<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 08:30:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 08:30:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کے الیکٹرک کے سی ای او کو ہٹانے کا محتسب کا فیصلہ سندھ ہائی کورٹ نے معطل کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275364/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سندھ ہائی کورٹ نے جمعہ کے روز صوبائی محتسب کی جانب سے کےالیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مونس علوی کو عہدے سے ہٹانے کا حکم معطل کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک نے اس پیش رفت سے متعلق پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو باقاعدہ اطلاع دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سی ای او نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس پر عدالت نے 31 جولائی 2025 کے محتسب کے حکم پر عمل درآمد روک دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک روز قبل خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ فراہم کرنے والے سندھ کے محتسب جسٹس (ر) شاہنواز طارق نے مونس علوی کو ہراسانی کے ایک مقدمے میں مبینہ ملوث ہونے پر کے الیکٹرک کے سی ای او کے عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکم نامے کے مطابق مونس علوی پر 25 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ مونس عبداللہ علوی کو ایکٹ 2010 کی دفعہ 4(4)(ii)(c) کے تحت سزا دی جاتی ہے اور انہیں فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی محتسب جسٹس (ر) شاہنواز طارق نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی نے شکایت کنندہ کو ہراساں کیا اور ذہنی اذیت دی۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر مونس علوی جرمانے کی رقم ادا کرنے میں ناکام رہے تو ان کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد ضبط کی جائے اور ان کا شناختی کارڈ (سی این آئی سی) اور پاسپورٹ بلاک کر دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب مونس علوی نے محتسب کے فیصلے کو ”انتہائی تکلیف دہ“ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ”میرے تجربے کے مطابق صورتحال کی سچائی کی عکاسی نہیں کرتا“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ پیشہ ورانہ معاملات میں دیانتداری اور عزت و وقار کے اصولوں پر کاربند رہا ہوں اور میں ہر سطح پر ایک محفوظ اور جامع (انکلوسیو) کام کی جگہ کے قیام پر یقین رکھتا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--scribd  '&gt;&lt;iframe src='https://www.scribd.com/embeds/895949422/content?start_page=1&amp;view_mode=scroll&amp;show_recommendations=falsemoonis-alvi-1' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک نے آج پاکستان اسٹاک ایکسچینج ( پی ایس ایکس) میں جمع کرائے گئے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ متاثرہ خاتون ملازمہ نے نومبر 2020 میں صوبائی محتسب کے دفتر میں سی ای او مونس علوی اور تین دیگر افسران کے خلاف شکایت دائر کی تھی، جبکہ انہیں کمپنی نے 14 اکتوبر 2020 کو کارکردگی کی بنیاد پر ملازمت سے برطرف کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شکایت کے بعد صوبائی محتسب نے 24 نومبر 2020 کو مذکورہ افراد کو شو کاز نوٹس جاری کیا، جسے ملزمان نے سندھ ہائی کورٹ میں دائرہ اختیار سے باہر قرار دیتے ہوئے چیلنج کر دیا۔ ان کے دلائل کی بنیاد تین نکات پر تھی: برطرف شدہ ملازمہ ایکٹ 2010 کے تحت شکایت درج کرانے کی اہل نہیں؛ الزامات کی نوعیت قانون 2010 کے دائرہ کار میں نہیں آتی؛ چونکہ کے الیکٹرک ایک بین الصوبائی ادارہ ہے، اس لیے صوبائی محتسب کے پاس سماعت کا اختیار نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے یکم دسمبر 2020 کو حکم جاری کیا کہ صوبائی محتسب کوئی حتمی فیصلہ جاری نہ کرے۔ تاہم، عدالت نے بعد میں رائے دی کہ محتسب مقدمے کی کارروائی جاری رکھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عدالتی رائے سے متاثر ہو کر، ملزمان نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جہاں یہ مقدمہ اب بھی زیر سماعت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک نے مزید کہا ہے کہ اس معاملے پر ایک اپیل گورنر سندھ کے دفتر میں بھی دائر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سندھ ہائی کورٹ نے جمعہ کے روز صوبائی محتسب کی جانب سے کےالیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مونس علوی کو عہدے سے ہٹانے کا حکم معطل کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>کے الیکٹرک نے اس پیش رفت سے متعلق پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو باقاعدہ اطلاع دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سی ای او نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس پر عدالت نے 31 جولائی 2025 کے محتسب کے حکم پر عمل درآمد روک دیا ہے۔</p>
<p>ایک روز قبل خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ فراہم کرنے والے سندھ کے محتسب جسٹس (ر) شاہنواز طارق نے مونس علوی کو ہراسانی کے ایک مقدمے میں مبینہ ملوث ہونے پر کے الیکٹرک کے سی ای او کے عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا تھا۔</p>
<p>حکم نامے کے مطابق مونس علوی پر 25 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ مونس عبداللہ علوی کو ایکٹ 2010 کی دفعہ 4(4)(ii)(c) کے تحت سزا دی جاتی ہے اور انہیں فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹایا جاتا ہے۔</p>
<p>صوبائی محتسب جسٹس (ر) شاہنواز طارق نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی نے شکایت کنندہ کو ہراساں کیا اور ذہنی اذیت دی۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر مونس علوی جرمانے کی رقم ادا کرنے میں ناکام رہے تو ان کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد ضبط کی جائے اور ان کا شناختی کارڈ (سی این آئی سی) اور پاسپورٹ بلاک کر دیا جائے۔</p>
<p>دوسری جانب مونس علوی نے محتسب کے فیصلے کو ”انتہائی تکلیف دہ“ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ”میرے تجربے کے مطابق صورتحال کی سچائی کی عکاسی نہیں کرتا“۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ پیشہ ورانہ معاملات میں دیانتداری اور عزت و وقار کے اصولوں پر کاربند رہا ہوں اور میں ہر سطح پر ایک محفوظ اور جامع (انکلوسیو) کام کی جگہ کے قیام پر یقین رکھتا ہوں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--scribd  '><iframe src='https://www.scribd.com/embeds/895949422/content?start_page=1&view_mode=scroll&show_recommendations=falsemoonis-alvi-1' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کے الیکٹرک نے آج پاکستان اسٹاک ایکسچینج ( پی ایس ایکس) میں جمع کرائے گئے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ متاثرہ خاتون ملازمہ نے نومبر 2020 میں صوبائی محتسب کے دفتر میں سی ای او مونس علوی اور تین دیگر افسران کے خلاف شکایت دائر کی تھی، جبکہ انہیں کمپنی نے 14 اکتوبر 2020 کو کارکردگی کی بنیاد پر ملازمت سے برطرف کر دیا تھا۔</p>
<p>شکایت کے بعد صوبائی محتسب نے 24 نومبر 2020 کو مذکورہ افراد کو شو کاز نوٹس جاری کیا، جسے ملزمان نے سندھ ہائی کورٹ میں دائرہ اختیار سے باہر قرار دیتے ہوئے چیلنج کر دیا۔ ان کے دلائل کی بنیاد تین نکات پر تھی: برطرف شدہ ملازمہ ایکٹ 2010 کے تحت شکایت درج کرانے کی اہل نہیں؛ الزامات کی نوعیت قانون 2010 کے دائرہ کار میں نہیں آتی؛ چونکہ کے الیکٹرک ایک بین الصوبائی ادارہ ہے، اس لیے صوبائی محتسب کے پاس سماعت کا اختیار نہیں۔</p>
<p>کے الیکٹرک کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے یکم دسمبر 2020 کو حکم جاری کیا کہ صوبائی محتسب کوئی حتمی فیصلہ جاری نہ کرے۔ تاہم، عدالت نے بعد میں رائے دی کہ محتسب مقدمے کی کارروائی جاری رکھ سکتا ہے۔</p>
<p>اس عدالتی رائے سے متاثر ہو کر، ملزمان نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جہاں یہ مقدمہ اب بھی زیر سماعت ہے۔</p>
<p>کے الیکٹرک نے مزید کہا ہے کہ اس معاملے پر ایک اپیل گورنر سندھ کے دفتر میں بھی دائر کی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275364</guid>
      <pubDate>Fri, 01 Aug 2025 18:47:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/0118254248eed22.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/0118254248eed22.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
