<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 19:31:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 19:31:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بے بنیاد الزامات سے ساکھ متاثر، برین ڈرین بڑھ رہا ہے، مشیرِ وزیراعظم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275304/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کہا ہے کہ نجی شعبے کے باصلاحیت افراد سرکاری اداروں میں کام کرنے سے ہچکچاتے ہیں کیونکہ پاکستان میں من گھڑت الزامات کے ذریعے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا نہایت آسان ہے۔ ان کے بقول، دیگر عوامل کے ساتھ یہ عنصر بھی ملک سے ذہین اور قابل افراد کے انخلا (برین ڈرین) کی ایک بڑی وجہ بن رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات انہوں نے نیشنل اسکلز یونیورسٹی میں معروف مواصلاتی ماہر عمران غزنوی کی کتاب ”ریپیوٹیشن مینجمنٹ اینڈ کرائسس کمیونی کیشن: اے اسٹڈی آف دی کارپوریٹ سیکٹر“ کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشیرِ وزیراعظم نے کہا کہ آج کے تیزی سے جڑتے اور حساس ابلاغی ماحول میں ساکھ کا تحفظ اختیاری نہیں بلکہ ایک تزویراتی ضرورت بن چکا ہے۔ اُن کے مطابق، کسی بھی ادارے، کاروبار یا فرد کی ساکھ کی حفاظت قیادت کی سطح سے شروع ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اداروں میں بورڈ سطح پر ساکھ کے خطرات کے ازالے کے لیے خصوصی کمیٹیوں کے قیام اور قائدین کے لیے بحران کے دوران مؤثر ابلاغ کی تربیت کی سفارش بھی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں اگرچہ آپ ہتکِ عزت کے مقدمے میں جیت بھی جائیں، تب بھی ملزم کو سزا دلوانا ممکن نہیں کیونکہ ایسا کوئی قانونی رواج یا عدالتی مثال موجود نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریب کا آغاز وائس چانسلر نیشنل اسکلز یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار کے استقبالیہ خطاب سے ہوا، جس کے بعد ممتاز ماہرین تعلیم، معیشت، ابلاغیات اور کارپوریٹ سیکٹر کی شخصیات نے کتاب پر اظہارِ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معروف ماہر معیشت ڈاکٹر وقار احمد نے کتاب کا جامع جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب موجودہ غیر یقینی اور بحران زدہ ابلاغی دور میں سی-لیول ایگزیکٹوز اور پالیسی سازوں کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ سے زوم کے ذریعے شریک پروفیسر ڈاکٹر ظفرالدین احمد، صدر اکیڈمی فار گلوبل بزنس ایڈوانسمنٹ نے کتاب کو پاکستانی مصنف کی ایک سنگِ میل کامیابی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر جاوید لغاری نے کتاب کو جنوبی ایشیائی جامعات کے بزنس اور ابلاغیات نصاب کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور تعریف کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنف عمران غزنوی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب برسوں کی تحقیق، ذاتی مشاہدات اور پیشہ ورانہ تجربے کا نچوڑ ہے۔ ان کے مطابق آج کے دور میں ایک ٹویٹ یا ایک غلط فہمی کسی ملک یا ادارے کی ساکھ کو تباہ کر سکتی ہے، اس لیے ساکھ کا تحفظ محض ایک آپشن نہیں بلکہ بقاء کا تقاضا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسٹیٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان  کے صدر شہزاد احمد ملک نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے زور دیا کہ ساکھ کا موضوع بورڈز کی اولین ترجیح ہونا چاہیے اور اسے ڈائریکٹرز ٹریننگ پروگرامز میں شامل کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروفیسر ڈاکٹر سید حفیظ احمد نے تقریب کا اختتام شکریے کے کلمات سے کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تقریب ممتاز حاضرین کی توجہ کا مرکز بنی، جن میں اعلیٰ سرکاری افسران، سفرا، کارپوریٹ رہنما، ریگولیٹرز، ماہرین تعلیم اور میڈیا سے وابستہ افراد شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کہا ہے کہ نجی شعبے کے باصلاحیت افراد سرکاری اداروں میں کام کرنے سے ہچکچاتے ہیں کیونکہ پاکستان میں من گھڑت الزامات کے ذریعے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا نہایت آسان ہے۔ ان کے بقول، دیگر عوامل کے ساتھ یہ عنصر بھی ملک سے ذہین اور قابل افراد کے انخلا (برین ڈرین) کی ایک بڑی وجہ بن رہا ہے۔</strong></p>
<p>یہ بات انہوں نے نیشنل اسکلز یونیورسٹی میں معروف مواصلاتی ماہر عمران غزنوی کی کتاب ”ریپیوٹیشن مینجمنٹ اینڈ کرائسس کمیونی کیشن: اے اسٹڈی آف دی کارپوریٹ سیکٹر“ کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔</p>
<p>مشیرِ وزیراعظم نے کہا کہ آج کے تیزی سے جڑتے اور حساس ابلاغی ماحول میں ساکھ کا تحفظ اختیاری نہیں بلکہ ایک تزویراتی ضرورت بن چکا ہے۔ اُن کے مطابق، کسی بھی ادارے، کاروبار یا فرد کی ساکھ کی حفاظت قیادت کی سطح سے شروع ہونی چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے اداروں میں بورڈ سطح پر ساکھ کے خطرات کے ازالے کے لیے خصوصی کمیٹیوں کے قیام اور قائدین کے لیے بحران کے دوران مؤثر ابلاغ کی تربیت کی سفارش بھی کی۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں اگرچہ آپ ہتکِ عزت کے مقدمے میں جیت بھی جائیں، تب بھی ملزم کو سزا دلوانا ممکن نہیں کیونکہ ایسا کوئی قانونی رواج یا عدالتی مثال موجود نہیں ہے۔</p>
<p>تقریب کا آغاز وائس چانسلر نیشنل اسکلز یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار کے استقبالیہ خطاب سے ہوا، جس کے بعد ممتاز ماہرین تعلیم، معیشت، ابلاغیات اور کارپوریٹ سیکٹر کی شخصیات نے کتاب پر اظہارِ خیال کیا۔</p>
<p>معروف ماہر معیشت ڈاکٹر وقار احمد نے کتاب کا جامع جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب موجودہ غیر یقینی اور بحران زدہ ابلاغی دور میں سی-لیول ایگزیکٹوز اور پالیسی سازوں کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔</p>
<p>امریکہ سے زوم کے ذریعے شریک پروفیسر ڈاکٹر ظفرالدین احمد، صدر اکیڈمی فار گلوبل بزنس ایڈوانسمنٹ نے کتاب کو پاکستانی مصنف کی ایک سنگِ میل کامیابی قرار دیا۔</p>
<p>سابق چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر جاوید لغاری نے کتاب کو جنوبی ایشیائی جامعات کے بزنس اور ابلاغیات نصاب کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور تعریف کی۔</p>
<p>مصنف عمران غزنوی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب برسوں کی تحقیق، ذاتی مشاہدات اور پیشہ ورانہ تجربے کا نچوڑ ہے۔ ان کے مطابق آج کے دور میں ایک ٹویٹ یا ایک غلط فہمی کسی ملک یا ادارے کی ساکھ کو تباہ کر سکتی ہے، اس لیے ساکھ کا تحفظ محض ایک آپشن نہیں بلکہ بقاء کا تقاضا ہے۔</p>
<p>انسٹیٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان  کے صدر شہزاد احمد ملک نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے زور دیا کہ ساکھ کا موضوع بورڈز کی اولین ترجیح ہونا چاہیے اور اسے ڈائریکٹرز ٹریننگ پروگرامز میں شامل کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>پروفیسر ڈاکٹر سید حفیظ احمد نے تقریب کا اختتام شکریے کے کلمات سے کیا۔</p>
<p>یہ تقریب ممتاز حاضرین کی توجہ کا مرکز بنی، جن میں اعلیٰ سرکاری افسران، سفرا، کارپوریٹ رہنما، ریگولیٹرز، ماہرین تعلیم اور میڈیا سے وابستہ افراد شامل تھے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275304</guid>
      <pubDate>Thu, 31 Jul 2025 12:33:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/3112232932c7525.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/3112232932c7525.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
