی فراہمی، بلند شرح سود کی وجہ سے ورکنگ کیپیٹل تک رسائی میں رکاوٹ، شرحِ تبادلہ میں بے یقینی اور درآمدات پر پابندیوں نے سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
سب سے سنگین مسئلہ یہ ہے کہ صنعتی پالیسی کا تسلسل نہ ہونا سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔</p>
<p>نتیجتاً کئی صنعتی یونٹس صرف 50 سے 60 فیصد پیداواری صلاحیت پر کام کر رہے ہیں، جبکہ کچھ مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت قائم خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیز) بھی ابھی تک بھرپور طور پر فعال نہیں ہو سکے۔ برآمد کنندگان کو ریفنڈز میں تاخیر، بڑھتے ہوئے کمپلائنس اخراجات، اور عالمی سطح پر مسابقت میں کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ دوسری جانب، خطے کے حریف ممالک جیسے بنگلہ دیش اور ویتنام پاکستان کی برآمدی منڈی کا حصہ مسلسل چھین رہے ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>زراعت اور صنعت کا زوال محض معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ شعبے نہ صرف روزگار فراہم کرتے ہیں، بلکہ برآمدات کی بنیاد رکھتے اور غذائی و صنعتی سلامتی کو یقینی بناتے ہیں۔ ان کا بکھرنا دیہی غربت میں اضافے، شہری بے روزگاری، تجارتی خسارے، اور مالی گنجائش میں کمی جیسے سنگین نتائج کو جنم دے رہا ہے۔</p>
</blockquote>
<p><strong>زراعت اور صنعت کے دونوں شعبوں کی بحالی کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں، جن پر فوری توجہ دی جا سکتی ہے:</strong></p>
<p>حکومت کو قومی سطح پر ’کپاس کی بحالی کا منصوبہ‘ (نیشنل کاٹن ریوائول پلان) اولین ترجیح کے طور پر اپنانا ہوگا۔</p>
<p>1۔ صنعتی پالیسی کو وقتی بحرانوں سے نمٹنے کے بجائے طویل المدتی منصوبہ بندی کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔ پالیسی سازی کا عمل پیش گوئی کے قابل، باقاعدہ اور ادارہ جاتی بنیادوں پر ہونا چاہیے۔</p>
<p>اس میں برآمدکنندگان اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کے لیے توانائی کی قیمتوں کو معقول بنانا، مارک اپ سپورٹ اور رعایتی فنانسنگ کی بحالی، ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی اور پالیسی میں تسلسل یقینی بنانا شامل ہے۔</p>
<p>2۔ حکومت کو زرعی و صنعتی شعبوں کے درمیان موثر ربط پیدا کرنا ہوگا۔ کپاس پیدا کرنے والے علاقوں کو مربوط ٹیکسٹائل پارکس سے جوڑنا، نقل و حمل کے اخراجات کو کم اور ویلیو ایڈیشن کو بڑھانے میں مددگار ہوگا۔</p>
<p>3۔ ٹیکنالوجی کا اپنانا اب ایک آپشن نہیں بلکہ ضرورت بن چکا ہے۔ صنعتی عمل کی ڈیجیٹائزیشن اور ایس ایم ایز کو آٹومیشن میں معاونت فراہم کرنا پیداواری صلاحیت میں نمایاں بہتری لا سکتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275387</guid>
      <pubDate>Sat, 02 Aug 2025 16:22:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/021534042c7a907.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/021534042c7a907.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
