<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوئٹہ چیمبر کی ایران اور افغانستان کے ساتھ تجارت میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275372/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران سے سیکڑوں اشیاء درآمد کرنے کے باوجود، پاکستان ہمسایہ ملک کو صرف 10 اشیاء برآمد کرتا ہے، جو دو طرفہ تجارت میں شدید عدم توازن کو ظاہر کرتا ہے اور جس پر کوئٹہ چیمبر آف کامرس نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیمبر کے نمائندوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو پاکستان-ایران اور پاکستان-افغانستان بارڈر علاقوں کے ذریعے تجارتی سرگرمیاں انجام دینے میں مقامی تاجروں کو درپیش بڑے چیلنجز سے تفصیل سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ان مسائل کو کوئٹہ چیمبر  نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں برائے خزانہ اور تجارت کے مشترکہ اجلاس کے دوران چیمبر کے عہدیداروں اور اراکین کے ساتھ اجلاس میں اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر چیمبر کے صدر محمد ایوب مریانی، سینئر نائب صدر حاجی اختر کاکڑ، نائب صدر انجینئر میر وائز خان اور دیگر عہدیداران نے بتایا کہ انہوں نے نہ صرف ایران اور افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت میں حائل رکاوٹوں سے اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا ہے بلکہ اس حوالے سے افغان اور ایرانی حکام سے براہِ راست مذاکرات بھی کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیمبر کے صدر مریانی ودیگر نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ ای آئی ایف فارم کی شرط کے باعث دو طرفہ تجارت مکمل طور پر رک گئی ہے اور پاکستانی مال بردار ٹرکوں کو ایران میں بلاوجہ 15 سے 20 دن تک روک کر رکھا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان صرف 10 اشیاء ایران کو برآمد کرتا ہے، جبکہ ایران سے سینکڑوں اشیاء درآمد کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ توثیق  اور ویزا فیسوں میں اضافے پر بھی شکایات کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایران کے ساتھ قائم مشترکہ اقتصادی فورم اور مشترکہ بارڈر ٹریڈ کمیٹی پر بھی گفتگو کی اور افسوس کا اظہار کیا کہ بدقسمتی سے اقتصادی فورم اور بارڈر کمیٹی کی سفارشات پر کسی بھی ملک نے عملدرآمد نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقتصادی فورم اور بارڈر کمیٹی کو یکجا کرتے وقت وفاقی وزارتِ تجارت و خزانہ کے حکام اور وزیرِاعظم کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے تاکہ معاملات کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بدینی بارڈر کے کھولنے اور پھر اچانک بند کرنے، قمرالدین کاریز بارڈر کی بحالی، بارڈر مارکیٹوں کی غیر فعالیت اور دیگر مسائل پر تحفظات کا اظہار کیا اور ان کے حل کے لیے تجاویز پیش کیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر چمن اور تافتان بارڈرز پر کولڈ اسٹوریج، ایل پی جی ٹرمینلز اور دیگر مسائل کو حل کر لیا جائے تو ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ سے اسلام آباد میں پاکستان-ایران اور پاکستان-افغانستان کے درمیان دو طرفہ تجارت سے متعلق شکایات موصول ہو رہی تھیں، اسی لیے فیصلہ کیا گیا کہ یہاں آ کر متعلقہ فریقین کی بات سنی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے صوبائی حکومت کو بھی اعتماد میں لیا گیا ہے۔ بعض مسائل یہیں موقع پر حل کیے جائیں گے، جبکہ دیگر کو اعلیٰ حکام تک پہنچایا جائے گا۔ ہم ان شکایات اور تحفظات کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں جو یہاں سنے گئے ہیں۔ ہمارا مقصد بلوچستان میں محرومی اور پسماندگی کے احساس کا خاتمہ ہے، اگر ہم یہ مسائل اجتماعی طور پر حل نہ کر سکے تو یہ وفاق کی ناکامی تصور ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہاں بارڈر سے متعلق مسائل پر تفصیلی بات چیت کی گئی ہے، اور آئندہ دورے میں وہ چمن اور تافتان کا بھی جائزہ لیں گے تاکہ صورتحال کو قریب سے دیکھا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی قونصل جنرل نے انہیں مسائل کی ایک فہرست فراہم کی ہے، جبکہ بلوچستان کی کاروباری برادری نے بھی اپنے مسائل سے آگاہ کیا ہے۔ یہ تمام نکات ایرانی صدر اور ان کے ساتھ آنے والے اعلیٰ سطح وفد کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وضاحت کی کہ سرحدیں بند نہیں کی گئیں — صرف اسمگلنگ پر قابو پایا گیا ہے۔ اگر مکمل آزادی دے دی جائے تو چینی اور دیگر اشیاء مزید مہنگی ہو جائیں گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایرانی پیٹرول ٹوکن سسٹم کے تحت آرہا ہے لیکن یہ ٹینکروں کے ذریعے نہیں لایا جا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایران پر عالمی اقتصادی پابندیاں  پائپ لائن منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ جب بھی اس حوالے سے کوئی پیش رفت کی جاتی ہے، پاکستان کو بھی پابندیوں کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ تاہم، یہ منصوبہ مکمل ہونا چاہیے کیونکہ اس کا کوئی عسکری یا جنگی مقصد نہیں، بلکہ یہ خالصتاً عوامی فلاح کے لیے ہے۔ اس معاملے پر بات چیت جاری ہے۔ ہمارا کام تجارت کو محدود کرنا نہیں بلکہ اسے سہولت فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کی چیئرپرسن انوشہ رحمان نے کہا ہے کہ برادر ہمسایہ اسلامی ملک ایران کے ساتھ بارٹر اور بارڈر تجارت آزادانہ اور برابری کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ دو طرفہ تجارت میں حائل رکاوٹوں اور مشکلات کے حوالے سے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد سفارشات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کے لیے الگ ایس آر او چاہتے ہیں تاکہ ایران کے ساتھ تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران سے سیکڑوں اشیاء درآمد کرنے کے باوجود، پاکستان ہمسایہ ملک کو صرف 10 اشیاء برآمد کرتا ہے، جو دو طرفہ تجارت میں شدید عدم توازن کو ظاہر کرتا ہے اور جس پر کوئٹہ چیمبر آف کامرس نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔</strong></p>
<p>چیمبر کے نمائندوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو پاکستان-ایران اور پاکستان-افغانستان بارڈر علاقوں کے ذریعے تجارتی سرگرمیاں انجام دینے میں مقامی تاجروں کو درپیش بڑے چیلنجز سے تفصیل سے آگاہ کیا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق ان مسائل کو کوئٹہ چیمبر  نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں برائے خزانہ اور تجارت کے مشترکہ اجلاس کے دوران چیمبر کے عہدیداروں اور اراکین کے ساتھ اجلاس میں اٹھایا۔</p>
<p>اس موقع پر چیمبر کے صدر محمد ایوب مریانی، سینئر نائب صدر حاجی اختر کاکڑ، نائب صدر انجینئر میر وائز خان اور دیگر عہدیداران نے بتایا کہ انہوں نے نہ صرف ایران اور افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت میں حائل رکاوٹوں سے اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا ہے بلکہ اس حوالے سے افغان اور ایرانی حکام سے براہِ راست مذاکرات بھی کیے ہیں۔</p>
<p>چیمبر کے صدر مریانی ودیگر نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ ای آئی ایف فارم کی شرط کے باعث دو طرفہ تجارت مکمل طور پر رک گئی ہے اور پاکستانی مال بردار ٹرکوں کو ایران میں بلاوجہ 15 سے 20 دن تک روک کر رکھا جارہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان صرف 10 اشیاء ایران کو برآمد کرتا ہے، جبکہ ایران سے سینکڑوں اشیاء درآمد کی جاتی ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ توثیق  اور ویزا فیسوں میں اضافے پر بھی شکایات کی گئیں۔</p>
<p>انہوں نے ایران کے ساتھ قائم مشترکہ اقتصادی فورم اور مشترکہ بارڈر ٹریڈ کمیٹی پر بھی گفتگو کی اور افسوس کا اظہار کیا کہ بدقسمتی سے اقتصادی فورم اور بارڈر کمیٹی کی سفارشات پر کسی بھی ملک نے عملدرآمد نہیں کیا۔</p>
<p>انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقتصادی فورم اور بارڈر کمیٹی کو یکجا کرتے وقت وفاقی وزارتِ تجارت و خزانہ کے حکام اور وزیرِاعظم کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے تاکہ معاملات کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے بدینی بارڈر کے کھولنے اور پھر اچانک بند کرنے، قمرالدین کاریز بارڈر کی بحالی، بارڈر مارکیٹوں کی غیر فعالیت اور دیگر مسائل پر تحفظات کا اظہار کیا اور ان کے حل کے لیے تجاویز پیش کیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر چمن اور تافتان بارڈرز پر کولڈ اسٹوریج، ایل پی جی ٹرمینلز اور دیگر مسائل کو حل کر لیا جائے تو ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔</p>
<p>اس موقع پر چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ سے اسلام آباد میں پاکستان-ایران اور پاکستان-افغانستان کے درمیان دو طرفہ تجارت سے متعلق شکایات موصول ہو رہی تھیں، اسی لیے فیصلہ کیا گیا کہ یہاں آ کر متعلقہ فریقین کی بات سنی جائے۔</p>
<p>اس حوالے سے صوبائی حکومت کو بھی اعتماد میں لیا گیا ہے۔ بعض مسائل یہیں موقع پر حل کیے جائیں گے، جبکہ دیگر کو اعلیٰ حکام تک پہنچایا جائے گا۔ ہم ان شکایات اور تحفظات کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں جو یہاں سنے گئے ہیں۔ ہمارا مقصد بلوچستان میں محرومی اور پسماندگی کے احساس کا خاتمہ ہے، اگر ہم یہ مسائل اجتماعی طور پر حل نہ کر سکے تو یہ وفاق کی ناکامی تصور ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہاں بارڈر سے متعلق مسائل پر تفصیلی بات چیت کی گئی ہے، اور آئندہ دورے میں وہ چمن اور تافتان کا بھی جائزہ لیں گے تاکہ صورتحال کو قریب سے دیکھا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی قونصل جنرل نے انہیں مسائل کی ایک فہرست فراہم کی ہے، جبکہ بلوچستان کی کاروباری برادری نے بھی اپنے مسائل سے آگاہ کیا ہے۔ یہ تمام نکات ایرانی صدر اور ان کے ساتھ آنے والے اعلیٰ سطح وفد کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔</p>
<p>انہوں نے وضاحت کی کہ سرحدیں بند نہیں کی گئیں — صرف اسمگلنگ پر قابو پایا گیا ہے۔ اگر مکمل آزادی دے دی جائے تو چینی اور دیگر اشیاء مزید مہنگی ہو جائیں گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایرانی پیٹرول ٹوکن سسٹم کے تحت آرہا ہے لیکن یہ ٹینکروں کے ذریعے نہیں لایا جا رہا۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایران پر عالمی اقتصادی پابندیاں  پائپ لائن منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ جب بھی اس حوالے سے کوئی پیش رفت کی جاتی ہے، پاکستان کو بھی پابندیوں کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ تاہم، یہ منصوبہ مکمل ہونا چاہیے کیونکہ اس کا کوئی عسکری یا جنگی مقصد نہیں، بلکہ یہ خالصتاً عوامی فلاح کے لیے ہے۔ اس معاملے پر بات چیت جاری ہے۔ ہمارا کام تجارت کو محدود کرنا نہیں بلکہ اسے سہولت فراہم کرنا ہے۔</p>
<p>سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کی چیئرپرسن انوشہ رحمان نے کہا ہے کہ برادر ہمسایہ اسلامی ملک ایران کے ساتھ بارٹر اور بارڈر تجارت آزادانہ اور برابری کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ دو طرفہ تجارت میں حائل رکاوٹوں اور مشکلات کے حوالے سے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد سفارشات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کے لیے الگ ایس آر او چاہتے ہیں تاکہ ایران کے ساتھ تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275372</guid>
      <pubDate>Sat, 02 Aug 2025 10:47:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/0210453830b1697.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/0210453830b1697.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
