<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:43:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:43:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا معاشی مستقبل روشن ہے، گورنر اسٹیٹ بینک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275276/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے بدھ کے روز کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کا مستقبل روشن نظر آ رہا ہے، مالی سال 26-2025 میں جی ڈی پی کی شرح نمو 3.5 تا 4.5 فیصد رہنے کی توقع ہے، جبکہ ترسیلات زر اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور 26 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں قابلِ انتظام ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد اسٹیٹ بینک کے ہیڈ آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو پائیدار اور برآمدات پر مبنی ترقی کی ضرورت ہے۔ ملک کو بلند شرح نمو کی ضرورت ہے، لیکن بیرونی شعبے کو مستحکم کرنے اور دیرپا بہتری کے لیے برآمدات میں مضبوط اضافہ ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کی فروخت، کھاد کی کھپت، نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی، مشینری اور انٹرمیڈیٹ اشیا کی درآمدات، اور پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس جیسے اشاریے بتا رہے ہیں کہ معیشت آہستہ آہستہ بحال ہو رہی ہے۔ اپریل اور مئی 2025 میں بڑی صنعتوں کی پیداوار (ایل ایس ایم) میں سالانہ بنیاد پر اضافہ دیکھا گیا، جو صنعتوں کی بہتری کی علامت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مالی سال 25-2024 میں عبوری تخمینوں کے مطابق جی ڈی پی کی شرح نمو 2.7 فیصد رہی، جس کی بڑی وجہ زرعی شعبے کی کم کارکردگی (0.6 فیصد) تھی۔ تاہم حالیہ بارشوں سے پانی کی فراہمی بہتر ہونے کے باعث زرعی شعبے کی بحالی کی امید ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمیل احمد نے بتایا کہ بہتر مالی حالات، کاروباری اعتماد اور مجموعی استحکام کے باعث رواں مالی سال میں شرح نمو 3.25 تا 4.25 فیصد رہنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگرچہ ترسیلات زر کی شرح نمو میں سست روی آ سکتی ہے، لیکن اس کے باوجود یہ مالی سال 26 میں 40 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہیں، جو  مالی سال 25 میں 38 ارب ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ درآمدات میں اضافہ اور برآمدات خصوصاً چاول کی کم قیمتوں کے باعث تجارتی خسارہ بڑھے گا اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جبکہ  مالی سال 25 میں کرنٹ اکاؤنٹ 2.2 ارب ڈالر سرپلس رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرمبادلہ کے ذخائر سے متعلق انہوں نے بتایا کہ دسمبر 2025 تک اسٹیٹ بینک کے ذخائر 15.5 ارب ڈالر اور جون 2026 تک 17.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اگر یوروبانڈ یا سکوک جاری کیے گئے تو یہ ہدف مزید بڑھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ  مالی سال 26 میں پاکستان کو 25.9 ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں کرنی ہیں جن میں 22 ارب ڈالر اصل زر اور 4 ارب ڈالر سود شامل ہیں۔ ان میں سے 16 ارب ڈالر کی رول اوور کی توقع ہے جبکہ 10 ارب ڈالر کی ادائیگی کی جائے گی۔ رواں سال 1.8 ارب ڈالر مالیت کے بانڈز بھی میچور ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ ذخائر میں اضافہ بیرونی قرضوں کی بدولت نہیں بلکہ بہتر معاشی بنیادوں کا نتیجہ ہے۔ اس وقت ملک کے ذخائر 14.5 ارب ڈالر ہیں جو سالانہ بیرونی واجبات (10 ارب ڈالر) سے زائد ہیں، جو گزشتہ سالوں کے برعکس ایک مثبت پیش رفت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرح سود سے متعلق گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد ہو چکا ہے اور اس کا مثبت اثر ایل ایس ایم میں دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک جلد ڈیجیٹل کرنسی ( سی بی ڈی سی) کا پائلٹ منصوبہ شروع کرے گا اور کاشتکاروں کے لیے زرعی قرضوں کی اسکیم بھی حتمی مراحل میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگائی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ہدف 5 تا 7 فیصد ہے، تاہم بنیادی مہنگائی کے دباؤ کے باعث یہ عارضی طور پر اس حد سے تجاوز کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی درجہ بندی بہتر کی ہے، اور بانڈز کی قیمتوں میں اضافے سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں انہوں نے بتایا کہ  مالی سال 25 میں 59 ارب ڈالر کی درآمدات کی ادائیگیاں ممکن ہوئیں، اور جون 2025 تک کسی غیر ملکی کمپنی کی ڈیویڈنڈ کی ادائیگی زیر التوا نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پاکستان کا بیرونی عوامی قرضہ 2015 میں 55 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2023 میں 100 ارب ڈالر تک پہنچا، تاہم گزشتہ تین سالوں سے یہ مستحکم ہے جو مالیاتی نظم و ضبط کی علامت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے بدھ کے روز کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کا مستقبل روشن نظر آ رہا ہے، مالی سال 26-2025 میں جی ڈی پی کی شرح نمو 3.5 تا 4.5 فیصد رہنے کی توقع ہے، جبکہ ترسیلات زر اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور 26 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں قابلِ انتظام ہیں۔</strong></p>
<p>مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد اسٹیٹ بینک کے ہیڈ آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو پائیدار اور برآمدات پر مبنی ترقی کی ضرورت ہے۔ ملک کو بلند شرح نمو کی ضرورت ہے، لیکن بیرونی شعبے کو مستحکم کرنے اور دیرپا بہتری کے لیے برآمدات میں مضبوط اضافہ ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کی فروخت، کھاد کی کھپت، نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی، مشینری اور انٹرمیڈیٹ اشیا کی درآمدات، اور پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس جیسے اشاریے بتا رہے ہیں کہ معیشت آہستہ آہستہ بحال ہو رہی ہے۔ اپریل اور مئی 2025 میں بڑی صنعتوں کی پیداوار (ایل ایس ایم) میں سالانہ بنیاد پر اضافہ دیکھا گیا، جو صنعتوں کی بہتری کی علامت ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مالی سال 25-2024 میں عبوری تخمینوں کے مطابق جی ڈی پی کی شرح نمو 2.7 فیصد رہی، جس کی بڑی وجہ زرعی شعبے کی کم کارکردگی (0.6 فیصد) تھی۔ تاہم حالیہ بارشوں سے پانی کی فراہمی بہتر ہونے کے باعث زرعی شعبے کی بحالی کی امید ہے۔</p>
<p>جمیل احمد نے بتایا کہ بہتر مالی حالات، کاروباری اعتماد اور مجموعی استحکام کے باعث رواں مالی سال میں شرح نمو 3.25 تا 4.25 فیصد رہنے کی توقع ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگرچہ ترسیلات زر کی شرح نمو میں سست روی آ سکتی ہے، لیکن اس کے باوجود یہ مالی سال 26 میں 40 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہیں، جو  مالی سال 25 میں 38 ارب ڈالر تھیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ درآمدات میں اضافہ اور برآمدات خصوصاً چاول کی کم قیمتوں کے باعث تجارتی خسارہ بڑھے گا اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جبکہ  مالی سال 25 میں کرنٹ اکاؤنٹ 2.2 ارب ڈالر سرپلس رہا۔</p>
<p>زرمبادلہ کے ذخائر سے متعلق انہوں نے بتایا کہ دسمبر 2025 تک اسٹیٹ بینک کے ذخائر 15.5 ارب ڈالر اور جون 2026 تک 17.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اگر یوروبانڈ یا سکوک جاری کیے گئے تو یہ ہدف مزید بڑھ سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ  مالی سال 26 میں پاکستان کو 25.9 ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں کرنی ہیں جن میں 22 ارب ڈالر اصل زر اور 4 ارب ڈالر سود شامل ہیں۔ ان میں سے 16 ارب ڈالر کی رول اوور کی توقع ہے جبکہ 10 ارب ڈالر کی ادائیگی کی جائے گی۔ رواں سال 1.8 ارب ڈالر مالیت کے بانڈز بھی میچور ہوں گے۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ ذخائر میں اضافہ بیرونی قرضوں کی بدولت نہیں بلکہ بہتر معاشی بنیادوں کا نتیجہ ہے۔ اس وقت ملک کے ذخائر 14.5 ارب ڈالر ہیں جو سالانہ بیرونی واجبات (10 ارب ڈالر) سے زائد ہیں، جو گزشتہ سالوں کے برعکس ایک مثبت پیش رفت ہے۔</p>
<p>شرح سود سے متعلق گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد ہو چکا ہے اور اس کا مثبت اثر ایل ایس ایم میں دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک جلد ڈیجیٹل کرنسی ( سی بی ڈی سی) کا پائلٹ منصوبہ شروع کرے گا اور کاشتکاروں کے لیے زرعی قرضوں کی اسکیم بھی حتمی مراحل میں ہے۔</p>
<p>مہنگائی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ہدف 5 تا 7 فیصد ہے، تاہم بنیادی مہنگائی کے دباؤ کے باعث یہ عارضی طور پر اس حد سے تجاوز کر سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی درجہ بندی بہتر کی ہے، اور بانڈز کی قیمتوں میں اضافے سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔</p>
<p>آخر میں انہوں نے بتایا کہ  مالی سال 25 میں 59 ارب ڈالر کی درآمدات کی ادائیگیاں ممکن ہوئیں، اور جون 2025 تک کسی غیر ملکی کمپنی کی ڈیویڈنڈ کی ادائیگی زیر التوا نہیں تھی۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پاکستان کا بیرونی عوامی قرضہ 2015 میں 55 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2023 میں 100 ارب ڈالر تک پہنچا، تاہم گزشتہ تین سالوں سے یہ مستحکم ہے جو مالیاتی نظم و ضبط کی علامت ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275276</guid>
      <pubDate>Thu, 31 Jul 2025 08:44:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/31084408fa61ece.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/31084408fa61ece.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
