<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 10:02:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 10:02:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کے نئے ونڈ ٹربائن قواعد: مقامی خریداری اور ڈیٹا کنٹرول لازمی قرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275344/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت نے ونڈ ٹربائن آلات تیار کرنے والی کمپنیوں کے لیے سخت قواعد متعارف کرا دیے ہیں، جن کے تحت انہیں اہم پرزہ جات ملک کے اندر سے خریدنا ہوں گے اور ڈیٹا لوکلائزیشن کے سخت اصولوں کی پابندی کرنا ہوگی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزارتِ توانائی و متبادل ذرائع  کی جانب سے جمعرات کی رات جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اب مینوفیکچررز کو بلیڈز، ٹاورز، جنریٹرز، گیئر بکس اور خصوصی بیئرنگز جیسے اہم پرزے صرف اُن سپلائرز سے خریدنے ہوں گے جو حکومت کی نئی منظور شدہ فہرست میں شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کے مطابق ایک تکنیکی ٹیم انسپکشن کرے گی، جب کہ اس حوالے سے ایک علیحدہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر بھی جاری کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ منظور شدہ ماڈلز اور مینوفیکچررز کی فہرست وزارت الگ سے جاری کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ونڈ ٹربائن ڈیٹا بھارت میں محفوظ کیا جائے گا، حقیقی وقت کا آپریشنل ڈیٹا بیرون ملک منتقل کرنے پر پابندی ہوگی، اور تمام آپریشنل کنٹرول و تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کے مراکز ایک سال کے اندر بھارت میں قائم کرنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام کا مقصد بھارت میں مقامی ونڈ ٹربائن مینوفیکچرنگ صنعت کو فروغ دینا ہے، جس کی سالانہ پیداواری صلاحیت حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 20 گیگا واٹ تک پہنچ چکی ہے۔ بھارت کا ہدف ہے کہ وہ 2030 تک نان فوسل فیول ذرائع سے 500 گیگا واٹ بجلی پیدا کرے، جو اس وقت کی 235.6 گیگا واٹ صلاحیت سے تقریباً دوگنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند نیئر ٹرم اور بولی جیتنے والے منصوبوں کو ان شرائط سے استثنیٰ حاصل ہوگا، تاہم نئے ماڈلز کے لیے 800 میگا واٹ کی حد مقرر کی گئی ہے، اور انہیں ہر سہ ماہی میں پیش رفت رپورٹ دینا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ مقامی کمپنیوں جیسے سزلون انرجی، انوکس ونڈ اور اڈانی ونڈ کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، جب کہ چینی کمپنی انویژن گروپ کو نقصان پہنچنے کا امکان ہے، جس نے حالیہ برسوں میں بھارتی مارکیٹ میں خاصی جگہ بنائی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت نے ونڈ ٹربائن آلات تیار کرنے والی کمپنیوں کے لیے سخت قواعد متعارف کرا دیے ہیں، جن کے تحت انہیں اہم پرزہ جات ملک کے اندر سے خریدنا ہوں گے اور ڈیٹا لوکلائزیشن کے سخت اصولوں کی پابندی کرنا ہوگی۔</strong></p>
<p>بھارتی وزارتِ توانائی و متبادل ذرائع  کی جانب سے جمعرات کی رات جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اب مینوفیکچررز کو بلیڈز، ٹاورز، جنریٹرز، گیئر بکس اور خصوصی بیئرنگز جیسے اہم پرزے صرف اُن سپلائرز سے خریدنے ہوں گے جو حکومت کی نئی منظور شدہ فہرست میں شامل ہوں گے۔</p>
<p>وزارت کے مطابق ایک تکنیکی ٹیم انسپکشن کرے گی، جب کہ اس حوالے سے ایک علیحدہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر بھی جاری کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ منظور شدہ ماڈلز اور مینوفیکچررز کی فہرست وزارت الگ سے جاری کرے گی۔</p>
<p>نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ونڈ ٹربائن ڈیٹا بھارت میں محفوظ کیا جائے گا، حقیقی وقت کا آپریشنل ڈیٹا بیرون ملک منتقل کرنے پر پابندی ہوگی، اور تمام آپریشنل کنٹرول و تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کے مراکز ایک سال کے اندر بھارت میں قائم کرنا ہوں گے۔</p>
<p>اس اقدام کا مقصد بھارت میں مقامی ونڈ ٹربائن مینوفیکچرنگ صنعت کو فروغ دینا ہے، جس کی سالانہ پیداواری صلاحیت حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 20 گیگا واٹ تک پہنچ چکی ہے۔ بھارت کا ہدف ہے کہ وہ 2030 تک نان فوسل فیول ذرائع سے 500 گیگا واٹ بجلی پیدا کرے، جو اس وقت کی 235.6 گیگا واٹ صلاحیت سے تقریباً دوگنا ہے۔</p>
<p>چند نیئر ٹرم اور بولی جیتنے والے منصوبوں کو ان شرائط سے استثنیٰ حاصل ہوگا، تاہم نئے ماڈلز کے لیے 800 میگا واٹ کی حد مقرر کی گئی ہے، اور انہیں ہر سہ ماہی میں پیش رفت رپورٹ دینا ہوگی۔</p>
<p>یہ فیصلہ مقامی کمپنیوں جیسے سزلون انرجی، انوکس ونڈ اور اڈانی ونڈ کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، جب کہ چینی کمپنی انویژن گروپ کو نقصان پہنچنے کا امکان ہے، جس نے حالیہ برسوں میں بھارتی مارکیٹ میں خاصی جگہ بنائی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275344</guid>
      <pubDate>Fri, 01 Aug 2025 11:46:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/011145101ee7759.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/011145101ee7759.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
