<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:45:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:45:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے امریکہ سے خطے میں سب سے بہتر معاہدہ حاصل کیا، مشیرِ خزانہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275371/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے امریکہ کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں ایک غیرمعمولی پیش رفت حاصل کی ہے جس کے نتیجے میں ملک کو خطے میں بے مثال اقتصادی مواقع حاصل ہوئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ کے مشیر، خرم شہزاد کے مطابق جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے کسی بھی ملک کو ایسا معاہدہ نہیں ملا، جس میں اتنے کم محصولات اور سرمایہ کاری کے اتنے وسیع امکانات شامل ہوں، جتنے امریکہ نے پاکستان کو فراہم کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خرم شہزاد کا اشارہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کی طرف تھا، جس کے تحت درجنوں تجارتی شراکت داروں کی برآمدات پر نئی محصولات عائد کی گئیں، جن میں پاکستانی مصنوعات پر ٹیکس کی شرح 29 فیصد سے کم کر کے 19 فیصد کر دی گئی۔ یہ اعلان اُس دن کیا گیا جب پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق پاکستان پر 19 فیصد محصولات یکم اگست سے نافذ العمل ہو چکے ہیں جب کہ خطے کے دیگر ممالک اب بھی زیادہ شرح پر تجارت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسٹیٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان  کی بجٹ 2025-26 کی رپورٹ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے خرم شہزاد نے بتایا کہ امریکہ نے پاکستان کے توانائی شعبے، بالخصوص تیل و گیس میں سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے—جو کہ ایک نہایت اہم شعبہ ہے کیونکہ ملک کی درآمدی لاگت کا تقریباً 90 فیصد توانائی پر مشتمل ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ سرمایہ کاری آئندہ 20 سے 25 برسوں میں پاکستان کے توانائی کے بوجھ میں نمایاں کمی لا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس معاہدے کو تجارتی مذاکرات میں ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے امریکی محصولات میں ایک نسبتاً برتری حاصل کی ہے اور اب یہ نجی شعبے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائے اور مؤثر تجارتی معاہدے کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی حالیہ محصولات میں اصلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد درآمدی ڈیوٹیز میں کمی کے ذریعے مقامی صنعتوں کو سہارا دینا اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔ اُن کے مطابق پاکستان عملاً ایک بند معیشت کی شکل اختیار کرچکا تھا لیکن اب ہم ایک زیادہ کھلی اور مسابقتی اقتصادی ماڈل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خرم شہزاد نے مزید کہا کہ اب معاشی پالیسی کی سمت درست ہو چکی ہے اور اس کے ثمرات متوسط اور نچلے آمدنی والے طبقے تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ مہنگائی کی شرح دیگر ہم پلہ معیشتوں کے مقابلے میں کم ہو رہی ہے اور انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ حکومت کا کردار معیشت کو کنٹرول کرنا نہیں بلکہ اسے سہولت فراہم کرنا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم کاروبار کرنے کے لیے نہیں، بلکہ عوام کو بااختیار بنانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خرم شہزاد نے مقامی کاروبار کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ چھوٹے کاروباری اداروں کو قرضے فراہم کرنے کے لیے مختلف بینکوں کے ساتھ معاہدے ہوچکے ہیں۔ ٹیکس کے شعبے میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے دوران ٹیکس نیٹ میں وسعت، عملدرآمد اور تعمیل میں نمایاں بہتری آئی ہے اور آئندہ مالی سال میں مزید بہتری کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق اور اختراع کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے شہزاد انہوں نے زور دیا کہ وہ ایک انکیوبیشن سینٹر قائم کرے اور نوجوان پیشہ ور افراد کو نئی سوچ اور اختراعی خیالات پیش کرنے کی ترغیب دے۔ انہوں نے کہا کہ نالج اکانومی کو صرف میرٹ، تنقیدی سوچ، اور معروضی تجزیے کی بنیاد پر ہی مضبوط کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے امریکہ کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں ایک غیرمعمولی پیش رفت حاصل کی ہے جس کے نتیجے میں ملک کو خطے میں بے مثال اقتصادی مواقع حاصل ہوئے ہیں۔</strong></p>
<p>وزیرِ خزانہ کے مشیر، خرم شہزاد کے مطابق جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے کسی بھی ملک کو ایسا معاہدہ نہیں ملا، جس میں اتنے کم محصولات اور سرمایہ کاری کے اتنے وسیع امکانات شامل ہوں، جتنے امریکہ نے پاکستان کو فراہم کیے ہیں۔</p>
<p>خرم شہزاد کا اشارہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کی طرف تھا، جس کے تحت درجنوں تجارتی شراکت داروں کی برآمدات پر نئی محصولات عائد کی گئیں، جن میں پاکستانی مصنوعات پر ٹیکس کی شرح 29 فیصد سے کم کر کے 19 فیصد کر دی گئی۔ یہ اعلان اُس دن کیا گیا جب پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دی گئی۔</p>
<p>ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق پاکستان پر 19 فیصد محصولات یکم اگست سے نافذ العمل ہو چکے ہیں جب کہ خطے کے دیگر ممالک اب بھی زیادہ شرح پر تجارت کر رہے ہیں۔</p>
<p>انسٹیٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان  کی بجٹ 2025-26 کی رپورٹ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے خرم شہزاد نے بتایا کہ امریکہ نے پاکستان کے توانائی شعبے، بالخصوص تیل و گیس میں سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے—جو کہ ایک نہایت اہم شعبہ ہے کیونکہ ملک کی درآمدی لاگت کا تقریباً 90 فیصد توانائی پر مشتمل ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ سرمایہ کاری آئندہ 20 سے 25 برسوں میں پاکستان کے توانائی کے بوجھ میں نمایاں کمی لا سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے اس معاہدے کو تجارتی مذاکرات میں ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے امریکی محصولات میں ایک نسبتاً برتری حاصل کی ہے اور اب یہ نجی شعبے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائے اور مؤثر تجارتی معاہدے کرے۔</p>
<p>حکومت کی حالیہ محصولات میں اصلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد درآمدی ڈیوٹیز میں کمی کے ذریعے مقامی صنعتوں کو سہارا دینا اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔ اُن کے مطابق پاکستان عملاً ایک بند معیشت کی شکل اختیار کرچکا تھا لیکن اب ہم ایک زیادہ کھلی اور مسابقتی اقتصادی ماڈل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔</p>
<p>خرم شہزاد نے مزید کہا کہ اب معاشی پالیسی کی سمت درست ہو چکی ہے اور اس کے ثمرات متوسط اور نچلے آمدنی والے طبقے تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ مہنگائی کی شرح دیگر ہم پلہ معیشتوں کے مقابلے میں کم ہو رہی ہے اور انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ حکومت کا کردار معیشت کو کنٹرول کرنا نہیں بلکہ اسے سہولت فراہم کرنا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم کاروبار کرنے کے لیے نہیں، بلکہ عوام کو بااختیار بنانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے موجود ہیں۔</p>
<p>خرم شہزاد نے مقامی کاروبار کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ چھوٹے کاروباری اداروں کو قرضے فراہم کرنے کے لیے مختلف بینکوں کے ساتھ معاہدے ہوچکے ہیں۔ ٹیکس کے شعبے میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے دوران ٹیکس نیٹ میں وسعت، عملدرآمد اور تعمیل میں نمایاں بہتری آئی ہے اور آئندہ مالی سال میں مزید بہتری کی توقع ہے۔</p>
<p>تحقیق اور اختراع کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے شہزاد انہوں نے زور دیا کہ وہ ایک انکیوبیشن سینٹر قائم کرے اور نوجوان پیشہ ور افراد کو نئی سوچ اور اختراعی خیالات پیش کرنے کی ترغیب دے۔ انہوں نے کہا کہ نالج اکانومی کو صرف میرٹ، تنقیدی سوچ، اور معروضی تجزیے کی بنیاد پر ہی مضبوط کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275371</guid>
      <pubDate>Sat, 02 Aug 2025 10:37:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد ثاقب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/02103457db4456f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="854" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/02103457db4456f.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
