<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 00:26:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 00:26:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کاروباری برادری پالیسی ریٹ میں جمود پر ’مایوس‘</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275271/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی کاروباری برادری نے مرکزی بینک کے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے، جس کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کاروباری اعتماد متاثر ہوا ہے اور صنعتکاروں، تاجروں اور سرمایہ کاروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے پالیسی ریٹ کو بغیر کسی تبدیلی کے 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جو مارکیٹ کی توقعات کے برعکس تھا جہاں 50 سے 100 بیسز پوائنٹس کی کمی کی توقع کی جا رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق جون 2025 میں صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) 3.2 فیصد تھا، لیکن پالیسی ریٹ آج بھی 11 فیصد پر قائم ہے، جو مہنگائی کے مقابلے میں 780 بیسز پوائنٹس کا پریمیم ظاہر کرتا ہے اور اس کا کوئی معاشی جواز نہیں بنتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف شیخ نے مزید کہا کہ صنعتوں اور شعبوں کی مشاورت کے بعد ایف پی سی سی آئی نے بدھ کی ایم پی سی میٹنگ میں ایک ہی بار میں 500 بیسز پوائنٹس کی کمی کا مطالبہ کیا تھا تاکہ پالیسی ریٹ کو معقول بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ایچ ایم اے) کے مرکزی چیئرمین محمد بابر خان نے کہا ہے کہ پالیسی ریٹ کا 11 فیصد پر برقرار رہنا مختلف شعبوں کے ایکسپورٹرز اور صنعتکاروں کی ترقی کے لیے نقصان دہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا ہے کہ  یہ شرح سود خطے کے مقابلے میں زیادہ ہے، جس کی وجہ سے ایکسپورٹرز کے لیے اپنی برآمدات بڑھانا یا ویتنام، بنگلہ دیش اور بھارت جیسے ممالک سے مقابلہ کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے کہا ہے کہ شرح سود میں کمی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے، سستے قرضوں کی فراہمی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میری رائے میں یہ کوئی دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہے۔ افراط زر میں کمی آ چکی ہے اور کاروباری طبقہ شدید دباؤ میں ہے۔ اگر شرح سود اسی بلند سطح پر برقرار رہی تو یہ کاروباری برادری پر مزید بوجھ ڈالے گا جو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی سالانہ بنیاد پر ہیڈلائن مہنگائی جون 2025 میں 3.2 فیصد رہی، جو مئی 2025 کے 3.5 فیصد کے مقابلے میں کم ہے جبکہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ بنیاد پر اس میں  0.2 فیصد اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلیم ولی محمد کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومت دعوی کرتی ہے کہ مہنگائی کم ہو رہی ہے مگر دوسری طرف شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں، یہ پالیسی تضاد معاشی بحالی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر محمد جاوید بلوانی نے کہا ہے کہ موجودہ مہنگائی کی سطح کے باوجود شرح سود کو اکائی ہندسہ تک کم کرنے کی گنجائش موجود ہے جیسا کہ کئی علاقائی ممالک نے کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ شرح سود میں کمی کا یہ موقع کھو کر اسٹیٹ بینک نے نہ صرف معاشی بحالی کی امیدیں کمزور کیں بلکہ نجی شعبے پر غیر ضروری اور مسلسل بوجھ ڈال دیا ہے۔ یہ فیصلہ خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) اور صنعتکاروں کے لیے نقصان دہ ہے اور معاشی بحالی، روزگار کے مواقع اور صنعتی ترقی کو بھی متاثر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاوید بلوانی نے خطے کے دیگر ممالک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ
بھارت کی پالیسی شرح سود 6.5 فیصد، بنگلہ دیش 8.5 فیصد، انڈونیشیا 6.25 فیصد اور ویتنام 5 فیصد سے بھی کم ہے، جو پاکستان کی شرح سود سے کافی کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ (ای پی بی ڈی) تھنک ٹینک نے بھی اسٹیٹ بینک کے فیصلے کو ”انتہائی محتاط“ قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای پی بی ڈی کے چیئرمین گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس کلیکشن میں 18 فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا ہے مگر موجودہ مانیٹری پالیسی ٹیکس ادا کرنے والے کاروباروں کی سرگرمیوں کو روک رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ شرح سود فوری طور پر 9 فیصد تک کم کی جائے اور 31 دسمبر 2025 تک اسے 6 فیصد تک لایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ  پاکستان میں مینوفیکچرنگ اور برآمدات کی زبردست صلاحیت موجود ہے لیکن مانیٹری پالیسی اقتصادی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی کاروباری برادری نے مرکزی بینک کے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے، جس کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کاروباری اعتماد متاثر ہوا ہے اور صنعتکاروں، تاجروں اور سرمایہ کاروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔</strong></p>
<p>بدھ کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے پالیسی ریٹ کو بغیر کسی تبدیلی کے 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جو مارکیٹ کی توقعات کے برعکس تھا جہاں 50 سے 100 بیسز پوائنٹس کی کمی کی توقع کی جا رہی تھی۔</p>
<p>فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق جون 2025 میں صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) 3.2 فیصد تھا، لیکن پالیسی ریٹ آج بھی 11 فیصد پر قائم ہے، جو مہنگائی کے مقابلے میں 780 بیسز پوائنٹس کا پریمیم ظاہر کرتا ہے اور اس کا کوئی معاشی جواز نہیں بنتا۔</p>
<p>عاطف شیخ نے مزید کہا کہ صنعتوں اور شعبوں کی مشاورت کے بعد ایف پی سی سی آئی نے بدھ کی ایم پی سی میٹنگ میں ایک ہی بار میں 500 بیسز پوائنٹس کی کمی کا مطالبہ کیا تھا تاکہ پالیسی ریٹ کو معقول بنایا جا سکے۔</p>
<p>پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ایچ ایم اے) کے مرکزی چیئرمین محمد بابر خان نے کہا ہے کہ پالیسی ریٹ کا 11 فیصد پر برقرار رہنا مختلف شعبوں کے ایکسپورٹرز اور صنعتکاروں کی ترقی کے لیے نقصان دہ ہوگا۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا ہے کہ  یہ شرح سود خطے کے مقابلے میں زیادہ ہے، جس کی وجہ سے ایکسپورٹرز کے لیے اپنی برآمدات بڑھانا یا ویتنام، بنگلہ دیش اور بھارت جیسے ممالک سے مقابلہ کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔</p>
<p>پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے کہا ہے کہ شرح سود میں کمی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے، سستے قرضوں کی فراہمی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ میری رائے میں یہ کوئی دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہے۔ افراط زر میں کمی آ چکی ہے اور کاروباری طبقہ شدید دباؤ میں ہے۔ اگر شرح سود اسی بلند سطح پر برقرار رہی تو یہ کاروباری برادری پر مزید بوجھ ڈالے گا جو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے۔</p>
<p>پاکستان کی سالانہ بنیاد پر ہیڈلائن مہنگائی جون 2025 میں 3.2 فیصد رہی، جو مئی 2025 کے 3.5 فیصد کے مقابلے میں کم ہے جبکہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ بنیاد پر اس میں  0.2 فیصد اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>سلیم ولی محمد کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومت دعوی کرتی ہے کہ مہنگائی کم ہو رہی ہے مگر دوسری طرف شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں، یہ پالیسی تضاد معاشی بحالی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔</p>
<p>کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر محمد جاوید بلوانی نے کہا ہے کہ موجودہ مہنگائی کی سطح کے باوجود شرح سود کو اکائی ہندسہ تک کم کرنے کی گنجائش موجود ہے جیسا کہ کئی علاقائی ممالک نے کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ شرح سود میں کمی کا یہ موقع کھو کر اسٹیٹ بینک نے نہ صرف معاشی بحالی کی امیدیں کمزور کیں بلکہ نجی شعبے پر غیر ضروری اور مسلسل بوجھ ڈال دیا ہے۔ یہ فیصلہ خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) اور صنعتکاروں کے لیے نقصان دہ ہے اور معاشی بحالی، روزگار کے مواقع اور صنعتی ترقی کو بھی متاثر کرتا ہے۔</p>
<p>جاوید بلوانی نے خطے کے دیگر ممالک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ
بھارت کی پالیسی شرح سود 6.5 فیصد، بنگلہ دیش 8.5 فیصد، انڈونیشیا 6.25 فیصد اور ویتنام 5 فیصد سے بھی کم ہے، جو پاکستان کی شرح سود سے کافی کم ہے۔</p>
<p>اسی دوران اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ (ای پی بی ڈی) تھنک ٹینک نے بھی اسٹیٹ بینک کے فیصلے کو ”انتہائی محتاط“ قرار دیا ہے۔</p>
<p>ای پی بی ڈی کے چیئرمین گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس کلیکشن میں 18 فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا ہے مگر موجودہ مانیٹری پالیسی ٹیکس ادا کرنے والے کاروباروں کی سرگرمیوں کو روک رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ شرح سود فوری طور پر 9 فیصد تک کم کی جائے اور 31 دسمبر 2025 تک اسے 6 فیصد تک لایا جائے۔</p>
<p>گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ  پاکستان میں مینوفیکچرنگ اور برآمدات کی زبردست صلاحیت موجود ہے لیکن مانیٹری پالیسی اقتصادی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275271</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Jul 2025 20:42:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/302021073bd9d95.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1024" width="1536">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/302021073bd9d95.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
