<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ایس او کیلئے ایکسچینج ریٹ ایڈجسٹمنٹ سے ڈیزل کی قیمت میں اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275375/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) جو ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کا ایک بڑا درآمد کنندہ ہے کے لیے فی لیٹر 3.21 روپے کے ایکسچینج ریٹ ایڈجسٹمنٹ کے باعث اگست کے پہلے پندرہ روزہ جائزے میں ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، ڈیزل کی قیمت میں 1.48 روپے فی لیٹر اضافہ جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 7.54 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیزل کی قیمت میں اضافے کی دیگر وجوہات میں پٹرولیم لیوی میں اضافہ بھی شامل ہے جو 74.51 روپے سے بڑھا کر 77.01 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔ اسی طرح پیٹرول پر بھی پٹرولیم لیوی 75.52 روپے سے بڑھا کر 78.02 روپے فی لیٹر کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 15 اپریل 2025 کو جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس کے تحت پٹرولیم لیوی پر 70 روپے فی لیٹر کی سابقہ حد ختم کر دی گئی تھی۔ بعدازاں فنانس بل 2025-26 کے ذریعے پانچویں شیڈول کی متعلقہ شق حذف کر دی گئی جس سے وفاقی حکومت کو لیوی میں رد و بدل کا مستقل اختیار حاصل ہو گیا اور صدارتی آرڈیننس میں توسیع کی ضرورت بھی ختم ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں آئی ایم ایف سے حاصل کردہ 1.4 ارب ڈالر کے ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی پروگرام پروگرام کی شرائط کے تحت حکومت نے پٹرول اور ڈیزل دونوں پر 2.50 روپے فی لیٹر کاربن لیوی بھی عائد کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیزل پر انٹر-فریٹ ایکوالائزیشن مارجن (آئی ایف ای ایم) میں 20 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس سے یہ 6.04 روپے سے بڑھ کر 6.24 روپے فی لیٹر ہوگیا ہے۔ دوسری طرف پیٹرول پر آئی ایف ای ایم 19 پیسے کم ہو کر 8.89 روپے سے 8.70 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ ڈیزل پر ایوریج آف پلاٹس بمعہ انسیڈنٹلز اور ڈیوٹی کی قیمت 177.89 روپے سے بڑھ کر 180.36 روپے فی لیٹر کر دی گئی، جبکہ پیٹرول کی متعلقہ قیمت 8.26 روپے کی کمی کے بعد 167.51 روپے سے گھٹ کر 159.25 روپے فی لیٹر ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالانہ بنیاد پر پیٹرول کی فروخت میں 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو 7.6 ملین ٹن تک پہنچ گئی۔ یہ اضافہ گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی فروخت اور 2024 کے مقابلے میں نسبتاً کم ایندھن قیمتوں کے باعث ممکن ہوا۔اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت میں 10 فیصد اضافہ دیکھا گیا جو 6.89 ملین ٹن تک جا پہنچی۔ اس کی وجہ سال کے مختلف اوقات میں زرعی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کی سرگرمیوں میں بہتری بتائی گئی، اگرچہ موسمی تغیرات کا اثر کچھ حد تک موجود رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) جو ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کا ایک بڑا درآمد کنندہ ہے کے لیے فی لیٹر 3.21 روپے کے ایکسچینج ریٹ ایڈجسٹمنٹ کے باعث اگست کے پہلے پندرہ روزہ جائزے میں ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔</strong></p>
<p>وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، ڈیزل کی قیمت میں 1.48 روپے فی لیٹر اضافہ جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 7.54 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔</p>
<p>ڈیزل کی قیمت میں اضافے کی دیگر وجوہات میں پٹرولیم لیوی میں اضافہ بھی شامل ہے جو 74.51 روپے سے بڑھا کر 77.01 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔ اسی طرح پیٹرول پر بھی پٹرولیم لیوی 75.52 روپے سے بڑھا کر 78.02 روپے فی لیٹر کر دی گئی۔</p>
<p>واضح رہے کہ 15 اپریل 2025 کو جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس کے تحت پٹرولیم لیوی پر 70 روپے فی لیٹر کی سابقہ حد ختم کر دی گئی تھی۔ بعدازاں فنانس بل 2025-26 کے ذریعے پانچویں شیڈول کی متعلقہ شق حذف کر دی گئی جس سے وفاقی حکومت کو لیوی میں رد و بدل کا مستقل اختیار حاصل ہو گیا اور صدارتی آرڈیننس میں توسیع کی ضرورت بھی ختم ہو گئی۔</p>
<p>علاوہ ازیں آئی ایم ایف سے حاصل کردہ 1.4 ارب ڈالر کے ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی پروگرام پروگرام کی شرائط کے تحت حکومت نے پٹرول اور ڈیزل دونوں پر 2.50 روپے فی لیٹر کاربن لیوی بھی عائد کر دی ہے۔</p>
<p>ڈیزل پر انٹر-فریٹ ایکوالائزیشن مارجن (آئی ایف ای ایم) میں 20 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس سے یہ 6.04 روپے سے بڑھ کر 6.24 روپے فی لیٹر ہوگیا ہے۔ دوسری طرف پیٹرول پر آئی ایف ای ایم 19 پیسے کم ہو کر 8.89 روپے سے 8.70 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔</p>
<p>مزید یہ کہ ڈیزل پر ایوریج آف پلاٹس بمعہ انسیڈنٹلز اور ڈیوٹی کی قیمت 177.89 روپے سے بڑھ کر 180.36 روپے فی لیٹر کر دی گئی، جبکہ پیٹرول کی متعلقہ قیمت 8.26 روپے کی کمی کے بعد 167.51 روپے سے گھٹ کر 159.25 روپے فی لیٹر ہو گئی۔</p>
<p>سالانہ بنیاد پر پیٹرول کی فروخت میں 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو 7.6 ملین ٹن تک پہنچ گئی۔ یہ اضافہ گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی فروخت اور 2024 کے مقابلے میں نسبتاً کم ایندھن قیمتوں کے باعث ممکن ہوا۔اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت میں 10 فیصد اضافہ دیکھا گیا جو 6.89 ملین ٹن تک جا پہنچی۔ اس کی وجہ سال کے مختلف اوقات میں زرعی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کی سرگرمیوں میں بہتری بتائی گئی، اگرچہ موسمی تغیرات کا اثر کچھ حد تک موجود رہا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275375</guid>
      <pubDate>Sat, 02 Aug 2025 11:36:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وسیم اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/021129581021299.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/021129581021299.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
