<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 07:46:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 07:46:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزارت دفاع میں 82 کروڑ 40 لاکھ روپے کی مالی بے ضابطگیاں بے نقاب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275335/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے مالی سال 24-2023 کے لیے جاری کردہ ایڈٹ رپورٹ میں وزارت دفاع کے تحت کام کرنے والے پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (پی ایم ایس اے) میں مجموعی طور پر 82 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں، بدانتظامی اور مشتبہ نقصانات کی نشاندہی کی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق پاکستان نیوی کے ڈپو سے آپریشنل و تربیتی مقاصد کے لیے پی ایم ایس اے کو جاری کیے گئے 43 لاکھ 69 ہزار لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) میں سے صرف 18 لاکھ 16 ہزار لیٹر کا ریکارڈ دستیاب ہے، جب کہ بقیہ 25 لاکھ 53 ہزار لیٹر، جن کی مالیت 63 کروڑ 82 لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے، کا کوئی حساب موجود نہیں۔ ایندھن کی اس مبینہ خوردبرد کو مشکوک خرچ قرار دیا گیا ہے کیونکہ نہ تو فیول رجسٹرز، نہ تعیناتی کا ریکارڈ اور نہ ہی استعمال کی تفصیلات فراہم کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، پی ایم ایس اے نے 14 کروڑ 88 لاکھ روپے کی خریداری پیپرا قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شفاف ٹینڈرنگ کے بغیر انجام دی، جس میں کراچی اور گوادر یونٹس کے لیے آپریشنل اشیاء اور سروسز شامل تھیں۔ ان خریداریوں میں تقابلی تجزیاتی رپورٹس اور مالیاتی اصولوں کی مکمل خلاف ورزی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈٹ رپورٹ میں 2 کروڑ 80 لاکھ روپے کی غیر مجاز پیشگی ادائیگیاں بھی سامنے آئی ہیں، جو ٹھیکیداروں اور سپلائرز کو بینک گارنٹی کے بغیر دی گئیں اور اب تک واپس نہیں لی گئیں۔ اس کے علاوہ، پی ایم ایس اے کی جانب سے 91 لاکھ روپے کی انشورنس پریمیم کی ادائیگی بھی بے ضابطہ قرار دی گئی ہے کیونکہ انشورنس پالیسیوں، کوریج پیریڈ اور منظوری کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں ایجنسی کی مجموعی مالیاتی نگرانی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، جس میں فیول اور انوینٹری رجسٹرز کا نہ ہونا، اصل بل یا معاہدے فراہم نہ کرنا، اور سرکاری فنڈز کے استعمال میں عدم شفافیت شامل ہیں۔ مزید یہ کہ دفاع ڈویژن نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی سابقہ ہدایات پر بھی عمل نہیں کیا، جس سے جوابدہی کا فقدان ظاہر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آڈیٹر جنرل نے فوری طور پر غائب شدہ فیول کا حساب کتاب کرنے، تمام غیر مجاز ادائیگیاں اور پیشگی رقم واپس لینے، اور خریداری کے قواعد پر مکمل عملدرآمد کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کے سیکشن 29 کے تحت مؤثر داخلی آڈٹ سسٹم کے قیام پر بھی زور دیا گیا ہے، جب کہ تمام آبزرویشنز پی اے سی کو مزید کارروائی کے لیے بھجوا دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے مالی سال 24-2023 کے لیے جاری کردہ ایڈٹ رپورٹ میں وزارت دفاع کے تحت کام کرنے والے پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (پی ایم ایس اے) میں مجموعی طور پر 82 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں، بدانتظامی اور مشتبہ نقصانات کی نشاندہی کی گئی ہے۔</strong></p>
<p>رپورٹ کے مطابق پاکستان نیوی کے ڈپو سے آپریشنل و تربیتی مقاصد کے لیے پی ایم ایس اے کو جاری کیے گئے 43 لاکھ 69 ہزار لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) میں سے صرف 18 لاکھ 16 ہزار لیٹر کا ریکارڈ دستیاب ہے، جب کہ بقیہ 25 لاکھ 53 ہزار لیٹر، جن کی مالیت 63 کروڑ 82 لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے، کا کوئی حساب موجود نہیں۔ ایندھن کی اس مبینہ خوردبرد کو مشکوک خرچ قرار دیا گیا ہے کیونکہ نہ تو فیول رجسٹرز، نہ تعیناتی کا ریکارڈ اور نہ ہی استعمال کی تفصیلات فراہم کی گئیں۔</p>
<p>مزید برآں، پی ایم ایس اے نے 14 کروڑ 88 لاکھ روپے کی خریداری پیپرا قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شفاف ٹینڈرنگ کے بغیر انجام دی، جس میں کراچی اور گوادر یونٹس کے لیے آپریشنل اشیاء اور سروسز شامل تھیں۔ ان خریداریوں میں تقابلی تجزیاتی رپورٹس اور مالیاتی اصولوں کی مکمل خلاف ورزی کی گئی۔</p>
<p>ایڈٹ رپورٹ میں 2 کروڑ 80 لاکھ روپے کی غیر مجاز پیشگی ادائیگیاں بھی سامنے آئی ہیں، جو ٹھیکیداروں اور سپلائرز کو بینک گارنٹی کے بغیر دی گئیں اور اب تک واپس نہیں لی گئیں۔ اس کے علاوہ، پی ایم ایس اے کی جانب سے 91 لاکھ روپے کی انشورنس پریمیم کی ادائیگی بھی بے ضابطہ قرار دی گئی ہے کیونکہ انشورنس پالیسیوں، کوریج پیریڈ اور منظوری کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔</p>
<p>رپورٹ میں ایجنسی کی مجموعی مالیاتی نگرانی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، جس میں فیول اور انوینٹری رجسٹرز کا نہ ہونا، اصل بل یا معاہدے فراہم نہ کرنا، اور سرکاری فنڈز کے استعمال میں عدم شفافیت شامل ہیں۔ مزید یہ کہ دفاع ڈویژن نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی سابقہ ہدایات پر بھی عمل نہیں کیا، جس سے جوابدہی کا فقدان ظاہر ہوتا ہے۔</p>
<p>آڈیٹر جنرل نے فوری طور پر غائب شدہ فیول کا حساب کتاب کرنے، تمام غیر مجاز ادائیگیاں اور پیشگی رقم واپس لینے، اور خریداری کے قواعد پر مکمل عملدرآمد کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کے سیکشن 29 کے تحت مؤثر داخلی آڈٹ سسٹم کے قیام پر بھی زور دیا گیا ہے، جب کہ تمام آبزرویشنز پی اے سی کو مزید کارروائی کے لیے بھجوا دی گئی ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275335</guid>
      <pubDate>Fri, 01 Aug 2025 10:31:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نزہت نذر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/01102936d1fddbf.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/01102936d1fddbf.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
