<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:11:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:11:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی سے سوداگرانہ ساکھ داؤ پر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275380/</link>
      <description>&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ جنہیں ایک سخت گیر مذاکرات کار اور ماہر سوداگر کے طور پر زندگی بھر فائدہ حاصل رہا، اب اپنی اسی ساکھ کو اپنی انتہائی جارحانہ اور تحفظ پسند ٹیرف پالیسی پر آزما رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو وائٹ ہاؤس نے ایک تصویر جاری کی جس میں امریکی صدر اسمارٹ فون کان سے لگائے دکھائی دے رہے ہیں۔ کیپشن تھا: “فون کالز کر رہے ہیں، سودے کر رہے ہیں، امریکہ کو دوبارہ عظیم بنا رہے ہیں!&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر کی جانب سے ہر نئے تجارتی معاہدے کا اعلان — جو ان کے بقول امریکی معاشی طاقت کا مظہر اور محصولات ایک مؤثر ہتھیار ہیں — ان کے حامیوں کی جانب سے ان کی مذاکراتی مہارت کی علامت کے طور پر سراہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ہفتے محصولات میں تبدیلیوں کا اعلان بھی غیر معمولی نہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو سابق رئیل اسٹیٹ ڈیولپر نے ایک سیاہ مارکر کی جنبش سے درجنوں امریکی تجارتی شراکت داروں پر نئی محصولات عائد کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ محصولات اب یکم اگست کے بجائے 7 اگست سے نافذ ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریپبلکن رہنما کی جانب سے بارہا ڈیڈ لائنز مقرر کر کے ان سے پیچھے ہٹنے یا توسیع دینے — جیسا کہ حال ہی میں میکسیکو کو 90 دن کی مہلت دینا — کے باعث ایک طنزیہ مخفف ”TACO“ ( ٹرمپ  آلویز چکنز آؤٹ) سامنے آیا ہے، یعنی “ٹرمپ ہمیشہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں اس قسم کی تنقید ٹرمپ کو ناگوار گزرتی رہی ہے، تاہم اس بار تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شاید وہ پیچھے نہ ہٹیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹلانٹک کونسل تھنک ٹینک کے بین الاقوامی معاشی امور کے ماہر جوش لپسکی کے مطابق اس بار ٹرمپ نے پیچھے ہٹنے کا راستہ نہیں اپنایا۔ان کا کہنا ہے کہ صدر محصولات کے معاملے پر اپنی انتخابی مہم کے وعدوں پر نہ صرف عمل کر رہے ہیں بلکہ بعض صورتوں میں ان سے آگے بھی بڑھ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوش لپسکی نے اے ایف پی کو بتایا کہ صدر محصولات کے حوالے سے اپنی انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں پر نہ صرف عمل کر رہے ہیں بلکہ بعض پہلوؤں میں انہیں پیچھے بھی چھوڑ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایورکور آئی ایس آئی کے پبلک پالیسی تجزیہ کار میتھیو ایکس کا کہنا ہے کہ حالیہ حکم نامے میں کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں، سوائے اس کے کہ تائیوان یا بھارت جیسی کچھ معیشتیں سات روزہ مہلت کے دوران کوئی معاہدہ کر لیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محصولات کے اعلان سے قبل سخت مذاکرات کے بعد ٹرمپ نے یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا سمیت کئی شراکت داروں سے مفاہمت کی، مختلف ٹیکس نرخ طے کیے اور امریکہ میں سرمایہ کاری کی یقین دہانیاں حاصل کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان معاہدوں کی تفصیلات ابھی تک مبہم ہیں، جس سے کئی سوالات موجود ہیں: کیا کچھ ممالک کو استثنیٰ دیا جائے گا؟ گاڑیوں، ادویات، اور سیمی کنڈکٹرز جیسے اہم شعبوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ اور چین سے متعلق کیا پالیسی اپنائی جائے گی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکس کے مطابق امریکی صدر اور دیگر ممالک کے رہنما دانستہ طور پر تفصیلی معاہدوں سے گریز کرتے ہیں تاکہ ہر فریق اپنے عوام کے سامنے ان کو اپنی مرضی کے مطابق مثبت انداز میں پیش کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے لیے، چاہے وہ معاہدے مکمل تفصیلات کے ساتھ ہوں یا بغیر، انہیں انجام تک پہنچانا ان کی سیاسی شناخت کا لازمی جزو ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آرٹ فورم&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی معروف کتاب دی آرٹ آف دی ڈیل میں ٹرمپ لکھتے ہیں کہ سودے کرنا میری فنکاری ہے۔ کچھ لوگ کینوس پر تصویریں بناتے ہیں یا خوبصورت شاعری کرتے ہیں، مجھے سودے کرنا پسند ہے، خاص طور پر بڑے سودے۔ اسی میں مجھے خوشی ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ مزید وضاحت کرتے ہیں کہ وہ ہمیشہ لچکدار رہ کر خود کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں کبھی کسی ایک سودے یا طریقے سے زیادہ وابستہ نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم  ماضی کے یوٹرنز کے باوجود، ٹرمپ نے اپنی تجارتی حکمت عملی سے شاذ و نادر ہی انحراف کیا ہے — اور یہی چیز سیاسی طور پر ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی کے وسط میں کوئنی پیاک یونیورسٹی کے ایک سروے کے مطابق، صرف 40 فیصد افراد نے صدر کی تجارتی پالیسی کی حمایت کی، جب کہ 56 فیصد نے اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ڈونلڈ ٹرمپ جنہیں ایک سخت گیر مذاکرات کار اور ماہر سوداگر کے طور پر زندگی بھر فائدہ حاصل رہا، اب اپنی اسی ساکھ کو اپنی انتہائی جارحانہ اور تحفظ پسند ٹیرف پالیسی پر آزما رہے ہیں۔</p>
<p>جمعہ کو وائٹ ہاؤس نے ایک تصویر جاری کی جس میں امریکی صدر اسمارٹ فون کان سے لگائے دکھائی دے رہے ہیں۔ کیپشن تھا: “فون کالز کر رہے ہیں، سودے کر رہے ہیں، امریکہ کو دوبارہ عظیم بنا رہے ہیں!</p>
<p>صدر کی جانب سے ہر نئے تجارتی معاہدے کا اعلان — جو ان کے بقول امریکی معاشی طاقت کا مظہر اور محصولات ایک مؤثر ہتھیار ہیں — ان کے حامیوں کی جانب سے ان کی مذاکراتی مہارت کی علامت کے طور پر سراہا جاتا ہے۔</p>
<p>اس ہفتے محصولات میں تبدیلیوں کا اعلان بھی غیر معمولی نہ تھا۔</p>
<p>جمعرات کو سابق رئیل اسٹیٹ ڈیولپر نے ایک سیاہ مارکر کی جنبش سے درجنوں امریکی تجارتی شراکت داروں پر نئی محصولات عائد کر دیں۔</p>
<p>یہ محصولات اب یکم اگست کے بجائے 7 اگست سے نافذ ہوں گی۔</p>
<p>ریپبلکن رہنما کی جانب سے بارہا ڈیڈ لائنز مقرر کر کے ان سے پیچھے ہٹنے یا توسیع دینے — جیسا کہ حال ہی میں میکسیکو کو 90 دن کی مہلت دینا — کے باعث ایک طنزیہ مخفف ”TACO“ ( ٹرمپ  آلویز چکنز آؤٹ) سامنے آیا ہے، یعنی “ٹرمپ ہمیشہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔</p>
<p>ماضی میں اس قسم کی تنقید ٹرمپ کو ناگوار گزرتی رہی ہے، تاہم اس بار تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شاید وہ پیچھے نہ ہٹیں۔</p>
<p>اٹلانٹک کونسل تھنک ٹینک کے بین الاقوامی معاشی امور کے ماہر جوش لپسکی کے مطابق اس بار ٹرمپ نے پیچھے ہٹنے کا راستہ نہیں اپنایا۔ان کا کہنا ہے کہ صدر محصولات کے معاملے پر اپنی انتخابی مہم کے وعدوں پر نہ صرف عمل کر رہے ہیں بلکہ بعض صورتوں میں ان سے آگے بھی بڑھ چکے ہیں۔</p>
<p>جوش لپسکی نے اے ایف پی کو بتایا کہ صدر محصولات کے حوالے سے اپنی انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں پر نہ صرف عمل کر رہے ہیں بلکہ بعض پہلوؤں میں انہیں پیچھے بھی چھوڑ رہے ہیں۔</p>
<p>ایورکور آئی ایس آئی کے پبلک پالیسی تجزیہ کار میتھیو ایکس کا کہنا ہے کہ حالیہ حکم نامے میں کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں، سوائے اس کے کہ تائیوان یا بھارت جیسی کچھ معیشتیں سات روزہ مہلت کے دوران کوئی معاہدہ کر لیں۔</p>
<p>محصولات کے اعلان سے قبل سخت مذاکرات کے بعد ٹرمپ نے یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا سمیت کئی شراکت داروں سے مفاہمت کی، مختلف ٹیکس نرخ طے کیے اور امریکہ میں سرمایہ کاری کی یقین دہانیاں حاصل کیں۔</p>
<p>تاہم ان معاہدوں کی تفصیلات ابھی تک مبہم ہیں، جس سے کئی سوالات موجود ہیں: کیا کچھ ممالک کو استثنیٰ دیا جائے گا؟ گاڑیوں، ادویات، اور سیمی کنڈکٹرز جیسے اہم شعبوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ اور چین سے متعلق کیا پالیسی اپنائی جائے گی؟</p>
<p>ایکس کے مطابق امریکی صدر اور دیگر ممالک کے رہنما دانستہ طور پر تفصیلی معاہدوں سے گریز کرتے ہیں تاکہ ہر فریق اپنے عوام کے سامنے ان کو اپنی مرضی کے مطابق مثبت انداز میں پیش کر سکے۔</p>
<p>ٹرمپ کے لیے، چاہے وہ معاہدے مکمل تفصیلات کے ساتھ ہوں یا بغیر، انہیں انجام تک پہنچانا ان کی سیاسی شناخت کا لازمی جزو ہے۔</p>
<p><strong>آرٹ فورم</strong></p>
<p>اپنی معروف کتاب دی آرٹ آف دی ڈیل میں ٹرمپ لکھتے ہیں کہ سودے کرنا میری فنکاری ہے۔ کچھ لوگ کینوس پر تصویریں بناتے ہیں یا خوبصورت شاعری کرتے ہیں، مجھے سودے کرنا پسند ہے، خاص طور پر بڑے سودے۔ اسی میں مجھے خوشی ملتی ہے۔</p>
<p>وہ مزید وضاحت کرتے ہیں کہ وہ ہمیشہ لچکدار رہ کر خود کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>میں کبھی کسی ایک سودے یا طریقے سے زیادہ وابستہ نہیں ہوتا۔</p>
<p>تاہم  ماضی کے یوٹرنز کے باوجود، ٹرمپ نے اپنی تجارتی حکمت عملی سے شاذ و نادر ہی انحراف کیا ہے — اور یہی چیز سیاسی طور پر ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔</p>
<p>جولائی کے وسط میں کوئنی پیاک یونیورسٹی کے ایک سروے کے مطابق، صرف 40 فیصد افراد نے صدر کی تجارتی پالیسی کی حمایت کی، جب کہ 56 فیصد نے اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275380</guid>
      <pubDate>Sat, 02 Aug 2025 13:46:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/0213302293655db.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="683" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/0213302293655db.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
