<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:03:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:03:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275261/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے بدھ کو پالیسی ریٹ 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ کمیٹی نے موجودہ معاشی حالات اور مہنگائی کے تخمینوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے برخلاف ہے جہاں شرح سود میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کمی کی پیش گوئی کی جا رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ جون 2025 میں سالانہ مہنگائی کی شرح 3.2 فیصد تک کم ہوگئی جس کی بنیادی وجہ خوراک کی قیمتوں میں کمی تھی جب کہ بنیادی مہنگائی میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم کمیٹی نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں متوقع سے زیادہ اضافہ، خاص طور پر گیس ٹیرف میں اضافے کے بعد، مہنگائی کا منظرنامہ کچھ حد تک تبدیل ہوا ہے۔ اس کے باوجود اندازہ ہے کہ مہنگائی کی شرح مستقبل میں ہدفی حد کے اندر مستحکم رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم پی سی کے بیان میں مزید کہا گیا کہ معاشی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جس کی وجہ پالیسی ریٹ میں پہلے کی گئی کمی کے ابھرتے ہوئے مثبت اثرات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی اور عالمی تجارت میں سست روی کے باعث مالی سال 26 میں تجارتی خسارہ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میکرو اکنامک صورتحال اور ابھرتے ہوئے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایم پی سی نے موجودہ فیصلے کو قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنانے کیلئے ضروری قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم پی سی نے اپنی گزشتہ میٹنگ کے بعد درج ذیل اہم پیش رفتوں پر روشنی ڈالی:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ  ذخائر مالیاتی آمدنی میں بہتری اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کے باعث 14 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کی حالیہ بہتری نے یوروبانڈ کے منافع کی شرح میں کمی اور بین الاقوامی مارکیٹوں میں CDS اسپریڈز کی تنگی کا باعث بنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا تازہ ترین سروے میں صارفین کے لیے مہنگائی کی توقعات میں معمولی اضافہ جبکہ کاروباری اداروں کے لیے یہ توقعات کم ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوتھا مالی سال 25 کے لیے ایف بی آر کا ٹیکس محصول 11.7 ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا جو نظر ثانی شدہ تخمینہ سے تقریباً 200 ارب روپے کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں غیرمستحکم رہیں جب کہ دھاتوں کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ اس کے ساتھ ہی عالمی تجارتی محصولات کے اثرات غیر یقینی رہے جس کی وجہ سے مرکزی بینکوں نے محتاط مالیاتی پالیسی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان پیش رفتوں اور ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ قیمتوں کے استحکام کے لیے حقیقی پالیسی شرح کو 5 سے 7 فیصد کے ہدفی دائرے میں رکھنے کے لیے مناسب حد تک مثبت برقرار رکھنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم پی سی نے محتاط مالی اور مالیاتی پالیسی کے امتزاج کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ میکرو اکنامک استحکام برقرار رکھا جا سکے۔ کمیٹی نے یہ بھی دہرایا کہ ساختی اصلاحات کے بغیر پائیدار اور بلند ترقی حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مہنگائی کا منظرنامہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ مستقبل میں توانائی کی مہنگائی موجودہ سطح سے بڑھنے کی توقع ہے جس کی بنیادی وجوہات گیس کے نرخوں میں نمایاں اضافہ، بجلی کے عارضی ریٹ میں کمی کا ختم ہونا (مالی سال 25 کی چوتھی سہ ماہی کے لیے) اور موٹر فیول کی حالیہ قیمتوں میں اضافے کو قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم پی سی نے یہ بھی بتایا کہ مالی سال 26 میں سالانہ مہنگائی کی شرح زیادہ تر 5 سے 7 فیصد کے ہدفی دائرے میں برقرار رہنے کی توقع ہے، اگرچہ بعض مہینوں میں یہ حد سے تجاوز کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے زور دیا کہ یہ مہنگائی کا منظرنامہ متعدد خطرات سے متاثر ہوسکتا ہے جن میں غیر یقینی عالمی اجناس کی قیمتیں اور تجارتی صورتحال، انتظام شدہ توانائی کی قیمتوں میں غیر متوقع تبدیلیاں اور ممکنہ وسیع پیمانے پر سیلاب شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، پریس کانفرنس کے دوران گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ پچھلے مالی سال میں اوسط مجموعی مہنگائی کی شرح 4.5 فیصد رہی جو ہدف کے 5 سے 7 فیصد کے دائرے سے قدرے کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ فوڈ انفلیشن میں نمایاں کمی آئی ہے جب کہ بنیادی مہنگائی میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر نے کہا کہ پاکستان کی درآمدات مالی سال 24 میں 53 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 25 میں 59.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جو 11.1 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ملک کی برآمدات میں اضافہ ترسیلات زر کے مقابلے میں کافی محدود رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مارکیٹ کی توقعات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ اجلاس جو 16 جون 2025 کو منعقد ہوا تھا  ایم پی سی نے مہنگائی میں ممکنہ اضافے کے پیش نظر پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم موجودہ معاشی اشاریوں کی روشنی میں ماہرین کو توقع تھی کہ مرکزی بینک آج کے اجلاس میں پالیسی ریٹ میں کم از کم 50 بیسز پوائنٹس کی کمی کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی رپورٹ میں پیش گوئی کی تھی کہ مرکزی بینک ایم پی سی اجلاس میں پالیسی ریٹ میں 50 بی پی ایس کی کمی کا اعلان کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس کا خیال تھا کہ اسٹیٹ بینک کے پاس مزید تقریباً 100 بیسز پوائنٹس تک شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے کیونکہ اسے توقع ہے کہ مالی سال 2026 میں مہنگائی کی اوسط شرح 5 سے 7 فیصد کے درمیان رہے گی، جو کہ حقیقی شرحِ سود کو 400 سے 600 بیسز پوائنٹس تک لے جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کے تجزیہ کار بھی پالیسی ریٹ کو کم کر کے 10.5 فیصد کیے جانے کی پیش گوئی کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی میں کمی، بیرونی شعبے کی صورتحال کا قابو میں ہونا، اور بانڈز کی ییلڈ کا نیچے آنا، مالیاتی نرمی کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں، اگرچہ کچھ خطرات، جیسے درآمدی طلب میں اضافہ اور عالمی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، اس پر اثر ڈال سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے ایک حالیہ سروے کے مطابق بھی ماہرین کی متفقہ رائے یہی تھی کہ اسٹیٹ بینک آج  شرح سود میں 50 بی پی ایس کمی کر کے اسے 10.5 فیصد پر لا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس کے سینئر ماہرِ معاشیات احمد مبین نے کہا تھا کہ  اسٹیٹ بینک  شرح سود میں مزید کمی کرسکتا ہے، تاہم سال کی دوسری ششماہی میں درآمدات کی بڑھتی ہوئی طلب اور عالمی اشیائے صرف کی قیمتوں کے خطرات کے باعث وہ زیادہ احتیاط سے کام لے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ ایم پی سی اجلاس&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون 2025 کے اجلاس میں ایم پی سی نے توقعات کے مطابق پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت کمیٹی نے نوٹ کیا کہ مئی میں مہنگائی کی سالانہ شرح 3.5 فیصد رہی جو اس کی پیشگوئی کے مطابق تھی جب کہ کور انفلیشن میں معمولی کمی واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے توقع ظاہر کی تھی کہ آئندہ مہنیوں کے دوران  مہنگائی میں کچھ اضافہ ہوسکتا ہے تاہم مالی سال 2026 کے دوران یہ ہدف کی حد کے اندر مستحکم رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی سرگرمیوں میں تدریجی بہتری اور پہلے کی گئی شرح سود میں کمی کے اثرات کو معیشت میں بحالی کا باعث قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخری ایم پی سی اجلاس کے بعد کئی اہم معاشی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روپے کی قدر میں 0.04 فیصد اضافہ ہوا جب کہ پٹرول کی قیمتوں میں 5.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر، تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد کمی آئی ہے اور یہ تقریباً 69 ڈالر فی بیرل کے قریب مستحکم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں جون 2025 میں سالانہ  مہنگائی کی شرح 3.2 فیصد ریکارڈ کی گئی جو مئی 2025 کی 3.5 فیصد شرح سے کم ہے۔ یہ اعداد و شمار ادارہ شماریات نے جاری کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ  نے مالی سال 2024-25 کے دوران 2.1 بلین ڈالر کا زبردست سرپلس ظاہر کیا جو مالی سال 24 میں ریکارڈ کیے گئے 2.07 بلین ڈالر کے خسارے کے برعکس ہے۔ یہ معلومات اسٹیٹ بینک  نے جاری کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ میں 2.1 ارب ڈالر کا بڑا سرپلس ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ مالی سال کے 2.07 ارب ڈالر کے خسارے کے بالکل برعکس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک  کے پاس موجود زرمبادلہ  ذخائر ہفتہ وار بنیاد پر 69 ملین ڈالر کی کمی کے ساتھ 18 جولائی تک 14.46 بلین ڈالر رہ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ کے ذخائر 19.92 ارب ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس خالص ذخائر 5.46 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے بدھ کو پالیسی ریٹ 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ کمیٹی نے موجودہ معاشی حالات اور مہنگائی کے تخمینوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>یہ فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے برخلاف ہے جہاں شرح سود میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کمی کی پیش گوئی کی جا رہی تھی۔</p>
<p>ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ جون 2025 میں سالانہ مہنگائی کی شرح 3.2 فیصد تک کم ہوگئی جس کی بنیادی وجہ خوراک کی قیمتوں میں کمی تھی جب کہ بنیادی مہنگائی میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی۔</p>
<p>تاہم کمیٹی نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں متوقع سے زیادہ اضافہ، خاص طور پر گیس ٹیرف میں اضافے کے بعد، مہنگائی کا منظرنامہ کچھ حد تک تبدیل ہوا ہے۔ اس کے باوجود اندازہ ہے کہ مہنگائی کی شرح مستقبل میں ہدفی حد کے اندر مستحکم رہے گی۔</p>
<p>ایم پی سی کے بیان میں مزید کہا گیا کہ معاشی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جس کی وجہ پالیسی ریٹ میں پہلے کی گئی کمی کے ابھرتے ہوئے مثبت اثرات ہیں۔</p>
<p>کمیٹی نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی اور عالمی تجارت میں سست روی کے باعث مالی سال 26 میں تجارتی خسارہ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔</p>
<p>میکرو اکنامک صورتحال اور ابھرتے ہوئے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایم پی سی نے موجودہ فیصلے کو قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنانے کیلئے ضروری قرار دیا ہے۔</p>
<p>ایم پی سی نے اپنی گزشتہ میٹنگ کے بعد درج ذیل اہم پیش رفتوں پر روشنی ڈالی:</p>
<p>سب سے پہلے اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ  ذخائر مالیاتی آمدنی میں بہتری اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کے باعث 14 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے ہیں۔</p>
<p>دوسرا پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کی حالیہ بہتری نے یوروبانڈ کے منافع کی شرح میں کمی اور بین الاقوامی مارکیٹوں میں CDS اسپریڈز کی تنگی کا باعث بنی ہے۔</p>
<p>تیسرا تازہ ترین سروے میں صارفین کے لیے مہنگائی کی توقعات میں معمولی اضافہ جبکہ کاروباری اداروں کے لیے یہ توقعات کم ہوئی ہیں۔</p>
<p>چوتھا مالی سال 25 کے لیے ایف بی آر کا ٹیکس محصول 11.7 ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا جو نظر ثانی شدہ تخمینہ سے تقریباً 200 ارب روپے کم ہے۔</p>
<p>آخر میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں غیرمستحکم رہیں جب کہ دھاتوں کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ اس کے ساتھ ہی عالمی تجارتی محصولات کے اثرات غیر یقینی رہے جس کی وجہ سے مرکزی بینکوں نے محتاط مالیاتی پالیسی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>ان پیش رفتوں اور ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ قیمتوں کے استحکام کے لیے حقیقی پالیسی شرح کو 5 سے 7 فیصد کے ہدفی دائرے میں رکھنے کے لیے مناسب حد تک مثبت برقرار رکھنا ضروری ہے۔</p>
<p>ایم پی سی نے محتاط مالی اور مالیاتی پالیسی کے امتزاج کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ میکرو اکنامک استحکام برقرار رکھا جا سکے۔ کمیٹی نے یہ بھی دہرایا کہ ساختی اصلاحات کے بغیر پائیدار اور بلند ترقی حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔</p>
<p><strong>مہنگائی کا منظرنامہ</strong></p>
<p>ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ مستقبل میں توانائی کی مہنگائی موجودہ سطح سے بڑھنے کی توقع ہے جس کی بنیادی وجوہات گیس کے نرخوں میں نمایاں اضافہ، بجلی کے عارضی ریٹ میں کمی کا ختم ہونا (مالی سال 25 کی چوتھی سہ ماہی کے لیے) اور موٹر فیول کی حالیہ قیمتوں میں اضافے کو قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>ایم پی سی نے یہ بھی بتایا کہ مالی سال 26 میں سالانہ مہنگائی کی شرح زیادہ تر 5 سے 7 فیصد کے ہدفی دائرے میں برقرار رہنے کی توقع ہے، اگرچہ بعض مہینوں میں یہ حد سے تجاوز کرسکتی ہے۔</p>
<p>کمیٹی نے زور دیا کہ یہ مہنگائی کا منظرنامہ متعدد خطرات سے متاثر ہوسکتا ہے جن میں غیر یقینی عالمی اجناس کی قیمتیں اور تجارتی صورتحال، انتظام شدہ توانائی کی قیمتوں میں غیر متوقع تبدیلیاں اور ممکنہ وسیع پیمانے پر سیلاب شامل ہیں۔</p>
<p>دریں اثنا، پریس کانفرنس کے دوران گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ پچھلے مالی سال میں اوسط مجموعی مہنگائی کی شرح 4.5 فیصد رہی جو ہدف کے 5 سے 7 فیصد کے دائرے سے قدرے کم ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ فوڈ انفلیشن میں نمایاں کمی آئی ہے جب کہ بنیادی مہنگائی میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔</p>
<p>گورنر نے کہا کہ پاکستان کی درآمدات مالی سال 24 میں 53 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 25 میں 59.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جو 11.1 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>تاہم، ملک کی برآمدات میں اضافہ ترسیلات زر کے مقابلے میں کافی محدود رہا ہے۔</p>
<p><strong>مارکیٹ کی توقعات</strong></p>
<p>گزشتہ اجلاس جو 16 جون 2025 کو منعقد ہوا تھا  ایم پی سی نے مہنگائی میں ممکنہ اضافے کے پیش نظر پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا۔</p>
<p>تاہم موجودہ معاشی اشاریوں کی روشنی میں ماہرین کو توقع تھی کہ مرکزی بینک آج کے اجلاس میں پالیسی ریٹ میں کم از کم 50 بیسز پوائنٹس کی کمی کرے گا۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی رپورٹ میں پیش گوئی کی تھی کہ مرکزی بینک ایم پی سی اجلاس میں پالیسی ریٹ میں 50 بی پی ایس کی کمی کا اعلان کرے گا۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس کا خیال تھا کہ اسٹیٹ بینک کے پاس مزید تقریباً 100 بیسز پوائنٹس تک شرحِ سود میں کمی کی گنجائش موجود ہے کیونکہ اسے توقع ہے کہ مالی سال 2026 میں مہنگائی کی اوسط شرح 5 سے 7 فیصد کے درمیان رہے گی، جو کہ حقیقی شرحِ سود کو 400 سے 600 بیسز پوائنٹس تک لے جائے گی۔</p>
<p>عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کے تجزیہ کار بھی پالیسی ریٹ کو کم کر کے 10.5 فیصد کیے جانے کی پیش گوئی کر رہے تھے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی میں کمی، بیرونی شعبے کی صورتحال کا قابو میں ہونا، اور بانڈز کی ییلڈ کا نیچے آنا، مالیاتی نرمی کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں، اگرچہ کچھ خطرات، جیسے درآمدی طلب میں اضافہ اور عالمی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، اس پر اثر ڈال سکتے ہیں۔</p>
<p>رائٹرز کے ایک حالیہ سروے کے مطابق بھی ماہرین کی متفقہ رائے یہی تھی کہ اسٹیٹ بینک آج  شرح سود میں 50 بی پی ایس کمی کر کے اسے 10.5 فیصد پر لا سکتا ہے۔</p>
<p>ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس کے سینئر ماہرِ معاشیات احمد مبین نے کہا تھا کہ  اسٹیٹ بینک  شرح سود میں مزید کمی کرسکتا ہے، تاہم سال کی دوسری ششماہی میں درآمدات کی بڑھتی ہوئی طلب اور عالمی اشیائے صرف کی قیمتوں کے خطرات کے باعث وہ زیادہ احتیاط سے کام لے سکتا ہے۔</p>
<p><strong>گزشتہ ایم پی سی اجلاس</strong></p>
<p>جون 2025 کے اجلاس میں ایم پی سی نے توقعات کے مطابق پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا۔</p>
<p>اس وقت کمیٹی نے نوٹ کیا کہ مئی میں مہنگائی کی سالانہ شرح 3.5 فیصد رہی جو اس کی پیشگوئی کے مطابق تھی جب کہ کور انفلیشن میں معمولی کمی واقع ہوئی۔</p>
<p>کمیٹی نے توقع ظاہر کی تھی کہ آئندہ مہنیوں کے دوران  مہنگائی میں کچھ اضافہ ہوسکتا ہے تاہم مالی سال 2026 کے دوران یہ ہدف کی حد کے اندر مستحکم رہے گی۔</p>
<p>معاشی سرگرمیوں میں تدریجی بہتری اور پہلے کی گئی شرح سود میں کمی کے اثرات کو معیشت میں بحالی کا باعث قرار دیا گیا۔</p>
<p>آخری ایم پی سی اجلاس کے بعد کئی اہم معاشی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں۔</p>
<p>روپے کی قدر میں 0.04 فیصد اضافہ ہوا جب کہ پٹرول کی قیمتوں میں 5.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر، تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد کمی آئی ہے اور یہ تقریباً 69 ڈالر فی بیرل کے قریب مستحکم ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں جون 2025 میں سالانہ  مہنگائی کی شرح 3.2 فیصد ریکارڈ کی گئی جو مئی 2025 کی 3.5 فیصد شرح سے کم ہے۔ یہ اعداد و شمار ادارہ شماریات نے جاری کیے ہیں۔</p>
<p>مزید برآں، پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ  نے مالی سال 2024-25 کے دوران 2.1 بلین ڈالر کا زبردست سرپلس ظاہر کیا جو مالی سال 24 میں ریکارڈ کیے گئے 2.07 بلین ڈالر کے خسارے کے برعکس ہے۔ یہ معلومات اسٹیٹ بینک  نے جاری کی ہیں۔</p>
<p>مزید یہ کہ اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ میں 2.1 ارب ڈالر کا بڑا سرپلس ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ مالی سال کے 2.07 ارب ڈالر کے خسارے کے بالکل برعکس ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک  کے پاس موجود زرمبادلہ  ذخائر ہفتہ وار بنیاد پر 69 ملین ڈالر کی کمی کے ساتھ 18 جولائی تک 14.46 بلین ڈالر رہ گئے ہیں۔</p>
<p>ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ کے ذخائر 19.92 ارب ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس خالص ذخائر 5.46 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275261</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Jul 2025 16:13:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/301252159e05ced.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="427" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/301252159e05ced.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/0zC9WP7xy14/maxresdefault_live.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/0zC9WP7xy14/mqdefault_live.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=0zC9WP7xy14"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
