<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:38:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:38:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چینی وفد کی توانائی سے متعلق صنعتوں میں گہری دلچسپی کا اظہار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275281/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آل چائنا فیڈریشن آف انڈسٹری اینڈ کامرس (اے سی ایف آئی سی) کے ڈائریکٹر یی جیانگ کی قیادت میں ایک چینی کاروباری وفد نے وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے وزارت توانائی میں ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان میں سرمایہ کاری، چینی صنعتوں کی پاکستان منتقلی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور توانائی کے شعبے میں ممکنہ تعاون پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی وفد نے وفاقی وزیر کو آگاہ کیا کہ اے سی ایف آئی سی، جو چین کی نجی کاروباری برادری کی نمائندہ تنظیم ہے، اب دنیا کے 155 شراکت دار ممالک میں کاروباری مواقع تلاش کرنے اور شراکت داریاں قائم کرنے کے عمل میں سرگرم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد نے بتایا کہ وہ پاکستان میں چینی صنعتوں کی منتقلی، مقامی کاروباری برادری کے ساتھ اشتراک، اور ٹیکنالوجی کی منتقلی جیسے بڑے منصوبوں کے لیے عملی تجاویز کے ساتھ آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد نے توانائی سے متعلق صنعتوں میں خاص دلچسپی ظاہر کی، جن میں الیکٹرک گاڑیاں، چارجنگ اسٹیشنز، سولر مصنوعات اور لیتھیئم اسٹوریج شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مٹیاری ٹرانسمیشن لائن منصوبے کو ایک کامیاب ماڈل قرار دیتے ہوئے وفد نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری نہ صرف مقامی ضروریات بلکہ علاقائی تقاضوں کو بھی پورا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کرپٹو مائننگ کو قومی گرڈ میں لچک لانے کا ممکنہ ذریعہ بھی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وفاقی وزیر سردار اویس لغاری نے کہا کہ حکومت پاکستان صنعتی تعاون اور ٹیکنالوجی کے تبادلے میں مکمل سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ مالی صورتحال کے پیش نظر حکومت کسی بھی صنعت کو سبسڈی پر بجلی فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وفد کو مشورہ دیا کہ اگر ان کے پاس ایسا کوئی ماڈل ہے جس کے لیے سرکاری سبسڈی درکار نہ ہو، تو اسے مکمل اعداد و شمار اور تفصیلات کے ساتھ پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان تمام تجاویز پر غور کرے گی جو مالی طور پر فائدہ مند ہوں اور قومی مفاد سے ہم آہنگ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آل چائنا فیڈریشن آف انڈسٹری اینڈ کامرس (اے سی ایف آئی سی) کے ڈائریکٹر یی جیانگ کی قیادت میں ایک چینی کاروباری وفد نے وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے وزارت توانائی میں ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان میں سرمایہ کاری، چینی صنعتوں کی پاکستان منتقلی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور توانائی کے شعبے میں ممکنہ تعاون پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔</strong></p>
<p>چینی وفد نے وفاقی وزیر کو آگاہ کیا کہ اے سی ایف آئی سی، جو چین کی نجی کاروباری برادری کی نمائندہ تنظیم ہے، اب دنیا کے 155 شراکت دار ممالک میں کاروباری مواقع تلاش کرنے اور شراکت داریاں قائم کرنے کے عمل میں سرگرم ہے۔</p>
<p>وفد نے بتایا کہ وہ پاکستان میں چینی صنعتوں کی منتقلی، مقامی کاروباری برادری کے ساتھ اشتراک، اور ٹیکنالوجی کی منتقلی جیسے بڑے منصوبوں کے لیے عملی تجاویز کے ساتھ آئے ہیں۔</p>
<p>وفد نے توانائی سے متعلق صنعتوں میں خاص دلچسپی ظاہر کی، جن میں الیکٹرک گاڑیاں، چارجنگ اسٹیشنز، سولر مصنوعات اور لیتھیئم اسٹوریج شامل ہیں۔</p>
<p>مٹیاری ٹرانسمیشن لائن منصوبے کو ایک کامیاب ماڈل قرار دیتے ہوئے وفد نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری نہ صرف مقامی ضروریات بلکہ علاقائی تقاضوں کو بھی پورا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کرپٹو مائننگ کو قومی گرڈ میں لچک لانے کا ممکنہ ذریعہ بھی قرار دیا۔</p>
<p>وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وفاقی وزیر سردار اویس لغاری نے کہا کہ حکومت پاکستان صنعتی تعاون اور ٹیکنالوجی کے تبادلے میں مکمل سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ مالی صورتحال کے پیش نظر حکومت کسی بھی صنعت کو سبسڈی پر بجلی فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔</p>
<p>انہوں نے وفد کو مشورہ دیا کہ اگر ان کے پاس ایسا کوئی ماڈل ہے جس کے لیے سرکاری سبسڈی درکار نہ ہو، تو اسے مکمل اعداد و شمار اور تفصیلات کے ساتھ پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان تمام تجاویز پر غور کرے گی جو مالی طور پر فائدہ مند ہوں اور قومی مفاد سے ہم آہنگ ہوں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275281</guid>
      <pubDate>Thu, 31 Jul 2025 09:31:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/31093005f723a80.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/31093005f723a80.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
