<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:48:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:48:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ساہیوال پاور پلانٹ کو ریلوے ویگنوں کی شدید کمی، قومی گرڈ کے استحکام کو خطرہ لاحق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275373/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ساہیوال میں کوئلے سے چلنے والے 1,320 میگاواٹ کے پاور پلانٹ نے کراچی بندرگاہوں سے پلانٹ تک کوئلہ پہنچانے کے لیے ریلوے ویگنوں کی شدید قلت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق، اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو پلانٹ کی بندش ناگزیر ہو سکتی ہے، جو قومی گرڈ کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منصوبہ ہواننگ شاندونگ رویی (پاکستان) انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ ایس آر ایل) چلا رہی ہے جو کہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا ایک فلیگ شپ پروجیکٹ ہے۔ کمپنی پہلے ہی مرکزی پاور پرچیزنگ ایجنسی – گارنٹی (سی پی پی اے جی) کی جانب سے واجبات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ای او ایچ ایس آر ایل  لیو زینگ رُوئی نے وزیراعظم کے معاون خصوصی کو ایک خط میں خبردار کیا ہے کہ پاکستان ریلوے کی ناکافی کوئلہ نقل و حمل کی صلاحیت اور نیشنل پاور کنٹرول سینٹر (این پی سی سی) کی جانب سے اعلیٰ پاور ڈسپیچ کے درمیان بڑھتا ہوا عدم توازن نہایت تشویشناک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈسپیچ شیڈول میں بہتری کے بغیر یہی صورتحال جاری رہی تو پلانٹ پر موجود کوئلے کا ذخیرہ اگست کے وسط تک 50,000 ٹن سے نیچے آ جائے گا، جو بجلی کی پیداوار کے تسلسل کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باوجود مسلسل رابطوں اور زبانی یقین دہانیوں کے، یومیہ اوسطاً صرف 540 سے 590 ویگنز دستیاب ہیں، جو تقریباً 2.5 ٹرینوں کے برابر ہیں، جبکہ ضرورت پانچ ٹرینوں یعنی تقریباً 1,000 ویگنز یومیہ کی ہے۔ یہ فرق کوئلہ کی بروقت فراہمی میں رکاوٹ بن رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاملے کی سنگینی کو مزید اجاگر کرنے کے لیے گزشتہ تین مہینوں میں ویگنز کی فراہمی کی صورتحال درج ذیل ہے:(1) مئی 2025 میں 6,200  ویگنز کی طلب تھی مگر صرف 3,019 ویگنز موصول ہوئے، جس سے 3,181 ویگنز (51.30 فیصد) کی کمی رہی؛(2) جون 2025 میں 5,800 خالی ویگنز کی ضرورت تھی لیکن صرف 2,923 ویگنز فراہم کیے گئے جس سے 2,877 ویگنز (49.60 فیصد) کا فرق پڑا؛(3) جولائی 2025 میں 5,800 خالی ویگنز کی طلب تھی مگر صرف 3,001 ویگنز فراہم ہوئے جس سے 2,799 ویگنز (44.81 فیصد) کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
:
کمپنی کا کہنا ہے کہ ویگنز کی اس مسلسل قلت کی وجہ سے بندرگاہوں پر موجود کوئلہ پلانٹ تک بروقت نہیں پہنچایا جارہا، جس سے بجلی کی پیداوار شدید متاثر ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً بندرگاہ اور ٹرمینل کے یارڈز پر جمع شدہ کوئلے کی مقدار کچھ یوں ہے:(1) تقریباً 500,000 میٹرک ٹن کوئلہ اس وقت کراچی بندرگاہوں پر دستیاب ہے؛(2) اگست میں چار بحری جہاز پاکستان کوسٹل اتھارٹی (PQA) پر پہنچنے والے ہیں جن میں کل 170,000 میٹرک ٹن کوئلہ لایا جائے گا؛(3) اس سال کے اعلیٰ ڈسپیچ کی بنیاد پر، ستمبر سے نومبر کے دوران نافذ کرنے کے لیے مزید 11 پوزیشن آرڈرز (پی او ایس) ہیں جن میں کل 470,000 میٹرک ٹن کوئلہ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے مطابق، پاکستان ریلوے میں خراب شدہ ویگنز (Damaged Wagons) کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، جبکہ قابل استعمال ویگنز کی دستیابی گھٹتی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی دیگر پاور پلانٹس اور کمرشل کلائنٹس بھی انہی ویگنز پر انحصار کر رہے ہیں، جس سے موجودہ بیڑے پر اضافی دباؤ پڑ رہا ہے اور طلب پوری نہیں ہو پا رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور کمپنی نے پاکستان کے متعلقہ محکموں سے پالیسی سطح پر مداخلت کی درخواست کی ہے تاکہ درج ذیل فوری اقدامات پر غور کیا جائے:
(1) مناسب ویگن الاؤنس کو یقینی بنانے کے لیے مربوط حکمت عملی بنائی جائے تاکہ روزانہ کوئلہ کی نقل و حمل موجودہ پاور جنریشن شیڈول کے مطابق ہو؛(2) اگر پاکستان ریلوے کی نقل و حمل کی محدودیات فوری طور پر حل نہیں کی جا سکتیں تو درخواست ہے کہ گرڈ سے پلانٹ کو دی جانے والی ڈسپیچ لوڈ کو عارضی طور پر کم کیا جائے تاکہ یہ پاکستان ریلوے کی روزانہ حقیقی نقل و حمل کی صلاحیت کے مطابق ہو جائے؛(3) چونکہ کمپنی کے پاس بندرگاہ پر کافی کوئلہ اسٹاک موجود ہے لیکن نقل و حمل میں رکاوٹیں ہیں، اس لیے درخواست کی گئی ہے کہ کوئلے کی کمی کی وجہ سے پلانٹ کی بندش کی صورت میں کسی بھی قسم کیپیسٹی پیمنٹ میں کٹوتی یا لیکویڈیٹی کے نقصانات عائد نہ کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے پاکستان ریلوے سے درخواست کی ہے کہ کوئلہ کی نقل و حمل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خراب ویگنز کی مرمت اور دوبارہ فعال کرنے کے عمل کو تیز کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے پاکستان ریلوے سے ویگنز کی دستیابی کو بہتر بنانے کے لیے ان کے طویل مدتی آپریشنل منصوبے کے بارے میں تحریری اپ ڈیٹ بھی طلب کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ساہیوال میں کوئلے سے چلنے والے 1,320 میگاواٹ کے پاور پلانٹ نے کراچی بندرگاہوں سے پلانٹ تک کوئلہ پہنچانے کے لیے ریلوے ویگنوں کی شدید قلت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق، اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو پلانٹ کی بندش ناگزیر ہو سکتی ہے، جو قومی گرڈ کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔</strong></p>
<p>یہ منصوبہ ہواننگ شاندونگ رویی (پاکستان) انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ ایس آر ایل) چلا رہی ہے جو کہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا ایک فلیگ شپ پروجیکٹ ہے۔ کمپنی پہلے ہی مرکزی پاور پرچیزنگ ایجنسی – گارنٹی (سی پی پی اے جی) کی جانب سے واجبات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔</p>
<p>سی ای او ایچ ایس آر ایل  لیو زینگ رُوئی نے وزیراعظم کے معاون خصوصی کو ایک خط میں خبردار کیا ہے کہ پاکستان ریلوے کی ناکافی کوئلہ نقل و حمل کی صلاحیت اور نیشنل پاور کنٹرول سینٹر (این پی سی سی) کی جانب سے اعلیٰ پاور ڈسپیچ کے درمیان بڑھتا ہوا عدم توازن نہایت تشویشناک ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈسپیچ شیڈول میں بہتری کے بغیر یہی صورتحال جاری رہی تو پلانٹ پر موجود کوئلے کا ذخیرہ اگست کے وسط تک 50,000 ٹن سے نیچے آ جائے گا، جو بجلی کی پیداوار کے تسلسل کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔</p>
<p>باوجود مسلسل رابطوں اور زبانی یقین دہانیوں کے، یومیہ اوسطاً صرف 540 سے 590 ویگنز دستیاب ہیں، جو تقریباً 2.5 ٹرینوں کے برابر ہیں، جبکہ ضرورت پانچ ٹرینوں یعنی تقریباً 1,000 ویگنز یومیہ کی ہے۔ یہ فرق کوئلہ کی بروقت فراہمی میں رکاوٹ بن رہا ہے۔</p>
<p>اس معاملے کی سنگینی کو مزید اجاگر کرنے کے لیے گزشتہ تین مہینوں میں ویگنز کی فراہمی کی صورتحال درج ذیل ہے:(1) مئی 2025 میں 6,200  ویگنز کی طلب تھی مگر صرف 3,019 ویگنز موصول ہوئے، جس سے 3,181 ویگنز (51.30 فیصد) کی کمی رہی؛(2) جون 2025 میں 5,800 خالی ویگنز کی ضرورت تھی لیکن صرف 2,923 ویگنز فراہم کیے گئے جس سے 2,877 ویگنز (49.60 فیصد) کا فرق پڑا؛(3) جولائی 2025 میں 5,800 خالی ویگنز کی طلب تھی مگر صرف 3,001 ویگنز فراہم ہوئے جس سے 2,799 ویگنز (44.81 فیصد) کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
:
کمپنی کا کہنا ہے کہ ویگنز کی اس مسلسل قلت کی وجہ سے بندرگاہوں پر موجود کوئلہ پلانٹ تک بروقت نہیں پہنچایا جارہا، جس سے بجلی کی پیداوار شدید متاثر ہو رہی ہے۔</p>
<p>نتیجتاً بندرگاہ اور ٹرمینل کے یارڈز پر جمع شدہ کوئلے کی مقدار کچھ یوں ہے:(1) تقریباً 500,000 میٹرک ٹن کوئلہ اس وقت کراچی بندرگاہوں پر دستیاب ہے؛(2) اگست میں چار بحری جہاز پاکستان کوسٹل اتھارٹی (PQA) پر پہنچنے والے ہیں جن میں کل 170,000 میٹرک ٹن کوئلہ لایا جائے گا؛(3) اس سال کے اعلیٰ ڈسپیچ کی بنیاد پر، ستمبر سے نومبر کے دوران نافذ کرنے کے لیے مزید 11 پوزیشن آرڈرز (پی او ایس) ہیں جن میں کل 470,000 میٹرک ٹن کوئلہ شامل ہے۔</p>
<p>کے مطابق، پاکستان ریلوے میں خراب شدہ ویگنز (Damaged Wagons) کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، جبکہ قابل استعمال ویگنز کی دستیابی گھٹتی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی دیگر پاور پلانٹس اور کمرشل کلائنٹس بھی انہی ویگنز پر انحصار کر رہے ہیں، جس سے موجودہ بیڑے پر اضافی دباؤ پڑ رہا ہے اور طلب پوری نہیں ہو پا رہی۔</p>
<p>پاور کمپنی نے پاکستان کے متعلقہ محکموں سے پالیسی سطح پر مداخلت کی درخواست کی ہے تاکہ درج ذیل فوری اقدامات پر غور کیا جائے:
(1) مناسب ویگن الاؤنس کو یقینی بنانے کے لیے مربوط حکمت عملی بنائی جائے تاکہ روزانہ کوئلہ کی نقل و حمل موجودہ پاور جنریشن شیڈول کے مطابق ہو؛(2) اگر پاکستان ریلوے کی نقل و حمل کی محدودیات فوری طور پر حل نہیں کی جا سکتیں تو درخواست ہے کہ گرڈ سے پلانٹ کو دی جانے والی ڈسپیچ لوڈ کو عارضی طور پر کم کیا جائے تاکہ یہ پاکستان ریلوے کی روزانہ حقیقی نقل و حمل کی صلاحیت کے مطابق ہو جائے؛(3) چونکہ کمپنی کے پاس بندرگاہ پر کافی کوئلہ اسٹاک موجود ہے لیکن نقل و حمل میں رکاوٹیں ہیں، اس لیے درخواست کی گئی ہے کہ کوئلے کی کمی کی وجہ سے پلانٹ کی بندش کی صورت میں کسی بھی قسم کیپیسٹی پیمنٹ میں کٹوتی یا لیکویڈیٹی کے نقصانات عائد نہ کیے جائیں۔</p>
<p>کمپنی نے پاکستان ریلوے سے درخواست کی ہے کہ کوئلہ کی نقل و حمل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خراب ویگنز کی مرمت اور دوبارہ فعال کرنے کے عمل کو تیز کیا جائے۔</p>
<p>کمپنی نے پاکستان ریلوے سے ویگنز کی دستیابی کو بہتر بنانے کے لیے ان کے طویل مدتی آپریشنل منصوبے کے بارے میں تحریری اپ ڈیٹ بھی طلب کی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275373</guid>
      <pubDate>Sat, 02 Aug 2025 11:07:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/02105706e731a5f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/02105706e731a5f.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
