<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:13:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:13:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>معیشت کی حالت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275288/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جولائی کی ماہانہ معاشی رپورٹ اور آئندہ کا جائزہ، جو رواں مالی سال کا پہلا مہینہ ہے، دو نہایت تشویشناک اعداد و شمار پیش کرتا ہے۔ اول، جیسا کہ بزنس ریکارڈر کی ایک خصوصی خبر میں انکشاف کیا گیا ہے، وزارتِ خزانہ بجٹ خسارے کے اعداد و شمار کو ہم آہنگ کرنے میں ناکام رہی — رپورٹ کے آغاز میں خسارہ 3.1 فیصد بتایا گیا، جبکہ اگلے ہی صفحے پر اسے 3.7 فیصد ظاہر کیا گیا، جو کہ 0.6 فیصد کا نمایاں فرق ہے اور اس کا براہِ راست اثر پاکستان بیورو آف شماریات کی جانب سے مہنگائی سے متعلق فراہم کردہ اعداد و شمار کی ساکھ پر پڑتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور دوم، رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران مجموعی اخراجات میں 16.3 فیصد اضافہ ہوا، جو 12,086.5 ارب روپے سے بڑھ کر 14,053.1 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں 44.1 فیصد کا نمایاں اضافہ تھا، جبکہ جاری اخراجات میں نسبتاً معمولی یعنی 13.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین مشاہدات قابلِ غور ہیں:(i) 2025-26 کے بجٹ دستاویزات کے مطابق، 2024-25 کی نظرثانی شدہ تخمینوں میں مجموعی اخراجات 17,249 ارب روپے ظاہر کیے گئے ہیں، جبکہ اصل بجٹ میں یہ 18,877 ارب روپے مقرر کیے گئے تھے — نہ کہ 14,053.1 ارب روپے جیسا کہ رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے۔(ii) 2024-25 کے لیے وفاقی پی ایس ڈی پی کا بجٹ 1,400 ارب روپے رکھا گیا تھا، جسے فنڈز کی کمی کے باعث کم کر کے 1,100 ارب روپے کر دیا گیا — جو کہ 21.4 فیصد کمی ہے۔ مئی 2025 کے آخر تک وزارتِ منصوبہ بندی نے اپنی ویب سائٹ پر بتایا کہ اس نے پی ایس ڈی پی کے لیے 1,036 ارب روپے کی منظوری دی، تاہم جاری کردہ رقم 596 ارب روپے تسلیم کی گئی۔ بعد ازاں، سیکریٹری خزانہ نے 13 جون 2025 کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے دوران بتایا کہ یہ رقم بڑھا کر 662 ارب روپے کر دی گئی ہے جو بجٹ تجاویز پر تبادلہ خیال کے لیے طلب کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکریٹری خزانہ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پی ایس ڈی پی کو مزید کم کر کے 967 ارب روپے کر دیا گیا ہے — اور اس ہدف کے بھی پورا نہ ہونے کی تصدیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ، جون 2025 کے وسط تک نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق صرف تقریباً 62 فیصد رقم ہی جاری کی جا سکی؛(iii) فنانس ڈویژن کو وضاحت کرنی چاہیے کہ 440 ارب روپے کی غیر استعمال شدہ پی ایس ڈی پی رقم کہاں گئی؟ اگر یہ رقم خرچ نہیں ہوئی تو پھر بچت کہاں ظاہر کی گئی ہے؟ کیا یہ بچت 2024-25 میں اخراجات کی نظرثانی شدہ تخمینہ شدہ رقم — 17,249 ارب روپے — میں شامل ہو کر اصل بجٹ شدہ رقم یعنی 18,877 ارب روپے سے کمی کا باعث بنی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی تا مئی 2024 کے دوران لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں 0.86 فیصد مثبت نمو ریکارڈ کی گئی جبکہ اسی مدت کے دوران 2025 میں یہ شرح منفی 1.21 فیصد رہی۔ یہ اعدادوشمار بھی چند خدشات کو جنم دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی تا مارچ 2024  ماہانہ اپڈیٹس میں جو ایل ایس ایم کے اعداد و شمار اپ لوڈ کیے گئے، ان میں نمو منفی 0.22 فیصد ظاہر کی گئی، جبکہ 2025 میں یہی شرح منفی 1.47 فیصد رہی۔ اس تناظر میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ 2024 میں ایل ایس ایم میں مثبت نمو جولائی تا مئی کے اعداد و شمار میں 0.86 فیصد کے ساتھ سامنے آئی، حالانکہ جولائی تا مارچ 2024 تک یہی شرح منفی 0.22 فیصد بتائی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رجحان یا تو کھپت میں اضافے یا پھر گوداموں میں موجود ذخائر میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ پیداوار میں واقعی اضافہ ہوا ہو۔ مزید برآں، 2025 میں منفی رجحان 2024 کے مقابلے میں زیادہ نمایاں رہا، خاص طور پر جولائی تا جنوری کے اعداد و شمار میں — جیسا کہ اس سے قبل جولائی تا نومبر کے عرصے میں ایل ایس ایم میں 2024 کے دوران منفی 1.9 فیصد جبکہ 2025 میں اسی مدت میں منفی 1.25 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو مثبت اشاریے بھی دیکھنے میں آئے ہیں؛ خاص طور پر ترسیلاتِ زر اور زرمبادلہ  ذخائر۔ ترسیلاتِ زر میں 2025 کے دوران 2024 کے مقابلے میں تقریباً 8 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جبکہ اپڈیٹس کے مطابق جون 2025 میں بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے 51,072 مزدوروں کو رجسٹر کیا — جو جون 2024 کے 43,356 مزدوروں کے مقابلے میں 17.8 فیصد اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون 2024 میں بیرونِ ملک جانے والے افراد نے بلاشبہ ترسیلاتِ زر میں اضافے میں کردار ادا کیا، تاہم ان کی تعداد سے زیادہ سے زیادہ چند ملین ڈالر کا اضافہ ہی متوقع تھا، اربوں ڈالر نہیں۔ یہ صورتِ حال اس قیاس کو جنم دیتی ہے کہ ترسیلاتِ زر میں ہونے والا نمایاں اضافہ شاید بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی بجائے ملکی سطح پر موجود نان فائلر افراد سے منسلک ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;14.5 ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر قرض پر مبنی ہیں، کیونکہ گورنر اسٹیٹ بینک حال ہی میں یہ بات ریکارڈ پر لاچکے ہیں کہ دوست ممالک سے ایک سال کے لیے کیے گئے رول اوورز کی مالیت تقریباً 16 ارب ڈالر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور آخر میں یہ نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ اپڈیٹ کے مطابق نان ٹیکس ریونیو میں حیران کن طور پر 62 فیصد اضافہ ہوا — جو جولائی تا مئی  2,805 ارب روپے سے بڑھ کر 4,564 ارب روپے تک پہنچ گیا؛ تاہم اس میں سے 1,161 ارب روپے پٹرولیم لیوی سے حاصل کیے گئے (جو کہ ایک بالواسطہ ٹیکس ہے اور اس کا بوجھ غریب طبقے پر امیر طبقے کے مقابلے میں کہیں زیادہ پڑتا ہے)، جبکہ 119 ارب روپے اسٹیٹ بینک کے بجٹ سے زائد منافع سے حاصل ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات اہم ہے کہ معیشت ابھی تک مشکلات سے مکمل طور پر باہر نہیں نکلی، اور اقتصادی ٹیم کے رہنماؤں سے یہی گزارش کی جا سکتی ہے کہ وہ خود کو اور عوام کو ایسے اعداد و شمار سے خوش فہمی میں مبتلا نہ کریں جن کی آسانی سے تردید کی جا سکتی ہے۔ درحقیقت، ان پر لازم ہے کہ وہ اپنی پالیسی سازی کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ایسے اقدامات کریں جو درست اور بروقت اعداد و شمار کی بنیاد پر مناسب فیصلے اور اصلاحات ممکن بنا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جولائی کی ماہانہ معاشی رپورٹ اور آئندہ کا جائزہ، جو رواں مالی سال کا پہلا مہینہ ہے، دو نہایت تشویشناک اعداد و شمار پیش کرتا ہے۔ اول، جیسا کہ بزنس ریکارڈر کی ایک خصوصی خبر میں انکشاف کیا گیا ہے، وزارتِ خزانہ بجٹ خسارے کے اعداد و شمار کو ہم آہنگ کرنے میں ناکام رہی — رپورٹ کے آغاز میں خسارہ 3.1 فیصد بتایا گیا، جبکہ اگلے ہی صفحے پر اسے 3.7 فیصد ظاہر کیا گیا، جو کہ 0.6 فیصد کا نمایاں فرق ہے اور اس کا براہِ راست اثر پاکستان بیورو آف شماریات کی جانب سے مہنگائی سے متعلق فراہم کردہ اعداد و شمار کی ساکھ پر پڑتا ہے۔</strong></p>
<p>اور دوم، رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران مجموعی اخراجات میں 16.3 فیصد اضافہ ہوا، جو 12,086.5 ارب روپے سے بڑھ کر 14,053.1 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں 44.1 فیصد کا نمایاں اضافہ تھا، جبکہ جاری اخراجات میں نسبتاً معمولی یعنی 13.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>تین مشاہدات قابلِ غور ہیں:(i) 2025-26 کے بجٹ دستاویزات کے مطابق، 2024-25 کی نظرثانی شدہ تخمینوں میں مجموعی اخراجات 17,249 ارب روپے ظاہر کیے گئے ہیں، جبکہ اصل بجٹ میں یہ 18,877 ارب روپے مقرر کیے گئے تھے — نہ کہ 14,053.1 ارب روپے جیسا کہ رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے۔(ii) 2024-25 کے لیے وفاقی پی ایس ڈی پی کا بجٹ 1,400 ارب روپے رکھا گیا تھا، جسے فنڈز کی کمی کے باعث کم کر کے 1,100 ارب روپے کر دیا گیا — جو کہ 21.4 فیصد کمی ہے۔ مئی 2025 کے آخر تک وزارتِ منصوبہ بندی نے اپنی ویب سائٹ پر بتایا کہ اس نے پی ایس ڈی پی کے لیے 1,036 ارب روپے کی منظوری دی، تاہم جاری کردہ رقم 596 ارب روپے تسلیم کی گئی۔ بعد ازاں، سیکریٹری خزانہ نے 13 جون 2025 کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے دوران بتایا کہ یہ رقم بڑھا کر 662 ارب روپے کر دی گئی ہے جو بجٹ تجاویز پر تبادلہ خیال کے لیے طلب کیا گیا تھا۔</p>
<p>سیکریٹری خزانہ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پی ایس ڈی پی کو مزید کم کر کے 967 ارب روپے کر دیا گیا ہے — اور اس ہدف کے بھی پورا نہ ہونے کی تصدیق کی۔</p>
<p>چنانچہ، جون 2025 کے وسط تک نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق صرف تقریباً 62 فیصد رقم ہی جاری کی جا سکی؛(iii) فنانس ڈویژن کو وضاحت کرنی چاہیے کہ 440 ارب روپے کی غیر استعمال شدہ پی ایس ڈی پی رقم کہاں گئی؟ اگر یہ رقم خرچ نہیں ہوئی تو پھر بچت کہاں ظاہر کی گئی ہے؟ کیا یہ بچت 2024-25 میں اخراجات کی نظرثانی شدہ تخمینہ شدہ رقم — 17,249 ارب روپے — میں شامل ہو کر اصل بجٹ شدہ رقم یعنی 18,877 ارب روپے سے کمی کا باعث بنی؟</p>
<p>جولائی تا مئی 2024 کے دوران لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں 0.86 فیصد مثبت نمو ریکارڈ کی گئی جبکہ اسی مدت کے دوران 2025 میں یہ شرح منفی 1.21 فیصد رہی۔ یہ اعدادوشمار بھی چند خدشات کو جنم دیتے ہیں۔</p>
<p>جولائی تا مارچ 2024  ماہانہ اپڈیٹس میں جو ایل ایس ایم کے اعداد و شمار اپ لوڈ کیے گئے، ان میں نمو منفی 0.22 فیصد ظاہر کی گئی، جبکہ 2025 میں یہی شرح منفی 1.47 فیصد رہی۔ اس تناظر میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ 2024 میں ایل ایس ایم میں مثبت نمو جولائی تا مئی کے اعداد و شمار میں 0.86 فیصد کے ساتھ سامنے آئی، حالانکہ جولائی تا مارچ 2024 تک یہی شرح منفی 0.22 فیصد بتائی گئی تھی۔</p>
<p>یہ رجحان یا تو کھپت میں اضافے یا پھر گوداموں میں موجود ذخائر میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ پیداوار میں واقعی اضافہ ہوا ہو۔ مزید برآں، 2025 میں منفی رجحان 2024 کے مقابلے میں زیادہ نمایاں رہا، خاص طور پر جولائی تا جنوری کے اعداد و شمار میں — جیسا کہ اس سے قبل جولائی تا نومبر کے عرصے میں ایل ایس ایم میں 2024 کے دوران منفی 1.9 فیصد جبکہ 2025 میں اسی مدت میں منفی 1.25 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔</p>
<p>دو مثبت اشاریے بھی دیکھنے میں آئے ہیں؛ خاص طور پر ترسیلاتِ زر اور زرمبادلہ  ذخائر۔ ترسیلاتِ زر میں 2025 کے دوران 2024 کے مقابلے میں تقریباً 8 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جبکہ اپڈیٹس کے مطابق جون 2025 میں بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے 51,072 مزدوروں کو رجسٹر کیا — جو جون 2024 کے 43,356 مزدوروں کے مقابلے میں 17.8 فیصد اضافہ ہے۔</p>
<p>جون 2024 میں بیرونِ ملک جانے والے افراد نے بلاشبہ ترسیلاتِ زر میں اضافے میں کردار ادا کیا، تاہم ان کی تعداد سے زیادہ سے زیادہ چند ملین ڈالر کا اضافہ ہی متوقع تھا، اربوں ڈالر نہیں۔ یہ صورتِ حال اس قیاس کو جنم دیتی ہے کہ ترسیلاتِ زر میں ہونے والا نمایاں اضافہ شاید بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی بجائے ملکی سطح پر موجود نان فائلر افراد سے منسلک ہو۔</p>
<p>14.5 ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر قرض پر مبنی ہیں، کیونکہ گورنر اسٹیٹ بینک حال ہی میں یہ بات ریکارڈ پر لاچکے ہیں کہ دوست ممالک سے ایک سال کے لیے کیے گئے رول اوورز کی مالیت تقریباً 16 ارب ڈالر ہے۔</p>
<p>اور آخر میں یہ نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ اپڈیٹ کے مطابق نان ٹیکس ریونیو میں حیران کن طور پر 62 فیصد اضافہ ہوا — جو جولائی تا مئی  2,805 ارب روپے سے بڑھ کر 4,564 ارب روپے تک پہنچ گیا؛ تاہم اس میں سے 1,161 ارب روپے پٹرولیم لیوی سے حاصل کیے گئے (جو کہ ایک بالواسطہ ٹیکس ہے اور اس کا بوجھ غریب طبقے پر امیر طبقے کے مقابلے میں کہیں زیادہ پڑتا ہے)، جبکہ 119 ارب روپے اسٹیٹ بینک کے بجٹ سے زائد منافع سے حاصل ہوئے۔</p>
<p>یہ بات اہم ہے کہ معیشت ابھی تک مشکلات سے مکمل طور پر باہر نہیں نکلی، اور اقتصادی ٹیم کے رہنماؤں سے یہی گزارش کی جا سکتی ہے کہ وہ خود کو اور عوام کو ایسے اعداد و شمار سے خوش فہمی میں مبتلا نہ کریں جن کی آسانی سے تردید کی جا سکتی ہے۔ درحقیقت، ان پر لازم ہے کہ وہ اپنی پالیسی سازی کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ایسے اقدامات کریں جو درست اور بروقت اعداد و شمار کی بنیاد پر مناسب فیصلے اور اصلاحات ممکن بنا سکیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275288</guid>
      <pubDate>Thu, 31 Jul 2025 10:33:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/3110313618cdb6a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/3110313618cdb6a.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
