<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:13:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:13:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور امریکہ کے درمیان ’ون-ون‘ تجارتی معاہدہ طے پا گیا، وزیر خزانہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275284/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جمعرات کے روز پاکستان اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے تجارتی معاہدے کو دونوں ممالک کے لیے ون-ون صورتحال قرار دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو پیغام میں کہا کہ ”آج اس سفر کی تکمیل ہے جو ہم نے چند ماہ قبل شروع کیا تھا“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے بتایا کہ دونوں ممالک کے حکام کے درمیان انتہائی تعمیری حتمی بات چیت ہوئی، جس کے نتیجے میں تجارتی معاہدہ طے پایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اہم پیش رفت جمعرات کو واشنگٹن ڈی سی میں پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور امریکی سیکریٹری آف کامرس ہاورڈ لٹ نک، اور یو ایس ٹریڈ رپریزنٹیٹو ایمبیسیڈر جیمیسن گریئر کے درمیان ملاقات کے دوران ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر امریکی سیکریٹری آف کامرس جاوید پال اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے کہا کہ ماری نظر میں، ہم ہمیشہ تجارت سے آگے سوچ رہے تھے، تجارت اور سرمایہ کاری ایک دوسرے کے ساتھ چلنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے اس معاہدے تک پہنچنے میں اپنی اقتصادی ٹیم اور نجی شعبے کے کردار کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے بتایا کہ مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری پر بات چیت ہوئی۔ ہم توانائی سے آغاز کریں گے۔ اس کے بعد معدنیات اور کان کنی، آئی ٹی، اور نئی معیشت کے شعبے زیر غور آئیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم آج پاکستان میں ایک بہتر مقام پر کھڑے ہیں، یکم اگست سے پہلے ہم جس مقام پر پہنچے، اس کے لحاظ سے۔ ہم نے امریکہ کے ساتھ مجموعی طور پر اپنی اسٹریٹجک شراکت داری میں کافی پیش رفت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان ایک دن بعد آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی حکومت نے پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت واشنگٹن، پاکستان کے تیل کے ذخائر کی ترقی میں اسلام آباد کے ساتھ کام کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ہم نے پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ مکمل کیا ہے، جس کے تحت پاکستان اور امریکہ مل کر ان کے وسیع تیل کے ذخائر کی ترقی پر کام کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید لکھا کہ ”ہم اس وقت اس آئل کمپنی کے انتخاب کے عمل میں ہیں جو اس شراکت داری کی قیادت کرے گی۔ کون جانتا ہے، شاید وہ ایک دن بھارت کو تیل فروخت کر رہے ہوں!“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے اپریل میں دنیا کے مختلف ممالک پر عائد کردہ ٹیرف کے تحت پاکستان کی برآمدات پر ممکنہ طور پر 29 فیصد ٹیکس لاگو ہونے والا تھا۔ تاہم مذاکرات کی غرض سے ان ٹیرف کو 90 دن کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ انتظامیہ نے متعدد ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر دوبارہ گفت و شنید کی کوشش کی، اور ان ممالک کو غیر منصفانہ تجارتی تعلقات کے الزام میں ٹیرف کی دھمکیاں دیں۔ تاہم بہت سے ماہرین اقتصادیات نے ٹرمپ کے اس مؤقف کو متنازع قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو ایس ٹریڈ رپریزنٹیٹو کے دفتر کی ویب سائٹ کے مطابق 2024 میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان کل تجارتی حجم کا تخمینہ 7.3 ارب ڈالر لگایا گیا، جو 2023 میں 6.9 ارب ڈالر تھا۔ 2024 میں پاکستان کے ساتھ امریکہ کا تجارتی خسارہ 3 ارب ڈالر رہا، جو 2023 کے مقابلے میں 5.2 فیصد زیادہ تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جمعرات کے روز پاکستان اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے تجارتی معاہدے کو دونوں ممالک کے لیے ون-ون صورتحال قرار دیا۔</strong></p>
<p>محمد اورنگزیب نے وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو پیغام میں کہا کہ ”آج اس سفر کی تکمیل ہے جو ہم نے چند ماہ قبل شروع کیا تھا“۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے بتایا کہ دونوں ممالک کے حکام کے درمیان انتہائی تعمیری حتمی بات چیت ہوئی، جس کے نتیجے میں تجارتی معاہدہ طے پایا۔</p>
<p>یہ اہم پیش رفت جمعرات کو واشنگٹن ڈی سی میں پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور امریکی سیکریٹری آف کامرس ہاورڈ لٹ نک، اور یو ایس ٹریڈ رپریزنٹیٹو ایمبیسیڈر جیمیسن گریئر کے درمیان ملاقات کے دوران ہوئی۔</p>
<p>اس موقع پر امریکی سیکریٹری آف کامرس جاوید پال اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ بھی موجود تھے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے کہا کہ ماری نظر میں، ہم ہمیشہ تجارت سے آگے سوچ رہے تھے، تجارت اور سرمایہ کاری ایک دوسرے کے ساتھ چلنی چاہیے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے اس معاہدے تک پہنچنے میں اپنی اقتصادی ٹیم اور نجی شعبے کے کردار کو سراہا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے بتایا کہ مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری پر بات چیت ہوئی۔ ہم توانائی سے آغاز کریں گے۔ اس کے بعد معدنیات اور کان کنی، آئی ٹی، اور نئی معیشت کے شعبے زیر غور آئیں گے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم آج پاکستان میں ایک بہتر مقام پر کھڑے ہیں، یکم اگست سے پہلے ہم جس مقام پر پہنچے، اس کے لحاظ سے۔ ہم نے امریکہ کے ساتھ مجموعی طور پر اپنی اسٹریٹجک شراکت داری میں کافی پیش رفت کی ہے۔</p>
<p>یہ بیان ایک دن بعد آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی حکومت نے پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت واشنگٹن، پاکستان کے تیل کے ذخائر کی ترقی میں اسلام آباد کے ساتھ کام کرے گا۔</p>
<p>ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ہم نے پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ مکمل کیا ہے، جس کے تحت پاکستان اور امریکہ مل کر ان کے وسیع تیل کے ذخائر کی ترقی پر کام کریں گے۔</p>
<p>انہوں نے مزید لکھا کہ ”ہم اس وقت اس آئل کمپنی کے انتخاب کے عمل میں ہیں جو اس شراکت داری کی قیادت کرے گی۔ کون جانتا ہے، شاید وہ ایک دن بھارت کو تیل فروخت کر رہے ہوں!“</p>
<p>واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے اپریل میں دنیا کے مختلف ممالک پر عائد کردہ ٹیرف کے تحت پاکستان کی برآمدات پر ممکنہ طور پر 29 فیصد ٹیکس لاگو ہونے والا تھا۔ تاہم مذاکرات کی غرض سے ان ٹیرف کو 90 دن کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>ٹرمپ انتظامیہ نے متعدد ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر دوبارہ گفت و شنید کی کوشش کی، اور ان ممالک کو غیر منصفانہ تجارتی تعلقات کے الزام میں ٹیرف کی دھمکیاں دیں۔ تاہم بہت سے ماہرین اقتصادیات نے ٹرمپ کے اس مؤقف کو متنازع قرار دیا ہے۔</p>
<p>یو ایس ٹریڈ رپریزنٹیٹو کے دفتر کی ویب سائٹ کے مطابق 2024 میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان کل تجارتی حجم کا تخمینہ 7.3 ارب ڈالر لگایا گیا، جو 2023 میں 6.9 ارب ڈالر تھا۔ 2024 میں پاکستان کے ساتھ امریکہ کا تجارتی خسارہ 3 ارب ڈالر رہا، جو 2023 کے مقابلے میں 5.2 فیصد زیادہ تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275284</guid>
      <pubDate>Thu, 31 Jul 2025 10:03:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/YdWB252MhPw/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/YdWB252MhPw/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=YdWB252MhPw"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
