<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:26:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:26:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب پر گمراہ کن دلائل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275338/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مسلسل پاکستانی حکومتوں پر بالخصوص اُن پالیسی سازوں کی جانب سے دباؤ رہا ہے جو کثیرالملکی ڈونر ایجنسیوں سے وابستہ ہیں کہ وہ ٹیکس سے جی ڈی پی کا تناسب (ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو) بڑھائیں۔ بلاشبہ یہ درست ہے کہ مالی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ مفروضہ کہ یہ خسارہ محض ٹیکس آمدن کی کمی کے باعث ہے، قابلِ سوال ہے — (ندِیم الحق اور راجہ رفیع اللہ، پی آئی ڈی ای نالج بریف نمبر 78:2022، ”ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کی عجیب کشش“)&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”اگر ہم ترقی کے لیے کم ٹیکس چاہتے ہیں تو اخراجات پر قابو پانا ہوگا تاکہ حکومتوں کو اتنی زیادہ رقم درکار نہ ہو۔ جب بھی کوئی سیاستدان کسی خاص طبقے کو ٹیکس میں چھوٹ دینے کا وعدہ کرے تو سوچیں کہ یہ معیشت اور بطور ٹیکس دہندہ آپ کو کتنا نقصان دیتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ نظام کو سادہ بنایا جائے اور اس کے بوجھ کو کم کیا جائے جو معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔“ — جیک ایم مِنٹز، پامر چیئر آف پبلک پالیسی، اسکول آف پبلک پالیسی، یونیورسٹی آف کیلگری، کینیڈا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں ایف بی آر کے چیئرمین کی جانب سے کیے گئے اس دعوے پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے کہ مالی سال 25-2024 کے اختتام پر ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب 1.5 فیصد بہتر ہوا۔ [جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مالی سال 2024 میں ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 8.8 فیصد تھا، نہ کہ 9.5 فیصد جو کل قومی ٹیکسز کا تھا]۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب پر ہونے والی بحث یک طرفہ رہی ہے، جو اس حقیقت کو نظر انداز کرتی ہے کہ پاکستانی عوام پورے خطے میں سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والی قوم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;المیہ یہ ہے کہ اس کے بدلے شہریوں کو صاف پینے کا پانی تک میسر نہیں — تعلیم، علاج، رہائش، ٹرانسپورٹ اور سماجی تحفظ جیسے شعبے تو دور کی بات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں بالادستی بالواسطہ ٹیکسوں کی ہے [یہاں تک کہ براہ راست ٹیکس کے پردے میں بھی، جیسے ودہولڈنگ، پریزمپٹو اور منیمم ٹیکس، جن کا آمدن سے کوئی تعلق نہیں]۔ لیکن ان ٹیکسوں کے معاشی اثرات اور عوام بالخصوص غریب طبقات پر پڑنے والے بوجھ کا کوئی تجزیہ نہیں کیا جاتا۔ یہی غلط پالیسی آمدنی اور دولت کی تقسیم میں ناہمواری، اور امیر و غریب کے درمیان خلیج کو بڑھا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب آمدنی پر لگائے جانے والے براہ راست ٹیکسوں کا جی ڈی پی میں حصہ 3 فیصد سے بھی کم ہو گیا ہے (اور اس میں سے بھی وہ ٹیکس نکال دیے جائیں جو درحقیقت بالواسطہ نوعیت کے ہیں)، تو ہر دور کی حکومتوں کے وزرائے خزانہ — چاہے وہ سویلین ہوں یا عسکری — اور ایف بی آر کی بیوروکریسی، آئی ایم ایف اور دیگر فورمز پر ’شاندار‘ کارکردگی کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں۔ ان دعووں کی حقیقت کئی کالموں میں کھل کر بیان کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر ماضی میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے ان غلط بیانیوں پر خاموشی اختیار کیے رکھی — کیونکہ وہ خود بھی ان ’سب اچھا ہے‘ منصوبہ بندیوں کے شریک تھے — جب امریکہ کو پاکستان کی ضرورت تھی، پہلے سابقہ سوویت یونین کے خاتمے کے لیے اور بعد میں نئے عالمی نظام اور ’وار آن ٹیرر‘ کے نام پر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1995 میں، اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے 21 اکتوبر 2015 کو واشنگٹن میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لاگارڈ سے ملاقات میں دعویٰ کیا کہ ’’ہم نے سب سے بلند ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب حاصل کیا ہے اور پاکستان کی معیشت میری حکومت کی دانشمندانہ پالیسیوں کی وجہ سے مستحکم ہو رہی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دعویٰ اُس وقت کے آڈیٹر جنرل آف پاکستان  کی رپورٹ سے بالکل متضاد تھا، جس میں حیرت انگیز انکشاف کیا گیا تھا کہ ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب ورلڈ بینک کے تعاون سے چلنے والے ٹیکس ایڈمنسٹریشن ریفارم پروجیکٹ کے اختتام پر نچلی ترین سطح پر آ گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حیرت انگیز بات تھی کہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے ہوتے ہوئے، وزیراعظم، ان کے وزیر خزانہ اور دیگر مالی ماہرین آئی ایم ایف کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے تھے کہ ’’سب کچھ ٹھیک ہے‘‘۔ نواز شریف نے تیسری بار وزیر اعظم بننے کے بعد نان فائلرز اور ٹیکس چوروں کو بے مثال ٹیکس چھوٹیں اور رعایتیں دیں — لیکن ان کی ایمنسٹی اسکیمیں بُری طرح ناکام ہوئیں۔ وہ بمشکل 1.3 ارب روپے اکٹھا کر سکیں!&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کالموں میں کمزور ٹیکس وصولی کی وجوہات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ تاہم عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے درست سوال اٹھا رہے ہیں: ’’کیا آپ جانتے ہیں کہ حکمران ٹیکس دہندگان کے پیسوں کے ساتھ کیا کھیل کھیلتے ہیں؟‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوام کا مطالبہ ہے کہ سب سے پہلے ان ناقابلِ تسخیر عسکری، عدالتی، سول اشرافیہ اور عوامی عہدے داروں کو دی جانے والی ٹیکس فری مراعات اور فوائد — جیسے محل نما رہائش گاہیں، خادموں کی فوج، قیمتی گاڑیاں، گالف کورسز، ریسٹ ہاؤسز وغیرہ — کے قومی خزانے پر پڑنے والے اخراجات کا حساب لگایا جائے۔
اسی طرح بیرون ملک بے سود دورے، سرکاری ضیافتیں اور دیگر فضول خرچیاں بند کی جائیں — اس کے بعد ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب پر بحث کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ان کالموں میں موجودہ ٹیکس نظام کو درست کرنے اور ٹیکس وصولیوں کو 30 کھرب روپے کی سطح تک لے جانے کا ایک تفصیلی لائحہ عمل پیش کیا گیا ہے، مگر وزارتِ خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں بیٹھے خودساختہ ماہرین اور ”جادوگر“ اصلاحات کے بجائے اب بھی آئی ایم ایف اور عالمی بینک سے ”مشورہ“ اور ”مدد“ کے متلاشی ہیں۔ یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ وہ ماضی میں ٹیکس نظام کی اصلاح میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ یہ صورتحال اردو کے عظیم شاعر میر تقی میر کے اس شعر سے بخوبی بیان ہوتی ہے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;”میر کیا سادہ ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں“&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امر نہایت افسوسناک ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں رئیل اسٹیٹ اور حصص کی قیاسی لین دین سے اربوں روپے کمائے جاتے ہیں، ٹیکس سے جی ڈی پی کا تناسب ایک دہائی سے محض دس فیصد کے آس پاس منڈلا رہا ہے۔ جو لوگ ملک کے اصل فیصلوں کے مالک ہیں، وہ غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس کے دائرے میں لانے اور بے نامی لین دین کا سدباب کرنے میں ذرا برابر دلچسپی نہیں رکھتے۔ معاشرے کے بااثر طبقے ان لین دین میں براہ راست ملوث ہیں اور ایف بی آر ان کا خادم بن کر کام کرتا ہے، اس لیے ان پر ٹیکس لگانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 2(10) میں ’کاروبار‘ کی جو تعریف دی گئی ہے، اُس میں ’’تجارتی نوعیت کی مہم‘‘ بھی شامل ہے۔ لیکن ہمارا ٹیکس عملہ محض تماشائی بنا بیٹھا ہے، جس کے باعث قومی خزانے کو شدید نقصان ہو رہا ہے کیونکہ رئیل اسٹیٹ اور حصص میں قیاسی لین دین کو ٹیکس کے دائرے میں نہیں لایا جا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منتخب نمائندوں (بزعم خود) نے حقیقت میں ایف بی ار کے ان قیاسی لین دین کو ’’تجارتی مہم‘‘ کی حیثیت سے ٹیکس نیٹ میں لانے کے اختیارات کو سلب کر لیا، جب انہوں نے مالیاتی ایکٹ 2012 کے ذریعے غیر منقولہ جائیداد کو ”کیپیٹل اثاثہ“ کی تعریف میں شامل کر دیا، جو ٹیکس سال 2013 سے نافذ العمل ہوا۔ اس سے پہلے وہ حصص اور اسٹاکس کی قیاسی لین دین پر حاصل منافع پر بھی غیر ضروری ٹیکس چھوٹ دے چکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکس سے جی ڈی پی کا زیادہ تناسب سماجی تحفظ، تنخواہوں پر ٹیکس، کارپوریٹ ٹیکس اور ملکی کھپت پر لگنے والے ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن کی وجہ سے ہے، جبکہ بین الاقوامی تجارت اور نان ٹیکس آمدن کی شرح وہاں کم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان میں زیادہ تر آمدن بالواسطہ ٹیکسز سے حاصل ہوتی ہے، بالخصوص بین الاقوامی تجارت اور ملکی کھپت پر لگنے والے ٹیکسز سے، جبکہ براہ راست ٹیکسز کا حصہ نہایت کمزور ہے (مالی سال 2024 میں جی ڈی پی کا محض 4.3 فیصد، جس میں 50 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکسز شامل ہیں)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طاقتور طبقوں کو غیر معمولی ٹیکس چھوٹ، اصل ٹیکس صلاحیت کو بروئے کار نہ لانا، فضول سرکاری اخراجات اور ناکارہ سرکاری اداروں کو مسلسل فنڈنگ — یہ سب عوامل پاکستان کو مہنگے داخلی و خارجی قرضوں کی طرف دھکیل رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلسل بڑھتا ہوا مالی خسارہ اور قرضوں کا پہاڑ کئی سالوں سے ہماری معیشت میں بنیادی عدم توازن کا باعث بنا ہوا ہے۔ اس پر ستم یہ کہ ہماری ٹیکس پالیسی، جو ترقی مخالف ہے، معیشت کو مزید جمود کی طرف لے جا رہی ہے۔ صرف بالواسطہ، عوام پر بوجھ ڈالنے والے ٹیکسز پر زور دینے سے نہ صرف امیر و غریب کا فرق بڑھ رہا ہے، بلکہ ہم اپنے موجودہ اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی مطلوبہ آمدن اکٹھی نہیں کر پا رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوال یہ ہے: قصوروار کون ہے؟ یہاں تک کہ عالمی بینک اور آئی ایم ایف کی مالی مدد اور رہنمائی بھی خاطر خواہ نتائج نہ دے سکی۔ اس بدترین صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ ہمارا قرضہ ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ چکا ہے، مالی خسارہ بے قابو ہو چکا ہے، مہنگائی غریب کو کچل رہی ہے، امیر ٹیکس چوری اور فراڈ میں ملوث ہیں اور جو کچھ اکٹھا ہوتا ہے وہ بھی طاقتور طبقوں کی عیاشی پر ضائع ہو جاتا ہے۔ یہ کس قدر المیہ ہے کہ ہمارے اشرافیہ نہ صرف ٹیکس چوری کرتے ہیں بلکہ عوام کے ٹیکسوں پر پلتے ہیں۔ وہ ریاست کے تمام وسائل کے حقیقی مستفید ہیں — جن وسائل کو دراصل بے زمین کسانوں اور محنت کش صنعتی مزدوروں نے پیدا کیا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ایک غریب ملک نہیں — ریاستی خزانہ اس لیے خالی ہے کیونکہ ٹیکس دہندگان کی کمائی کو غیر پیداواری اخراجات (حکمران طبقے کی مراعات و تنخواہوں) پر بے دردی سے ضائع کیا جا رہا ہے، قدرتی وسائل کو استعمال میں لانے سے غفلت برتی جا رہی ہے اور امیر طبقہ آمدنی پر ٹیکس دینے کو تیار ہی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاگیردار طبقہ — جس میں وہ طاقتور جرنیل بھی شامل ہیں جنہیں کئی دہائیوں کے دوران مختلف بہانوں سے زمینیں الاٹ کی گئیں — اپنی بے پناہ آمدن اور دولت پر ذاتی ٹیکس لگانے کی ہر کوشش کی مزاحمت کرتا آیا ہے۔ ایک ناپاک، عوام دشمن اتحاد — عسکری، عدالتی، سول بیوروکریسی پر مشتمل ناقابلِ تسخیر گٹھ جوڑ، نااہل سیاستدان اور مفاد پرست کاروباری طبقہ — جو کم از کم 90 فیصد ریاستی وسائل پر قابض ہے، وہ قومی محصولات میں بمشکل 1 فیصد حصہ ڈالتا ہے مگر 90 فیصد وسائل کا فائدہ انہی کو پہنچتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ استحصالی، بوسیدہ، رجعتی، بے سمت اور غیر منصفانہ ٹیکس نظام تیزی سے امیر اور غریب کے درمیان فاصلہ بڑھا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امیر اور طاقتور طبقے پر ٹیکس عائد کرنے کی سیاسی خواہش کی کمی ہمارا اصل مسئلہ ہے — وسائل کی قلت نہیں۔ مساوات کا تقاضا ہے کہ زیادہ آمدنی اور دولت رکھنے والوں سے زیادہ ٹیکس لیا جائے، لیکن پاکستان میں پہلے مارشل لا کے بعد سے تمام مالیاتی پالیسیاں امیروں پر ٹیکس کا بوجھ کم اور غریبوں پر اس کا بوجھ بڑھاتی آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر 50 لاکھ انتہائی امیر افراد کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے، رئیل اسٹیٹ میں قیاس آرائی پر مبنی لین دین پر بھاری ٹیکس عائد کیا جائے (جس سے زمین کی قیمتیں کم ہوں گی اور تعمیراتی صنعت کو فروغ ملے گا)، اسٹاک مارکیٹس میں ہونے والی تمام قیاس آرائی پر مبنی سودوں پر ٹیکس لگایا جائے (جس سے کمپنیوں میں حقیقی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی)، ملٹری، عدلیہ، سول بیوروکریسی اور عوامی عہدے داروں کو دی گئی تمام ٹیکس سے مستثنیٰ مراعات واپس لی جائیں اور غیر ظاہر شدہ اثاثے ضبط کیے جائیں — تو صرف فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی سطح پر پاکستان کا ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی تناسب 20 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ ٹیکس نظام انتہائی غیر منصفانہ ہے۔ یہ ان امیر اور طاقتور افراد کو تحفظ فراہم کرتا ہے جن کے پاس معیشت کے وسائل پر اجارہ داری ہے۔ عام لوگ روزمرہ کی ضروری اشیاء پر 18 فیصد کا بھاری سیلز ٹیکس (درآمد شدہ تیار اشیاء پر لازمی ویلیو ایڈیشن اور منبع پر انکم ٹیکس کے بعد یہ شرح 35 تا 55 فیصد تک جا پہنچتی ہے) ادا کر رہے ہیں، جبکہ پیٹرول/ڈیزل پر 80 روپے فی لیٹر پٹرولیم اور ماحولیاتی لیوی بھی ادا کر رہے ہیں، لیکن معاشرے کے بااثر طبقات جیسے بڑے صنعت کار، جاگیردار، جرنیل اور بیوروکریٹس اپنی بھاری بھرکم آمدنی اور اثاثوں پر نہ دولت ٹیکس ادا کرتے ہیں، نہ آمدنی پر کوئی قابلِ ذکر ٹیکس دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;اگر بلیک اکانومی (کالی معیشت) پر آہنی ہاتھوں سے قابو پایا جائے تو ہمارا موجودہ ٹیکس ریونیو پوٹینشل 30 کھرب روپے سے کم نہیں۔ بشرطیکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع اور منصفانہ بنایا جائے، بلیک اکانومی کی حوصلہ شکنی کی جائے، ٹیکس مشینری کو مکمل طور پر ازسرنو منظم کیا جائے، اور معاشرے کے چند مخصوص طبقوں کو حاصل چھوٹ اور مراعات واپس لی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;تاہم، یہ سب اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک ٹیکس نظام کو سادہ نہ بنایا جائے۔
[”ایف بی آر، ٹیکس پوٹینشل اور نفاذ — حصہ اول، بزنس ریکارڈر، 5 مارچ 2021“ اور ”ایف بی آر، ٹیکس پوٹینشل اور نفاذ — حصہ دوم، بزنس ریکارڈر، 7 مارچ 2021“]۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مسلسل پاکستانی حکومتوں پر بالخصوص اُن پالیسی سازوں کی جانب سے دباؤ رہا ہے جو کثیرالملکی ڈونر ایجنسیوں سے وابستہ ہیں کہ وہ ٹیکس سے جی ڈی پی کا تناسب (ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو) بڑھائیں۔ بلاشبہ یہ درست ہے کہ مالی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔</strong></p>
<p>تاہم یہ مفروضہ کہ یہ خسارہ محض ٹیکس آمدن کی کمی کے باعث ہے، قابلِ سوال ہے — (ندِیم الحق اور راجہ رفیع اللہ، پی آئی ڈی ای نالج بریف نمبر 78:2022، ”ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کی عجیب کشش“)</p>
<p>”اگر ہم ترقی کے لیے کم ٹیکس چاہتے ہیں تو اخراجات پر قابو پانا ہوگا تاکہ حکومتوں کو اتنی زیادہ رقم درکار نہ ہو۔ جب بھی کوئی سیاستدان کسی خاص طبقے کو ٹیکس میں چھوٹ دینے کا وعدہ کرے تو سوچیں کہ یہ معیشت اور بطور ٹیکس دہندہ آپ کو کتنا نقصان دیتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ نظام کو سادہ بنایا جائے اور اس کے بوجھ کو کم کیا جائے جو معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔“ — جیک ایم مِنٹز، پامر چیئر آف پبلک پالیسی، اسکول آف پبلک پالیسی، یونیورسٹی آف کیلگری، کینیڈا</p>
<p>حال ہی میں ایف بی آر کے چیئرمین کی جانب سے کیے گئے اس دعوے پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے کہ مالی سال 25-2024 کے اختتام پر ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب 1.5 فیصد بہتر ہوا۔ [جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مالی سال 2024 میں ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 8.8 فیصد تھا، نہ کہ 9.5 فیصد جو کل قومی ٹیکسز کا تھا]۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب پر ہونے والی بحث یک طرفہ رہی ہے، جو اس حقیقت کو نظر انداز کرتی ہے کہ پاکستانی عوام پورے خطے میں سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والی قوم ہیں۔</p>
<p>المیہ یہ ہے کہ اس کے بدلے شہریوں کو صاف پینے کا پانی تک میسر نہیں — تعلیم، علاج، رہائش، ٹرانسپورٹ اور سماجی تحفظ جیسے شعبے تو دور کی بات ہیں۔</p>
<p>ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں بالادستی بالواسطہ ٹیکسوں کی ہے [یہاں تک کہ براہ راست ٹیکس کے پردے میں بھی، جیسے ودہولڈنگ، پریزمپٹو اور منیمم ٹیکس، جن کا آمدن سے کوئی تعلق نہیں]۔ لیکن ان ٹیکسوں کے معاشی اثرات اور عوام بالخصوص غریب طبقات پر پڑنے والے بوجھ کا کوئی تجزیہ نہیں کیا جاتا۔ یہی غلط پالیسی آمدنی اور دولت کی تقسیم میں ناہمواری، اور امیر و غریب کے درمیان خلیج کو بڑھا رہی ہے۔</p>
<p>جب آمدنی پر لگائے جانے والے براہ راست ٹیکسوں کا جی ڈی پی میں حصہ 3 فیصد سے بھی کم ہو گیا ہے (اور اس میں سے بھی وہ ٹیکس نکال دیے جائیں جو درحقیقت بالواسطہ نوعیت کے ہیں)، تو ہر دور کی حکومتوں کے وزرائے خزانہ — چاہے وہ سویلین ہوں یا عسکری — اور ایف بی آر کی بیوروکریسی، آئی ایم ایف اور دیگر فورمز پر ’شاندار‘ کارکردگی کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں۔ ان دعووں کی حقیقت کئی کالموں میں کھل کر بیان کی گئی ہے۔</p>
<p>مگر ماضی میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے ان غلط بیانیوں پر خاموشی اختیار کیے رکھی — کیونکہ وہ خود بھی ان ’سب اچھا ہے‘ منصوبہ بندیوں کے شریک تھے — جب امریکہ کو پاکستان کی ضرورت تھی، پہلے سابقہ سوویت یونین کے خاتمے کے لیے اور بعد میں نئے عالمی نظام اور ’وار آن ٹیرر‘ کے نام پر۔</p>
<p>1995 میں، اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے 21 اکتوبر 2015 کو واشنگٹن میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لاگارڈ سے ملاقات میں دعویٰ کیا کہ ’’ہم نے سب سے بلند ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب حاصل کیا ہے اور پاکستان کی معیشت میری حکومت کی دانشمندانہ پالیسیوں کی وجہ سے مستحکم ہو رہی ہے۔‘‘</p>
<p>یہ دعویٰ اُس وقت کے آڈیٹر جنرل آف پاکستان  کی رپورٹ سے بالکل متضاد تھا، جس میں حیرت انگیز انکشاف کیا گیا تھا کہ ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب ورلڈ بینک کے تعاون سے چلنے والے ٹیکس ایڈمنسٹریشن ریفارم پروجیکٹ کے اختتام پر نچلی ترین سطح پر آ گیا تھا۔</p>
<p>یہ حیرت انگیز بات تھی کہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے ہوتے ہوئے، وزیراعظم، ان کے وزیر خزانہ اور دیگر مالی ماہرین آئی ایم ایف کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے تھے کہ ’’سب کچھ ٹھیک ہے‘‘۔ نواز شریف نے تیسری بار وزیر اعظم بننے کے بعد نان فائلرز اور ٹیکس چوروں کو بے مثال ٹیکس چھوٹیں اور رعایتیں دیں — لیکن ان کی ایمنسٹی اسکیمیں بُری طرح ناکام ہوئیں۔ وہ بمشکل 1.3 ارب روپے اکٹھا کر سکیں!</p>
<p>ان کالموں میں کمزور ٹیکس وصولی کی وجوہات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ تاہم عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے درست سوال اٹھا رہے ہیں: ’’کیا آپ جانتے ہیں کہ حکمران ٹیکس دہندگان کے پیسوں کے ساتھ کیا کھیل کھیلتے ہیں؟‘‘</p>
<p>عوام کا مطالبہ ہے کہ سب سے پہلے ان ناقابلِ تسخیر عسکری، عدالتی، سول اشرافیہ اور عوامی عہدے داروں کو دی جانے والی ٹیکس فری مراعات اور فوائد — جیسے محل نما رہائش گاہیں، خادموں کی فوج، قیمتی گاڑیاں، گالف کورسز، ریسٹ ہاؤسز وغیرہ — کے قومی خزانے پر پڑنے والے اخراجات کا حساب لگایا جائے۔
اسی طرح بیرون ملک بے سود دورے، سرکاری ضیافتیں اور دیگر فضول خرچیاں بند کی جائیں — اس کے بعد ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب پر بحث کی جائے۔</p>
<p>اگرچہ ان کالموں میں موجودہ ٹیکس نظام کو درست کرنے اور ٹیکس وصولیوں کو 30 کھرب روپے کی سطح تک لے جانے کا ایک تفصیلی لائحہ عمل پیش کیا گیا ہے، مگر وزارتِ خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں بیٹھے خودساختہ ماہرین اور ”جادوگر“ اصلاحات کے بجائے اب بھی آئی ایم ایف اور عالمی بینک سے ”مشورہ“ اور ”مدد“ کے متلاشی ہیں۔ یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ وہ ماضی میں ٹیکس نظام کی اصلاح میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ یہ صورتحال اردو کے عظیم شاعر میر تقی میر کے اس شعر سے بخوبی بیان ہوتی ہے:</p>
<p><strong>”میر کیا سادہ ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں“</strong></p>
<p>یہ امر نہایت افسوسناک ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں رئیل اسٹیٹ اور حصص کی قیاسی لین دین سے اربوں روپے کمائے جاتے ہیں، ٹیکس سے جی ڈی پی کا تناسب ایک دہائی سے محض دس فیصد کے آس پاس منڈلا رہا ہے۔ جو لوگ ملک کے اصل فیصلوں کے مالک ہیں، وہ غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس کے دائرے میں لانے اور بے نامی لین دین کا سدباب کرنے میں ذرا برابر دلچسپی نہیں رکھتے۔ معاشرے کے بااثر طبقے ان لین دین میں براہ راست ملوث ہیں اور ایف بی آر ان کا خادم بن کر کام کرتا ہے، اس لیے ان پر ٹیکس لگانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔</p>
<p>انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 2(10) میں ’کاروبار‘ کی جو تعریف دی گئی ہے، اُس میں ’’تجارتی نوعیت کی مہم‘‘ بھی شامل ہے۔ لیکن ہمارا ٹیکس عملہ محض تماشائی بنا بیٹھا ہے، جس کے باعث قومی خزانے کو شدید نقصان ہو رہا ہے کیونکہ رئیل اسٹیٹ اور حصص میں قیاسی لین دین کو ٹیکس کے دائرے میں نہیں لایا جا رہا۔</p>
<p>منتخب نمائندوں (بزعم خود) نے حقیقت میں ایف بی ار کے ان قیاسی لین دین کو ’’تجارتی مہم‘‘ کی حیثیت سے ٹیکس نیٹ میں لانے کے اختیارات کو سلب کر لیا، جب انہوں نے مالیاتی ایکٹ 2012 کے ذریعے غیر منقولہ جائیداد کو ”کیپیٹل اثاثہ“ کی تعریف میں شامل کر دیا، جو ٹیکس سال 2013 سے نافذ العمل ہوا۔ اس سے پہلے وہ حصص اور اسٹاکس کی قیاسی لین دین پر حاصل منافع پر بھی غیر ضروری ٹیکس چھوٹ دے چکے تھے۔</p>
<p>صنعتی ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکس سے جی ڈی پی کا زیادہ تناسب سماجی تحفظ، تنخواہوں پر ٹیکس، کارپوریٹ ٹیکس اور ملکی کھپت پر لگنے والے ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن کی وجہ سے ہے، جبکہ بین الاقوامی تجارت اور نان ٹیکس آمدن کی شرح وہاں کم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان میں زیادہ تر آمدن بالواسطہ ٹیکسز سے حاصل ہوتی ہے، بالخصوص بین الاقوامی تجارت اور ملکی کھپت پر لگنے والے ٹیکسز سے، جبکہ براہ راست ٹیکسز کا حصہ نہایت کمزور ہے (مالی سال 2024 میں جی ڈی پی کا محض 4.3 فیصد، جس میں 50 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکسز شامل ہیں)۔</p>
<p>طاقتور طبقوں کو غیر معمولی ٹیکس چھوٹ، اصل ٹیکس صلاحیت کو بروئے کار نہ لانا، فضول سرکاری اخراجات اور ناکارہ سرکاری اداروں کو مسلسل فنڈنگ — یہ سب عوامل پاکستان کو مہنگے داخلی و خارجی قرضوں کی طرف دھکیل رہے ہیں۔</p>
<p>مسلسل بڑھتا ہوا مالی خسارہ اور قرضوں کا پہاڑ کئی سالوں سے ہماری معیشت میں بنیادی عدم توازن کا باعث بنا ہوا ہے۔ اس پر ستم یہ کہ ہماری ٹیکس پالیسی، جو ترقی مخالف ہے، معیشت کو مزید جمود کی طرف لے جا رہی ہے۔ صرف بالواسطہ، عوام پر بوجھ ڈالنے والے ٹیکسز پر زور دینے سے نہ صرف امیر و غریب کا فرق بڑھ رہا ہے، بلکہ ہم اپنے موجودہ اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی مطلوبہ آمدن اکٹھی نہیں کر پا رہے۔</p>
<p>سوال یہ ہے: قصوروار کون ہے؟ یہاں تک کہ عالمی بینک اور آئی ایم ایف کی مالی مدد اور رہنمائی بھی خاطر خواہ نتائج نہ دے سکی۔ اس بدترین صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ ہمارا قرضہ ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ چکا ہے، مالی خسارہ بے قابو ہو چکا ہے، مہنگائی غریب کو کچل رہی ہے، امیر ٹیکس چوری اور فراڈ میں ملوث ہیں اور جو کچھ اکٹھا ہوتا ہے وہ بھی طاقتور طبقوں کی عیاشی پر ضائع ہو جاتا ہے۔ یہ کس قدر المیہ ہے کہ ہمارے اشرافیہ نہ صرف ٹیکس چوری کرتے ہیں بلکہ عوام کے ٹیکسوں پر پلتے ہیں۔ وہ ریاست کے تمام وسائل کے حقیقی مستفید ہیں — جن وسائل کو دراصل بے زمین کسانوں اور محنت کش صنعتی مزدوروں نے پیدا کیا ہوتا ہے۔</p>
<p>پاکستان ایک غریب ملک نہیں — ریاستی خزانہ اس لیے خالی ہے کیونکہ ٹیکس دہندگان کی کمائی کو غیر پیداواری اخراجات (حکمران طبقے کی مراعات و تنخواہوں) پر بے دردی سے ضائع کیا جا رہا ہے، قدرتی وسائل کو استعمال میں لانے سے غفلت برتی جا رہی ہے اور امیر طبقہ آمدنی پر ٹیکس دینے کو تیار ہی نہیں۔</p>
<p>جاگیردار طبقہ — جس میں وہ طاقتور جرنیل بھی شامل ہیں جنہیں کئی دہائیوں کے دوران مختلف بہانوں سے زمینیں الاٹ کی گئیں — اپنی بے پناہ آمدن اور دولت پر ذاتی ٹیکس لگانے کی ہر کوشش کی مزاحمت کرتا آیا ہے۔ ایک ناپاک، عوام دشمن اتحاد — عسکری، عدالتی، سول بیوروکریسی پر مشتمل ناقابلِ تسخیر گٹھ جوڑ، نااہل سیاستدان اور مفاد پرست کاروباری طبقہ — جو کم از کم 90 فیصد ریاستی وسائل پر قابض ہے، وہ قومی محصولات میں بمشکل 1 فیصد حصہ ڈالتا ہے مگر 90 فیصد وسائل کا فائدہ انہی کو پہنچتا ہے۔</p>
<p>موجودہ استحصالی، بوسیدہ، رجعتی، بے سمت اور غیر منصفانہ ٹیکس نظام تیزی سے امیر اور غریب کے درمیان فاصلہ بڑھا رہا ہے۔</p>
<p>امیر اور طاقتور طبقے پر ٹیکس عائد کرنے کی سیاسی خواہش کی کمی ہمارا اصل مسئلہ ہے — وسائل کی قلت نہیں۔ مساوات کا تقاضا ہے کہ زیادہ آمدنی اور دولت رکھنے والوں سے زیادہ ٹیکس لیا جائے، لیکن پاکستان میں پہلے مارشل لا کے بعد سے تمام مالیاتی پالیسیاں امیروں پر ٹیکس کا بوجھ کم اور غریبوں پر اس کا بوجھ بڑھاتی آئی ہیں۔</p>
<p>اگر 50 لاکھ انتہائی امیر افراد کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے، رئیل اسٹیٹ میں قیاس آرائی پر مبنی لین دین پر بھاری ٹیکس عائد کیا جائے (جس سے زمین کی قیمتیں کم ہوں گی اور تعمیراتی صنعت کو فروغ ملے گا)، اسٹاک مارکیٹس میں ہونے والی تمام قیاس آرائی پر مبنی سودوں پر ٹیکس لگایا جائے (جس سے کمپنیوں میں حقیقی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی)، ملٹری، عدلیہ، سول بیوروکریسی اور عوامی عہدے داروں کو دی گئی تمام ٹیکس سے مستثنیٰ مراعات واپس لی جائیں اور غیر ظاہر شدہ اثاثے ضبط کیے جائیں — تو صرف فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی سطح پر پاکستان کا ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی تناسب 20 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔</p>
<p>موجودہ ٹیکس نظام انتہائی غیر منصفانہ ہے۔ یہ ان امیر اور طاقتور افراد کو تحفظ فراہم کرتا ہے جن کے پاس معیشت کے وسائل پر اجارہ داری ہے۔ عام لوگ روزمرہ کی ضروری اشیاء پر 18 فیصد کا بھاری سیلز ٹیکس (درآمد شدہ تیار اشیاء پر لازمی ویلیو ایڈیشن اور منبع پر انکم ٹیکس کے بعد یہ شرح 35 تا 55 فیصد تک جا پہنچتی ہے) ادا کر رہے ہیں، جبکہ پیٹرول/ڈیزل پر 80 روپے فی لیٹر پٹرولیم اور ماحولیاتی لیوی بھی ادا کر رہے ہیں، لیکن معاشرے کے بااثر طبقات جیسے بڑے صنعت کار، جاگیردار، جرنیل اور بیوروکریٹس اپنی بھاری بھرکم آمدنی اور اثاثوں پر نہ دولت ٹیکس ادا کرتے ہیں، نہ آمدنی پر کوئی قابلِ ذکر ٹیکس دیتے ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>اگر بلیک اکانومی (کالی معیشت) پر آہنی ہاتھوں سے قابو پایا جائے تو ہمارا موجودہ ٹیکس ریونیو پوٹینشل 30 کھرب روپے سے کم نہیں۔ بشرطیکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع اور منصفانہ بنایا جائے، بلیک اکانومی کی حوصلہ شکنی کی جائے، ٹیکس مشینری کو مکمل طور پر ازسرنو منظم کیا جائے، اور معاشرے کے چند مخصوص طبقوں کو حاصل چھوٹ اور مراعات واپس لی جائیں۔</p>
</blockquote>
<p>تاہم، یہ سب اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک ٹیکس نظام کو سادہ نہ بنایا جائے۔
[”ایف بی آر، ٹیکس پوٹینشل اور نفاذ — حصہ اول، بزنس ریکارڈر، 5 مارچ 2021“ اور ”ایف بی آر، ٹیکس پوٹینشل اور نفاذ — حصہ دوم، بزنس ریکارڈر، 7 مارچ 2021“]۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275338</guid>
      <pubDate>Fri, 01 Aug 2025 11:30:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حزیمہ بخاریڈاکٹراکرام الحقعبدالرؤف شکوری)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/01112802c7d697f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/01112802c7d697f.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
