<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:02:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:02:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ نے کینیڈا پر ٹیرف 25 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275342/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس کے تحت کینیڈین اشیاء پر ٹیرف 25 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد کر دیا گیا ہے۔ یہ اضافہ ان تمام مصنوعات پر لاگو ہوگا جو امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کے مابین نافذ العمل تجارتی معاہدے(یو ایس ایم سی اے)  میں شامل نہیں ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق، اگر کوئی مصنوعات کسی تیسرے ملک کے ذریعے منتقل کی گئی تو اس پر 40 فیصد کی ’ٹرانس شپمنٹ لیوی‘ بھی عائد کی جائے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ نے کینیڈا پر فینٹانائل کی اسمگلنگ روکنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے یکم اگست کی ڈیڈ لائن سے قبل کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی سے رابطے کی کوشش کی، لیکن کوئی گفتگو نہ ہو سکی۔  مارک کارنی نے کہا کہ مذاکرات تعمیری تھے، لیکن معاہدہ ڈیڈ لائن سے قبل ممکن نہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ تمام امریکی ٹیرف ختم ہونے کا امکان نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اونٹاریو کے وزیرِ اعلیٰ ڈگ فورڈ، جو کینیڈا کی معیشت کا 40 فیصد حصہ رکھتے ہیں، نے مطالبہ کیا کہ امریکی اسٹیل اور ایلومینیم پر 50 فیصد جوابی ٹیرف لگایا جائے۔ ان کا کہنا تھا، یہ وقت جھکنے کا نہیں، ہمیں اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ وہ کینیڈا سے محبت کرتے ہیں، لیکن یہ ملک امریکہ کے ساتھ سالوں سے ”برا سلوک“ کر رہا ہے۔ امریکہ کے وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے عندیہ دیا کہ اگر مارک کارنی ”ردعمل ترک کریں“ تو ٹرمپ ٹیرف پر نظرِ ثانی کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، میکسیکو کو 90 دن کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ طے کر سکے اور 30 فیصد ٹیرف سے بچ سکے، تاہم غیر یو ایس ایم سی اے مصنوعات پر 25 فیصد ڈیوٹی برقرار رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینیڈا کی 75 فیصد برآمدات امریکہ جاتی ہیں، جن میں سے 90 فیصد یو ایس ایم سی اے کے تحت مستثنیٰ ہیں، تاہم غیر مطابقت رکھنے والی اشیاء جیسے اسٹیل، ایلومینیم اور گاڑیاں اس نئے ٹیرف سے متاثر ہوں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس کے تحت کینیڈین اشیاء پر ٹیرف 25 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد کر دیا گیا ہے۔ یہ اضافہ ان تمام مصنوعات پر لاگو ہوگا جو امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کے مابین نافذ العمل تجارتی معاہدے(یو ایس ایم سی اے)  میں شامل نہیں ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق، اگر کوئی مصنوعات کسی تیسرے ملک کے ذریعے منتقل کی گئی تو اس پر 40 فیصد کی ’ٹرانس شپمنٹ لیوی‘ بھی عائد کی جائے گی۔</strong></p>
<p>یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ نے کینیڈا پر فینٹانائل کی اسمگلنگ روکنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے یکم اگست کی ڈیڈ لائن سے قبل کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی سے رابطے کی کوشش کی، لیکن کوئی گفتگو نہ ہو سکی۔  مارک کارنی نے کہا کہ مذاکرات تعمیری تھے، لیکن معاہدہ ڈیڈ لائن سے قبل ممکن نہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ تمام امریکی ٹیرف ختم ہونے کا امکان نہیں۔</p>
<p>اونٹاریو کے وزیرِ اعلیٰ ڈگ فورڈ، جو کینیڈا کی معیشت کا 40 فیصد حصہ رکھتے ہیں، نے مطالبہ کیا کہ امریکی اسٹیل اور ایلومینیم پر 50 فیصد جوابی ٹیرف لگایا جائے۔ ان کا کہنا تھا، یہ وقت جھکنے کا نہیں، ہمیں اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنا ہوگا۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ وہ کینیڈا سے محبت کرتے ہیں، لیکن یہ ملک امریکہ کے ساتھ سالوں سے ”برا سلوک“ کر رہا ہے۔ امریکہ کے وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے عندیہ دیا کہ اگر مارک کارنی ”ردعمل ترک کریں“ تو ٹرمپ ٹیرف پر نظرِ ثانی کر سکتے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب، میکسیکو کو 90 دن کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ طے کر سکے اور 30 فیصد ٹیرف سے بچ سکے، تاہم غیر یو ایس ایم سی اے مصنوعات پر 25 فیصد ڈیوٹی برقرار رہے گی۔</p>
<p>کینیڈا کی 75 فیصد برآمدات امریکہ جاتی ہیں، جن میں سے 90 فیصد یو ایس ایم سی اے کے تحت مستثنیٰ ہیں، تاہم غیر مطابقت رکھنے والی اشیاء جیسے اسٹیل، ایلومینیم اور گاڑیاں اس نئے ٹیرف سے متاثر ہوں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275342</guid>
      <pubDate>Fri, 01 Aug 2025 11:39:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/01113755a1b1bb9.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/01113755a1b1bb9.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
