<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:12:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:12:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ نے پاکستان پر ٹیرف 29 فیصد سے کم کرکے 19 فیصد کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275332/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی حکومت نے پاکستانی مصنوعات پر 19 فیصد کا  ٹیرف عائد کر دیا ہے، جو ابتدائی طور پر تجویز کردہ 29 فیصد ٹیرف سے کافی کم ہے۔ یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جمعرات کو دستخط شدہ ایک نئے وسیع تر ایگزیکٹو آرڈر کے تحت کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے درجنوں ممالک سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر 41 فیصد تک کے نئے ٹیرف کا اعلان کیا، جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوطرفہ تجارتی تعلقات میں مسلسل عدم توازن اور باہمی رعایت  کی کمی اس اقدام کی بنیادی وجوہات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2025/08/0109484308229e1.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایگزیکٹو آرڈر میں کہا گیا کہ
امریکہ کے سامانِ تجارت کے سالانہ اور مسلسل خسارے کی عکاسی کرنے والے حالات، امریکہ کی قومی سلامتی اور معیشت کے لیے ایک غیر معمولی اور غیر روایتی خطرہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے نیا 19 فیصد ٹیرف خطے کے کئی دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے،
بھارت: 25 فیصد،
بنگلہ دیش: 20 فیصد،
ویتنام: 20 فیصد،
سری لنکا: 20 فیصد۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2025/08/0109454250bd441.png'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل ہی امریکہ اور پاکستان کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، جس کے تحت دونوں ممالک پاکستان کے تیل کے ذخائر کی ترقی کے لیے مشترکہ کام کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا
”ہم نے ابھی پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ طے کیا ہے، جس کے تحت پاکستان اور امریکہ مل کر ان کے بڑے تیل کے ذخائر پر کام کریں گے۔ ہم اس وقت اس آئل کمپنی کا انتخاب کر رہے ہیں جو اس شراکت داری کی قیادت کرے گی۔ ہو سکتا ہے کہ وہ مستقبل میں بھارت کو بھی تیل بیچیں!“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد نے اس معاہدے کو واشنگٹن کے ساتھ ایک وسیع تر شراکت داری کی علامت قرار دیا۔ پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، جنہوں نے مذاکرات کے آخری مرحلے کی قیادت کی، نے کہا کہ یہ صرف تجارتی مفادات تک محدود معاہدہ نہیں بلکہ وسیع تر اقتصادی اور اسٹرٹیجک معاہدہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ
ہماری نظر میں یہ ہمیشہ صرف تجارتی مفادات سے آگے کی بات تھی، اور اس کا اصل مقصد یہی تھا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کو ساتھ لے کر آگے بڑھایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ اپریل میں واشنگٹن کی جانب سے دنیا بھر کے کئی ممالک پر نئی ٹیرف شرحیں عائد کی گئی تھیں جن کے تحت پاکستان کو بھی 29 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ تاہم ان ٹیرف کو 90 دن کے لیے معطل کر دیا گیا تاکہ مذاکرات کا موقع دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 میں پاکستان کو امریکہ کے ساتھ تقریباً 3 ارب ڈالر کا تجارتی سرپلس حاصل ہوا، جس کی بڑی وجہ ٹیکسٹائل برآمدات تھیں۔ امریکہ پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کی سب سے بڑی منڈی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی حکومت نے پاکستانی مصنوعات پر 19 فیصد کا  ٹیرف عائد کر دیا ہے، جو ابتدائی طور پر تجویز کردہ 29 فیصد ٹیرف سے کافی کم ہے۔ یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جمعرات کو دستخط شدہ ایک نئے وسیع تر ایگزیکٹو آرڈر کے تحت کیا گیا۔</strong></p>
<p>صدر ٹرمپ نے درجنوں ممالک سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر 41 فیصد تک کے نئے ٹیرف کا اعلان کیا، جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوطرفہ تجارتی تعلقات میں مسلسل عدم توازن اور باہمی رعایت  کی کمی اس اقدام کی بنیادی وجوہات ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2025/08/0109484308229e1.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>ایگزیکٹو آرڈر میں کہا گیا کہ
امریکہ کے سامانِ تجارت کے سالانہ اور مسلسل خسارے کی عکاسی کرنے والے حالات، امریکہ کی قومی سلامتی اور معیشت کے لیے ایک غیر معمولی اور غیر روایتی خطرہ ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے لیے نیا 19 فیصد ٹیرف خطے کے کئی دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے،
بھارت: 25 فیصد،
بنگلہ دیش: 20 فیصد،
ویتنام: 20 فیصد،
سری لنکا: 20 فیصد۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2025/08/0109454250bd441.png'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل ہی امریکہ اور پاکستان کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، جس کے تحت دونوں ممالک پاکستان کے تیل کے ذخائر کی ترقی کے لیے مشترکہ کام کریں گے۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا
”ہم نے ابھی پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ طے کیا ہے، جس کے تحت پاکستان اور امریکہ مل کر ان کے بڑے تیل کے ذخائر پر کام کریں گے۔ ہم اس وقت اس آئل کمپنی کا انتخاب کر رہے ہیں جو اس شراکت داری کی قیادت کرے گی۔ ہو سکتا ہے کہ وہ مستقبل میں بھارت کو بھی تیل بیچیں!“</p>
<p>اسلام آباد نے اس معاہدے کو واشنگٹن کے ساتھ ایک وسیع تر شراکت داری کی علامت قرار دیا۔ پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، جنہوں نے مذاکرات کے آخری مرحلے کی قیادت کی، نے کہا کہ یہ صرف تجارتی مفادات تک محدود معاہدہ نہیں بلکہ وسیع تر اقتصادی اور اسٹرٹیجک معاہدہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ
ہماری نظر میں یہ ہمیشہ صرف تجارتی مفادات سے آگے کی بات تھی، اور اس کا اصل مقصد یہی تھا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کو ساتھ لے کر آگے بڑھایا جائے۔</p>
<p>یاد رہے کہ اپریل میں واشنگٹن کی جانب سے دنیا بھر کے کئی ممالک پر نئی ٹیرف شرحیں عائد کی گئی تھیں جن کے تحت پاکستان کو بھی 29 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ تاہم ان ٹیرف کو 90 دن کے لیے معطل کر دیا گیا تاکہ مذاکرات کا موقع دیا جا سکے۔</p>
<p>2024 میں پاکستان کو امریکہ کے ساتھ تقریباً 3 ارب ڈالر کا تجارتی سرپلس حاصل ہوا، جس کی بڑی وجہ ٹیکسٹائل برآمدات تھیں۔ امریکہ پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کی سب سے بڑی منڈی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275332</guid>
      <pubDate>Fri, 01 Aug 2025 10:56:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/01100911ff2ce6c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="850" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/01100911ff2ce6c.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
