<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:55:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:55:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کرنسی کا استحکام: سخت کنٹرول ، کمزور منطق؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275266/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تقریباً دو برس کی خاموشی کے بعد، جڑواں شہروں میں حکام ایک بار پھر کرنسی مارکیٹ میں استحکام لانے کی کوششوں میں سرگرم ہو گئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں، پہلی ایکسچینج کمپنیوں کے ساتھ، دوسری بینکوں کے صدور کے ساتھ، جس میں اسٹیٹ بینک کے گورنر اور وزیر خزانہ بھی شریک تھے اور پھر آپریشنل سطح پر ایسی مشاورتیں ہوئیں جن میں غیر رسمی (گرے مارکیٹ) کھلاڑی بھی شامل تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکرز کے درمیان عمومی تاثر یہ ہے کہ حکام کے نزدیک روپے اور ڈالر کی ”منصفانہ قدر“ 250 ہے، اور حالیہ تنزلی نے خدشات کو جنم دیا ہے۔ اسی لیے انتظامی سطح پر مسئلے کو قابو میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور بینکوں کو کرنسی مارکیٹ میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر 2023 میں جب کھلبلی مچ گئی تھی اور انٹربینک ریٹ 307 تک پہنچ گیا تھا جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 330 روپے کے قریب تھا، تو حکام نے اسمگلنگ اور حوالہ ہنڈی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کی۔ نتیجتاً، چند ہفتوں میں ریٹ 280 سے نیچے آ گیا اور کافی عرصے تک وہیں برقرار رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکوں کو اپنی ذاتی ایکسچینج کمپنیاں بنانے کی ہدایت دی گئی، مشکوک اداروں کے لائسنس منسوخ کیے گئے اور گرے مارکیٹ تقریباً ختم ہو گئی۔ اس سے انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی آمد بہتر ہوئی اور اسٹیٹ بینک نے گزشتہ 18 ماہ کے دوران مبینہ طور پر 12 سے 14 ارب ڈالر خریدے۔ بینکوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ درآمدی ادائیگیاں اپنی آمدنی (برآمدات و ترسیلات) سے کریں جبکہ اسٹیٹ بینک نے صرف سرپلس بینکوں سے خریداری کی، خسارے والے بینکوں کو انٹربینک مارکیٹ سے ڈالر خریدنے کی اجازت شاذ و نادر ہی دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب مگر صورتحال بدل رہی ہے۔ شرح سود میں واضح کمی کے بعد معاشی سرگرمیوں میں جزوی بحالی دیکھنے میں آئی ہے، جس سے درآمدات اور انٹربینک میں ڈالر کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب، ترسیلاتِ زر کی شرحِ نمو،جو مالی سال 2023 میں میں 27.3 ارب ڈالر سے مالی سال 2025 میں 38.3 ارب ڈالر تک پہنچی تھی،اب سست ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر رسمی ذرائع سے رقوم کی روک تھام کے لیے انتظامی کوششوں کے ساتھ ساتھ، بینکوں اور ترسیلاتی شراکت داروں کو دی جانے والی مالی سبسڈی نے بھی رسمی چینلز سے آمد کو بڑھایا۔ لیکن یہ سبسڈی مالی سال 2026 کے بجٹ میں شامل نہیں، جس کی وجہ سے جولائی میں آمد میں نمایاں کمی آئی، جبکہ درآمدات میں اضافہ ہوا، اور یوں مارکیٹ میں ڈالر کی قلت پیدا ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روپیہ اگرچہ آہستہ آہستہ گر رہا ہے، لیکن بینکوں نے درآمدی ادائیگیاں (بشمول تیل) انٹربینک ریٹ سے پریمیم پر سیٹل کرنا شروع کر دی ہیں۔ اس سے اوپن مارکیٹ ریٹس بھی اوپر چلے گئے، جو گزشتہ ہفتے 290 کے قریب پہنچ گئے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب حکام نے دوبارہ مداخلت کی۔ لیکن اس بار نہ تو کوئی غیر قانونی سرگرمی ہے اور نہ ہی مارکیٹ میں گھبراہٹ۔ اس لیے ان ملاقاتوں سے کوئی خاص نتیجہ برآمد ہونے کا امکان نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسئلے کا حل صرف دو صورتوں میں ممکن ہے: یا تو بیرونی قرض یا براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے فارن کرنسی کی رسد میں اضافہ کیا جائے، یا پھر درآمدات کو محدود کیا جائے، مثلاً شرح سود میں اضافہ کر کے یا بینکوں پر ایل سیز کو سخت کرنے کے لیے دباؤ ڈال کر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اگر مقصد معیشت کو بحال کرنا اور روزگار پیدا کرنا ہے تو پھر درآمدات پر قدغن ممکن نہیں۔ ”آپ ایک وقت میں دونوں کام نہیں کر سکتے۔“ گزشتہ دو برسوں کی معاشی سختی نے اسٹیٹ بینک کو ذخائر بڑھانے کا موقع دیا۔ لیکن اگر بحالی مطلوب ہے تو انٹربینک مارکیٹ کو آزادانہ کام کرنے دینا ہوگا، اور اسی دوران ذخائر بڑھانے کے لیے حکام کو بیرونی سرمایہ کاری اور قرض کی فراہمی پر کام کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تقریباً دو برس کی خاموشی کے بعد، جڑواں شہروں میں حکام ایک بار پھر کرنسی مارکیٹ میں استحکام لانے کی کوششوں میں سرگرم ہو گئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں، پہلی ایکسچینج کمپنیوں کے ساتھ، دوسری بینکوں کے صدور کے ساتھ، جس میں اسٹیٹ بینک کے گورنر اور وزیر خزانہ بھی شریک تھے اور پھر آپریشنل سطح پر ایسی مشاورتیں ہوئیں جن میں غیر رسمی (گرے مارکیٹ) کھلاڑی بھی شامل تھے۔</strong></p>
<p>بینکرز کے درمیان عمومی تاثر یہ ہے کہ حکام کے نزدیک روپے اور ڈالر کی ”منصفانہ قدر“ 250 ہے، اور حالیہ تنزلی نے خدشات کو جنم دیا ہے۔ اسی لیے انتظامی سطح پر مسئلے کو قابو میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور بینکوں کو کرنسی مارکیٹ میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔</p>
<p>ستمبر 2023 میں جب کھلبلی مچ گئی تھی اور انٹربینک ریٹ 307 تک پہنچ گیا تھا جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 330 روپے کے قریب تھا، تو حکام نے اسمگلنگ اور حوالہ ہنڈی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کی۔ نتیجتاً، چند ہفتوں میں ریٹ 280 سے نیچے آ گیا اور کافی عرصے تک وہیں برقرار رہا۔</p>
<p>بینکوں کو اپنی ذاتی ایکسچینج کمپنیاں بنانے کی ہدایت دی گئی، مشکوک اداروں کے لائسنس منسوخ کیے گئے اور گرے مارکیٹ تقریباً ختم ہو گئی۔ اس سے انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی آمد بہتر ہوئی اور اسٹیٹ بینک نے گزشتہ 18 ماہ کے دوران مبینہ طور پر 12 سے 14 ارب ڈالر خریدے۔ بینکوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ درآمدی ادائیگیاں اپنی آمدنی (برآمدات و ترسیلات) سے کریں جبکہ اسٹیٹ بینک نے صرف سرپلس بینکوں سے خریداری کی، خسارے والے بینکوں کو انٹربینک مارکیٹ سے ڈالر خریدنے کی اجازت شاذ و نادر ہی دی گئی۔</p>
<p>اب مگر صورتحال بدل رہی ہے۔ شرح سود میں واضح کمی کے بعد معاشی سرگرمیوں میں جزوی بحالی دیکھنے میں آئی ہے، جس سے درآمدات اور انٹربینک میں ڈالر کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب، ترسیلاتِ زر کی شرحِ نمو،جو مالی سال 2023 میں میں 27.3 ارب ڈالر سے مالی سال 2025 میں 38.3 ارب ڈالر تک پہنچی تھی،اب سست ہو رہی ہے۔</p>
<p>غیر رسمی ذرائع سے رقوم کی روک تھام کے لیے انتظامی کوششوں کے ساتھ ساتھ، بینکوں اور ترسیلاتی شراکت داروں کو دی جانے والی مالی سبسڈی نے بھی رسمی چینلز سے آمد کو بڑھایا۔ لیکن یہ سبسڈی مالی سال 2026 کے بجٹ میں شامل نہیں، جس کی وجہ سے جولائی میں آمد میں نمایاں کمی آئی، جبکہ درآمدات میں اضافہ ہوا، اور یوں مارکیٹ میں ڈالر کی قلت پیدا ہوئی۔</p>
<p>روپیہ اگرچہ آہستہ آہستہ گر رہا ہے، لیکن بینکوں نے درآمدی ادائیگیاں (بشمول تیل) انٹربینک ریٹ سے پریمیم پر سیٹل کرنا شروع کر دی ہیں۔ اس سے اوپن مارکیٹ ریٹس بھی اوپر چلے گئے، جو گزشتہ ہفتے 290 کے قریب پہنچ گئے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب حکام نے دوبارہ مداخلت کی۔ لیکن اس بار نہ تو کوئی غیر قانونی سرگرمی ہے اور نہ ہی مارکیٹ میں گھبراہٹ۔ اس لیے ان ملاقاتوں سے کوئی خاص نتیجہ برآمد ہونے کا امکان نہیں۔</p>
<p>مسئلے کا حل صرف دو صورتوں میں ممکن ہے: یا تو بیرونی قرض یا براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے فارن کرنسی کی رسد میں اضافہ کیا جائے، یا پھر درآمدات کو محدود کیا جائے، مثلاً شرح سود میں اضافہ کر کے یا بینکوں پر ایل سیز کو سخت کرنے کے لیے دباؤ ڈال کر۔</p>
<p>لیکن اگر مقصد معیشت کو بحال کرنا اور روزگار پیدا کرنا ہے تو پھر درآمدات پر قدغن ممکن نہیں۔ ”آپ ایک وقت میں دونوں کام نہیں کر سکتے۔“ گزشتہ دو برسوں کی معاشی سختی نے اسٹیٹ بینک کو ذخائر بڑھانے کا موقع دیا۔ لیکن اگر بحالی مطلوب ہے تو انٹربینک مارکیٹ کو آزادانہ کام کرنے دینا ہوگا، اور اسی دوران ذخائر بڑھانے کے لیے حکام کو بیرونی سرمایہ کاری اور قرض کی فراہمی پر کام کرنا ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275266</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Jul 2025 16:40:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/301627291f840ab.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/301627291f840ab.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
