<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 11:02:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 11:02:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>120 ارب کا منی لانڈرنگ اسکینڈل، 13 سولر کمپنیوں پر 111 ارب روپے جرمانہ عائد</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275329/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کسٹمز ایڈجیوڈیکیشن اتھارٹی نے سولر پینلز کی درآمد کے نام پر 120 ارب روپے کی منی لانڈرنگ میں ملوث 13 جعلی کمپنیوں پر 111 ارب روپے کا ریکارڈ جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ڈاکٹر ارم زہرہ نے سنایا، جس میں ایک پیچیدہ منی لانڈرنگ نیٹ ورک کو بے نقاب کیا گیا جو فرضی کمپنیوں اور بینکاری نظام کی خامیوں کو استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کے مطابق تمام کمپنیاں صرف کاغذی وجود رکھتی تھیں جن کے مالکان بھی فرضی تھے۔ ان کمپنیوں نے مجموعی طور پر 140 ارب روپے بینکوں میں جمع کرائے، جن میں سے 45 ارب روپے کی رقم نقدی کی صورت میں جمع کرائی گئی جبکہ ان کمپنیوں کا کوئی حقیقی دفتر یا کاروباری سرگرمی موجود نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چار بڑی کمپنیوں پر سب سے زیادہ جرمانے عائد کیے گئے: 53 ارب، 21 ارب، 16 ارب، اور 8.6 ارب روپے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فراڈ کا طریقہ کار سادہ مگر مہلک تھا: 120 ارب روپے مالیت کے سولر پینل مہنگے داموں درآمد کیے گئے، جبکہ انہیں صرف 85 ارب روپے میں فرضی خریداروں کے ذریعے فروخت ظاہر کیا گیا۔ یوں 35 ارب روپے کی اوور انوائسنگ کے ذریعے بھاری غیر قانونی رقوم بیرون ملک منتقل کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مقدمہ وزیراعظم ہاؤس تک پہنچ گیا ہے جہاں ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو بینکوں، ایس ای سی پی، کسٹمز، ایف بی آر، ایف ایم یو اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کی جانچ کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پوسٹ کلیئرنس آڈٹ (پی سی اے) ساؤتھ نے 13 ایف آئی آرز درج کی ہیں جن میں 45 افراد کو نامزد کیا گیا ہے، تاہم کوئی بھی ملزم کسٹمز عدالت میں پیش نہیں ہوا۔ اس پر ڈاکٹر ارم زہرہ نے 111 ارب روپے مالی جرمانہ اور 45 لاکھ روپے ذاتی جرمانہ عائد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، 327 کنٹینرز ضبط کیے گئے ہیں جو مذکورہ کمپنیوں کے تھے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ان سامان کی نیلامی سے 1.5 ارب روپے کی وصولی کی امید ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ اب اصل چیلنج ان جرمانوں کی وصولی اور ملزمان کی جائیدادیں ضبط کرنا ہے۔ اس اسکینڈل نے پاکستان کے تجارتی نگرانی کے نظام میں سنگین خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ وزیراعظم کی تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات پر بین الادارہ جاتی اصلاحات کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کسٹمز ایڈجیوڈیکیشن اتھارٹی نے سولر پینلز کی درآمد کے نام پر 120 ارب روپے کی منی لانڈرنگ میں ملوث 13 جعلی کمپنیوں پر 111 ارب روپے کا ریکارڈ جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ڈاکٹر ارم زہرہ نے سنایا، جس میں ایک پیچیدہ منی لانڈرنگ نیٹ ورک کو بے نقاب کیا گیا جو فرضی کمپنیوں اور بینکاری نظام کی خامیوں کو استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا تھا۔</strong></p>
<p>تحقیقات کے مطابق تمام کمپنیاں صرف کاغذی وجود رکھتی تھیں جن کے مالکان بھی فرضی تھے۔ ان کمپنیوں نے مجموعی طور پر 140 ارب روپے بینکوں میں جمع کرائے، جن میں سے 45 ارب روپے کی رقم نقدی کی صورت میں جمع کرائی گئی جبکہ ان کمپنیوں کا کوئی حقیقی دفتر یا کاروباری سرگرمی موجود نہیں تھی۔</p>
<p>چار بڑی کمپنیوں پر سب سے زیادہ جرمانے عائد کیے گئے: 53 ارب، 21 ارب، 16 ارب، اور 8.6 ارب روپے۔</p>
<p>فراڈ کا طریقہ کار سادہ مگر مہلک تھا: 120 ارب روپے مالیت کے سولر پینل مہنگے داموں درآمد کیے گئے، جبکہ انہیں صرف 85 ارب روپے میں فرضی خریداروں کے ذریعے فروخت ظاہر کیا گیا۔ یوں 35 ارب روپے کی اوور انوائسنگ کے ذریعے بھاری غیر قانونی رقوم بیرون ملک منتقل کی گئیں۔</p>
<p>یہ مقدمہ وزیراعظم ہاؤس تک پہنچ گیا ہے جہاں ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو بینکوں، ایس ای سی پی، کسٹمز، ایف بی آر، ایف ایم یو اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کی جانچ کرے گی۔</p>
<p>پوسٹ کلیئرنس آڈٹ (پی سی اے) ساؤتھ نے 13 ایف آئی آرز درج کی ہیں جن میں 45 افراد کو نامزد کیا گیا ہے، تاہم کوئی بھی ملزم کسٹمز عدالت میں پیش نہیں ہوا۔ اس پر ڈاکٹر ارم زہرہ نے 111 ارب روپے مالی جرمانہ اور 45 لاکھ روپے ذاتی جرمانہ عائد کیا۔</p>
<p>مزید برآں، 327 کنٹینرز ضبط کیے گئے ہیں جو مذکورہ کمپنیوں کے تھے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ان سامان کی نیلامی سے 1.5 ارب روپے کی وصولی کی امید ہے۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ اب اصل چیلنج ان جرمانوں کی وصولی اور ملزمان کی جائیدادیں ضبط کرنا ہے۔ اس اسکینڈل نے پاکستان کے تجارتی نگرانی کے نظام میں سنگین خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ وزیراعظم کی تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات پر بین الادارہ جاتی اصلاحات کی جائیں گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275329</guid>
      <pubDate>Fri, 01 Aug 2025 09:49:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/010947468d197bd.png" type="image/png" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/010947468d197bd.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
