<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:12:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:12:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک امریکا تجارتی معاہدہ، ماہرین نے بڑے اقتصادی فوائد کی پیش گوئی کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275311/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;معاشی محاذ پر ایک بڑی پیش رفت کے تحت پاکستان اور امریکہ نے ایک تاریخی تجارتی و توانائی معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے، جو نہ صرف پاکستانی برآمدات پر عائد ممکنہ بھاری محصولات میں کمی کا باعث بنے گا بلکہ ملک میں موجود غیر استعمال شدہ تیل کے ذخائر کی ترقی کی راہ بھی ہموار کرے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے اس پیش رفت کو اسلام آباد کی سفارتی محاذ پر ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے جس سے توانائی، تجارت اور ٹیکنالوجی سمیت کئی اہم شعبوں میں دیرپا فوائد کی امید کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ایک سوشل میڈیا پیغام میں انکشاف کیا کہ دونوں ممالک نے ایک معاہدہ طے کیا ہے جس کے تحت پاکستان میں تیل کے وسیع ذخائر کی مشترکہ ترقی پر کام کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس وقت اس کمپنی کے انتخاب کے مرحلے میں ہیں جو اس شراکت داری کی قیادت کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جمعرات کو اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اس معاہدے کو دوطرفہ مفادات پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان اور امریکہ کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو ایک نئی بلندی تک لے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ ایسے وقت میں طے پایا جب اپریل میں صدر ٹرمپ کی جانب سے تجویز کردہ 29 فیصد ٹیرف کی 90 روزہ معطلی کی مدت ختم ہونے کو ہے، ایک ایسا ممکنہ اقدام جو پاکستانی برآمدات کے لیے سنگین مالی خطرہ بن سکتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب لمیٹڈ کی ریسرچ سربراہ ثنا توفیق کے مطابق اس معاہدے کے تحت ٹیرف کی شرح کو کم کر کے 15 سے 20 فیصد کے درمیان لانے پر اتفاق ہوا ہے جو کہ برآمدات کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کو خاصہ کم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس  کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر 29 فیصد ٹیرف لاگو ہوجاتا تو پاکستان کو ہر سال 1.1 سے 1.4 ارب ڈالر کی برآمدی آمدنی سے محروم ہونا پڑتا، یہ معاہدہ ان نقصانات کو روکنے میں مدد دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق سال 2024 میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان کل اشیاء کی تجارت 7.3 ارب ڈالر رہی جو 2023 کے 6.9 ارب ڈالر کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ 2024 میں امریکہ کا پاکستان کے ساتھ تجارتی خسارہ 3 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا، جو 2023 کے مقابلے میں 5.2 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین اس معاہدے کو پاکستان کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک اور اقتصادی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک-کویت انوسٹمنٹ کے ریسرچ ہیڈ سمیع اللہ طارق نے اسے ملک اور صنعت دونوں کے لیے مفید قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے ریسرچ ہیڈ سعد حنیف نے اس پیش رفت کو جرأت مندانہ سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں،تیل کے ذخائر کی ترقی اور تجارتی ریلیف، دونوں ایک ہی معاہدے کے ذریعے حاصل کرلیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ نہ صرف برآمدات پر محصولات میں کمی کے ذریعے مارکیٹ تک رسائی کو برقرار رکھنے میں مدد دے گا بلکہ پاکستان کی تجارتی مسابقت کو بھی بہتر بنائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعد حنیف کے مطابق معاہدے کی ایک نمایاں خصوصیت امریکہ کی جانب سے پاکستان کے تیل کے ذخائر کی ترقی میں عملی معاونت کا وعدہ ہے، جو پاکستان کی توانائی کی صلاحیت پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں دونوں ممالک نے آئی ٹی، ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر، معدنیات اور کرپٹو کرنسی جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے، جس سے سرمایہ کاری اور تکنیکی اشتراک میں نئی راہیں کھلنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان کی علاقائی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی اقتصادی ہم آہنگی کی بھی عکاسی کرتا ہے — خصوصاً ایسے وقت میں جب واشنگٹن جنوبی ایشیا کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات پر ازسرِ نو غور کر رہا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثنا توفیق نے مزید کہا کہ ہم اس معاہدے کے ذریعے وسیع تر معاشی اثرات کی توقع کر رہے ہیں، خصوصاً توانائی، معدنیات (بشمول ریکوڈک) اور زراعت جیسے شعبوں میں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>معاشی محاذ پر ایک بڑی پیش رفت کے تحت پاکستان اور امریکہ نے ایک تاریخی تجارتی و توانائی معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے، جو نہ صرف پاکستانی برآمدات پر عائد ممکنہ بھاری محصولات میں کمی کا باعث بنے گا بلکہ ملک میں موجود غیر استعمال شدہ تیل کے ذخائر کی ترقی کی راہ بھی ہموار کرے گا۔</strong></p>
<p>معاشی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے اس پیش رفت کو اسلام آباد کی سفارتی محاذ پر ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے جس سے توانائی، تجارت اور ٹیکنالوجی سمیت کئی اہم شعبوں میں دیرپا فوائد کی امید کی جارہی ہے۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ایک سوشل میڈیا پیغام میں انکشاف کیا کہ دونوں ممالک نے ایک معاہدہ طے کیا ہے جس کے تحت پاکستان میں تیل کے وسیع ذخائر کی مشترکہ ترقی پر کام کیا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس وقت اس کمپنی کے انتخاب کے مرحلے میں ہیں جو اس شراکت داری کی قیادت کرے گی۔</p>
<p>ادھر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جمعرات کو اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اس معاہدے کو دوطرفہ مفادات پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان اور امریکہ کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو ایک نئی بلندی تک لے جا رہے ہیں۔</p>
<p>یہ معاہدہ ایسے وقت میں طے پایا جب اپریل میں صدر ٹرمپ کی جانب سے تجویز کردہ 29 فیصد ٹیرف کی 90 روزہ معطلی کی مدت ختم ہونے کو ہے، ایک ایسا ممکنہ اقدام جو پاکستانی برآمدات کے لیے سنگین مالی خطرہ بن سکتا تھا۔</p>
<p>عارف حبیب لمیٹڈ کی ریسرچ سربراہ ثنا توفیق کے مطابق اس معاہدے کے تحت ٹیرف کی شرح کو کم کر کے 15 سے 20 فیصد کے درمیان لانے پر اتفاق ہوا ہے جو کہ برآمدات کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کو خاصہ کم کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس  کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر 29 فیصد ٹیرف لاگو ہوجاتا تو پاکستان کو ہر سال 1.1 سے 1.4 ارب ڈالر کی برآمدی آمدنی سے محروم ہونا پڑتا، یہ معاہدہ ان نقصانات کو روکنے میں مدد دے گا۔</p>
<p>امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق سال 2024 میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان کل اشیاء کی تجارت 7.3 ارب ڈالر رہی جو 2023 کے 6.9 ارب ڈالر کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ 2024 میں امریکہ کا پاکستان کے ساتھ تجارتی خسارہ 3 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا، جو 2023 کے مقابلے میں 5.2 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>ماہرین اس معاہدے کو پاکستان کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک اور اقتصادی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p>پاک-کویت انوسٹمنٹ کے ریسرچ ہیڈ سمیع اللہ طارق نے اسے ملک اور صنعت دونوں کے لیے مفید قرار دیا۔</p>
<p>اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے ریسرچ ہیڈ سعد حنیف نے اس پیش رفت کو جرأت مندانہ سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں،تیل کے ذخائر کی ترقی اور تجارتی ریلیف، دونوں ایک ہی معاہدے کے ذریعے حاصل کرلیے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ نہ صرف برآمدات پر محصولات میں کمی کے ذریعے مارکیٹ تک رسائی کو برقرار رکھنے میں مدد دے گا بلکہ پاکستان کی تجارتی مسابقت کو بھی بہتر بنائے گا۔</p>
<p>سعد حنیف کے مطابق معاہدے کی ایک نمایاں خصوصیت امریکہ کی جانب سے پاکستان کے تیل کے ذخائر کی ترقی میں عملی معاونت کا وعدہ ہے، جو پاکستان کی توانائی کی صلاحیت پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے۔</p>
<p>مزید برآں دونوں ممالک نے آئی ٹی، ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر، معدنیات اور کرپٹو کرنسی جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے، جس سے سرمایہ کاری اور تکنیکی اشتراک میں نئی راہیں کھلنے کی توقع ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان کی علاقائی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی اقتصادی ہم آہنگی کی بھی عکاسی کرتا ہے — خصوصاً ایسے وقت میں جب واشنگٹن جنوبی ایشیا کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات پر ازسرِ نو غور کر رہا ہے۔“</p>
<p>ثنا توفیق نے مزید کہا کہ ہم اس معاہدے کے ذریعے وسیع تر معاشی اثرات کی توقع کر رہے ہیں، خصوصاً توانائی، معدنیات (بشمول ریکوڈک) اور زراعت جیسے شعبوں میں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275311</guid>
      <pubDate>Thu, 31 Jul 2025 16:33:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/31160049a117720.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/31160049a117720.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
