<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تین سال کے دوران شپنگ صلاحیت میں 600 فیصد اضافے کا ہدف مقرر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275235/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارتِ بحری امور نے ملکی بحری بیڑے کو وسعت دینے اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک بڑے منصوبے کا آغاز کردیا ہے جس کا مقصد نہ صرف قومی بحری انفرااسٹرکچر کو مضبوط بنانا ہے بلکہ غیر ملکی جہازوں پر انحصار کم کرکے زرمبادلہ کی بچت اور سمندری تجارت کو خود کفیل بنانا بھی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے معاہدے پر دستخط کی تقریب کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف سمندری مال برداری اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ ماحولیاتی لحاظ سے محفوظ اور توانائی بچانے والے ملکی جہازوں کے ذریعے ایک پائیدار اور جدید شپنگ نظام کو فروغ بھی ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ 3 برسوں میں قومی شپنگ صلاحیت میں 600 فیصد اضافہ کا ہدف رکھتی ہے، جس کے تحت ریاستی ملکیت والے بحری بیڑے میں توانائی مؤثر اور ماحول دوست ٹیکنالوجی سے لیس جہاز شامل کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ضمن میں کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) اور پورٹ قاسم اتھارٹی (پی کیو اے) نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے ساتھ علیحدہ علیحدہ مالی معاونت کے معاہدے کیے ہیں تاکہ بیڑے میں توسیع کے منصوبے کو عملی شکل دی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدوں پر دستخط کے پی ٹی کی ٹرانزیشن مینجمنٹ کمیٹی کے نمائندے اے عبداللہ ذکی، پی کیو اے کے چیئرمین ریئر ایڈمرل (ر) سید معظم الیاس ہلالِ امتیاز (ملٹری) اور پی این ایس سی کے سی ای او سید جرار حیدر کاظمی نے کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدے حالیہ دنوں وزیرِ بحری امور کی زیر صدارت ہونے والے ایک اعلیٰ سطح پالیسی اجلاس کے بعد طے پائے، جس میں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے بیڑے کی جدید کاری کو ماحولیاتی پائیداری اور وزیرِاعظم کے طے کردہ قومی موسمیاتی اہداف سے ہم آہنگ کرنے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے پی ٹی اور پی کیو اے کے حکام نے زور دیا ہے کہ بیڑے کی جدید کاری نہ صرف زرمبادلہ کی بچت اور تجارتی روابط میں بہتری کا باعث بنے گی بلکہ ایندھن کے استعمال میں کمی اور بین الاقوامی اخراجاتی معیارات کی تعمیل کو ممکن بنا کر سمندری مال برداری کے ماحولیاتی اخراجات میں نمایاں کمی لائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنید چوہدری نے کہا کہ یہ اقدام سمندری شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، آپریشنل کارکردگی کو بڑھانے اور تمام اداروں میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے ہمارے وسیع تر وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت شفافیت اور میرٹ پر مبنی فیصلوں کے لیے پُرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارتِ بحری امور نے ملکی بحری بیڑے کو وسعت دینے اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک بڑے منصوبے کا آغاز کردیا ہے جس کا مقصد نہ صرف قومی بحری انفرااسٹرکچر کو مضبوط بنانا ہے بلکہ غیر ملکی جہازوں پر انحصار کم کرکے زرمبادلہ کی بچت اور سمندری تجارت کو خود کفیل بنانا بھی ہے۔</strong></p>
<p>وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے معاہدے پر دستخط کی تقریب کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف سمندری مال برداری اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ ماحولیاتی لحاظ سے محفوظ اور توانائی بچانے والے ملکی جہازوں کے ذریعے ایک پائیدار اور جدید شپنگ نظام کو فروغ بھی ملے گا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ 3 برسوں میں قومی شپنگ صلاحیت میں 600 فیصد اضافہ کا ہدف رکھتی ہے، جس کے تحت ریاستی ملکیت والے بحری بیڑے میں توانائی مؤثر اور ماحول دوست ٹیکنالوجی سے لیس جہاز شامل کیے جائیں گے۔</p>
<p>اس ضمن میں کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) اور پورٹ قاسم اتھارٹی (پی کیو اے) نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے ساتھ علیحدہ علیحدہ مالی معاونت کے معاہدے کیے ہیں تاکہ بیڑے میں توسیع کے منصوبے کو عملی شکل دی جا سکے۔</p>
<p>معاہدوں پر دستخط کے پی ٹی کی ٹرانزیشن مینجمنٹ کمیٹی کے نمائندے اے عبداللہ ذکی، پی کیو اے کے چیئرمین ریئر ایڈمرل (ر) سید معظم الیاس ہلالِ امتیاز (ملٹری) اور پی این ایس سی کے سی ای او سید جرار حیدر کاظمی نے کیے۔</p>
<p>یہ معاہدے حالیہ دنوں وزیرِ بحری امور کی زیر صدارت ہونے والے ایک اعلیٰ سطح پالیسی اجلاس کے بعد طے پائے، جس میں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے بیڑے کی جدید کاری کو ماحولیاتی پائیداری اور وزیرِاعظم کے طے کردہ قومی موسمیاتی اہداف سے ہم آہنگ کرنے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>کے پی ٹی اور پی کیو اے کے حکام نے زور دیا ہے کہ بیڑے کی جدید کاری نہ صرف زرمبادلہ کی بچت اور تجارتی روابط میں بہتری کا باعث بنے گی بلکہ ایندھن کے استعمال میں کمی اور بین الاقوامی اخراجاتی معیارات کی تعمیل کو ممکن بنا کر سمندری مال برداری کے ماحولیاتی اخراجات میں نمایاں کمی لائے گی۔</p>
<p>جنید چوہدری نے کہا کہ یہ اقدام سمندری شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، آپریشنل کارکردگی کو بڑھانے اور تمام اداروں میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے ہمارے وسیع تر وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت شفافیت اور میرٹ پر مبنی فیصلوں کے لیے پُرعزم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275235</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Jul 2025 15:20:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/291517077f3a601.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/291517077f3a601.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
